Rate this Novel
Episode 4
صبح صبح وہ واپس گھر پہنچا اور اتے ہی سو گیا۔ دو بجے کے قریب وہ جاگا۔ نہا کر وہ حال میں رکھی چارپائی پر آ کر بیٹھا۔ اور موبائل ان کیا۔ میل چیک کی وہاں پر کل جہاں وہ انٹرویو دے کر آیا تھا۔ وہاں سے میل آئی ہوئی تھی۔ ایک امید کے ساتھ اسنے موبائل کی سکرین پر نظر آتی میل پر ٹچ کیا۔ موبائل کی پوری سکرین پر میل کھل گئی۔ جیسے جیسے وہ پڑھ رہا تھا۔ اسکا چہرہ اتر رہا تھا۔
کیا ہوا بھائی حامد اسکو یوں پڑھتے دیکھ کر چارپائی پر بیٹھ کر بولا۔۔
ہممم کچھ نہیں میل چیک کر رہا تھا۔ جہاں انٹرویو دیا۔ وہاں سے ریجکشن کی میل آئی ہے۔ موبائل کو بند کرتے وہ ہوا میں سانس خارج کرتے ہوۓ بولا۔
او۔۔ ایک بار اور ریجکشن حامد نے افسردہ لہجے میں کہا۔۔
خیر چھوڑو۔ تم یونی نہیں گے؟ وہ اپنی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوۓ بولا۔
بس ہلکا سا بخار تھا تو نہیں گیا۔ وہ ماتھے پر آتے بال پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔
دیکھاؤ۔ ازلان نے اپنا ہاتھ اسکے ماتھے پر رکھا۔
یہ ہلکا سا بخار ہے۔ چلو اُٹھو دوائی لے کر آتے ہیں۔ وہ چارپائی سے اُٹھا اور اسے کھڑا کیا۔
بھائی تھوڑا سا ہی ہے۔ پینا ڈول کھائی ہے۔ اتر جاۓ گا۔ حامد نے انکار کرنا چاہا۔
تھوڑا نہیں ہے تم چلو میرے ساتھ۔ امی میں حامد کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا ہوں۔ تھوڑی دیر میں ہم آتے ہیں۔ ازلان اسکے بازو سے پکڑتے ہوۓ آگے بڑھا۔ اور کیچن میں کام کرتی ماجدہ بیگم کو آواز دے کر کہا۔ اور دونوں باہر نکل آۓ۔ حامد اپنے برے بھائی کے فکر مندنہ انداز کو دیکھ کر مسکرا دیا۔ وہ جانتا تھا۔ ازلان سب سے کتنی محبت کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے پہلے اپنے گھر والوں کو رکھتا تھا۔ دنوں موٹربائیک پر بیٹھ کر محلے کے کلینک میں پہنچے۔ وہاں سے دوا لے کر وہ واپسی کے رستے پر نکلے۔
بھائی آپ کو ایک بات بتانی تھی۔ حامد پیچھے بیٹھے ہوۓ اونچی آواز میں بولا۔
بولو! ازلان موٹر بائیک چلاتے ہوۓ بولا۔۔
وہ کل افرحہ بتا رہی تھی۔ حوریہ اپی کا رشتہ آنا تھا۔ آج۔ وہ اونچی آواز میں بولا۔۔ ازلان کی بائیک نے جھٹکا کھایا۔اور رک گئی۔
کیا ہوا بھائی بائیک کو جھٹکا کیوں لگا۔ وہ بولتے ہوۓ اترا۔ ازلان بائیک چیک کرنے لگا۔
ویسے مجھے لگتا ہے بائیک کو نہیں آپکو جھٹکا لگا ہے۔ تبھی اچانک چلتی بائیک رک گئی۔ حامد مسکراہٹ دبا کر بولا۔
کیا مطلب؟ وہ اپنے آپ کو سھنمبالتے ہوۓ بولا۔
مطلب میرے بھولے بھائی آپ کو کیا لگا حوریہ آپی سے دل ہی دل میں محبت کرتے رہیں گے اور کسی کو علم بھی نہیں ہو گا۔ حامد اسکے کندھے پر بازو پھیلاتے ہوۓ بولا۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو ایسا کچھ نہیں وہ اسکا بازو چھٹکتے ہوۓ بولا۔
بھائی آپ چاہے دل میں اپنی محبت چھپا لیں۔ مگر آپکی آنکھوں کی چمک سب عیاں کر دیتی ہے۔ ان کے نام پر آپکا یہ رویہ سب عیاں کرتا ہے۔ چھپے انداز میں ان کے بارے میں دریافت کرنا کیا آپ کو لگتا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی۔ چھت پر اکیلے لیٹ کر آسمان سے ان کی باتیں کرتے ہیں۔ آپکو کیا لگتا ہے۔ کسی کو علم نہیں ہو گا۔ حامد اسکا رخ اپنی طرف موڑ کر بولا۔
اپنی بھائی کی جاسوسی کرتے وقت شرم نہیں آئی ازلان نے اسکےسر پر کیپ مارتے ہوۓ کہا۔
میں تو بس یہ دیکھتا تھا۔ آج کے زمانے میں بھی کوئی اتنی خاموش محبت کیسے کر سکتا ہے۔ اتنی محبت کوئی چھپا کر کیسے رکھ سکتا ہے؟ بھائی پلیز وقت ضائع مت کریں اور رشتہ بھیجیں۔ حامد مسکرا کر بولا
رشتہ! تمہیں کیا لگتا ہے چاچو مان جائیں گے۔ تم ان کی سوچ تو جانتے ہو۔ ازلان اپنے ماتھے سے بال پرے کرتے ہوۓ بولا۔
بنا رشتہ بھیجے آپ کیسے کہ سکتے ہیں وہ منظور نہیں کریں گے۔ میں تو کہتا ہوں امی کو تو پہلے سے پتہ ہے۔ ابا کو مناؤ۔ اور کل ہی رشتہ بھیجو۔ دیکھنا انشااللہ حوریہ آپی ہماری حوریہ بھابھی بن جائیں گئی۔ مجھے پورا یقین ہے سب مان جائیں گے۔ وہ یقین بھرے انداز میں بولا۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو ٹھیک ہے گھر چل کے بات کرتے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولا اور بائیک پر بیٹھا۔
میری بہنا بنے گئی دلہنیاں اوۓ بلے بلے او شاوا شاوا ماہم کمرے میں بھنگڑا ڈالتے ہوۓ بولی۔ بیڈ پر بیٹھی حوریہ شرمائی۔
یار کتنا مزہ آۓ گا۔ نئے کپڑے جوتے کیا کچھ نہیں لیں گے۔ میں تو ابھی ڈریس دیکھنے لگی ہوں۔ افرحہ خوشی سے بھرپور انداز میں بولی اور موبائل نکال کر دیکھنے لگی۔
رک میں بھی آئی۔ ماہم بھاگ کر بیڈپر بیٹھی اور دیکھنے لگی۔ حوریہ دونوں کی پرجوش انداز کو دیکھ کر مسکرائی۔ کچھ سوچ کر وہ اُٹھی اور سائیڈ ٹیبل سے اپنی ڈائری نکال کر صوفے پر بیٹھی۔
کیسی ہو ڈائری؟ تمہارا پتہ نہیں پر میں بہت بہت زیادہ خوش ہوں۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا میری شادی ہونے والی ہے میرا رشتہ طے ہو گیا ہے۔
اچھا اچھا بتاتی ہوں۔ اسد کے ساتھ میرا رشتہ طے ہوا ہے۔ وہ مجھے سے برے ہیں۔ اور میرے کزن ہیں۔ آج جیسے سب کے سامنے انہوں نے مجھے اپنایا۔ میرے چہرے کے داغ کو جس پر ہر کوئی کومینٹ کرتا تھا۔ اس کو اپنانا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔ میرے چاروں طرف جگمگاتی موبتیوں کی روشنی پھیل گئی ہے۔ اور اس روشنی میں میری آنے والی خوبصورت زندگی جگمگا رہی ہے۔ اسی روشنی میں مجھے ایک ہاتھ نظر آ رہا ہے۔ اسد کا ہاتھ۔ ایسا لگ رہا ہے۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر میرے نام کے ساتھ اپنے نام کو جوڑکر مجھے خوبصورت دنیا میں لے جائیں گے۔ جہاں صرف خوشیاں ہوں گئی۔ ایسا ہو گا نا؟ کہی یہ سب خواب تو نہیں؟ اگر کسی نے میرے اوپر پانی پھینک کر خواب سے جگا دیا تو؟ رُکو میں جٹکی کاٹتی ہوں۔
آہ یہ تو سچ میں ایک حقیقت ہے۔ ایک خوبصورت حقیقت۔ ایسی حقیقت جسکا انتظارمجھے پچھلے کئی سالوں سے تھا۔ میری حقیقت میرے خوابوں کی حقیقت جس میں ایک شہزادہ آتا ہے اور دنیا کے غم کی ماری لڑکی کو اپنے سنگ اپنے جہاں میں کے جاتاہے۔ جیسے اسد مجھے لے کر جائیں گے۔ میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ۔ وہ لکھتے لکھتے مسکرا رہی تھی۔
اُو بری مسکراہٹ چھائی ہوئی یے بتاؤبتاؤ کیا لکھ رہی ہو۔ افرحہ اسے یوں مصروف انداز میں لکھتے ہوۓ دیکھ کر بولی اور بیڈ سے اتر کر اسکے پاس آئی۔ حوریہ نے جلدی سے ڈائری بند کر دی۔
کچھ نہیں تم اپنا کام کرو۔ وہ ڈائری کو ڈرا میں رکھ کر بولی۔
ابھی رشتہ طے ہوا کے اور دیکھو لڑکی نے ماتھے پر آنکھیں رکھ لی ہیں۔شادی کے بعد تو یہ ہمیں بھول ہی جاۓ گئی۔ ماہم اسے چھیرتے ہوۓ بولی۔
تم لوگ زیادہ پٹری سے مت اترو۔ میں چاۓ بنانے جا رہی ہوں پینی ہے؟ اسنے دونوں سے پوچھا۔ دونوں نے سر ہلایا۔ اور دبارہ اپنے موبائل میں مصروف ہو گئیں۔
حوریہ مسکراتے ہوۓ کیچن میں چلی گئی۔
★
اتنی جلدی رشتہ طے کر دیا۔ مجھے کوئی لے کر ہی نہیں گیا؟ زین ٹیوی لاونچ میں بیٹھے ہوۓ سب کے چہروں کو دیکھ کر بولا۔ جنہوں نے ابھی ابھی اسد اور حوریہ کے رشتے کا زین کو بتایا تھا۔
رشتہ ہی طے ہوا ہے شادی ابھی ایک مہینے تک ہے۔ تو حوصلے سے بیٹھو۔ سحر اسے دوبارہ صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ بولی۔
امی آپ کل سے شادی کی تیاری شروع کریں۔ اور کنجوسی مت کیجیے گا۔ سب بہت شاندار ہونا چاہیے۔ کافی برے لوگ شادی میں آئیں گے۔ تو کپڑے جیولیری شاندار ہونے چاہیے۔ پیسے لی ٹینشن مت لیں۔ یہ کارڈ رکھیں اور دل کھول کر خرچ کریں۔ اسد اپنے وائلٹ سے کارڈ نکالتے کر دیتے ہوۓ بولا۔
سحر ، زین چلو اپنے اپنے کمرے میں جا کر پڑھو۔ دل لگا کر پڑھائی کرو۔ پیپرز سر پر ہیں مریم بیگم کارڈ پکڑتے ہوۓ بولیں۔ وہ دونوں اُٹھے اور اوپر اپنے اپنے کمرے میں چلے گے۔ انکے جاتے ہی مریم بیگم اسد سے مخاطب ہوئیں۔
اسد اتنا خرچا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب پلین کچھ اور ہے۔ وہ بہت رازدانہ انداز میں بولیں۔
امی آپ سمجھتی نہیں یہ سب بہت ضروری ہے۔ اس امین کو یہ بھی تو دیکھانا ہے۔ ہم بہت چاہت خلوص کے ساتھ اسکی بچی کو بیاہ کر لے جا رہے ہیں۔ اسد گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔۔
اتنا خرچہ نا بھی کریں گے تو بھی کام چل جاۓ گا۔ وہ ابھی تک اپنی بات پر اڑی ہوئیں تھیں ۔
اتنے سے پیسے لگنے سے میرے پیسوں میں کمی نہیں آۓ گئی۔ آپ بے فکر ہو کر خرچ کریں۔ ابھی مجھے امپوڑٹینٹ بندے سے ملنے جانا ہے۔ چلتا ہوں۔ وہ بول کر اُٹھا اور باہر کی طرف نکل گیا۔
مریم بیگم کارڈ کو دیکھتی کچھ سوچینے لگیں۔
گھر پہنچے کے بعد وہ کافی دیر تک اس بارے میں سوچتا رہا۔ اپنے ارادے کو مظبوط بنا کر وہ ماجدہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھا۔ جہاں رشید صاحب بیڈ پر بیٹھے چاۓ پی رہے تھے۔ اور ماجدہ بیگم الماری سے کپڑے نکال رہیں تھیں۔ وہ دونوں کر دیکھتا کمرے میں داخل ہوا۔ دونوں نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا۔
ابا امی مجھے آپ دونوں سے ایک بات کرنی ہے۔ وہ ہمت کر کے بولا۔
بولو بیٹے کیا بات ہے؟ ماجدہ بیگم نے الماری بند کر کے پوری طرح متوجہ ہوتے ہوۓ کہا۔
کیا آپ کل چاچو کے گھر جا سکتے ہیں؟
امین کے گھر کیوں؟ رشید صاحب حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔ ازلان نے ماجدہ بیگم کی طرف دیکھا۔ جو کہ کچھ کچھ سمجھ گئیں تھیں۔
اہمم ابا وہ۔ میں چاہتا ہوں کہ اہمم میں چاہتا ہوں کہ آپ امین چاچو سے حوریہ کا رشتہ مانگیں۔ وہ سر جھکا کر بولا۔
رشید صاحب نے ماجدہ بیگم کی طرف دیکھا۔ جنہوں نے ہاں میں سر ہلایا۔
ادھر آؤ۔ رشید صاحب اسے بیڈ پر آنے کے لیے بولے۔ وہ چلتا ہوا انکے قریب بیٹھا۔
بیٹے یہ اچھی بات ہے تم حوریہ سے شادی کرنا چاہتے ہو۔ مجھے یا تمہاری ماں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ پر تم یہ بھی اچھے سے جانتے ہوں۔ امین کی سوچ کیسی ہے۔ اوپر سے تمہاری نوکری بھی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے وہ اپنے بیٹی کا رشتہ ہمارے جیسے گھر میں نہیں کرے گا۔ رشید صاحب اسکے کندھے کے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ بولے
ابا جب تک ہم کوشش نہیں کریں گے تب تک کیسے مان لیں کہ وہ رشتہ نہیں دیں۔ گے۔ ایک کوشش تو کرنی چاہیے نا۔ ازلان انکے ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا۔
اور اگر انکار ہوا تو؟ وہ کسی ڈر کے تحت بولے۔
ایسا نہیں ہو گا مجھے پورا یقین ہے انکار نہیں ہو گا۔ وہ یقین بھرے انداز میں بولا۔ رشید صاحب اسکی انکھوں کی چمک کو دیکھ کر مسکراۓ۔ وہ جان گے کہ ان کا بیٹا کن راہوں پر چل رہا ہے۔۔
ٹھیک ہے کل بارہ بجے چلیں گے۔ رشید صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔ وہ دل سے مسکرایا۔ اور انکے گلے سے لگ گیا۔
ان سے بات کر کے وہ اوپر چھت پر چلا آیا۔ چھت پر چکر لگانے لگا ۔ اور من ہی من مسکرانے لگا۔
مجھے یقین نے نہیں ہو رہا کل میں تمہارے گھر آ رہا ہوں۔ بس چاچو مان جائیں تو تمہیں اپنی دلہن بنا کر اس گھر میں کے آؤں گا۔ وہ چلتے چلتے خود سے باتیں کر رہا تھا۔
اُو ہو لگتا ہے ابا مان گے۔ تبھی یوں مسکرایا جا رہا ہے۔ حامد جو کہ کتابیں لے کر چھت پر کھلی ہوا میں پڑھنے کے لیے آ رہا تھا۔ ازلان کو یوں مسکراتے دیکھ کر اسکے قریب پہنچ کر بولا۔
ہاں مان گے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا۔ وہ اسکی طرف پلٹکر بولا۔
یس بھائی ویسے اس کے لیے آپکو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے میں ہی وہ انسان ہوں جس نے آپکے اندر یہ ہمت پیدا کی کہ آپ اپنا مقدمہ لڑ سکیں ویسے میں کتنا ذہین ہوں۔ وہ اپنےکندھے پر تھپکی دیتے ہوۓ بولا۔ ازلان اسکی نوٹنکی دیکھ کر ہنسا۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ دونوں کیوں ہنس رہے ہو۔ پیچھے سے کرن کی آواز آئی۔ جو کہ اپنی انگلش کی کتاب ہاتھ میں لیے اوپر آئی تھی۔
تم دونوں کیا آج چھت پر پڑھنے والے ہو؟ ازلان نے دونوں کے ہاتھ میں کتابیں دیکھ کر کہا۔
بس ہم اپنے بھائی کو کسی کے خوبصورت خیالوں میں کھونے نہیں دینا چاہتے اس لیے اوپر آ گے۔ حامد شرارتی انداز میں بولا۔
کیا مطلب ؟ کرن حیرانگی سے بولی۔
کچھ نہیں چلو چارپائی پر بیٹھ کر پڑھو۔ میں بعد میں سنوں گا۔ ازلان روب سے بولا۔۔
کرن مین بتاتا ہوں۔ یوں سمجھو کل ہمارے بھائی کے دل کی مراد پوری ہونے والی ہے۔ اور ہمارے گھر میں جلد ہی ایک پیاری سی بھابھی آنے والی ہے۔ حامد جلدی سے کرن کے پاس آکر بولا۔
کیا سچ میں؟ وہ چیخی دونوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا۔
اف کرن کی بچی کیوں ہونے والے دلہا کے کان پھارنے کا ارادہ ہے۔ حامد اپنے کانوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوۓ بولا۔
کون ہے وہ؟ کرن تجسس بھرے انداز میں بولی۔
تم دنوں چلو اور پڑھو۔ ازلان نے دونوں کے کان کو پکڑ کر مڑورتے ہوۓ کہا اور دونوں کو چارپائی پر بیٹھایا۔
دونوں اپنے کان سہلاتے ہوۓ کتابیں کھولنے لگے۔
حوریہ آپی ہیں حامد سے صبر نا ہوا اسنے کرن کے کان میں کہا۔ وہ ایک دم خوشی کے مارے چارپائی سے اچھلی۔
پڑھو۔ ازلان نے روب دار آواز میں کہا۔ دونوں نے جھٹ سے نظریں کتابوں پر کیں۔
جاری ہے
