Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
کل پریزنٹیشن ہے۔ اور ہمارا کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ تم تینوں کو جو ٹاپک دیے تھے۔ کیا تیار ہیں؟ وہ ان تینوں کی طرف دیکھ کر بولا۔ وہ چاروں اس وقت یونیورسٹی کے گارڈن میں بیٹھے تھے۔ جہاں آس پاس اور بھی کافی اسٹوڈینٹ اپنا اپنا کام کر رہے تھے۔
ہاں میں نے تو تیار کر لیا ہے۔ جاوید موبائل نکال کر اپنی تیار شدہ فائل حامد کے نمبر پر سینڈ کرتے ہوۓ بولا۔
ہادی؟ حامد نے اب ہادی کی طرف دیکھا۔
ہاں کر لی ہے بھیج رہا ہوں۔ وہ مصروف انداز میں موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔ تھوڑی دیر بعد حامد کے موبائل پر بیپ ہوئی۔
افرحہ تم نے تیار کی؟ حامد اب سر جھکاۓ رجسٹر پر بے مقصد پینسل چلاتی افرحہ کی طرف متوجہ ہوا۔
نہیں! وہ ٹھنڈے لہجے میں بولی۔ حامد اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
کیوں؟ وہ بس اتنا ہی بولا۔
کیونکہ مجھے نیند آئی تھی تو سو گئی۔ اور میرا دل نہیں کر رہا تھا۔ کام کرنے کو۔ وہ اپنے کام میں مصروف رہی جیسے پینسل چلانے سے زیادہ اہم کام کوئی اور نا ہو۔
افرحہ تمہارا دماغ خراب ہے۔ کل پریزٹیشن ہے۔ اور تم یہ بے فضول سی وجہ دے رہی ہو۔ جاوید اسکے ایکسیوز سے ایک دم۔ بھرکا۔
جاوید تمیز سے بات کرو۔ ایک لڑکی سے کیسے بات کرتے ہیں بھول گے ہو۔ حامد جاوید کے اسطرح بولنے پر غصے سے بولا۔ افرحہ کو ہاتھ رُکا۔
تم دنوں کے آپسی مسلے کی وجہ سے میں فیل نہیں ہونا چاہتا۔ حد ہو گئی دل نہیں کر رہا تھا۔ اگر اتنی ہی دل کی سننی ہے تو یونی مت آیا کرو۔ وہ غصے میں بولتا کھڑا ہوا۔ افرحہ کی گردن مزید جھکی اسکی آنکھوں میں آنسوں آ گے۔
جاوید تو اب حد سے بڑھ رہا ہے۔ بلاوجہ کا تماشا لگا رہا ہے۔ حامد بھی اسکے مقابل کھڑا ہو کر سخت لہجے میں بولا۔
تماشا میں نہیں تم دونوں نے لگا کر رہا ہے۔ ہر وقت بلاوجہ کی بحث، اوپر سے جس دن سے ہم پریزٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ میڈیم نے ایک کام نہیں کیا۔ کبھی بیمار تھی کبھی دل نہیں کر رہا تھا۔ وہ بولے جا رہا تھا۔ آس پاس کے لوگ انکی طرف متوجہ ہوۓ۔
جاوید بس بہت ہوا۔ حامد مزید سننا نہیں چاہتا تھا۔ اسنے جاوید کے منہ پر مُکہ مارا۔ وہ ایک دم لڑکھڑایا۔
خبردار جو آئندہ افرحہ کے بارے میں کوئی غلط بات کہی۔ آئیندہ ہمارے معاملے میں بولنے کی ہمت بھی مت کرنا۔ وہ اسکو کالر سے پکڑ کر غصے سے بھری آنکھیں اسکی آنکھوں میں گھار کر وارنگ دیتے ہوۓ انداز میں بولا۔
افرحہ نے اپنا رجسٹر وہی پھینکا۔ اور اگلے ہی پل وہ اُٹھی اور وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔
حامد چھوڑ اسے ہادی آگے بڑھ کر دونوں کو چھڑوانے لگا۔
تم دونوں پاگل ہو گے ہو۔ یوں سر عام لڑ رہے ہو۔ کام کرنے کی بجاۓ لڑ رہے ہو۔ ہادی دونوں کو ایک دوسرے سے چھڑوا کر بولا۔
حامد نے دور جاتی افرحہ کو دیکھا۔ اور اپنے قدم اسکی طرف بڑھاۓ۔
آہ۔۔۔ سالے نے زیادہ زور سے مارا ہے۔ ویسے سالے میں طاقت بہت ہے۔ جاوید اپنے ہونٹ کے کنارے سے خون صاف کرتے ہوۓ بولا۔
تو نے بھی تو حد پار کر دی تھی۔ بول تھا زیادہ اُور مت ہونا۔ ہادی بھی اسکے قریب بیٹھ کر بولا۔
اگر اتنا نا بولتا تو وہ یوں اسلے پیچھے کیسے بھاگتا کم ازکم اب اسے ریلائیز ہو گا۔ کہ اپنے رشتے کو یوں ختم نہیں کرنا چاہیے ورنہ لوگ تو باتیں کریں گے۔ جاوید دور جاتے حامد کو دیکھ کر بولا۔
ہممم ہادی نے ہاں میں گردن ہلائی۔
تو بھی افرحہ سے دور رہ ورنہ اگلا نمبر تیرا ہو گا۔ تجھے ایک سے زیادہ مُکے پڑیں گے۔ جاوید ہنس کر بولا۔
او ہیلو ہیرو یہ سب تیرے ہی کہنے پر کر رہا تھا۔ مت بھول میری الحمداللہ بچپن کی منگیتر ہے۔ اور کافی پیاری کیوٹ بھی ہے۔ وہ مسکرا کر بولا۔
بس یار میں اپنے جگری دوست کو اپنے ہاتھوں سے اپنا بسنے والا گھر برباد کرتے نہیں دیکھ سکتا۔ مانا جو ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا۔ پر اسکا یہ مطلب نہیں تم اپنے رشتے ختم کر دو۔ کیا پتہ کل کو زندگی کیا مُڑ لے لے اور تب پچھتاؤ۔ اس دن سے میں دیکھ رہا ہوں تھوڑی عقل تو آ رہی ہے۔ پر کام ابھی باقی ہے۔ اچھا یار اب تجھے ایسا کرنا ہے۔ جاوید اب ہادی کی طرف متوجہ ہوا اور اسے اگے کا پلین بتانے لگا۔
صحیح کہا انکے چکر میں ان فیل تو ہونا نہیں چل اُٹھ ہادی اپنا موبائل نکال کر کچھ ٹائپ کر کے سینڈ کرتے ہوۓ بولا۔
************★***********★********
ازلان کو جاب کرتے دو ہفتے ہو گے تھے۔ شام پانچ بجے وہ فارغ ہوا۔ اور باہر نکلا۔ تبھی اسکے موبائل پر سحر کا میسج آیا۔
ازلان مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ اپنی کمپنی کے پاس والے کیفے میں آ جاؤ۔ سحر کا میسج پر کر ازلان سوچ میں پڑھ گیا۔ کہ اسے کیا بات کرنی ہے۔ کیفے تھوڑی ہی دور تھا۔ ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ پکڑے وہ کیفے میں پہنچا۔ سامنے ایک ٹیبل پر بیٹھی سحر اسکا انتظار کر رہی تھی۔
السلام علیکم! وہ چلتا ہوا اسکے قریب ایا اور سلام کیا۔
وعلیکم السلام! شکریہ ازلان آپ آگے بیٹھیں۔ وہ کھڑی ہو کر سلام کا جواب دیتی ہوئی بولی۔ ازلان سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
سحر نے کافی آڈر کی۔
بولیں کیا بات کرنی تھی۔ ازلان ٹیبل پر اپنے ہاتھ رکھ کر بولا۔ سحر نے ایک پل اسکو دیکھا۔
ازلان میں گھما پھرا کر بات نہیں کروں گئی۔ میں نہیں جانتی کب اور کیسے آپ مجھے اچھے لگنے لگے۔ کافی سالوں سے آپ میرے خوابوں کا حصہ ہیں۔ بہت دفع سوچا آپکو بول دوں ہر ہمت نہیں ہوئی۔ اب کچھ دنوں میں پیپرز سے۔ فارغ ہو کر میں گھر جانے والی ہوں۔ تو سوچا آج تو بول ہی دوں۔ وہ بول رہی تھی۔ اور ازلان اسکی طرف دیکھ رہا تھا اسے اس سب کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ ۔ سحر نے گردن اُٹھا کر اسے دیکھا۔
کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ وہ ہمت کر کے بولی۔
بہت دیر تک ان دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی۔
اہمم! سحر آپ نے بنا ہچکچاتے اپنے دل کی بات میرے سامنے رکھی۔ میں آپکی فیلنگ کی رسپیکٹ کرتا ہوں۔ ایم سوری پر میری زندگی میں شادی لفظ کی بالکل جگہ نہیں۔ مجھے ابھی اپنے کریر پر فوکس کرنا ہے۔ وہ اپنا گلا گھنگال کر بولا۔
ازلان میں کب بول رہی ہوں کے ابھی شادی کرو۔ آپ جب تک وقت لینا چاہیتے ہیں لے لو۔ جب لگے کہ شادی کر لینی چاہیے میں تب تک انتظار کر لوں گئی۔ سحر اسکی طرف دیکھ کر بولی۔
سحر شائد آپ سمجھی نہیں میں زندگی میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔ آپ بلاوجہ میرا انتظار مت کریں۔ ابھی فل حال مجھے دیر ہو رہی ہے۔ تو چلتا ہوں۔ وہ کھڑا ہوا۔ اور اپنے وائلٹ سے کچھ پیسے نکال کر ٹیبل پر رکھتا اپنا لیپ ٹاپ بیگ اُٹھاۓ خداحافظ کہتا کیفے سے نکل گیا۔
آہ۔۔۔ سحر نے ٹیبل پر پڑا گلاس پکڑا اور زمین پر دے مارا۔ سارے لوگ اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
تم نے مجھے انکار کیا۔ صرف اس حوریہ کے لیے۔ اب تو وہ (گالی) طلاق یافتہ بھی ہے۔ اب تو بھاگے جاؤ گے۔ پر میں بھی سحر ہوں۔ اگر تمہاری شادی مجھ سے نہیں ہوئی تو کسی سے نہیں ہو گئی۔ سحر اپنے بال نوچتے ہوۓ بولی۔
******★*********★********★*****
افرحہ کافی دیر یونی کے واشروم ایریا میں رو کر اب باہر آئی تھی۔ وہ چلتی ہوئی آگے آئی تو ایک طرف حامد کھڑا تھا۔ جو اسکے آنے پر وہ اسکے قریب پہنچا اسے آتا دیکھ وہ آگے بڑھی۔
افرحہ رکو میری بات سنو۔ وہ اسکے اگے آکر کھڑا ہو گیا نا چارا اسے رکنا پڑا۔
کیا ہے؟ وہ اُکھڑے انداز میں بولی۔
ایم سوری یار وہ جاوید نے جو کچھ بو۔۔۔ وہ ابھی بول رہا تھا جب افرحہ بول پڑی۔
کیا سوری ہاں حامد کس بات کی سوری۔ جاوید نے جو بھی کہا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ ہم نے واقعی اپنے رشتے کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ میرے ابو کی وجہ سے تایا کو ہاٹ اٹیک ہوا تھا۔ اسکا بدلہ تم نے مجھ سے لیا۔ تم نے مجھ سے ہر رشتہ ختم کر دیا۔ تمہاری وجہ سے میں جو ایک قابل پڑھنے والی لڑکی تھی۔ اس سے پڑھا نہیں جاتا۔ راتوں کو سویا نہیں جاتا۔ تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔ حامد میرا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ حامد کو اسکے آنسوں اپنے دل ہر گڑتے ہوۓ بولے۔
افرحہ۔۔ حامد اگے بڑھنے لگا جب افرحہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
تم نے اپنے ابا کا بدلہ لے لیا نا۔ اب مجھ سے دور رہو۔ مجھے معاف کرنا میں رات کو کام نہیں کر پائی آج رات جاگ کر کر دوں گئی۔ میری وجہ سے پریزٹیشن خراب نہیں ہو گئی۔ وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی۔ اور آگے بڑھی۔ جب ان دونوں کے موبائل پر ہادی کا میسج آیا۔
ابھی دو بجے ہیں ہم سات بجے تک اپنا کام پورا کر سکتے ہیں۔ باہر آؤ۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔ ہادی کا میسج پڑھ کے حامد افرحہ کی طرف بڑھا۔
چلو ! ہماری وجہ سے انکے نمبر کم نہیں ہونے چاہیں۔ وہ بول کر آگے بڑھا۔ افرحہ نا چاہتے ہوۓ اسکے پیچھے گئی۔ اور حوریہ کو لیٹ آنے کا میسج کیا۔
وہ چاروں ہادی کے گھر پہنچے۔ جہاں ہادی کی امی نے انکے لیے کافی کچھ بنا دیا تھا۔ کچھ گھنٹوں پہلے ہوئی ہر بات کو بھلاۓ وہ چاروں اب پوری طرح اپنا کام کر رہے تھے۔ سات کی بجاۓ اب آٹھ کا وقت ہو رہا تھا۔ کام تقریباً ختم ہو چکا تھا اب بس حامد کو ساری فائلز اکھٹی کر کے ایک فائل بنانی تھی۔
تم کس کے ساتھ جا رہی ہو۔ ہادی نے افرحہ کی طرف دیکھ کر پوچھا۔حامد لیپ ٹاپ پیک کرتے وقت اسکی طرف متوجہ تھا۔
رکشے پر چلی جاؤں گئی۔ وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر چادر ٹھیک طریقے سے لیتے ہوۓ بولی۔
میں چھوڑ دیتا ہوں۔ ہادی بولا۔
افرحہ حوریہ باجی کا میسج آیا تھا۔ انہوں نے مجھے تمہاری ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے بولا ہے مین تمہیں گھر چھوڑ دوں۔ چلو۔ حامد اسکی طرف دیکھ کر بولا۔ ۔
اللہ حافظ وہ ہادی کو خدا حافظ بول کراسکی امی سے ملتی باہر نکلی۔ حامد نے آ کر بائیک سٹاٹ کی۔ افرحہ نا چاہتے ہوۓ بھی بائیک پر بیٹھی۔
جاوید نے دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ اپنی بائیک سٹاٹ کی حامد نے ادے غصے سے گھورا۔ اور بائیک آگے بڑھائی۔
آدھے گھنٹے کے بعد وہ افرحہ کے گھر پہنچے۔ امین صاحب نے دروازہ کھولا۔ افرحہ انہیں سامنے دیکھ کر ڈر گئی۔
ابو وہ۔۔ وہ ہکلاتی ہوئی بولی۔۔
افرحہ بیٹے اندر چلو۔ وہ ہلکا سا مسکر ا کربولے۔ افرحہ اور حامد بیک وت پر حیران ہوۓ کیونکہ آج تک انہوں نے اسے بات نہیں کی تھی۔
حامد تم بھی اندر آؤ۔ وہ اب حامد کی طرف متوجہ ہوۓ۔
نہیں چاچو امی انتظار کر رہی ہوں گئی۔ چلتا ہوں اللہ حافظ۔ ناچاہتے ہوۓ بھی حامد کا لہجہ سرد ہوا۔ اگلے ہی پل وہ وہاں سے نکل گیا۔ افرحہ گھر میں داخل ہوئی۔
******************★***★************
ازلان سحر سے مل کر اب بے مقصد سڑک پر چل رہا تھا۔ چلتے ہوۓ وہ ایک سائڈ پر بنا سیمنٹ کا بنے ہوۓ بینچ پر بیٹھا گیا۔ اسکے دماغ میں سحر کی باتیں گھوم رہیں تھیں۔
جانتا ہوں ایک طرفہ محبت کتنی اذیت دیتی ہے۔ پر میں سحر کی مدد نہیں کر سکتا۔ میں کیسے کسی اور کو وہ جگہ دے دوں جو میں نے اسکے نام کی تھی۔ اگر میں سحر سے شادی کر بھی لوں تو اسے وہ مقام نہیں دے پاؤں گا جو اسکا حق ہو گا۔
یا اللہ کیوں اس بچاری لڑکی کو بھی اس اذیت میں مبتلا کر دیا۔ میں اسکی کوئی مدد نہیں پاؤں گا۔ وہ خود ہی اپنے آپس ے بات کر رہا تھا۔
حور چاہ کر بھی میں تمہیں اپنے دل سے نکال نہیں سکتا۔ اتنی ہمت ہی نہیں۔ کہ تمہارے خیال کے بغیر تو شائد زندہ ہی نا رہ پاؤں۔ وہ لمبا سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوۓ بولا۔ سامنے بس آ گئی۔ وہ کھڑا ہو گیا اور چلتا ہوا بس میں بیٹھ گیا۔۔
جاری یے۔۔۔
