51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

رات کے تین بج رہے تھے۔ وہ وہی اپنی مخصوص چارپائی پر لیٹا اوپر آسمان پر ہمیشہ کی طرح نظر آ رہے تاروں کو دیکھ رہا تھا۔ چاند ان تاروں سے بہت دور تھا۔ وہ کھولی آنکھوں سے انہیں تک رہا تھا۔ کانوں میں مہینے بھر پہلے کہے گے امین صاحب کے جملے گھونج رہے تھے۔ وہ یہ سوچ سوچ کر بے چین سا ہو رہا تھا۔ کہ اسکی بچپن کی محبت اسکے خیالوں میں رہنے والی وہ پہلی لڑکی کل کسی اور کے نام لکھ دی جانی تھی ۔ وہ جسے ہمیشہ اپنے دل کی سلطنت پر رکھنا چاہتا تھا۔ وہ کل کسی اور کے دل کی سلطنت پر قابض ہو جانے والی تھی ۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھا نیند تو انکھوں سے کوسوں دور تھی۔ تبھی اسکے کانوں میں اذان کی آواز گھونجی۔ اگلے ہی پل وہ چارپائی سے اترا اور پاؤں میں چپل پہن کر سیڑیوں کی طرف بڑھا۔ گھر کے دروازے کو عبور کر کے وہ دو گلی چھوڑ کر محلے کی مسجد میں داخل ہوا۔ وہ ہمیشہ اسی مسجد میں نماز ادا کرتا تھا۔ آج جب وہ مسجد میں داخل ہوا تو اسکو اپنا دل بھاری بھاری سا محسوس ہوا۔ آگے بڑھ کر وضو کیا۔ اور نمازیوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ جیسے جیسے وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ وہ سکون محسوس کر رہا تھا۔ وہ ایسا محسوس کر رہا تھا۔ جیسے کوئی اسکے دل سے وہ بھاری بوجھ اتار رہا ہو۔ نماز پڑھ کر دعا کے لیے اسنے ہاتھ اُٹھاۓ۔
کتنی ہی دیر وہ بے دھیانی میں اپنے دونوں ہاتھوں کو گھورتا رہا۔ اج سے پہلے وہ جب بھی اپنے رب کے حضور دعا مانگتا اپنی دعا میں سب سے پہلے وہ اسے مانگتا تھا۔ اور آج۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا تم رو رہے ہو؟ وہ جو اپنے ہاتھوں کو گھور رہا تھا۔ پاس سے آتی امام کی آواز پر چونکا۔ اپنے اس پاس دیکھا تو مسجد خالی تھی وہ نا جانے کب سے یہاں بیٹھا تھا۔
اسنے حیرانگی سے اپنے گالوں کو چھوا تو آنسوں اسکے ہاتھ کی انگلیوں پر لگ گے۔ پچھلے ایک مہینے میں رشید صاحب کی موت والے دن کے بعد وہ نہیں رویا تھا۔ نا انکی یاد میں اور نا ہی حوریہ کے نا ملنے پر۔۔ لیکن آج کیوں اسکی انکھوں میں آنسوں آۓ وہ نہیں جانتا تھا یا شائد جان کر انجان بننا چاہتا تھا کہ آج اسکی آخری امید بھی ٹوٹ گئی۔ جانے انجانے شائد وہ اپنے دل میں ایک امید لیے بیٹھا تھا یا شائد کسی معجزے کے انتظار میں تھا۔
جو چاہتے تھے وہ نہیں ملا؟ وہ اپنے خیالوں میں مگن تھا۔ جب پاس بیٹھے امام صاحب کی آواز ایک دفعہ پھر گھونجی۔ اسنے چونک کر انہیں دیکھا۔
ضروری نہیں جو تم چاہتے تھے وہ تمہیں ملتا تو تم خوش رہتے۔ ہو سکتا ہے اسے پا کر بھی تم کھو دیتے۔ یا شائد وہ چیز تمہارے نصیب میں لکھی ہی نا گئی ہو۔امام صاحب اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔ جو گہری سوچ میں گم تھا۔
اگر وہ میرے نصیب میں نہیں تھی۔ تو مجھے اس سے محبت کیوں ہوئی؟ ازلان انکی باتیں سن کر بولا۔وہ جیسے اپنے سوالات کے جواب چاہتا تھا۔
یہ تو اچھا ہوا نا کہ تم نے محبت کو محسوس کیا۔ یہاں آجکل دنیا میں کتنے کم لوگ ایسے ہیں جو سچی محبت کو محسوس کرتے ہیں اسکا ہر ایک پل جیتے ہیں۔ تمہارا کام تھا محبت کرنا اور اپنی محبت کو دعاؤں میں مانگنا۔ اب اللہ نے تمہیں تمہاری محبت
نہیں دی۔ تم اس سچوئیشن کو دو طریقوں سے سوچ سکتے ہو۔ ایک یہ کہ تم نے اللہ سے کتنی دعائین کیں پھر بھی اسنے تمہیں تمہاری محبت سے دور کر دیا۔ اور دوسری اگر اسنے تمہیں دور کیا تو کیا پتہ اسنے تمہارے نصیب میں اس سے بھی زیادہ محبت کرنے والا شخص رکھا ہو۔ جو تمہاری محبت سے بھی کئی حصے زیادہ تم سے محبت کرتا ہو یا کرے۔ یا اللہ پاک تمہیں آزمانا چاہتا ہو۔ تمہیں عطا نا کر کے تم اپنے رب سے دور جاتے ہو۔ اپنے رب کے قریب ہوتے ہو ۔ امام صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔
ازلان انکی باتوں کو اپنے دل کے اندر اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جو اسکے دماغ میں سوالات چل رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا جیسے بنا بولے کسی نے ایک ایک سوال کا جواب دے دیا ہو۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔ اور اپنے ہاتھ اُٹھاۓ۔
میرے رب اپنے اس گنہاگار بندے کو معاف فرمانا۔ تیرا شکر ہے۔ تو نے مجھے اس آزمائش کے لیے چنا۔ میرے رب میری محبت ہمیشہ خوش رکھنا۔ دعا مانگ کر اسنے اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے۔ اور امام صاحب کی طرف دیکھا۔ جو بہت غور سے اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ ازلان کو بہت اچھے سے جانتے تھے وہ انہی سے قرآن پڑھا تھا۔ اور اکثر وہ اسے لمبی لمبی دعائیں مانگتے دیکھا کرتے تھے۔ کہی نا کہی بنا کہے وہ اسکے دل کی بات جان گے تھے۔ آج جب اسے یوں مایوس اور اداس دیکھا۔ تو اسکے قریب آکر اس سے باتیں کرنے لگے۔ اور جیسے اپنی باتوں سے اسکے سوالوں کے دھاگے کھولنے لگے۔ازلان اُٹھا اور ان سے گلے مل کر مسجد سے باہر نکل گیا۔ وہ جو پہلے اپنے آپ پر بوجھ محسوس کر رہا تھا۔ اب وہ بہت ہلکا ہو گیا تھا۔


ماہم، اور افرحہ حوریہ کو پالر سے لے کر گھر پہنچ گئیں تھیں۔ کچھ ہی دیر میں بارات آنے والی تھی۔ وہ اس وقت اپنے کمرے کو آخری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ مانا کہ دوبارہ وہ اس گھر میں آۓ گئی۔ پر صرف مہمان بن کر آج آخری بار وہ حق سے کمرے کو دیکھنا چاہتی تھی۔ جہاں اسکا سارا بچپن بیتا۔ کمرے کو دیکھتے دیکھتے اسکی نظر آئینے میں پڑتے اپنے عکس پر پڑی۔
یہ میں ہوں؟ وہ حیرانگی سے سامنے اپنے عکس کو دیکھ کر بولی۔ ڈیپ ریڈ کلر کا لہنگا کرتی پہنے بالوں کو خوبصورت جورے کی شکل دیے پالر والی نے اس پر ڈوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا۔ گلے اور ہاتھوں میں جیولری پہنی ہوئی تھی۔ پر جس بات پر وہ چونکی تھی۔ وہ نا تو لہنگا تھا اور نا ہی جیولری۔ وہ اسکا چہرا تھا۔ جس پر میک آرٹسٹ نے اپنی کمال مہارت دیکھا کر اسکا وہ داغ چھپا دیا تھا۔
یہ تومکمل چھپ گیا۔ وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر حیرانگی سے بولی۔ وہی داغ جسکی وجہ سے کتنے ہی لوگوں نے اسے دھتکارا تھا۔ کتنی غلط غلط باتیں کئی تھیں۔ وہ کھوۓ ہوۓ انداز میں اپنے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
حوریہ آپی اسد بھائی بارات لے کر آ گے۔ ماہم چہکتی ہوئی کمرے میں داخل ہو کر بولی۔ وہ باکل ڈول لگ رہی تھی۔ حوریہ اسکی اواز سن کر اپنی خیالی دنیا سے باہر نکلی۔
ہاں وہ بس اتنا ہی بول پائی۔ ماہم اس سے نا جانے کون کون سی باتیں کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر اسکا نکاح ہو گیا۔ ماہم اور افرحہ اسے اپنے گھر کے گارڈن میں بنے سٹیج پر لے کر آئیں۔ جہاں اسد پہلے سے ہی بیٹھا ہوا تھا۔ حوریہ کو اسکے ساتھ بیٹھایا گیا سبھی اس نئے جورے جو مبارک باد دے رہے تھے۔
ہیلو کزن! ماہم اپنی ہی دھن میں سیلفیاں بنانے مین مصروف تھی جب پاس ہی سے زین کی آواز آئی۔
اف کس کی شکل دیکھ لی۔ یا اللہ پورے ایونٹ مین اب میرے ساتھ کچھ برا نا ہو۔ وہ اسے دیکھتے ہی ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے ہوۓ بولی۔
او ہیلو تمیز سے تم سے برا ہوں۔ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ایک سٹائل سے بولا۔
ہاہاہا برا ایک ماہ برے ہو۔ برے آۓ برا ہوں۔ وہ پہلے ہنس کر اور آخر میں اسکی نکل اتارتے ہوۓ بولی۔
ویسے لگتا ہے لوگوں کو اپنے ہار ابھی تک برداشت نہیں ہوئی۔ زین اسے چِڑارے ہوۓ بولا۔
ہار او ریلی ایک دفع صرف ایک دفعہ ماہم اپنے بال پیچھے جھٹکتے ہوۓ بولی۔
ہاں ایک دفع وہ بھی پورے بیس نمبر زیادہ زین اسکے غصے سے پھولی ہوئی ناک کو دیکھ کر بولا۔ جو کہ لال ہو چکی تھی۔
اب دیکھنا تم سیکنڈ ایر میں تم سے زیادہ نمبر لوں گئی۔ اور تم سے پہلے میڈیکل میں ایڈمیشن لوں گئی۔ ماہم غصے سے بولتی وہاں سے جانے لگی۔ جب زین کی آواز ایک بار پھر آئی۔
ارے کزن غصہ کیوں ہوتی ہو۔ دیکھو اب تو ڈبل رشتہ ہو گیا ہے۔ پہلے مین تمہارا کزن تھا اب تمہاری بہن کا دیور بھی ہوں تو اس ناطے تمہارا فرض بنتا ہے۔ اپنے اس ہینڈسم کزن پلس بہن کے دیور کی اچھی سی خاطر داری کرو۔ چلو کھانے کے لیے کچھ لا کے دو۔ زین اسے تنگ کرنے کا پورا موڈ بنا چکا تھا۔ اور وہ جانتا تھا۔ اب تک اسکا پارہ چڑچکا ہو گا۔
اپنی بھابھی کے دیور صاحب اللہ نے اتنا لمبا قد دیا ہے تو اپنی یہ دو گز کی ٹانگیں چلاؤ اور جا کر وہاں کاونٹر سے کھانا ڈال کر ٹھوس لو۔ اوکے۔ وہ چڑتے ہوۓ بولی اور اسکی ایک بھی سنے بغیر آگے بڑھ گئی۔
اسکے بہت پر نکل آۓ ہیں۔ پر زین جانتا ہے۔ پر کیسے کاٹے جاتے ہیں۔ جب میرا ریذلٹ اس سے دس گنا بہتر آۓ گا۔ یہ چڑیا پھر پھرانا بند کر دے گئی۔ فل ہال میرے برے بھائی کی شادی ہے۔ جو کہ میرے بغیر ادھوری ہے۔ جانتا ہوں۔ سب بالکل میرے بغیر انجواۓ نہیں کر رہے۔ مجھے اپنا فرض نبھانا چاہیے۔ وہ خود سے ہی باتیں کرتا خود کی ہی تعریف کرتا سٹیج کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک گھنٹے کے بعد حوریہ کی رخصتی ہو گئی۔ وہ اپنوں کو چھوڑ کر ہر لڑکی کی طرح ایک خوبصورت نئی دنیا بسانے چل دی۔
اسد کے گھر اسکے کچھ رشتے دار تھے۔ سحر اور زین نے خوشی سے حوریہ کا اسکے نئے گھر میں استقبال کیا۔ کچھ چھوٹی موٹی رسموں کے بعد اسے اسد کے کمرے میں لا کر بیٹھا دیا گیا۔
سجے بیڈ پر وہ اپنا لہنگا پھیلاۓ بیٹھی تھی۔ کنفیوز ہوتی وہ اپنی انگلیوں کو مڑور رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اسد کمرے میں داخل ہوا۔ سامنے بیڈ پر اپنا انتظار کرتی حوریہ کو دیکھا۔ ایک پل کے لیے اسنے اپنی آنکھیں زور سے میچیں جیسے کچھ سوچ کر آنکھوں میں مرچیں لگی ہوں۔
السلام علیکم! وہ سلام کرتا اسکے پاس بیٹھا۔
وعلیکم السلام! حوریہ نے آہستہ اواز میں کہا۔
مجھے یقین نہیں آ رہا تم میرے سامنے بیٹھی ہو۔ حوریہ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ تمہاری خوبصورتی کو نظرانہ پیش کرنے کے لیے یہ ایک ادنہ سا تحفہ اسد نے جیسے رٹے رٹاۓ جملے بولے اور اپنی پاکٹ سے ایک ڈبی نکال کر حوریہ کی طرف برھائی۔
شکریہ حوریہ اسکے الفاظ سن کر کنفیوز سی ہوئی اور اسکا تحفہ کپکپاتے ہاتھوں سے لیا۔
حوریہ تم نہیں جانتی میں تم سے کب سے پیار کرتا ہوں۔ اتنا پیار تو شائد میں نے کبھی زندگی میں کسی سے نہیں کیا۔ کیا تم ساری زندگی میرا ساتھ دو گئی۔ اسد نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے پھیلا کر کہا۔
حوریہ کو یہ سب ایک خواب کی مانند لگ رہا تھا۔ وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی۔ کہ کیا سچ میں کوئی اس سے محبت کرتا تھا۔ اسنے اپنی قسمت پر رشک کیا اور اپنے سامنے بیٹھے شخص کے ہاتھ پر اپنا کپکپاتا ہوا ہاتھ رکھ دیا۔
میں وعدہ کرتی ہوں ساری زندگی آپکا ساتھ دوں گئی۔ وہ ہولے سے مسکرا کر بولی۔ اسکے الفاظ سن کر اسد مسکرایا۔ اسکی مسکراہٹ میں کچھ تو عجیب تھا۔ جو کہ حوریہ نا دیکھ پائی۔۔۔۔۔۔۔
*
بھائی لیکن اتنی آچانک سے کیوں جا رہے ہو؟ حامد یون اچانک سے ازلان کو پیکنگ کرتے دیکھ حیران ہوا تھا۔ اسنے کچھ دیر قبل ہی سب کو بتایا تھا کہ وہ اسلام آباد جا رہا ہے۔ اور وہی رہ کر نوکری ڈھونڈے گا۔
تجھے بتایا تو ہے۔ یہاں پر نوکری ملنا مشکل ہے اور یوں بار بار یہاں سے وہاں جا کر نوکری کی تلاش کرنا مشکل ہے۔ اچھا ہو گا اگر وہی رہ کر نوکری ڈھونڈؤں۔ وہ کپڑوں کو بیگ میں رکھتے ہوۓ بولا۔
پر بھائی یہی ڈھونڈ لو پہلے ابا چلے گے ابا آپ تو مت جاؤ۔ وہ اداس لہجے میں بول کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ ازلان کا ہاتھ ایک پل کو رُکا
حامد میں کئی سالوں سے نوکری کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں۔ وہاں کی ایک کمپنی میں نوکری ملنے کے پورے چانس ہیں۔ اور اسکے بعد بھی تو وہی رہنا پڑے گا۔ تو اچھا ہے نا ابھی چلا جاؤ دن رات لگا کر ایک نوکری ڈھونڈ لوں۔ کل کو کرن کو یونی پھیجنا پڑے گا۔ تو خرچے بھی بڑح جائیں گے۔ تم سمجھ رہے ہو نا وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔
ہاں بھائی میں سب سمجھ رہا ہوں۔ جو آپ بول رہے ہو اور جو آپ نے نہیں بولا۔ وہ جتاتے ہوۓ لہجے میں بولا۔
تم غلط سمجھ رہے ہو ازلان نے اسکے اتنے یقین سے کہنے پر نظریں پھیریں۔۔
جگہ چھورنے سے کوئی فائد نہیں۔ دل سے نکالو تو بات بنے گئی۔ حامد کے بولنے پر اسکے ہاتھ تھمے۔
تم غلط سوچ رہے ہو۔ جگہ بدلنے سے سوچوں کے سمندر نہیں رکتے۔ میں وہاں جانے کا بہت پہلے سوچ چکا تھا۔ تم یہاں امی اور کرن کا خیال رکھنا۔ مجھے پتہ کے میرا چھوٹا بھائی اب چھوٹا نہیں رہا۔ مجھے یقین ہے تم یہاں سب سھنمبال لو گے۔ دکان پر میں نے رفیق کو بیٹھا دیا ہے۔ وہ سب سھنمبال لگ گا۔ تم اپنی پڑھائی پر پوری توجہ دیا۔ کرن کے فائینل قریب ہیں اسکی بھی مدد کرنا اس سے روز ٹیسٹ لینا۔ اور امی کا خیال رکھنا۔ وہ اسے سمجھا رہا تھا اور ساتھ ساتھ پیکنگ کر رہا تھا۔ حامد سر جھکا کر سن رہا تھا۔
آئی لو یو بھائی وہ بول رہا تھا جب اچانک حامد اسکے گل لگ کر نم لہجے میں بولا۔ اس وقت نا جانے ازلان کو کیا ہوا اسکی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔
پاگل ایسے روتے نہیں۔ میں دو تین مہینے بعد چکر لگاؤں گا۔ تم دعا کرنا۔ وہ اسکو الگ کرتے ہوۓ اسکے بال بگارتے ہوۓ بولا۔اور بیگ کی زپ بند کی۔ حامد نے آگے بڑھ کر بیگ پکڑا دونوں کمرے سے باہر نکلے۔ تو صحن میں سر جھکاۓ کرن کھڑی تھی۔ اور پاس ہی ماجدہ بیگم چارپائی پر بیٹھیں تھیں۔ وہ ان دونوں سے مل کر حامد کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کے بس سٹیشن پہنچا۔
خیال رکھنا۔ کوئی بھی مسلہ ہو فون کر دینا۔ وہ ایک دفع پھر گلے لگے۔ ازلان بس میں داخل ہو گیا۔ کچح دیر بعد بس چل پڑی۔۔۔۔وہ آج اپنی زندگی کے نئے موڑ کی طرف بڑھا تھا۔ اپنے اس موڑ پر نا جانے اسنے کیا کچھ دیکھنا تھا۔ کتنی مشکلات سے بھرا یہ سفر ہونے والا تھا۔
جاری ہے۔۔۔