51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

نماز کا وقت نکل جاۓ گا۔ ماہم، افرحہ اُٹھ جاؤ۔ دیکھو اگر اب تم دونوں نا اُٹھی نا تو پانی کا بھرا جگ دونوں پر اُنڈھیل دوں گئی۔ جاۓ نماز کو فولڈ کرتی وہ اپنی دونوں بہنوں کو اُٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسنے آگے بڑھ کر دونوں کے اوپر سے چادر اتار دی۔اور اے سی کا آف کیا۔

آپی یار سونے دو نا۔ پہلے ہی ساری رات لائٹ نے اتنا تنگ کیا ہے۔ صرف ایک گھنٹہ سو پائی ہوں۔ ماہم دوبارہ سے اپنے اوپر چادر لیتے ہوۓ بولی۔

ماہم بری بات اُٹھو جلدی سے نماز پڑھ لو پھر سو جانا۔ وہ اسے پیار سے اُٹھانے لگی۔ افرحہ تب تک اُٹھ چُکی تھی۔

اچھا پڑھ لیتی ہوں۔ ماہم اُٹھ کر بیٹھی۔ اسکی آنکھیں ابھی بھی بند ہو رہی تھیں۔ وہ اُٹھی اور کمرے کے ساتھ ہی بنے واشروم میں وضو کرنے چلی گئی۔ حوریہ نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا۔ یہ روز کا معمول تھا۔ وہ ایسے ہی دونوں کو اُٹھاتی۔ حوریہ صوفے پر بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی۔

آپی آج صدف باجی کا نکاح ہے۔ کتنا مزہ آۓ گا۔ میں تو آج کالج نہیں جاؤں گئی۔ تینوں نماز اور تلاوت سے فارغ ہو کر اب بیڈ پر بیٹھیں تھیں۔

میں بھی یونی نہیں جاؤں گی۔ افرحہ آرام سے بول کر دوبارہ سے لحاف اوپر لینے لگی۔

ایک منٹ نکاح رات کو ہے۔ تم دونوں کس خوشی میں نہیں جاؤ گئی۔ پڑھائی کا نقصان ہو گا۔ افرحہ تمہارے تو پیپرز قریب ہیں۔ شرم کرو اُٹھو اور تیار ہو جاؤ کچھ ہی دیر میں وین آ جاۓ گئی۔ حوریہ اسکا لحاف پکڑتے ہوۓ بولی۔

مجھے تو بخار ہو رہا ہے۔ یا اللہ یہ چکر کیوں آ رہے ہیں۔ ماہم اپنا سر پکڑتے ہوۓ بولی۔

کیا ہوا ماہی تم لیٹو میں پانی لاتی ہوں۔ حوریہ اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ اور اسے لٹایا۔ وہ بھاگ کر کیچن سے پانی لانے گئی ۔

ماہی کی بچی کتنی بری جھوٹی ہے۔ آپی بچاری کی معصومیت کا فائدہ اُٹھا رہی ہو۔ دیکھو کتنا پریشان ہو گئیں۔ افرحہ اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔

ماہم تم نے جھوٹ بولا۔ ڈرامے کر رہی تھی۔ جانتی ہو نا اللہ پاک کو جھوٹ بالکل پسند نہیں۔ حوریہ ہاتھ میں پانی کا گلاس لے کر کمرے میں داخل ہوئی جب افرحہ کی بات اسکے کانوں میں پڑی۔

ارے میری پیاری آپی جی کبھی کبھی چھوٹا موٹا جھوٹ چلتا ہے۔ ماہم بیڈ سے نیچے اتر کر اسکے کندھوں کے گرد اپنے ہاتھ باندھتے ہوۓ بولی۔

بالکل نہیں جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے چاہے چھوٹا ہو یا برا۔ اتنی بری ہو گئی ہو اتنی تو سمجھ ہونی چاہیے۔ حوریہ اسے ہٹاتے ہوۓ بولی۔

ساری باتیں مجھے ہی سناؤ۔ اس افرحہ کو بھی کچھ بولو نا دیکھو کیسے سو رہی ہے۔ ماہم صوفے سے کُشن پکڑ کر افرحہ پر پھینکا۔ جو کہ مزے سے سونے کی کوشش کر رہی تھی۔

آہ ماہی کی بچی رُک ابھی تو۔ وہ غصے سے اُٹھ بیٹھی اور وہی کُشن ماہم کی طرف پھینکا۔ ماہم اسی وقت جھک گئی۔ کُشن کمرے سے باہر جا کر گِڑا۔

صبح صبح یہ کیا بد تمیزی چل رہی ہے۔ کسی کی روب دار آواز گھونجی۔

معاف کیجیے گا ابو مزاق کر رہی تھیں۔ تینوں ایک دم تیزی سے سیدھی کھڑی ہو گئیں۔ اور سر پر ڈوپٹے اُڑھے نظریں نیچیں کر کے بولیں۔

تم دونوں ابھی تک کالج جانے کے لیے تیار کیوں نہیں ہوئیں؟ امین صاحب ماہم اور افرحہ کو گھورتے ہوۓ بولے۔

ابو! وہ آج صدف باجی کا نکاح ۔ ماہم ہمت کر کے بولی۔ ورنہ امین صاحب کے سامنے کسی کے بولنے کی ہمت نہیں تھی۔

نکاح اسکا ہے تمہارا نہیں جو یوں منہ اُٹھا کر چھٹی کر رہی ہو۔ لگتا ہے بری بہن کے نقشے قدم پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جیسے اس نے بارہ بھی سی گریڈ کے ساتھ پاس کی تھیں۔ تم بھی اسی طرح کرو گئی۔امین صاحب نے سر جھاکے کھڑی حوریہ پر طنز کا تیر پھینکا۔ اسکا سر مزید جھک گیا۔

اگلے پانچ منٹ میں تیار ہو کر دونوں نیچے آؤ۔ ایک تو چار لڑکیاں ملی اور وہ بھی سب کی سب نکمیں۔ بس باپ کے پیسے اُڑانے ہیں۔ احساس نام کی چیز نہیں ہے۔۔ بیٹا ہوتا تو کم ازکم میرا بازو تو بنتا۔ وہ منہ میں بربراتے ہوۓ نیچے چلے گے۔

ابو کو پتہ نہیں کیا مسلہ ہے۔ اب ان کے نصیب میں اگر چار لڑکیاں تھیں تو اس سب میں ہمارا کیا قصور ہے؟ زندگی اجیرن کر دی ہے۔ افرحہ غصے سے بولتی کمرے میں پلٹی۔ اور الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی۔

میں اسی لیے بول رہی تھی۔ تیار ہو جاؤ۔ ابا کا جب پتہ ہے تو کیوں فضول میں موقع دینا۔ اب دونوں تیار ہو کر آجاؤ۔ میں ناشتہ بناتی ہوں۔ حوریہ بول کر باہر نکل گئی۔

اف اچھی بھلی چھٹی بن رہی تھی۔ ابا بھی نا ۔ ماہم کالج کا یونی فام لے کر واشروم میں گھسی۔

*************************************

ابا کھانے کی ڈیگیں تو پکنا شروع ہو گئی ہیں۔ میں سوچ رہا تھا۔ چاولوں کی پانچ اور مرغی کی دو ڈیگیں بہت ہوں گئی۔ اگر کم پڑ گئی تو؟ وہ میٹرس کندھے پر ڈالے رشید صاحب کے پاس آیا۔ جو کہ ہاتھ میں پکڑے پیسے گن رہے تھے۔

ازلان پُتر اللہ بہتر کرے گا۔ تو جلدی سے کرسیاں لگوا دے۔ بارات تین بجے تک آ جاۓ گئی۔ رشید صاف ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوۓ بولے۔

ابا آپ اندر بیٹھو۔ دیکھو کتنا پسینہ آ رہا ہے۔ آپکی طبعیت خراب ہو جاۓ گئی۔ میں سب سھنمبال لوں گا۔ وہ انہیں زبردستی اندر لایا۔ اور پنکھا چلا کر اسکے سامنے بیٹھایا۔

بھائی باہر ٹینٹ والا آ گیا ہے۔ اسے میں نے جگہ تو بتا دی ہے۔ پر وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ حامد اسکے پاس آ کر بولا۔

رک یہ میٹرس یہاں ڈال دوں۔ سب خواتیں یہی روٹی کھائیں گئی۔ وہ کندھے پر پڑا میٹرس اتار کر نیچے زمین پر رکھتے ہوۓ بولا۔ حامد نے اسے بیچھانے میں مدد کی۔

چل حامد! تم نا ہمسائیوں سے چار پانچ پنکھے پکڑ لاؤ۔ یہاں حال میں لگا دیں گے۔ تا کہ گرمی کا ماحول تھوڑا کم ہو۔ وہ حامد کو لیے گھر سے باہر نکلا۔ حامد ہاں میں سر ہلا کر دوسری گلی میں مُڑ گیا۔ وہ سیدھا چلتا کھلے میدان مین پہنچا۔ یہاں محلے کی ساری شادیوں کا انتظام کیا جاتا تھا۔ اس نے وہاں سارا انتظام کروایا۔

**************************************

امی دو بج چکے ہیں۔ اصولاً تو ہمیں اس وقت تایا کے گھر ہونا چاہے تھا۔ پر جب تک آپ کی بیٹیاں تیار ہی نہیں ہوں گئی ہم کیسے پہنچے گے۔ ماہم اپنا موبائل چلاتے ہوۓ بولی۔

میڈیم ہم تیار ہیں۔ پر شائد آپ اپنے موبائل پر اتنا مصروف ہیں کہ اتنی پیاری حسن کی پری آپ کو نظر ہی نہیں آئی ۔ افرحہ ہیل پہنے کر چلتے ہوۓ اپنے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوۓ ایک ادا سے بولی۔۔

پری اور تم ہاہاہا یہ زندگی کا سب سے برا مزاق تھا۔ جو آج افرحہ اٰمین نے سنایا ہے۔ وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہوۓ بولی۔۔

السلام علیکم! امی وہ دنوں زیادہ لڑتیں اُس سے پہلے دروازے سے عطیہ کی آواز گھونجی جو کہ اپنے ایک سالہ بیٹے کو پکڑے اندر داخل ہوئی اسکے پیچھے اسکا شوہر آصف کھڑا تھا۔

وعلیکم السلام! ماشااللہ ماشااللہ میری بچی آ گئی۔ بشرہ بیگم آگے بڑھ کر اسکے گلے ملتے ہوۓ بولیں۔

آپی بھالو کو مجھے دیں۔ افرحہ اگے بڑھ کر اسکی گود میں اُٹھاۓ بیٹے کو پکڑنے کے لیے بولی۔۔

ہٹو میری گُوڈو کو تم جیسی خالہ بالکل پسند نہیں دو ہٹو۔ ماہم اسے دور کرتے ہوۓ بولی۔ اور ہادی کو گودی میں لیا۔ جو کہ ان سب کو دیکھ کر عجیب عجیب سے منہ بنا رہا تھا۔

بشرہ بیگم نے داماد اور بیٹی کو اندر حال میں رکھے صوفے پر بیٹھایا۔ ماہم اور افرحہ وہی کھڑی ہادی کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہی تھیں۔( دو سال پہلے عطیہ کی شادی آصف سے ہوئی تھی۔ ان کا ایک سال کا پیاراسا بیٹا تھا۔ آصف ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا ہے۔)

السلام علیکم! آپی، جیجو۔ اوازیں سن کر حوریہ باہر آئی۔ سامنے عطیہ کو دیکھ کر وہ کھل کر مسکرائی۔

وعلیکم السلام! شکر ہے تم بھی باہر نکلی۔ جانا کب ہے۔ کافی دیر ہو گئی ہے۔ عطیہ حوریہ سے ملتے ہوۓ بولی۔۔

آپی ابو کو کوئی کام تھا۔ وہ بس آنے ہی والے ہیں۔ پھر چلتے ہی ۔ ماہم بولی۔

اے حوریہ یہ تم نے ایک گال پر اتنا زیادہ میک اپ کیوں لگایا ہے۔ عطیہ صوفے سے اُٹھ کر اسکے سامنے کھڑی ہو کر بولی۔ سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔

وہ آپی داغ چھپا۔۔۔ وہ ہاتھ مڑورتے ہوۓ بولی۔۔

ہااہا پاگل کہی کی تجھے کیا لگتا ہے۔ میک لگانے سے تیرا داغ چھپ جاۓ گا۔ ڈفر۔ تیرا داغ بہت گہرا ہے۔ بالکل بھی نہیں چھپا۔ اور یہ اتنی بری سے چادر کس خوشی میں لی ہے۔ ایک تو تم اتنی خوبصورت بھی نہیں ہو اسکے اوپر یہ داغ اور اس سے بڑھ کر یہ بری سے چادر لیے رکھتی ہو۔ اسی لیے تو جو رشتہ آتا ہے ریجیکٹ کر کے چلا جاتا ہے۔ خود عقل کو ہاتھ مار لو۔ تھوڑی سی تو ماڈرن بنو۔ تا کہ کسی کو تو پسند آؤ۔ عطیہ اسکے گال پر انگلی لگا کر بیس اتارتے ہوۓ بولی۔۔ اسکے الفاظ حوریہ کے دل میں چھبے۔۔

عطیہ کیا بکواس بول رہی ہو۔ آصف نے اسے چپ کرواتے ہوے بولا۔ بشرہ بیگم نے سر جھکا لیا۔ان کے مطابق عطیہ صحیح بول رہی تھی۔

عطیہ آپی جو بھی رشتے آۓ تھے وہ ہماری پیاری سی آپی کے لیے سوٹ نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی صورت دیکھ کر شادی کرے گا۔ اس سے اچھا ہے ہم خود انکار کر دیں گے۔ ابو کی گاڑی باہر آ گئی ہے۔ تو چلیں۔ افرحہ اگے بڑھ کر عطیہ کو سنا کر حوریہ کی طرف بڑھی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گئی۔

امی اس افرحہ کو سمجھائیں بری بہن سے بات کرنے کی تمیز ہی نہیں۔ چلیں آصف۔ وہ اپنا پرس کندھے پر ڈالتے ہوۓ بولی۔ اور باہر نکل گئی۔

باہر اٰلمین صاحب کی گاڑی میں افرحہ،حوریہ بیٹھی ہوئیں تھی۔ ماہم دوسری گاڑی میں بیٹھ گئی۔ وہ ہادی سے بہت دنوں کے بعد مل رہی تھی۔ تو اسے ایک منٹ کے لیے بھی جدا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ ہادی کے معاملے مین بہت ٹچی تھی۔

ایک گھنٹے میں وہ رشید صاحب کے گھر پہنچ گے۔

ایک تو رشید بھائی کو اس محلے سے نا جانے کیا پیار ہے۔ اس پھٹیچر محلے سے نکلنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ دیکھو اتنی مہنگی گاڑی کا ستیا ناس ہو گیا۔ اگر خاندان کی باتوں کی پرواہ نا ہوتی تو یہاں قدم بھی نا رکھتا۔ اٰمین صاحب اپنے سفید سوٹ پر پڑی سلوٹوں کو ہاتھ سے صحیح کرتے ہوۓ بولے۔ ان کی گاڑی کافی گندی ہو چکی تھی۔ وہ سب گھر کے اندر داخل ہوۓ۔

شکر ہے تم سب وقت پر آگے۔ رشید صاحب مسکرا کر امین صاحب کے گلے لگنے لگے۔

رشید بھائی پہلے پسینہ تو صاف کر لیں۔ میرا اتنا مہنگا سوٹ خراب ہو جانا ہے۔ وہ انہیں دور کرتے ہوۓ بولے۔رشید صاحب کا چہرہ ایک دم اترا۔

بٹیا تم سب اندر چلو۔ اور اٰمین تم میرے ساتھ چلو۔ وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر انتطامات والی جگہ پر پہنچے جہاں پہلے سے ہی خاندان اور محلے کے کافی لوگ جمع تھے۔

السلام علیکم! چاچو ازلان نے جیسے ہی انہیں آتے دیکھا وہ بھاگ کر ان کو سلام کرنے آیا۔

وعلیکم السلام! میاں کچھ پنکھوں کے ہی انتظامات کر لو۔ کتنی گرمی ہے۔ وہ اپنا چہرہ رومال سے صاف کرتے ہوۓ بولے۔۔

چاچو آپ یہاں بیٹھیں۔ ازلان انہیں لیے ایک طرف لگی کرسیوں اور ٹیبل کے قریب لایا۔ اور پاس پرا پنکھا ان کی برف کیا۔

بھائی اماں گھر بلا رہی ہیں۔ آ کر بات سن جاؤ۔ تبھی حامد آیا۔۔ جو کہ فل تیار تھا۔ ازلان اسکے ساتھ گھر کی اور روانہ ہوا۔

حامد کون کون آیا ہے؟ وہ اپنے بال پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔

کون سے مطلب؟ سبھی آۓ ہیں۔ ویسے بھائی میں کیسا لگ رہا ہوں۔ وہ اپنی کالر کو ٹھیک کرتے ہوۓ بولا۔ اس نے بلو سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔

ہمشہ کی طرح ہینڈسم وہ اسکے بال بگارتے ہوۓ بولا۔۔

کیا یار بھائی کتنی دیر لگی مجھے بال بنانے میں حد ہے ویسے وہ منہ بسورتے ہوۓ بولا۔ ازلان ہنس دیا۔ گھر کا دروازہ قریب ا گیا۔

ازلان تو ایسے گھوم رہا جا بیٹے جلدی سے تیار ہو جا تیرے کمرے میں کپرے استری جیے رکھے ہیں۔ جا جلدی کر بارات آنے والی ہے۔ بشرہ بیگم کیچن سے نکلتے ہوۓ بولیں۔

جی اماں وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ سامنے اپنے کمرے میں آیا۔اور تیار ہونے لگا۔

*************************************

ماشاءاللّٰہ صدف باجی آپ کتنی پیار لگ رہی ہو۔ سامنے پلنگ پر ریڈ گڑارہ کرتی پہنے ہوۓ بیٹھی تھی۔ محلے کی پارلر والی نے خوبصورتی سے اسکا میک اپ کیا ہوا تھا۔ وہ بہت خوصورت لگ رہی تھی۔

صدف باجی میرا دوپٹہ نہیں مل رہا کہاں ہے۔ کرن کمرے کی الماری کو چیک کرتے ہوے بولی۔

تیسرے خانے میں رکھا ہے۔ صدف اپنے ڈوپتے کو سیٹ کرتے ہوۓ بولی۔۔

اف شکر ہے مل گیا۔ آپ کے بنا میرا کیا ہو گا۔ میں آپ کو بہت مس کروں گئی۔ وہ منہ بسور کر صدف کے گلے لگتے ہوۓ بولی۔ صوف نے مسکراتے ہوۓ اسکے سر پر بوسہ دیا۔ اسکا بھی کرن کے بغیر رہنا مشکل تھا۔

کچھ نہیں ہو گا۔ بس تم یہ جو ہڈ حرام ہوتی ہو وہ ٹھیک ہو جاؤ گی۔ دیکھنا ایک دم فُرتری سے کام کرنے لگ جاؤ گئی۔ ماہم ہادی کے گال کو چومتے ہوۓ بولی۔

لو جی کون بولی۔ دنیا جہاں کی نکمی ایک گلاس تو پکڑا جاتا نہیں بری آئی ۔ افرحہ کہاں چپ رہنے والی تھی۔

چپ کرو تم دونوں کہی بھی شروع ہو جاتی ہو۔ موقع محل بھی نہیں دیکھتیں۔ اور میرے بیٹے کو واپس کرو۔ چو م چوم کر کالا کر دو گئی عطیہ ہادی کو اسکی گود سے لیتے ہوۓ بولی۔ ماہم کا چہرہ اتر گیا۔ ۔۔ افرحہ کا قہقہ گھونجا۔۔

حوریہ پانی یا بوتل لا دو۔ گرمی کی وجہ سے گلا سوکھ رہا ہے۔ عطیہ ہادی کو لے کر پلنگ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔

جی آپی لاتی ہوں۔ وہ جلدی سے بولتی کمرے سے باہر نکلی اور سیدھی کیچن میں آئی۔ جہاں بشرہ بیگم کام کر رہیں تھیں۔

تایا جی پانی یا بوتل ملیں گئی۔ عطیہ باجی کو پیاس لگی ہوئی ہے۔ وہ کچن میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔

ارے حوریہ بیٹی تم۔ ہاں میں دیتی ہوں۔ پانی تو گرم ہے۔ اور بوتلیں ختم ہو گئی ہیں۔ تم ایسا کرو ازلان یا حامد کو بولو باہر سے ٹھنڈی بوتلیں لا دیں۔ باقی مہمانوں کو بھی دینی ہیں۔ وہ گلاس دھوتے ہوۓ بولیں۔ حوریہ ہاں میں سر ہلا کر پلٹی۔

ازلان کمرے سے بلیک شلوار قمیص پہنے جلدی سے باہر کی طرف جا رہا تھا حوریہ نے اسے دیکھ لیا۔ وہ فوراً اسکے پیچھے بڑھی۔

رکیے ازلان ! وہ اسکے پاس آ کر بولی۔ وہ جہاں تھا وہی تھم سا گیا۔

کیا یہ اُسی کی آواز ہے؟ کیا اس نے مجھے رُکا؟ وہ وہی کھڑا سوچ رہا تھا۔ جب ایک بار پھر اپنے قریب سے ہی اسکی آواز سنائی دی۔

وہ تائی جی کہ رہی ہیں۔ بوتلیں اور ٹھنڈا پانی لا دیں۔ مہمانوں کو دینا ہے۔ وہ اپنے چہرے کے ایک طرف ڈوپٹہ کرتے ہوۓ ہولے سے بولی۔

جی آپ جائیں میں ابھی لا دیتا ہوں۔ وہ نظریں یونہی جھکاۓ بری ہمت کر کے بولا۔ حوریہ ہاں میں گردن ہلا کر پلٹ گئی۔ وہ اپنی ڈھڑکنوں کو کنٹرول کرتا گھر سے باہر نکل گیا۔ کچھ پل کے لیے تو اسے یقین ہی نا ہوا کہ ابھی ابھی وہ کس سے بات کر رہا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں حامد بوتلیں دے گیا۔۔ حوریہ ماجدہ بیگم کے ساتھ مل کر سب کو سرو کرنے لگی۔

بشرہ تم نے اپنی اس بچی کا ابھی تک کہی رشتہ کیوں نہیں کیا؟ حوریہ سب کو کولڈ درنک پیلا رہی تھی جب اسکے کان میں ایک عورت کی آواز پڑی۔

رشتے دیکھ رہے ہیں مناسب وقت پر کر دیں گے۔ بشرہ بیگم پہلو بدلتے ہوۓ بولیں۔

تم اسے کسی سکین شپیشلسٹ ڈاکٹر کو دیکھاؤ مجھے تو لگتا ہے۔ چہرے کے داغ کی وجہ سے ہی رشتے سے انکار ہوتا ہو گیا۔ میری بھی ایک جاننے والی تھی۔ اسکی بیٹی کے چہرے پر گرم پانی گر گیا تھا بالکل ایسا ہی نشان بنا تھا کئی سال تک رشتے کو انکار ہوتا رہا پھر ایک ڈاکٹر ملا جس نے پتہ نہیں کون سی کریم دی ۔ کچھ ہی مہینوں میں اسکا داغ ختم ہو گیا۔ اور اگلے ہی مہینے رشتہ ہو گیا۔ تم بھی وہی کے کر جاؤ۔ وہ انہیں لمبی چوڑی کہانی سناتے ہوۓ بولیں۔ حوریہ پاس ہی کھڑی سب سن رہی تھی۔

کیسی باتیں کرتی ہو رضیہ حوریہ بہت پیاری ہے۔ اسکی شادی جب ہونی ہو گئی ہو جاۓ گئی۔ انشااللہ بہت ہی اچھے گھر میں ہو گئی۔ تم یہ پانی پیو ماجدہ بیگم نے گلاس اگے کرتے ہوۓ کہا۔

حوریہ آپی اپ کو ماہم بلا رہی ہے۔ یہ مجھے دیں میں کر لیتی ہوں۔ کرن اسکے قریب آ کر بولی۔ حوریہ جبراً مسکرائی اور ٹرے اسکو دے کر وہاں سے نکل گئی۔ ایسی باتیں وہ تقریباً روز ہی سنتی تھی۔ ان کڑوی باتوں کو سن کر ہی وہ بری ہوئی تھی۔ ان باتوں کی وجہ صرف یہ تھی۔ کہ اسکی گال پر ایک طرف پیدائشی براؤن کلر کا نشان تھا۔ جو کہ کافی برا تھا۔ اسکی آدھی گال کو کور کر لیتا تھا۔

مبارک ہوماجدہ بیٹی کی شادی بہت مبارک ہو۔ مریم بیگم کی آواز سنائی دی۔ ماجدہ بیگم انکے گلے لگئی۔

بہت بہت شکریہ مریم ماجدہ بیگم مسکرا کر بولیں۔ بشرہ بیگم اُٹھ کر اپنی بہن کو ملیں۔ سحر سب سے مل کر سامنے صدف کے کمرے میں آ گئی۔

جاری ہے۔