Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
وہ سب گھر پہنچ گے تھے۔ محلے کی کافی عورتیں آئیں تھیں۔ ماجدہ بیگم گھر میں داخل ہوتے ہی بنا کوئی رسم ادا کیے اپنے کمرے میں بند ہو گئیں۔ ازلان نے صدف کو اشارہ کیا۔ اسنے جلدی سے رسمیں ادا کئیں اور حوریہ کو کمرے میں لے گئی۔محلے کی عورتیں بھی اپنے گھر چلی گئیں تھیں۔
کل ولیمہ کے رک جاتا ولیمہ اٹینڈ کر کے چلا جاتا۔ ازلان ارسم کو بس سٹاپ پر چھوڑیں آیا تھا۔
یار تجھے پتہ تو ہے ابھی تو سال بھی نہیں ہوا زیادہ چھٹیاں کیں تو نوکری سے نکال دیا جاۓ گا۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
ہاں میری بھی چار ہی چھٹیاں ہی رہ گئی ہیں۔ ایپلیکیشن بھی دی تھی پر رد ہو گئی۔ چل ٹھیک ہے وہاں پہنچ کر فون کرنا ازلان اسکے گلے لگ کر بولا۔ارسم بس میں بیٹھ گیا۔ ازلان نے بھی گھر کی راہ لی۔ وہ ماجدہ بیگم کی وجہ سے کافی پریشان تھا۔
امی! کمرے سے نکلیں ۔ وہ کیچن میں کھڑی صدف کے پاس آکر بولا۔
نہیں! ابھی تک تو نہیں میں نے کافی بار دروازہ کھٹکٹایا ہے پر کوئی جواب نہیں۔ امی نے کرن کو بس اندر آنے دیا۔ صدف کباب کو فرائی کرتے ہوۓ بول رہی تھی۔
میں دیکھتا ہوں ازلان بول کر ماجدہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھا۔
امی! دروازہ کھولیں۔ وہ دروازے کو کھٹکھٹا کر بولا۔ پر آگے سے کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ کافی دیر وہاں کھڑا رہا پر ماجدہ بیگم یا کرن کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔
ازلان! ابھی رہنے دو صبح بات کر لینا۔ یہ کھانا حوریہ کے لیے لے جاؤ۔ صدف ایک ٹرے ازلان کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولی۔
اچھا! ازلان نے گردن ہاں میں ہلائی اور ٹرے پکڑی۔
اگر امی دروازہ کھول دیں تو مجھے بلا لینا مجھے بات کرنی ہے۔ وہ دروازے کو دیکھ کر بولا۔
اچھا بلا لوں گئی میرے پیارے بھائی ابھی فلحال تم اپنے کمرے میں جاؤ۔ صدف ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ ازلان اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔
اسکی توقعوں کے مطابق حوریہ چینج کر کے بیڈ پر آرام سے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ چلتا ہوا بیڈکے قریب آیا۔
یہ باجی نے کباب بھیجے ہیں کھا لیں وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔
میں نے بولا تھا نا انکار کر دیں۔ کیوں نہیں کیا؟ کیوں مجھے ان چاہے رشتے میں باندھ دیا؟ میری زندگی پہلے کم برباد تھی جو مزید برباد کرنے کے لیے شادی کر لی۔ وہ بیڈ سے نیچے اترتے ہوۓ غصے سے بولی۔ ازلان پہلے ہی اس سب کے لیے تیار تھا۔ وہ جانتا تھا حوریہ اس رشتے کو آسانی سے قبول نہیں کرے گئی۔ وہ جن حالات سے گزری تھی اتنی جلدی وہ دوبارہ کسی پر اعتبار نہیں کر پاتی۔ اور ازلان کو اب اسکا بھروسہ جیتنا تھا۔
یہ بروں کا فیصلہ تھا جو ہمیں ماننا پڑا۔ وہ ہاتھ باندھ کر بولا۔
ہنہہہ بروں کا فیصلہ۔ میں سب جانتی ہوں یہ سب آپکا کیا گزرا ہے۔ آپنے میری زندگی اتنی تنگ کر دی کہ جس انسان کی وجہ سے میرا کردار مشکوک بن کر رہ گیا مجھے اسی سے شادی کرنی پڑی۔ ویسے اچھا پلین بنایا تھا۔ میری شادی بھی ختم کروا دی اور میرے ابو کو اس طرح اپنے جال میں پھانسا کہ انہوں نے میری شادی آپس سے کر دی۔ وہ غصے میں نا جانے کیا کچھ بول رہی تھی۔ ازلان ضبط سے سب سن رہا تھا۔
بتائیں یہ سب کیوں کیا؟ وہ اسے کچھ نا بولتے دیکھ کر بولی۔
حوریہ! میں آپکو اپنے پر لگاۓ الزام کی کوئی صفائی پیش نہیں کروں گا۔ آنے والے وقت میں آپ سب کچھ جان جائیں گئی۔ ابھی فل حال آپ کچھ کھا لیں۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور الماری کی طرف بڑھا حوریہ کو بہت غصہ آیا۔
نہہہ آپ کیا صفائی پیش کریں گے جب آپکے پاس کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں۔ وہ طنزیہ انداز میں بول کر بیڈ پر کمبل لے کر لیٹ گئی۔
وہ کپڑے بدل کر بیڈ کی دوسری طرف آ کر لیٹا۔ حوریہ سو چکی تھی۔ وہ بے مقصد چھت کو گھور رہا تھا۔ پھر پلٹ کر حوریہ کی طرف دیکھا۔
بتانے کو تو میں اسد کی ساری سچائی بتا سکتا ہوں۔ پر میں چاہتا ہوں تم مجھ پر یقین کرو۔ ہمارے اس خوبصورت رشتے پر یقین کرو۔ آج میں تمہارے سامنے اپنی محبت کا اعتراف بھی کر سکتا تھا۔ پر تم اس پر بھی بھروسہ نا کرتی۔ سب سے پہلے تمہارے اندر کی محرومیوں کو بھرنا ہو گا۔ وہ اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔ ہمیشہ جس چہرے کو اسنے نظر بھر کر نہیں دیکھا تھا۔ آج وہ اسکے روبرو تھی۔ اور جو بات اسے سرشار کر رہی تھی کہ وہ اسکے نکاح میں تھی۔ وہ تو اتنا سوچ کر ہی مطمئن تھا کہ اب سے وہ ہمیشہ اپنے نام کے آگے اسکا نام لگائے گئی۔ وہ اب اسکی بیوی کہ کر پکاری جاۓ گی۔ یونہی اسکو تکتے تکتے وہ نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔
صبح کا آغاز مسجد سے آتی خوبصورت اذان کی آواز سے ہوا۔ ازلان کی آنکھ کھولی اسنے ادر گرد دیکھا۔ تبھی حوریہ نماز کے سٹائل میں ڈوپٹہ لیے واشروم سے نکل رہی تھی۔ سامنے ایک ٹیبل سے جاۓ نماز اُٹھا کر زمین پر بیچھا کر وہ نماز ادا کرنے لگی۔ ازلان وضو کر کے کمرے سے باہر نکلا حامد پہلے ہی دروازے پر کھڑا تھا۔ وہ دونوں اکھٹے محلے کی مسجد میں نماز ادا کرنے چلے گے۔
نو بجے کے قریب علینہ افرحہ، ماہم اور آصف ناشتہ لے کر آۓ۔ صدف ناشتہ لگا رہی تھی۔ اور ساتھ میں باتیں کر رہی تھی۔
ازلان حامد کے ساتھ ولیمے کا انتظام دیکھنے گیا تھا۔
آپی میں نے آپکو بہت مس کیا۔ ماہم حوریہ کے گرد باہیں لپیٹے ہوۓ بولی۔ وہ ہلکا سا مسکرا دی۔ اس وقت وہ سب زمین پر چٹائی بیچھا کر ناشتہ لگا رہے تھے۔ ماہم حوریہ کے ساتھ وہی بیٹھ گئی۔ افرحہ صدف کے ساتھ چیزیں نکال کر رکھ رہی تھی۔
بھابھی! ازلان بھائی نے کہا ہے انکی بلیک شلوار قمیض پریس کروا دیں۔ ارے واہ حلوہ پوری حامد گھر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔ حامد نے کرن کو دو شاپر پکڑاۓ اور حلوہ پوری دیکھ کر وہی بیٹھ گیا۔
ندیرے صبر کر ازلان کو تو آنے دے۔ صدف نے اسکے کندھے پر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔
تائی جی نے ناشتہ نہیں کرنا حوریہ نے کل سے انہیں نہیں دیکھا تھا۔ اسکی بات پر ایک پل کے لیے خاموشی پھیلی۔
انکی طبعیت تو ٹھیک ہے؟ میں دیکھ لوں؟ وہ اپنی جگہ سے اُٹھنے لگی۔
آپ بیٹھی رہو میں دیکھتا ہوں۔ ازلان گھر میں داخل ہوتے حوریہ کی بات سن چکا تھا وہ فوراً بولا۔ وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔ حوریہ وہی بیٹھ گئی۔ ازلان سب کو دیکھ کر ماجدہ بیگم۔کے کمرے میں گیا۔
امی! وہ انکے پاس کھڑا ہو کر بولا۔ ماجدہ بیگم جو کہ بیڈ پر بیٹھی ہوئیں تھیں انہوں نے چہرا موڑ لیا۔
امی چلیں ناشتہ کر لیں اسنے انکا ہاتھ پکڑکر کہا۔
مجھے بھوک نہیں تم کر لو۔ وہ ہاتھ جھٹکتے ہوۓ بولیں۔
آپ کے بغیر تو میں کچھ نہیں کھاؤ گا۔ وہ انکے پاس بیڈ پر بیٹھ کر لاڈ سے بولا۔ وہ ویسے ہی بیٹھی رہیں۔
امی! جانتا ہوں آپکے لیے یہ سب بہت مشکل ہے۔ پر اب تو شادی ہو گئی ہے۔ تو کیا آپ حوریہ کو اپنی بہو قبول نہیں کریں گی؟ وہ انکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ کر بولا۔
تمہیں شادی کرنی تھی کر لی نا۔ اب اسے بہو مانو یا نا مانو یہ میری مرضعی ہے۔ ماجدہ بیگم سرد لہجے میں بولیں۔
امی آپ نے اس دن شادی کی آجاذت دے تو دی تھی پھر اب موڈ کیوں آف کیا ہوا ہے؟ وہ نا سمجھی سے بولا۔
ازلان فل حال یہاں سے جاؤ۔ وہ سخت لہجے میں بولیں۔
امی! میرے لیے آپ اور حوریہ دونوں ہی اہم ہیں۔ میں اپنی ماں کو مزید ناراض نہیں رہنے دوں گا۔ چلیں میری خاطر یہ ناراضعی چھوڑ دیں۔ ایک دفع دل برا کر کے سب اپنائیں۔ وہ انہیں اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔ ماجدہ بیگم بیڈ سے اتریں اور چپل پہن کر کمرے سے باہر نکلیں۔ ازلان نے شکر ادا کیا کہ وہ جلدی مان گئیں۔ وہ بھی انکے ساتھ باہر نکلا۔ سب انکا ہی انتظار کر رہے تھے۔ سب نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا۔ اسکے بعد ولیمہ کا فنگشن بھی خوشی خوشی ہو گیا۔ رسم کے مطابق حوریہ کو اپنے گھر جانا تھا پر ماجدہ بیگم کے انکار پر وہ گھر واپس آ گے۔
صدف اپنے شوہر کے ساتھ واپس چلی گئی۔ حوریہ فریش ہو کر کمرے میں آئی تو سامنے ازلان سنگل صوفے پر بیٹھا گود میں لیپ ٹاپ رکھے جلدی جلدی کچھ ای میل کر رہا تھا۔
کیا یہ شادی تائی جی کی مرضعی سے نہیں ہوئی؟ حوریہ جو کل سے انکا رویہ نوٹ کر رہی تھی۔
کیوں؟ آپکو ایسا کیوں لگا۔ وہ اپنی نظریں لیپ ٹاپ سے ہٹا کر سامنے شیشے کے پاس کھڑی حوریہ پر ڈالتے ہوۓ بولا۔
مانا بے وقوف ہوں پر اتنی بھی نہیں کسی کے رویے کو نوٹ نا کر سکوں۔ کل سے انکا بدلا بدلا رویہ نوٹ کر رہی ہوں۔ وہ طنزیہ انداز میں ہنس کر بولی۔
کچھ مہینوں پہلے ہونے والے واقع کی وجہ سے امی ناراض ہیں۔ انکی پوری مرضعی شامل نہیں ہے۔ میں اپنی مان کو جانتا ہوں وہ زیادہ دیر ایسے نہیں رہیں گی۔ بہت جلد وہ سب بھول جائیں گی۔ وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں تیزی سے چلاتے ہوۓ بولا۔
اچھا! چلیں ٹھیک ہے مانا وہ راضی نہیں تھیں پر آپ کی کیا مجبوری تھی جو مجھ جیسی عام سی شکل کی اور سے طلاق یافتہ لڑکی جس کے کردار پر واضع نشان ہو ایسی لڑکی سے شادی کی۔ کیا پتہ میرا کردار اسکی آنکھوں لال ہو رہی تھیں۔ ازلان اسکا نم لہجہ نوٹ کر چکا تھا۔ وہ گھڑا ہوا اور لیپ ٹاپ صوفے پر رکھا۔ قدم قدم چلتا وہ اسکے قریب پہنچا۔
صحیح کہا مجبوری تو تھی بہت بری لیکن بہت خوبصورت مجبوری تھی کسی دن بری فرصت کے ساتھ بتاؤں گا۔ آئیندہ میں کبھی آپکے منہ سے کردار اور طلاق والے جملے نا سنوں۔ خود پر ترس کھانا بند کریں خود کے لیے نا سہی کسی اور کے لیے آپ قیمتی ہو سکتی ہیں۔ وہ آگے بڑھا اور اسکے چہرے پر آۓ بالوں کو پکڑ کر اسکے کان کے پیچھے کرتا سنجیدہ انداز میں بولا۔ حوریہ ایک پل کے لیے ٹہر سی گئی۔
پرسوں میں واپس اسلام آباد جا رہا ہوں جاتے وقت آپکو گھر چھوڑ دوں گا۔ کچھ دن رہ کر آ جائیے گا۔ وہ پلٹ کر اہنی جگہ پر بیٹھا اور دوبارہ سے لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔ حوریہ اسے اگنور کر کے بیڈ پر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
ایک منٹ بھائی یہ آپ کیا بول رہے ہیں۔ پورے ہوش وحواس میں بولیں میں نے شائد غلط سن لیا۔ سحر اس وقت اپنے کمرے میں تھی۔
میں صحیح کہ رہا ہوں آج ولیمہ تھا۔ مجھے بھی محلے کے ایک لڑکے نے بتایا ہے۔ اسد عام سے لہجے میں بولا۔
کیا بکواس ہے ایسا نہیں ہو سکتا میں نے آپکے کہنے پر کیا کچھ نہیں کیا اور اب کیسے اسنے اس دو ٹکے کی لڑکی سے شادی کر لی۔ مجھے تو ایسے انکار کر کے گیا تھا جیسے ساری زندگی شادی نہیں کرے گا۔ وہ پاس پڑے گلدان کو زمین پر پھینک کر بولی۔ اسکو اپنا دماغ بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
مجھے پتہ ہوتا تو شادی رُکنے کی کوشش کرتا پر سب اتنی آچانک ہوا کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔
نہیں۔۔ میں اس کا قتل کر دوں گی میں کب سے موقع کا انتظار کر رہی تھی اور اس حوریہ کی وجہ سے مجھ سے میری خوشیاں چھن گئیں۔ وہ ڈریسنگ پر پڑ سب چیزوں کو ہاتھ مار کر زمین پر گڑاتے کوۓ چیخی۔ مریم بیگم اتنا شور سن کر اسکے کمرے میں آئیں۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ وہ اندر بھکرا دیکھ کر بولیں۔ اسد ایک طرف کھڑا تھا۔
نہیں اب مہرے جینے کا کوئی فائدہ نہیں وہ بول کر زمین پر بیٹھی اور پرفیوم کی بوتل کا ٹوٹ ہوا کانچ پکڑا اس سے پہلے کسی کو سمجھ آتی اور کوئی اسے رُکتا اسنے اپنی دائیں کلائی زور سے کاٹی۔ خون اسکی کلائی سے فوارے کی صورت میں نکلا اور زمین پر بہا۔
سحر پاگل ہو گئی ہو؟ اسد چیختا کوا اسکے پاس آیا اور کانچ پکڑ کر زمین پر پھینکا۔ جلدی سے رومال نکال کر اسکی کلائی پر باندھا۔
بھائی میں اس سے بے انتہااااااا ممم ححح ببب تتت کرررر تیییییی ہو۔ ننن وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔ اسکی سانس اٹک رہی تھی۔ وہ وہی بے ہوش ہو گئی اسد اپنی بہن کا یہ حال دیکھ کر گھبڑایا۔ مریم بیگم تو غایب دماغ جے ساتھ ساری سچویشن سمجھنے کی کوشش کر رہیں تھیں۔
اسد نے بنا وقت ضائع کیے اسے اُٹھایا اور باہر گاڑی کی طرف بڑھا۔ مریم بیگم بھی انکے پیچھے بھاگیں۔
جاری ہے۔
