Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 21
Rate this Novel
Episode 21
“کیا ہوا چڑیل اتنی اداس کیوں ہو”؟ ماہم یونی کے گاڑدن میں اکیلی بیٹھی گود میں پڑے رجسٹر کو گھور رہی تھی۔ جب زین اپنا بیگ اسکے قریب رکھ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
” کچھ نہیں آپی کی رخصتی ہو گئی تو اداس ہوں”۔ماہم اپنا سر جھکا کر اپنی انگلیوں کی مدد سے گھاس کھینچتے ہوۓ بولی۔
“گھاس کو درد دے کر تم اپنی اداسی دور کر رہی ہو” زین اسکے ہاتھوں پر اپنا موبائل مارتے ہوۓ بولا۔
“آہ زین پاگل ہو اتنی زور سے لگا۔ تمہیں اداسی کا احساس نہیں ہو گا ابھی تک تمہاری بہن کی شادی نہیں ہوئی نا۔ اگر ہو گی تب بھی وہ تمہیں شادی پر نہیں بلائیں گے۔ تم کون سا اب انکےساتھ رہتے ہو” وہ منہ بسور کر اپنےہاتھ کی ہتھیلی کو مسلتے ہوۓ روانگی میں نا جانے کیا کیا بول گئی۔ اپنے الفاظوں پر غور کیا اپنے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے وہ زین کی طرف مُڑی۔ جس کے چہرے سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اسے بات بری لگی یا نہیں۔
“ایم سو سو سوری پلیز تم برا مت منانا” ماہم اپنے دونوں کانوں کو پکڑ کر بولی۔ زین ہلکا سا مسکرایا۔
“پاگل ہو تمہاری بات کا کیا برا منانا۔ ویسے تم نے بالکل صحیح کہا۔ انکو تو شائد میری یاد بھی نہیں آتی ہو گی۔ بس سحر میری فکر کیا کرتی تھی۔ اسکے میسج آتے رہتے ہیں۔ ملنے کے لیے بھی کافی بار بولا ہے۔ پر میں ملنا نہیں چاہتا” وہ گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوۓ بولا۔ ماہم کو اسکی آواز میں واضع اداسی محسوس ہوئی۔
“کیوں” ؟ ماہم نے سوالیہ انداز میں کہا۔ زین نے اسکی طرف دیکھا کچھ پل کے لیے وہ چپ ہو گیا۔
“اگر ملوں گا تو واپس بلائیں گے اور ماہی میں واپس نہیں جانا چاہتا میں اب حرام کا ایک پیسہ اپنی ذات پر خرچ نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کبھی مجھے جھاڑو بھی لگانا پڑا میں ایک پل کے لیے نہیں سوچوں گا پر کسی قیمت پر میں واپس نہیں جاؤ گا” اسکے لہجے میں کچھ تو تھا ماہم کو ہمشہ لگتا تھا ایک نا ایک دن وہ واپس چلا جاۓ گا پر اسکے ارادے کتنے مظبوط تھے اسکی جھلک آج اسنے اسکے لہجے میں محسوس کی۔
“ویسے میں کچھ سوچ رہی تھی” وہ اپنی تھوڑی پر انگلی رکھ کر سوچنے والے انداز میں بولی۔
“اچھا کی کیا سوچ رہی تھی آپ محترمہ” ؟ زین ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
“یہی کہ تم سڑک پر جھاڑو لگاتے ہوۓ کیسے لگو گے” وہ بولتے ہوۓ آخر پر ہنس دی۔
” ماہی کی بچی میں نے مِثال دی تھی ” زین اسکا رجسٹر پکڑ کر اسکے سر پر مارتے ہوۓ بولا۔
“ہاہا زین میں بھی مزاق ہی کر رہی ہوں” وہ ہنستے ہوۓ بولی۔ زین کی بھی ہنسی نکل گئی۔
“ہنستے ہوۓ اچھے لگتے ہو” وہ اسے یوں ہنستا دیکھ کر بے اختیار بولی۔
“شکریہ میڈیم جی” آپ نے میری تعریف کی اب زرا اپنی جیب کا خالی کریں اور مجھے اپنی بہن کی شادی کی ٹریٹ دیں۔ اُٹھو زین اپنا بیگ پگڑ کر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔
“آہ زین اسکا مطلب تم یہاں ٹریٹ لینے ہی آۓ تھے پیٹو کہی کے” ماہم اپنا رجسٹر اور بیگ اُٹھا کر اسکے پیچھے چلتے ہوۓ بولی۔
“اور نہیں تو کیا تمہیں کیا لگتا تمہارا اداس چہرا دیکھ کر آیا ہوں ہنہہ اتنی امپوٹینس خود کو مت دو” زین اسے چِڑاتے ہوۓ بولا۔ اور وہ چڑبھی گئی۔دونوں لڑتے لڑتے کینٹین پہنچے۔
ہسپتال کے کمرے میں تین نفوس تھے
بیڈ پر چت لیٹی سحرآنکھیں کھولے اوپر چھت کو گھور رہی تھی۔ وہی پاس کرسی پر مریم بیگم بیٹھی تھیں۔ اسد موبائل پر اپنی منگیتر سے بات کر رہا تھا۔ دونوں کی ایک مہینے بعد شادی تھی۔ وہ بات رک رہا تھا جب کسی چیز کے زمین پر گرنے کی آواز پر وہ پلٹا۔ سامنے سحر بیڈ کے ساتھ بنے سائیڈ ٹیبل جس پر اسکی دوائیاں پڑین تھیں انہیں پکڑ کر سامنے دیوار پر مار رہی تھی۔ مریم بیگم اسے رکنے کی کوشش کر رہی تھیں پر وہ بے قابو ہو گئی تھی۔
“سحر پاگل ہو گئی ہو کیا کر رہی وہ” ؟ اسد چلاتے ہوۓ آگے بڑھا اور اسے رکنے کی کوشش شور سن کر ایک نرس اندر آئی۔
” ہاں مین پاگل ہو چکی ہوں۔ آپ نے مجھے دھکہ دیا۔ میں نے وہ سب کیا جو آپ نے بولا پر آپ ایک بات مجھے وقت پر نہیں بتا سکے ” وہ روتے ہوۓ غصے سے چِلائی جا رہی تھی۔ اور چیزیں مسلسل زمین پر پھینک رہی تھی۔ مریم بیگم ایک طرف ہو گئیں۔ نرس آگے بڑھی اور اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ پاس پڑا سکون آور انجکشن نکالا۔
“اگر آپ اسے حوریہ کو نا چھوڑتے تو میرا ازلان میرے پاس ہوتا وہ مجھ سے ہی شادی کرتا آپ نے سب برباد کر دیا۔ وہ چِلا رہی تھی۔ اسد کچھ نا بولا وہ اسے سھنمبال رہا تھا کیونکہ اسطرح چیزیں پھینکنے سے اسکی کلائی سے خون نکل رہا تھا۔ نرس نے جلدی سے انجکشن لگا دیا۔ اگلے ہی پل وہ ہلکی ہلکی نیند میں جانے لگی۔
” وہ میرا تھا پر اب وہہہہہ آپکی وجہہہہ سے ” وہ بے ربت الفاظ بول رہی تھی اور نیند کی آغوش کیں چلی گئی۔ اسد نے اسے بیڈ پر لیٹایا۔ نرس اسکی پٹی دوبارہ کرنے لگی۔
مریم بیگم اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر ایک طرف بیٹھی رو رہی تھیں۔
“یہ کیا لگا رہی ہیں”؟ وہ کمرے میں داخل ہوا تو شیشے کے سامنے تیار ہوتی حوریہ پر نظر پڑی۔
“بیس ہے” وہ ہاتھ کی مدد سے اپنے چہرے پر بیس لگاتے ہوۓ بولی ۔
“ہم کہی باہر بھی نہیں جا رہے تو یہ سب کیوں”؟ وہ تھوڑا سا حیران ہوا۔ کیونکہ حوریہ اسکے لیے تو تیار ہونے سے رہی۔
” گھر میں محلے کی کچھ خواتین آ رہی ہیں اسی لیے” وہ دوبارہ اپنا ہاتھ چلاتے ہوۓ بولی۔ ازلان ایک سیکنڈ کے اندر سارا معاملا سمجھ گیا۔ وہ دو قدم آگے بڑھا اور ڈریسنگ کے سامنے پڑا ٹیشو کے ڈبے میں سے دو ٹیشو نکالے اور اسکی طرف پلٹا۔
ادھر دیکھیں! اسکا چہرا اپنی طرف کرتا وہ ٹیشو سے اسکا گال صاف کرنے لگا۔ جہاں کافی زیادہ بیس لگی ہوئی تھی۔ حوریہ ایک پل کے لیے ٹھر سی گئی۔ اسکی انکھوں کے سامنے کچھ مہینوں پہلے والا سین چلا جب اسد نے بلکل ایسے ٹیشو سے اسکا گال صاف کرتے اسکی کتنی بےعزتی کی۔
“اس چہرے کے ساتھ جاؤں گی تو لوگ باتیں کریں گے” وہ جیسے خود پر ہنس کر بولی۔ ازلان نے گہرا سانس لیا۔
“یوں سب چھپانے سے اگر لوگوں کے منہ بند ہوتے تو دنیا میں غم نا ہوتے۔ حور میری ایک بات یاد رکھیے گا۔ اگر آپ یہ سوچ کر اپنے اپ کو بدلیں گی۔ یا وہ کام کریں گی جس سے لوگ خوش ہو جائیں تو اس دنیا میں اپ سے بھر کر بے وقوف کوئی نہیں ہو گا۔ جب تک آپ خود اپنے آپ کو جیسی ہیں ویسی نہیں اپنائیں گئی تب تک لوگ بھی نہیں اپنائیں گے” وہ بہت دھیمے مگر اثر دار لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا۔ حوریہ کو لگا وہ بھی اسد کی طرح اسکی بےعزتی کرے گا۔ پر یہاں تو وہ بہت تحمل کے ساتھ اسے گہری بات سمجھا گیا تھا۔
“یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کبھی وہ کام بھی کرنا پڑتا ہے جس میں لوگ راضعی ہوں وہ بھری محفل میں بھی بےعزت کرنے سے کوئی نہیں شرماتا میں یہ سب بتہ بار فیس کر چکی ہوں اس لیے جس طرح لوگوں کی زبانیں بند ہو سکتی ہیں میں کرنے کی کوشش کروں گی” وہ تلخ لہجے میں بولی اور دوبارہ سے اہنے چہرے پر بیس لگانے لگی۔
“جیسی آپکی مرضعی جب خواتین چلی جائیں تب امی سے جا کر چاچو کے گھر جانے کی پرمیشن لے لیجیے گا مجھے آج رات کو ہی نکلنا پڑے گا” وہ اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل سے پکڑتے ہوۓ بولا۔
“کیوں آپ تو کل جانے والے تھے” ؟ وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی۔ اسکی جلد بازی پر ازلان کے لب بے اختیار پھیلے۔
“کچھ ضروری کام ہے اسی لیے آج جا رہا ہوں” وہ ایک بیگ نکال کر اس میں کپڑے رکھنے لگا۔
“آپ رہنے دیں میں کر دوں گی” حوریہ اگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے سوٹ پکڑتے ہوۓ بولی۔
“ابھی نیچے مہمان ا جائیں گے آپ ریڈی ہو کر جائیں میں کر لوں گا” وہ ہلکا سا مسکرا کر اسکے ہاتھ سے سوٹ لیتے ہوۓ بولا”حوریہ تیار ہونے لگی۔ ازلان ساتھ ساتھ پیکنگ کر رہا تھا اور ساتھ میں اسکے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ وہ سب سے پہلے اسے کمفرٹیبل فیل کروانا چاہتا تھا جس سے وہ بلا جھجک اس سے بات کرنا شروع کرے۔
“افرحہ رکو مجحے تم سے بات کرنی ہے” چھٹی کا وقت تھا افرحہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے ماہم کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے حامد کی آواز آئی۔ وہ پلٹی۔
“بولع کیا کہنا ہے” ؟وہ سرد لہجے میں بولی۔
“تم میری کالز میسجز کا جواب کیوں نہیں دے رہی” ؟ وہ اسکے پاس اتے ہوۓ بولا۔
“میں مصروف تھی “
“واہ مصروف تھی میسج سین کر کے اسکا جواب نا دینا مصروفیت نہیں کہلاتی اسے اگنور کرنا کہتے ہیں” اسے اسکی بےرخی پر جی بھر کے غصہ آیا۔
“سمجھ دار ہو خود ہی سمجھ گے اب آئندہ مجھے میسج مت کرنا” وہ بول کر پلٹی جب حامد اسکے اگے آیا۔
“افرحہ کیا سب کچھ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا ” ؟ ایک امید کے ساتھ اسنے یہ سوال کیا تھا۔ افرحہ نے نظریں اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔
“برے ہی بے شرم ہو کتنی اسانی سے تم نے بول دیا سب پہلے جیسا نہیں ہو سکتا ہنہہہ تو سنو مسٹر حامد میں کوئی روبورٹ نہیں جس کی کوئی فیلنگز نا ہوں یا جسے تم اہنی مرضعی سے چلاؤ میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں اور مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے ہاتھوں کا کھلونا بننے کا جب دل چاہا چھوڑ دیا اور جب دل چاہا منہ اُٹھا کر سب ٹھیک کرنے کی بات کرنے آ گے” ہ بھر پور طنزیہ مگر بھیگے ہوۓ لہجے میں بولی بنا اسکی کوئی بھی بات سنے وہ اگلے ہی پل وہاں سے نکل گئی۔
پیچھے حامد جو یہ سوچ کر آیا تھا کہ وہ اس سے بات کر کے منا لے گا اب اسے احساس ہو رہا تھا اسنے کیا کھویا تھا۔ اسنے افرحہ کے چہرے کی ہنسی اسکی انکھوں کی چمک سب کھویا تھا۔ جسکا آج اسے بری طرح احساس ہو رہا تھا۔ جو لڑکی ہمیشہ اسکے ساتھ رہی اسکی خوشی کو اپنی خوشی اسکے غم کو اپنا غم سمجھ کر ساتھ نبھایا تھا اسنے اسے زندگی کا سب سے برا غم دیا تھا۔ شکشہ قدموں کے ساتھ وہ مین گیٹ کی طرف بڑھا جہاں کرن اسکا انتظار کر رہی تھی
جاری ہے
