51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ اپنی رفتار پر گزر ہی جاتا ہے۔ وقت ہر زخم کو مدمل کر دیتا ہے۔ ازلان کو اسلام آباد گے ایک مہینا ہونے کو تھا۔ وہ وہاں اپنی جی جان لگا کر کام کر رہا تھا۔ اسد کا حوریہ کے ساتھ رویہ دن با دن بدتر ہوتا جا رہا تھا۔ وہ روز اسے منانے کی کوشش کرتی اپنی ذات کی نفی کر کے وہ اسکے برے رویے کے باوجود اپنی کوشش کرتی تا کہ اسکا رویہ بہتر ہو جاۓ۔
کیچن میں کھانا بنا رہی تھی۔ جب اسد کیچن میں داخل ہوا۔
کیا کر رہی ہو؟ وہ مگن انداز میں کھانا بنا رہی تھی۔ جب اچانک اسد کی آواز پر وہ ڈر گئی۔ اور اسکا ہاتھ کڑھائی پر لگا۔
آہ! وہ زور سے چیخی۔
اف حوریہ یہ کیا کر رہی ہو ہاتھ جلا لیا۔ دھیان کہاں ہوتا ہے۔ اسد فوراً اسکے قریب پہنچ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹ سے سینک کے پاس لے کر آیا۔ اور پانی چلا دیا حوریہ حیران سی اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی۔ ہر دوسرے دن جو وہ اسے زخم دیتا تھا۔ آج اسکے زخم پر مرہم لگا رہا تھا۔
میں ٹھیک ہوں۔ وہ ہاتھ چھڑواتے ہوۓ بولی۔
بہت کمزور لگ رہی ہو۔ کیا حال بنا لیا ہے۔ وہ اسکے بال چہرے سے پرے کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ تو اسکے انداز پر ہی دھنگ رہ گئی۔
کیا ہوا اتنی حیرانگی سے کیا دیکھ رہی ہو۔ ہاں سوچ رہی ہو گئی۔ پہلے خود مارتا ہے اور پھر یوں اچانک مرہم رکھنے آ گیا۔ دیکھو حوریہ میں جانتا ہوں بہت برا ہوں۔ تم پر بیت دفع ہاتھ اُٹھایا۔ پر پلیز تم مجھے معاف کر دو۔ میں اگے سے دھیان رکھوں گا۔ کبھی ایسی بدتمیزی نہین کروں گا۔ وہ اسکے ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا۔ حوریہ حیران پریشان اسکا چہرا دیکھ رہی تھی۔
معاف کیا؟ اسد نے نم نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔ حوریہ وہی پگھیل گئی۔
ہاں معاف کر دیا۔ پر مجھ سے وعدہ کریں۔ آئندہ اسطرح کا رویہ نہیں رکھیں گے۔ وہ ہمت کر بولی۔
اوکے وعدہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ وہ باہر جانے لگا جب۔ کچھ یاد آنے پر مڑا۔
جب سے ہماری شادی ہوئی ہے۔ ہم خالہ کی طرف نہیں گے۔ وہ بھی تمہیں یاد کر رہی ہوں گئی۔ اب جب تم نے مجھے معاف کر دیا ہے۔ تو تم خالہ کا فون کر کے بتاؤ۔ میں تم اور امی انکی طرف ڈنر پر آئیں گے۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔
حوریہ کو تو شاک پر شاک مل رہا تھا۔ وہ خوش ہو گئی۔۔۔اسد اسے مسکراتے ہوۓ دیکھ کر کیچن سے باہر نکل گیا۔
*
ازلان اکیڈمی میں پڑھا کر فارغ ہوا اور اُٹھنے لگا جب سحر نے اسے مخاطب کیا۔
ازلان کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔ وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔
کیسی مدد؟
وہ مجھے کچھ بکس لینی ہیں۔ پر سمجھ نہیں آ رہی کس آتھر کی بک اچھی ہو گئی ۔ آپ میرے ساتھ بک ڈیپو پر چل سکتے ہیں۔ وہ اپنے موبائل کو بیگ میں ڈال کر بولی۔
بک ڈپو! پر سحر مجھے اپنے کام پر جانا ہے دیر ہو جاے گئی۔ وہ منع کرنے کے اندز میں بولا۔
ازلان پلیز چلیں نا میرے پیپرز سر پر ہیں۔ اور مجھے ان بکس کی اشد ضرورت ہے۔ پلیز پلیز۔۔۔۔
اچھا چلتا ہوں پر دیر مت لگانا مجھے کام پر جانا ہے۔ وہ گھڑی دیکھتے ہوۓ بولا جہاں چار کا وقت ہو رہ تھا۔ اور اسے اپنے کام پر ساڈھے چار تک پہنچنا۔
دونوں اکیڈمی سے نکلے۔ دس منٹ کی واک پر وہ دونوں بک ڈپو پر پہنچے۔ سحر ازلان سے ہر دوسرے ٹاپک پر بحث کرتی تھی۔ اسکا دھیان اپنی طرف کرنا چاہتی تھی۔ دونوں مین کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی ازلان اسکی بات مان جاتا کیونکہ وہ سوچتا کہ اسلام آباد میں وہ اسے ہی جانتی تھی۔ اب وہ اسکے دل میں کیاتھا وہ تو نہین جانتا تھا۔
ازلان کیا ہم کچھ کھا لیں بہت بھوک لگی ہے۔ سحر منہ بنا کر بولی۔
سحر مجھے فل حال جانا ہو گا۔ اگر لیٹ پہنچا تو ڈانٹ پڑے گئی۔ ہم پھر کبھی کچھ کھا لیں گے۔ اوکے اللہ حافظ۔ وہ بول کر بنا اسکا جواب سنے بھاگتا ہوا آتی ہوئی بس پر چڑھ گیا۔
اف ! سحر نے غصے سے اپنا پاؤں زمین پر مارا۔ وہ جتنی کوشش کر رہی تھی سب بے کار جا رہی تھی۔ ازلان نے اپنا نمبر تو اسے دے دیا تھا۔ وہ جب دل کرتا میسج کر دیتی کبھی کبھی ازلان جواب دے دیتا۔ پر زیادہ تر وہ منہ دیکھتی رہتی اور جواب نا آتا۔


وہ سحر سے جان چھڑوا کر جلدی سے اپنے کام کے ایرایا پر پہنچا۔
یہ ایک برا سا گِراج تھا۔ جہاں گاڑیوں کو ٹھیک کرنے کا کام ہوتا تھا۔ وہ قریب بیس دن پہلے ہی یہاں پر کام کرنا شروع کر چکا تھا۔ راتت سے جات ایک دن اسے یہ گِراج دیکھا تو فوراً کام کے لیے پوچھا اور خدا کر کرنا ایسا ہوا کہ اسے کام مل بھی گیا۔ وہ ہفتے میں ایک دن نوکری کے لیے انٹرویو دیتا۔ باقی کے دن وہ صبح اکیڈمی پڑھاتا شام کے وقت وہ اس گراج پر کام کرتا۔
ازلان تو آج وی لیٹ آیا۔ وہ گراج میں داخل ہوا تو سامنے ہی گراج کا ملک کھڑا تھا جو کہ پچھلے بیس سالون سے اس گراج کو چلا رہا تھا۔ ان کا نام صلاح الدین تھا۔ پر سب انہیں پا جی کہتے تھے۔
سوری پاجی وہ بس دیر ہو گئی۔ ازلان اپنے کف فولڈ کرتے ہوۓ بولا۔
آئندہ آگر دیری کی تو اپنے گھر رہنا۔ اب جلدی سے کام کرو۔ وہ غصے سے کہتے واپس اپنے کیبن میں چلے گے۔ ازلان نے گراج کے ورکرز والے کپڑے اُٹھاۓ اور چینج کرنے چلا گیا۔ چینج کر کے وہ اب گاڑی ٹھیک کرنے لگا۔۔۔۔ یہاں سے اسے کافی اچھی رقم مل جاتی۔
رات کے دس بج گے تھے پر وہ ابھی تک کام کر رہا تھا۔
ازلان تو ابھی تک گھر نہیں گیا؟ وہ کام۔ مگن تھا جب پا جی کی اواز سنائی دی۔
ہاں پا جی بس میرا دوست لینے آنے والا ہے۔ میں نے سوچا تب تک کام پورا کر دوں کل تک اس گاڑی کی ڈیلوی بھی کرنی یے۔ وہ بالوں کو پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔
اچھا یہ ایک ایکسٹرا چابی ہے گراج پر تالا لگا کر چلے جانا وہ اپنی جیب سے چابی نکال کر اسے پکڑاتے ہوۓ بولے۔
اتنا کام مت کیا کروتھک جاؤ گے۔
پا جی کام نہیں کروں گا تو جیوں گا کیسے۔ اور ویسے بھی کام کرنے سے میں تھکتا نہیں ہوں۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
خوش رہو۔ تم جیسے لڑکے کم ہی دیکھے ہیں۔ وہ اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ بولے۔ اور خدا حافظ کر کے نکل گے۔ ازلان دوبارہ اپنے کام میں مگن ہو گیا۔
گیارہ بجے کے قریب ارسم گراج میں داخل ہوا۔ ازلان تب بھی کام کر رہا تھا۔
معاف کرنا یار موٹر سائیکل کا ٹائیر پنچر کو گیا تھا۔ اسے لیے دیر ہو گئی۔ تو فارغ نہیں ہوا۔ ارسم اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔۔
ارے معافی کیوں مانگ رہا ہے تو یہاں مجھے لینے آ جاتا ہے یہی تیرا مجھ پر بہت برا احسان ہے۔ وہ گاڑی کا بونٹ بند کرتے ہوۓ بولا۔ اور پاس پڑے کپڑے سے ہاتھ ہر لگی کالک کو صاف کیا۔۔
تجھ پر کوئی احسان نہیں کر رہا جب امیر ہو جاے گا تو ایک ایک پائی کا حساب لوں گا۔ ارسم اسکا گلا دبوچتے ہوۓ بولا۔
آہ سالے چھوڑ مارے گا۔ ازلان ہنستے ہوۓ بولا۔
چل جلدی سے چینج کر چلتے ہیں ارسم اسے چھوڑتے ہوۓ بولا۔
کتنی جان ہے بھے تجھ میں وہ اپنی گردن سہلاتے ہوۓ بولا۔ اور چینج کرنے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا۔
چل آج تجھے ٹریٹ دیتا ہوں۔ ازلان گراج کو تالا لگا کر اسکی بائیک کے پاس آیا تو ارسم چہک کر بولا۔
کیوں کس خوشی میں میرے دلہے کو اسکی دلہن مل گئی کیا ازلان ہنستے ہوۓ بولا۔
او ہیلو وہ بھی انشااللہ مل جاۓ گئی۔ کہی نا کہی تو میرا انتظار کر رہی ہو گیی۔ آہ۔۔۔ خیر خوشی کی بات یہ ہے مجھے آج نوکری مل گیی وہ اپنے بالون میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ ایک ادا سے بولا۔
اتنی دیر سے بتا رہا ہے تیری تو ازلان اسکے چہرے پر مُکہ مارتے ہوۓ بولا۔
ہاہ ازلان شرم کر ابھی تک کنوارہ ہوں۔ سوجے ہوۓ منہ کے ساتھ تو کوئی لڑکی بھی نہین دے گا۔ وہ ڈرامائی انداز میں بولا۔
چل ڈرامے باز اپنی نوٹنکی بند کر جلدی کر بہت بھوک لگی ہے ازلان بائیک کو سٹاٹ کرتے ہوۓ بولا۔ ارسم پیچھے بیٹھا دونوں ایک ریسٹورنٹ مین پہنچے۔۔


حوریہ بہت خوش تھی۔ وہ پورے دل کے ساتھ تیار ہوئی مریم بیگم اور اسد کے ساتھ وہ گھر آیی۔ سب اسے بہت چاؤ سے ملے۔ کھانا کھانے کے بعد سب نے چاۓ پی۔۔ اسد جو کہ کسی گہری سوچ میں مگن تھا۔ کچھ سوچ کر اُٹھا۔
آپ سب یہاں پر موجود ہیں تو مجھے ایک بات کرنی ہے۔ وہ صوفے سے کھڑا ہو کر بولا۔
کیا بات ہے داماد جی امین صاحب ہنس کر بولے۔
سسر جی یہ جو بات ہے شائد آپ کے دل کو اچھی نا لگے۔ وہ سنجیدہ انداز میں بولا امین صاحب ایک دم چپ کر گے۔
کیا بات ہے اسد بشرہ بیگم فوراً بولیں۔ باقی سب بھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
میں آپ سب کے سامنے آپکی بیٹی کو طلاق دینے والا ہوں۔وہ سرد انداز میں بولا۔ حوریہ نے بے یقنی سے اسے دیکھا۔ جیسے اسکی دماغ حالت پر شک کر رہی ہو ابھی تھوڑے گھنٹے پہلے ہی تو وہ اس سے پیار کا اظہار کر رہا تھا اس سے معافی تلافی کر رہا تھا اور اب یوں اچانک۔۔۔۔۔
مزاق کر رہے ہو یہ مزاق کرنے والی بات نہیں بشرہ بیگم ہلکا سا ہنس کر بولین۔
سوری خالہ میں اپکی یہ مزاق والی خواہش ہوری نہیں کر سکتا یہ سب سچ ہے۔ مجھے اب مزید حوریہ کے ساتھ نہیں رہنا۔ وہ سفاکی سے بولا۔ حوریہ کی آنکھیں ایک دم دھندلی ہو گیی۔
پر کیوں ایسا کیا ہو گیا۔ شادی کو ابھی ایک مہینا ہی ہوا ہے اور آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ افرحہ غصے سے اگے بڑھ کر بولی۔
افرحہ میڈیم یہ بات تو اپنی بہن سے پوچھو۔ جب اسکا دھیان اپنے شوہر کو چھوڑکر دوسرے مردوں پر ہو گا تو شوہر تو طلاق ہی دے گا۔ وہ بری صفائی سے جھوٹ بول رہا تھا۔ حوریہ کو اپنا آپ زمین میں دھنستا ہوا محسوس ہوا۔
یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو۔ تمہارا دماغ کیا گھاس چڑنے گیا ہے۔ امین صاحب اسکی بے تُقی بات سن کر آپے سے باہر ہو گے۔
سُسر جی میں کوئی بات بنا ثبوت کے نہین کرتا۔ آپ کی بیٹی کا چکر شادی سے پہلے ہی اپکے بھائی کے بیٹے ازلان سے چل رہا تھا۔ اسی لیے تو وہ رشتہ لے کر آیا۔ پر اس سے پہلے میری قسمت پھوٹی میں نے رشتہ بھیج دیا۔ شادی کے بعد سے اسکا تعلق ازلان سے بڑھتا ہی رہا۔ یہ دیکھیں میسج یہ ازلان کی ہی نمبر ہے اس سے یہ کیسی کیسی باتیں کرتی رہتی تھی۔ وہ حوریہ کا فون نکال کر اس پر میسج کھول کر سب کو دیکھانے لگا۔ حوریہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ نہین جانتی تھی یہ سب کیسے ہوا۔
سب نے بے یقینی سے اسد کو اور پھر حوریہ کو دیکھا حوریہ اپنی ماں کی نظروں میں اپنے لیے بے یقنی بد گمانی دیکھ کر وہی کی وہی بیٹھ گئی۔ اسے لگا ابھی زمین پھے اور وہ اس مین سما جاۓ۔ کیسے سب کے سامنے وہ اسکے کردار کی دھجیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ چپ ہوا اور چل کر امین صاحب کے پاس آ کر جھکا۔
کیوں کیا ہوا؟ چچ چچ لگی نا دل کو ٹھاہ کر کے۔ بالکل بالکل اسی طرح آج سے ٹھیک دو سال پہلے مجھے بھی ایسے ہی لگی تھی۔ وہ تمسخرانہ انداز میں ہنستے ہوۓ انکے قریب ہو کر آہستہ اواز میں کہا۔ سب نے بے یقنی سے اسے دیکھا۔ جیسے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہوں۔ آیا اس کا دماغی توازن تو خراب نہیں ہو گیا۔
سُسر جی میرے پاس اتنا وقت نہیں جو آپ کی فضول باتوں پر ضائع کروں۔ تو چلیں اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ وہ ہاتھوں کو تالی کے انداز میں بجاتا مسکرا کر امین صاحب کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ اور اپنے بائیں طرف کھڑی حوریہ کی طرف پلٹا۔ جو بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑے شوہر کے کڑوے الفاظ سن رہی تھی۔ ابھی صبح ہی تو وہ اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا۔
سو مس حوریہ میں اسد رضا اپنے پورے ہوش و ہواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔ جیسے نا جانے کب سے وہ اسی دن کا انتظار کر رہا تھا۔۔
اسد پلیز ایسسسا تو مت کریں۔ میں نے کچھ غلط نہیں کِیا؟ میں بے قصور ہوں ؟ آپ آپ تو مجھ سے پیار کرتے ہیں نا پلیز ایسا مت کریں وہ اسکے قدموں میں بیٹھ کر ہاتھ جوڑ کر ہکلاتے ہوۓ بولی۔ امین صاحب وہی صوفے پر گڑنے کے انداز میں بیٹھے۔ یوں جیسے آج ان کا سارا غرور خاک میں چلا گیا۔
ہاہاہا پیار ہاہاہاہا پیار اور تم سے ہاہا حوریہ امین اپنی خیالی دنیا سے باہر نکلو۔ تم جیسی لڑکی سے کون پیار کر سکتا ہے۔ کبھی آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔ یہ دائیں طرف دیکھو۔ کبھی ٹشو سے یہ اپنا میک صاف کرو۔ اور دیکھو تمہارے چہرے پر یہ داغ چھی دیکھنے والے کو گھن آ جاۓ ۔ اور تم کہتی ہو محبت کرتا ہوں۔ محبت کرنے کے لیے صاف شکل کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہاری طرح نہیں اتنا برا داغ لیے بیٹھی ہو۔ وہ تالیاں بجا کر اسکے چہرے پربنے پیدائشی نشان پر چوٹ کرتے ہوۓ طنز سے بھرپور انداز میں بولا ۔ سب بے یقنی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ کہ کیا یہ وہی اسد ہے جو کچھ دن پہلے تک دنیا کا سب سے اچھا لڑکا بنا ہو ا تھا۔
حوریہ اسکے منہ سے اپنے لیے اسطرح کے الفاظ سن کر وہی زمین پر سر جھاۓ بیٹھی رہی۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے بھری محفل میں اسکے ہی شوہر نے اسے ذلیل کیا ہے اسکی انکھوں کے سامنے دھند سی چھانے لگی۔ وہ سمجھ ہی نا پا رہی تھی یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔
اسد تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ یوں میری بیٹی پر کیسے داغ کا تھبہ لگا سکتے ہو۔ بشرہ بیگم اسکے چہرے پر تھپر مارتے ہوۓ بولیں۔
بشرہ مامی آج میں بہت خوش ہوں تو ایک کی بجاۓ دو بھی تھپر مار لیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو سب سن لو۔ گواہ رہنا۔ میں اسد رضا حوریہ امین کو طلاق دیتا ہوں۔ طلاق دیتا ہوں۔ وہ سب کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔ امین صاحب اپنے بائیں بازو کو مسلا۔
چلیں امی چلتے ہیں اپنا کام پورا ہوا۔ وہ مریم بیگم کی طرف دیکھ کر بولا۔ جو کہ کرسی پر بیٹھی سب مسکرا کر دیکھ رہیں تھیں۔
آپی! ماہم بھاگ کر حوریہ کے پاس آئی جو کہ بے ہوش ہو چکی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔