51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ازلان بھائی زیارہ مت سوچیں جو بھی ہوا اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں ہے۔ حامد ازلان کے پاس آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
میری ہی غلطی تھی مجھے اسکے گھر رشتہ لے کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ غلط ہو گیا سب غلط ہو گیا۔ وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔
بھائی اسد نے جھوٹ بول کر حوریہ باجی کو طلاق دی تھی اپکا نام اسمے پراپر پلین کے ساتھ درمیان میں کھینچا تھا۔ حامد بولا۔
مجھے اپنا نام کھیچنے کا نہیں اسکا نام خراب ہونے پر غصہ آ رہا ہے۔ امیجن کرو اسکی زندگی ان چھے مہینوں میں کتنی عزیت سے بھری ہو گئی۔ یا اللہ وہ غصے سے بول رہا تھا اور آخر میں پاس پڑے کوک کے کین کو ٹھوکر ماری وہ ہوا میں اُڑتا ہوا دور جا کر گِڑا۔حامد پریشان سا ہو گیا۔
بھائی آپ بائیک پر بیٹھو گھر جا کر بات کرتے ہیں۔ حامد اسے پکڑ کر بائیک کی طرف لاتے ہوۓ بولا۔
حامد تجھے پہلے بتانا چاہیے تھا۔ مین تب ہی آکر سب کو سچ بتا دیتا۔ وہ گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھکا تھا۔
کیا بتاتا میں ہاں کیا بتاتا کہ بھائی جس سے محبت کرتے ہو اس پر آپکی محبت کا الزام لگا کر بدکردار بول کر اسکا شوہر طلاق دے کر چلا گیا۔ آپ آؤ آ کر ٹھیک کر لو یہ سب بتاتا ۔ حامد اسکے کہنے پر غصے سے بولا۔
ہاں یہی کہتا۔ میں ا کر سب کو بتا دیتا کہ یہ سب جھوٹ ہے اسد جھوٹ بول رہا ہے۔ ازلان بھی اسی کے انداز میں چیخا۔
میرے بھولے بھائی اپنی انکھوں پر پڑی پٹی کو ہٹاؤ۔ چلو میں بتا دیتا آپ آ بھی جاتے تو کیا ہوتا ہمم کیا ہوتا؟ آپ اسی وقت سب چھوڑ کر یہاں آ جاتے۔ اور سب کو کہتے کہ سنو یہ سب جھوٹ ہے اور آکے کہنے پر سب مان جاتے؟ سیریسلی کیا سب مان جاتے کہ آپ سچ بول رہے ہیں؟ نہیں بھائی سب آپ دونوں کو قصور وار ٹھہرا تے ۔ کیونکہ اس سالے اسد نے آپکے اور حوریہ باجی کے کچھ میسج سب کو دیکھاۓ تھے۔ ان میسجز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ آپ دونوں کا کچھ چل رہا ہے۔ آپ لاکھ دوسروں کو یقین دلاتے پرکسی نے آپکی بات پر یقین نہیں کرنے والے تھے کیونکہ یہاں لوگ آنکھوں دیکھے کو سچ مانتے ہیں چاہیے وہ سچ ہو یا سچ کی شکل میں جھوٹ۔ لوگ سامنے دیکھنے والی چیزوں کو ہی سچ مانے گے اور وہ میسج آپکو قصور وار ٹھہرا گے۔ حامد چیختے ہوۓ بولا۔ ازلان حیران سا اسے سن رہا تھا
کیا میسج کیسے میسج ؟ وہ شاک سا بولا۔ حامد نے اپنا موبائل نکال کر کچھ اوپن کیا اور ازلان کو پکڑایا جو کہ اس دن افرحہ نے اسے سینڈ کیے تھے۔
حامد یہ سب جھوٹ ہے۔ یہ سب میں نے نہیں کیے ازلان حیرانگی سے سارے میسج پر کر بولا۔
جانتا ہوں۔ میں مان سکتا ہوں کہ یہ سب آپ نے نہیں کیے کیونکہ مجھے اپنے بھائی پر یقین ہے پر باقی لوگوں کو یقین نہیں ہے اسی لیے بنا جانچ کیے انہوں نے سچ مان لیا حامد اسکے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوۓ بولا ۔
چلیں بیٹھیں وہ بائیک کو سٹاٹ کرتے ہوۓ بولا۔ ازلان ابھی تک حیران ،شاک تھا۔ نا چارہ اسے بیٹھنا ہی پڑا۔


امی بہت اچھا رشتہ ہے۔ ابھی اسکی شادی کر دیں گے تو اچھا ہے ورنہ کوئی رشتہ نہین دے گا پہلے ہی کم آتے تھے اب طلاق کی وجہ سے بالکل بھی نہیں آئیں گے۔ عطیہ سیب کا ایک پیس منہ میں ڈال کر بولی۔ ماہم سامنے ابراہیم کو لے کر بیٹھی تھی۔ اور عطیہ کے ساتھ بشرہ بیگم بیٹھیں تھیں۔
میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔ پر وہ مانتی نہیں اب تو شادی کا نام بھی نہیں لینے دیتی۔ بشرہ بیگم اداسی سے بولیں۔
کیوں بھائی نام کیوں نہیں لیمے دیتی۔ اور ویسے بھی امی اسکا رشتہ ہو گا تب ہی افرحہ یا ماہم کی بات بنے گئی۔ جب یہی اس گھر میں پڑی رہے گئی تب تو کوئی شریف لڑکا باقی لڑکیوں کا رشتے لے کر نہیں آۓ گا۔ وہ تلخ لہجے میں بولی۔ حوریہ کیچن سے پانی کے دو گلاس لے کر باہر آئی آتے ہوۓ وہ سب سن چکی تھی۔
ادھر آؤ تم عطیہ نے اسے آتے ہوۓ دیکھ لیا تھا تبھی بولی۔ حوریہ ٹرے کو مظبوطی سے پکڑتی ہوئی آئی۔
جی بولیں وہ ٹرے سامنے ٹیبل پر رکھتی ہوئی بولی۔
تم دوبارہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی؟ عطیہ کڑک انداز میں بولی۔
میرا دل نہیں مان رہا وہ سر جھکا کر بس اتنا ہی بولی۔ جیسے یہ سوال اسکے لیے بہت معمولی ہو جیسے ہر روز کا کام ہو۔کیونکہ عطیہ ہر دوسرے ہفتے کوئی نا کوئی رشتہ لے کر آجاتی۔
کیوں تیرا دل کیوں نہیں مان رہا اچھا کہی تیرا دل ابھی بھی اس ازلان پر تو نہیں ہے۔ بول ابھی بھی وقت یے وہی رشتہ کر دیتے ہیں عطیہ طنزیہ انداز میں ہنس کر بولی۔ حوریہ کو اپنی بہن کی سوچ پر حیرانگی ہوئی۔
میں نے بہت بار کہا ہے وہ سب جھوٹ۔۔۔ حوریہ ابھی بول رہی تھی جب عطیہ نے ٹوکا۔
واہ میڈیم گل کھلا کر اب اسے جھوٹ کا نام مت دو۔ اپنی آنکھوں سے وہ سب میسج پڑھے ہیں۔ وہ دوبارہ طنزیہ انداز میں بولی۔ حوریہ اپنی بہن کی اتنی چھوٹی سوچ کو دیکھ کر نم نظروں سے بشرہ بیگم کو دیکھنے لگی۔
عطیہ بس کرو کیا بول رہی ہو بشرہ بیگم نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
کیا چپ کرو امی اسنے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہین چھوڑا۔ گندہ پھیلا کر اب بول رہی ہے کہ جھوٹ ہے۔ اسکی وجہ سے جانتی ہیں میرے سرال والے کتنی باتیں سناتے ہیں۔ عطیہ غصے سے بولی اور صوفے سے کھڑی ہو گئی۔ حوریہ کی آنکھوں سے آنسو بہے۔ وہ بول تو سکتی تھی پر وہاں الفاظ ضائع کرنے کی کیا ضرورت جہاں کسی نے یقین ہی نا کرنا ہو۔ وہ نفی میں سر ہلا کر پلٹ گئی۔۔
بس کرو بہن کے متعلق کتنی بکواس کرو گئی۔ بشرہ بیگم نے اسے ڈانٹا۔ وہ غصے سے وہی بیٹھ گئی۔
امی اگر مزید لڑکیوں کی شادی کرنی ہے تو اسکوجلدی سے نپٹائیں بچپن سے ایسی منحوسیت پھیلا کر رکھی ہے۔ وہ تلخیا لہجے میں بولی۔ باہر سے داخل ہوتے امین صاحب نے عطیہ کی ساری باتیں سن لیں تھیں۔وہ اندر داخل ہوۓ۔
ابو! السلام علیکم! عطیہ انہیں دیکھتی فوراً صوفے سے کھڑی ہو گئی۔
وعلیکم السلام! جیتی رہو اپنے گھر میں خوش رہو۔ وہ اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے مسکرا کر بولے۔ عطیہ مسکرائی۔آجکل وہ مکمل بدل چکے تھے۔ جتنا غرور اکڑ ان میں تھی سب ختم ہو چکی تھی۔ وہ چاروں بیٹیوں کو بہت ہی پیار سے بلاتے انکے ساتھ باتیں کرتے۔
بشرہ پانی کا گلاس کمرے میں بھیجوا دو۔ وہ ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بولے۔ بشرہ بیگم اُٹھیں۔وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھے۔
*
وہ ساری رات بے چین رہا اسے کسی طور سکون نہیں مل رہا تھا۔ جو کچھ اسے کل پتہ چلا اسکی وجہ سے وہ بہت ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔ ابھی بھی وہ صبح فجر کی نماز کے بعد رشید صاحب کی قبر پر گیا نو بجے واپس آیا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ ماجدہ بیگم۔ناشتے کا بول رہیں تھی پر اسنے انکار کر دیا۔ وہ فریش ہو کر کمرے میں داخل ہوا تو نظر موبائل پر پڑی ۔ اسکے چہرے پر حیرانگی اور شاک والے تاثرات تھے۔ یہ تاثرات آنے والے کے نمبر کو دیکھ کے تھے۔ سامنے سکرین پر چاچو امین لکھا جگمگا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اُٹھاتا کال کٹ گئی ازلان نے جلدی سے چیک کیا تو انکی کوئی دس مس کالز تھیں۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اور جلدی سے کال واپس ملائی۔
السلام علیکم! کال اُٹھاتے ہی وہ ادب سے بولا
وعلیکم السلام! کیسے ہو بیٹا؟ امین صاحب اگے سے بولے۔ ازلان چونکہ انہوں نے کبھی ایسے بات نہیں کی تھی۔
جی چاچو الحمداللہ بالک ٹھیک ہوں آپ سنائی آپکی طبعیت وغیرہ ٹھیک ہے۔ وہ احترامً بولا۔
ہاں بیٹے میں ٹھیک ہوں۔ اصل میں فون کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مجھے تم سے ملنا ہے۔ میں گھر پر ہی موجود ہوں کیا تم آ سکتے ہو۔ وہ آگے سے بولے تھے۔ انکا انداز ایسے تھا جیسے ریکویسٹ کر رہے ہوں۔
جی جی چاچو میں آ جاتا ہوں۔ وہ فوراً بولا۔
چلو آجاؤ پھر بات ہوتی ہے۔ خداحافظ وہ بول کر فون بند کر گے۔
ازلان کئی پل فون کی سکرین کو دیکھتا سوچتا رہا ۔ کہ ان کو کیا بتا کرنی ہو گئی۔ وہ کافی پریشان ہو گیا۔ پھر کسی کو بنا بتاۓ تیار ہو کر وہ بائیک پر بیٹھا اور امین صاحب کے گھر کی طرف بڑھا دی۔
قریب ایک گھنٹے میں وہ انکے دروازے پر پہنچا۔ انکے دروازے کو دیکھتے کافی اذیت ناک اور کئی خوشگوار یادیں بھی آنکھوں کے پردے پر لہرائیں۔ وہ یہاں آخری بار اسلام آباد جانے سے ایک دن پہلے آیا تھا۔ جن اسے حوریہ کی مہندی کا پتہ چلا تھا۔ لمبا سانس ہوا کے سپرد کر کے وہ اپنی بائیک سے اترا۔ اور ہمت کر کے دروازے کی بیل بجائی۔ ایک دو دفع پریس کرنے کے بعد امین صاحب نے دروازہ کھولا۔۔
السلام علیکم! وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔
وعلیکم السلام! امین صاحب نے اسے گلے سے لگا کر جواب دیا۔ کچھ پل کے لیے ازلان ساکت ہو گیا۔ یہ سب آج تک ہوا جو نہیں تھا۔
چلو اندر چلتے ہیں وہ مسکرا کر بولے اور اسے لیے اندر داخل ہوۓ۔ اندر داخل ہوتے ہی بشرہ بیگم سامنے کھڑی تھیں ازلان نے آگے بڑھ سلام کیا جسکا جواب انہوں نے مسکرا کر دیا۔
ازلان چلو میرے کمرے میں وہی بات کرتے ہیں بشرہ تم چاۓ بھجوا دو۔ امین صاحب بول کر آگے بڑھے ازلان نے ہاں میں سر ہلایا اور انکے پیچھے انکے کمرے میں آیا۔ امین صاحب بیڈ پر بیٹھ گے سامنے پڑی کرسی پر ازلان بیٹھ گیا۔
جی چاچو اتنی ارجنٹ میں بلوایا کیا بات کرنی تھی۔ وہ جو کب کا انجانی سوچوں کے گھیرے میں تھا بل آخر پوچھ ہی بیٹھا۔
دیکھو ازلان یہ بات شائد تمہیں بہت بکواس لگے۔ شائد تمہیں میں پاگل بے وقوف لگوں۔ پر بہت سوچ سمجھ کر میں نے تمہیں یہاں بلوایا ہے۔ امین صاحب جیسے خود پر ہنستے ہوۓ بولے۔
چاچو کیا بتا کر رہے ہیں۔ میں آپکو ایسا کیوں سمجھوں گا۔ مجھے بتائیں کیا بات ہے؟ ازلان اب واقعی میں پریشان وہ گیا تھا۔
کیا تم حوریہ سے شادی کر سکتے ہو؟ امین صاحب ہمت کر کے بولے۔ازلان دو پل کے لیے شاک میں چلا گیا۔ اسے یہ بات بالکل بھی اسپیکٹیڈ نہیں تھی۔
کییااا چاچو وہ ہکلا کر بولا۔ وہ ایک دم پزل ہوا تھا۔ کہ امین صاحب کیا بات کر رہے ہیں وہی تھے جنہوں نے اسی رشتے پر انکار کیا تھا۔ اور آج۔۔۔۔
میں جانتا ہوں اس وقت تم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ میں یہ سب بولوں گا پر بیٹے میں نے تمہیں اسی لیے یہاں بلوایا ہے۔ حوریہ کے ساتھ جو بھی ہوا اسکے بعد مجھے اور کوئی رستہ نہیں دیکھا مجھے ایک تم ہی نظر آۓ۔ وہ سر جھکاۓ بول رہے تھے۔
پر چاچو آپنے خود ابا کو انکار کیا تھا اور اب۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے مین الجھا کر بولا۔
جانتا ہوں یہی سب سے بری بے و قوفی تھی مین نے ہیرے پر پیتل کو چنا۔ اندھا تھا آنکھوں پر پیسوں کی پٹی بندھی ہوئی تھی غرور میں جو آگیا تھا اور غرور تو خدا کو نا پسند ہے اس نےا سمان سے سیدھا زمین پر پٹخا۔ وہ خود پر ہنس کر بولے۔ ازلان کو اس وقت وہ کافی ٹوٹے ہوۓ لگے۔
چاچو کہی آپ حوریہ پر لگے الزام کی وجہ سے تو نہیں بول رہے کہی آپکو لگتا تو نہیں کہ وہ سچ۔۔وہ اتنا ہی بولا تھا کہ امین صاحب نے اسے کاٹا۔
نہیں نہیں میرا خدا گواہ یے میرے دل میں ایک دفع بھی یہ خیال نہیں آیا۔ مجھے اپنی بچی پر پورا یقین ہے۔ میں سب جانتا ہوں کہ اسد نے یہ سب کیوں کیا۔ وہ فوراً اسکی بات کی نفی کرتے ہوۓ بولے۔
اسد نے ایسا کیوں کیا؟ ازلان جاننا چاہتا تھا اسکے سوال پر امین صاحب نے اسکی طرف دیکھا۔ تبھی بشرہ بیگم چاۓ کی ٹرے لے کر اندر آئیں۔ وہ سب جانتیں تھیں امین صاحب نے کل رات کو ان سے بات کر کے ہی ازلان کو بلوایا تھا۔ ازلان کو چاۓ کا کپ پکڑا کر وہ بھی امین صاحب کےساتھ بیٹھ گئیں۔
تقریباً تین سال پہلے اسد ایک دن میری دکان پر آیا تھا۔ اسنے کھلے لفظوں میں عطیہ کا رشتہ مانگا تھا۔ تب بھی مین نے وہی کیا جو تمہارے ساتھ کیا تھا۔ اسکے بعد وہ نوکری ملنے کے بعد امیر ہو کر حوریہ کا رشتہ لایا۔ چونکہ حوریہنکا رشتہ کہی ہو نہیں رہا تھا تو میں نے ہاں کر دی۔ اسنے میرے انکار کا بدلہ حوریہ کی زندگی اسجا کردار پر سوالیہ نشان لگا کر لیا۔ تب بھی مین غلط تھا۔ مجھے اسے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پر۔۔ میں نے دو دفع ایک ہی غلطی کو دہرایا اور دوسرے دفع اپنے پیارے برے بھائی کو بھی کھو دیا۔ امین صاحب جیسے اپنے جرم کا اعتراف کر رہے ھے۔ ازلان سب سن کر بس انہیں دیکھتا رہا۔۔۔
ازلان مانتا ہوں میں بہت گنہا گار ہوں رب کا بھی اور رب کے بندوں کا بھی۔ اپنے بھائی سے تو معافی مانگ نہیں سکتا۔ پر اسکے بیٹے سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ سکتا ہوں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر ازلان سے نم لہجے میں معافی مانگتے ہوۓ بولے۔
چاچو میرے اگے ہاتھ جوڑ کر مجھے گنہاگار کیوں کر رہے ہیں پلیز ایسے مت کریں۔ وہ فوراً چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھتا ان کے قدموں میں بیٹھ کر انکے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا
ازلان میری بچی سے شادی کر لو اگر کل کو ہمین کچھ ہو گیا دنیا کے لوگ اسکی زندگی حرام کر دیں گے۔ کوئی سچ جاننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ سب اسے ہی قصور وار ٹھہرائیں گے۔ وہ ہاتھوں پر سر گِڑا کر بولے۔ازلان کی انکھیں خود بھیگ گئیں۔
امین صاحب! بشرہ بیگم نے انکی پیٹھ سہلاتے ہوۓ کہا۔
چاچو ایسے مت کریں۔ اسد نے حوریہ پر الزام لگایا چاہے وہ جھوٹھا ہی تھا پر میرا نام اسکے ساتھ جوڑ کر اسکے کردار کو مشکوک کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں حوریہ سے شادی کروں گا۔ وہ انکے ہاتھ کھول کر بولا۔ امین صاحب نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔ جیسے شکریہ ادا کر رہے ہوں۔
تمہارا یہ احسان میں زندگی بھر جھکا نہیں پاؤں گا۔ امین صاحب اپنی نم انکھیں صاف کرتے ہوۓ بولے
چاچو یہ کوئی احسان نہیں ہے یہ میری فرض ہے میری محبت کا فرض ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں حوریہ کی زندگی خوشیاں بھر دوں گا۔ اپنی ساری خوشیاں اسکی جھولی میں ڈال دوں گا۔ کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ وہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔ اور اُٹھ کر کرسی پر بیٹھا۔
بیٹے ہم لوگ کل آئیں گے اور ماجدہ بھابھی سے معافی مانگ لیں گے۔وہ کافی ناراض ہوں گئی۔ تم انہیں ہمارے آنے کا مقصد بتا دینا۔ بشرہ بیگم بولیں۔
چچی آپ فکر نا کریں میں امی کو سمجھا دوں گا۔ ابھی بہت دیر ہو گئی ہے اگر آجاذت ہو تو میں چلوں۔ وہ کرسی سے کھڑا ہو کر بولا۔ امین صاحب اسکے گلے ملے۔ اور جانے کی آجاذت دی۔ وہ ان سے مل کر کمرے سے نکلا اور جلدی جلدی باہر جانے لگا۔ حال کا دروازہ کراس کیا تبھی اسے آواز آئی۔
مسٹر ازلان ! اسکی آواز میں واضع غصہ تھا۔ ازلان نے پلٹ کر دیکھا۔سامنے تھورے فاصلے پر حوریہ کھڑی تھی۔ کچھ پلوں کے لیے وہ چپ سا ہو گیا۔ اتنے مہینوں بعد اسکا چہرا دیکھا تھا۔
جی بولیں وہ نظریں ادھر اُدھر کرتے ہوۓ بولا۔
آپ میرے گھر میں کیا کر رہے ہیں۔ میرے عزت اچھالنے میں کوئی کمی رہ گئی تھی جو اب پوری کرنے آۓ ہیں۔ وہ غصے سے آگے بڑھ کے بولی۔
پہلی بات یہ گھر میرے چاچو کا ہے انہوں نے بلوایا تھا دوسری بات آپکی عزت میری عزت ہے اور اپنی عزت کو کوئی نہیں اچھالتا اسے سھنمبال کر رکھتا ہے۔ وہ آے بڑھا اور حوریہ کا زمین کو چھوتا ڈوپٹہ ایک کونے سے پکڑتے اسکے سر پر ڈالتے ہوۓ بولا۔ حوریہ اسکی حرکت پر شاک رہ گئی۔
اللہ حافظ ۔ انشااللہ بہت جلد ملیں گے۔ ازلان چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔ اور بنا اسکا جقاب سنے دروازے سے باہر نکل گیا۔
اسکی اتنی ہمت۔۔۔ وہ اسکے جانے کے بعد ہوش میں آئی اور غصے سے بولتی واپس پلٹی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔