Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
اگلے دو دنوں میں ازلان کو پاس کی ہی اکیمڈی میں جاب مل گئی۔ اسکے ساتھ وہ انٹرویوز کی تیاری کرتا رہا۔ دو جگہوں پر وہ انٹرویو دے بھی آیا تھا۔
وہ اکیڈمی میں بیٹھا سٹوڈینٹس کو پڑھا رہا تھا۔ جب اکیڈمی کا اونر جو کہ ارسم کا اچھا دوست تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا۔
ازلان یہ ایک اور ایم بی اے کی اسٹودینٹ ہے۔ انہیں تین بکس پڑھنی ہیں۔ تم ان سے بات کر لو مجھے کام ہے میں چلتا ہوں۔ وہ بول کر واپس پلٹ گیا۔
جی بیٹھ۔۔۔۔۔ وہ ابھی بول ہی رہا تھا۔ جب اسکی نظر آنے والی ہستی پر پڑی۔
ازلان آپ! حیرانگی بھری آواز گھونجی۔
سحر تم یہاں پر؟ وہ بھی کوئی کم حیران نہیں ہوا تھا۔ وہ اتنا تو جانتا تھا سحر اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ایم بی اے کے لاسٹ ایر میں ہے۔ پر وہ نہین جانتا تھا۔ اسکی ملاقات یوں اچانک ہو جاۓ گئی۔
ہاں وہ اصل میں لاسٹ ایر ہے تو دو تین بکس میں تھوڑی پرابلم ہو رہی تھی۔ تو سوچا اکیدمی رکھ لو۔وہ کل رات کو ہی واپس ہوسٹل پہنچی تھی۔ وہ کافی وقت سے اکیڈمی رکھنے کا سوچ رہی تھی۔
اوکے تم بیٹھو۔ وہ اسکو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوے بولا۔
ہمم سحر ابھی شاک میں تھا۔ ازلان کو سامنے دیکھ کر اسکے دل کی دھڑکنیں بھر گئیں۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ کبھی یوں اس انسان سے ملاقات ہو جاۓ گئی جسے وہ بے حد چاہتی تھی۔
ازلان نے ایک دو سٹوڈینٹ کو ورک کروایا۔ اور پھر سحر کی طرف متوجہ ہوا۔۔
ہاں بتاؤ کون کون سی بکس ہیں جن مین پرابلم ہو رہی ہے۔ ازلان اسکی طرف متوجہ ہوا۔
سحر جو کب سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ یوں اسکے پکارنے پر چونکی۔ اور بکس کے نام بتانے لگی۔
مجھے تو لگا تم کافی لائق ہو پر اتنی آسان بکس مین پرابلم ہو رہی ہے۔ ازلان اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ سحر ہنس دی۔
نہین وہ اصل میں بھائی کی شادی کی وجہ سے کافی مصروف تھی۔ یونی سے دو ہفتے چھٹیاں کی تو ورک چھوٹ گیا تھا۔ اسی لیے۔۔۔ سحر رجسٹر اوپن کرتے ہوۓ بولی۔ ازلان کا چہرا مسکراہٹ سے سمٹا۔
چلو کوئی بات نہیں۔ ہم کور کر لیں گے۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ سحر تو ہم لفظ پر ہی ٹھہر گئی۔
ازلان نے اسے سبق سمجھایا۔ شام پانچ بجے کے قریب سحر اکیڈمی سے چلی گئی۔
اسکے جانے کے بعد ازلان نے اپنا سر پیچھے کرسی سے ٹکا دیا۔
یہ تم نے چاۓ بنائی ہے۔ بالکل بھی مزے کی نہیں ہے۔ جاہل عورت تمہیں کھانا بھی بنانا نہیں آتا۔ حوریہ اسکے کہنے پر چاۓ بنا کر لائی۔ اسد نے ایک گھونٹ بھر کر ہی چاۓ کا کپ زمین پر پھینک دیا۔ تھوڑی سی چاۓ حوریہ کے پاؤں پر گِڑی۔
آہ۔۔۔۔ وہ زور سے چلائی۔
بس یہی ڈرامے شروع کر دیا کرو۔ جب بھی کچھ بولو رونے لگ جاتی ہے۔ میرے سامنے اپنا یہ رونا دھونا مت شروع کیا کرو۔ وہ غصے سے اُٹھا اور اسکے بال پکڑتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔
آہ اسد کیا ہو گیا یے ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ وہ درد سے چلائی۔
جس دن کی اس گھر مین آئی ہو سکون حرام کر کے رکھا ہے۔ جاؤ دفع ہو جاؤ۔ چاۓ بنا کر لاؤ۔ وہ اسے دروازے کی اور دھکہ دیتے ہوۓ بولا۔ اور خود دوبارہ ٹیوی آن کر کے بیٹھ گیا۔
حوریہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ وہ اسکا پل پل بدلتے رویے کو دیکھ بہت پریشان تھی۔ کبھی وہ غصے میں ا جاتا تو اسطرح کا رویہ رکھتا۔ اور بعد میں معافی مانگ لیتا۔ وہ خود کو گھسیٹے ہوۓ کیچن میں آئی۔ چاۓ بناتے بناتے وہ رو رہی تھی۔
کیا ہوا رو رہی ہو؟ پیچھے سے مریم بیگم کی اواز آئی۔
نہین وہ بس انکھ میں کچھ چلا گیا۔ وہ جھٹ سے اپنا چہرا صاف کرتے ہوۓ بولی۔
ایسے تو آنکھ میں کچھ نہیں جاتا اسد نے کچھ کہا ہے۔ مین ابھی پوچھتی ہوں۔ مریم بیگم کہتی ہوئین کیچن سے باہر نکل گئی۔ اور سیدھی اسد کے کمرےمیں آئیں۔
اسد تم نے حوریہ کو کیا بولا۔ وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولیں۔ حوریہ بھی پیچھے چاۓ کی ٹرے لے کر داخل ہوئی۔ وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔
کچھ نہیں امی بس تھوڑی سی ناراض ہو گئی ہے۔ وہ اسکو دیکھتے ہوۓ بولا۔
میری بھتیجی کا خیال رکھو بہت پیار سے بیاہ کر لائی ہوں۔ مریم بیگم مکرو مسکراہٹ سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں۔
حوریہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ چلتی ہوئی اسد کے قریب آئی اور اسے چاۓ دی۔ اسد نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔ حوریہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔
چلو تم ارام کرو میں چلتی ہوں۔ وہ بول کر کمرے سے نکل گئیں۔
تم نے میری ماں سے شیکائت لگائی۔ تمہاری اتنی ہمت اسد اُٹھا اور اسکے چہرے پر تھپروں کی بُچھار کرتے ہوۓ بولا۔
نہیں میں نے کچھ نہیں بولا۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔ اسد بنا اسکی سنے اسے مارتا گیا۔
منحوس کہی کی۔ جس سے میری زندگی مین آئی ہو منحوسیت ہی پھیلا کر رکھی ہے۔ بالکل اپنے باپ پر گئی ہو۔ وہ اسے پیٹتے ہوۓ بولے جا رہا تھا۔
جب وہ تھک گیا تو اسے تھوکر مارتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا۔ حوریہ بے یقینی سے اپنے اس پاس دیکھ رہی تھی۔ اسکی مار کھانے کی وجہ سے اسکا حلیہ بکھرا ہوا تھا۔ وہ یقین نہیں کر پا رہی تحی۔ ابھی اسکی شادی کو ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا۔ اور یہاں وہ کئی بار اس پر ہاتھ اُٹھا چکا تھا۔ وہ ابھی تک اپنا قصور جاننے کی کوشش مین تھی۔
افرحہ کی جس دن سے حامد سے بحث ہوئی تھی۔ وہ اسی رات کو بجار میں مبتلا تھی۔ آج تین دن بعد جا کر اسکا بخار اترا تھا۔ وہ یونی پہنچی۔ اسکی شکل کافی اتری اتری محسوس ہو رہی تھی۔
تجھے تو بخار تھا تو کیا ضرورت تھی ہونی آنے کی گھر پر آرام کرتی۔ اسکی دوست فاریہ اسکا اترا ہوا چہرا دیکھ کر بولی۔
گھر پر کیا کرتی۔ ویسے بھی بخار اتر چکا ہے۔ بس کمزوری ہے۔ لیکچرز کافی مس ہو رہے تھے۔ وہ کھانستے ہوۓ بولی۔ دوسری رو میں بیٹھا حامد اسکی ساری باتیں سن رہا تھا۔
دیکھو ابھی بھی کھانس رہی ہو۔ اوپر سے کہتی ہے ٹھیک ہوں۔۔تمہیں گھر آرام کرنا چاہیے تھا۔ اسکے گروپ کا لڑکا ہادی اسے ڈانٹتے ہوۓ بولا۔ افرحہ اپنے دونون دوست کی کیر پر مسکرا دی۔
جب کسی کی بے رخی سے نہین مری تو اتنے سے بخار کی وجہ سے بھی نہیں مروں گئی۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر دونوں کی طرف دیکھ کر تھوڑی سی اونچی آواز میں بولی۔ تا کہ حامد سن لے ۔اور وہ سن بھی چکا تھا۔
بے مروت لوگوں کی باتوں پر سوچنا نہیں چاہیے۔ جنہیں قدر ہوتی ہے۔ وہ چھوڑ کر نہیں جاتے۔ ہادی پیچھے حامد کو ایک نظر دیکھ کر بولا۔ جسنے اسکے لفظوں کو سن کر اپنی مُٹھیاں پھینچیں تھیں۔
کلاس مین تقریباً سبھی حامد کی افرحہ کے لیے پسندگی کو جانتے تھے۔ اور اس دن کا جھگڑا بھی کافی لوگ دیکھ چکے تھے۔
اس کی تو آج میں وہ اپنی جگہ سے اُٹھنے لگا جب اسکے دوست نے اسکے ہاتھ پر دباؤ بڑھا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
جب چھوڑ ہی دیا ہے تو بلا وجہ سین مت کریٹ کرو۔ جس کو جو بولنا ہے وہ تو بولے ہی گا۔ تم ریکس رہو۔ جاوید نے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
یار لیکچر تو شائد لیٹ ہو گا چلو افرحہ کینٹین چلتے ہیں۔ فاریہ اُٹھتے ہوے بولی۔
ہان چلو میں نے بھی ناشتہ نہین کیا۔ وہ اپنا موبائل پکڑ کر کھڑی ہوئی اور چلنے لگی۔ جب اسے زور کا چکر آیا۔ حامد ایک دم اُٹھنے لگا۔
افرحہ تم ٹھیک ہو۔ ہادی اسے سحنمبالتے ہوۓ بولا۔حامد وہی بیٹھ گیا۔
ہاں ٹھیک ہون چلو کچھ کھا لیتے ہیں۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ اور اگے بڑھنے لگی۔
جب اتنی طبعیت خراب ہے تو کیا ضرورت تھی یونی آنے کی پاگل لڑکی۔ حامد منہ میں بربرایا۔
تجھے بھی کوئی ضرورت نہین تھی۔ اس معصوم کا دل توڑنے کی۔ ویسے ہادی کافی خیال رکھ رہا ہے۔ جاوید نے اسکی کی زبان مین کہا۔
اس معصوم کا دل چاہے ٹوٹا نا ہو پر تیرا منہ مین ضرور توڑ دوں گا۔ وہ اسکا گلا دباتے ہوۓ بولا۔ اور کھڑا ہو کر باہر جانے لگا۔
کہاں جا رہا ہے؟ جاوید اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔
تیرا گلا دبانے کے لیے رسی ڈھونڈنے جا رہا ہوں۔ وہ بول کر اگے برھا
بڈی رسی مظبوط لانا میں اتنی آسانی سے مروں گا نہیں جاوید اونچی اواز میں ہنستے ہوۓ بولا۔ حامد نے پلٹ کر سرد نظروں سے اسے دیکھا۔ اور کلاس سے نکل گیا۔
وہ کینٹین کی طرف جا رہا تھا جب اسکو سر نے رُک لیا۔ وہ اسے کچھ پیپرز آفس سے لانے کے لیے بول کر اگے بڑھے۔ حامد جلدی سے افس گیا اور پیپرز لا کر دے۔ اور دوبارہ کینٹین کی طرف بڑھا۔ وہ تینوں ناشتہ کر کے اب کلاس کی طرف آ رہے تھے۔
افرحہ نے سامنے سے آتے حامد کو دیکھ کر نظر انداز کیا۔وہ چلتا ہوا اسکے قریب ا کر کھڑا ہوا۔ وہ رک گئی۔ چکو ہادی ہم چلتے ہیں افرحہ تم حامد سے بات کر لو۔ فاریہ ہادی کو لے کر زبردستی آگے بڑھی۔
افرحہ دائیں طرف سے نکلنے لگی۔ جب حامد نے آگے ہاتھ کر دیا۔ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ دوسری طرف سے نکلنے لگی جو اسنے دوسرا ہاتھ آگے کیا۔
حامد کیا مسلہ ہے؟ وہ تنگ آ کر بولی
یہ بخار مین تپ کر یونی آے کا کیا مقصد تھا۔ دوسروں کو دیکھانا چاہتی ہو تم پر کتنا برا ظلم ہوا ہے۔ وہ سرد لہجے میں بولا۔
حامد تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے۔ تمہین احساس بھی نہین کیا بول رہے ہو وہ تھک کر بولی۔
سچ بول رہا ہوں۔ برے دکھ سے اپنے دوستوں کو اپنی داستان سنائی ہو گئی۔ دیکھو میں کتنی بیچاری ہوں۔ وہ غصے میں نا جانے کیا بول رہا تھا۔۔
افسوس حامد تم مجھے کبھی سمجھ ہی نہیں پاۓ۔ تم بس اپنے غصے کی ار میں نا جانے کیا کچھ بول رہے ہو۔ یاد رکھنا اسی غصے کی وجہ سے تم بہت کچھ کھو رہے ہو۔ وہ نم لہجے مین بولی۔ اسکے لیجے مین نا جانے کیا تھا۔ حامد کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا۔
ہٹو سامنے سے افرحہ اسے ہٹاتے ہوۓ بولی۔ اور آگے بڑھ گئی۔ حامد اسے صرف جاتے ہوۓ دیکھتا رہا۔ جن انکھوں مین کبھی اسنے آنسوں نا لانے کی قسم کھائی ہوئی تھی آ انہیں انکھوں مین وہ آنسوں دے گیا تھا۔وہ وہی ایک طرف رکھے بینچ پر بیٹھ گیا۔ اور اپنا سر ہاتھ پر گِڑا لیا۔
سحر کو اکیڈمی جاتے کافی دن ہو گے تھے۔ آج جب وہ اکیدمی سے ہو کر واپس ہاسٹل آیی تو ہو کافی خوش تھی۔
کیا بات ہے آجکل بہت خوش رہتی ہو؟ اسکی روم میٹ اسے یوں جوش دیکھ کر فوراً بولی۔۔
او خدتجہ میں بہت خوش ہون مجھ سے اپنی خوشی سھنمبالی نہیں جا رہی۔ وہ گول گول گھوم کر ڈانس کرتے ہوۓ بولی۔
اوۓ رک اور بتا کیا ہوا؟ خدتجہ اسکے یوں کہنے پر ہنستے ہوۓ بولی۔
خدتجہ تو نے کبھی ایسا محسوس کیا ہے جیسے تم ہواؤں مین اُڑ رہی ہو بالکل کسی پری کی طرح وہ اپنا بازو اوپر لہراتے ہوے بولی۔
نہیں بہنا مین نے کبھی نہین سن ااگر دو منٹ مین تو نے مجھے اصل وجہ نا بتایی تو تیری جان لے لوں گئی۔ خدتجہ چرتے ہوۓ بولی۔
بس مجھے میری خوشیاں ملنے والی ہیں۔ تجھے پتہ ہے کچھ دنوں سے مین اکیڈمی جا رہی ہوں۔ پتہ وہان مجھے کون پڑھا رہا ہے؟ وہ اسکے ہاتھ پکرتے ہوۓ بولی۔
کون؟ خوتجہ تجسس کے مارے بولی۔
ازلان ! وہ بس اتنا ہی بولی۔
ازلان کیا یہ وہی ازلان ہے جس سے تو محبت کرتی ہے۔ خدتجہ نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
ہاں خدتجہ ہاں یہ وہی ہے۔ میری محبت میرا عشق میرا سب کچھ وہ جھومتے ہوے بولی۔
پر تو نے تو بتایا تھا وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے۔ خدتجہ کچھ دن پہلے اسکی کہی ہوئی بات کو دھرا کر بولی۔
ہاں کرتا ہے۔ پر اسکی شادی ہو گئی۔ پر اسکو دفع کر اب میں اسکے قریب رہوں گئی تو کسی کا خیال بھی اسکی طرف بٹھکنے کی کی کوشش نہیں کرے گا۔ وہ ایک عزم سے بولی۔ خدتجہ کو اسکی آنکھوں میں چمک نظر آئی۔ اپنے محبوب کو اسیر کر لینے والی چمک۔
پر تو کیسے یہ سب کرے گئی۔ کیسے اسکے ذہین سے کسی کا خیال نکال پاۓ گئی۔ خدتجہ سوچتے ہوے بولی۔
خدتجہ تم بہت بھولی ہو۔ مرد ذات کبھی ایک پر نہین ٹکتی ۔ اور اب تو اسکا ملنے ناممکن ہے کیونکہ وہ شادی شدہ ہے تو اسکا خیال نکالنا مشکل نہیں۔ وہ مسکرا کر بولی۔
چلو دیکھتے ہیں تم اپنی محبت کو پانے کے لیے کیا کرتی ہو کیسے اسکے دل میں داخل ہوتی ہو۔ فل حال مجحے ٹیسٹ کی تیاری کرنے دو۔ خدیجہ اپنی کتاب کھول کر کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ سحر وہی کھوۓ ہوے انداز میں بیڈپر لیٹ گئی۔
میری محبت تمہیں مجھ سے محبت کرنے کے لیے مجبور کر دے گئی۔ وہ مسکراتے ہوے اسکا عکس آنکھوں کے سامنے لاتے ہوۓ بولی۔
جاری ہے۔۔۔۔
