Rate this Novel
Episode 7
وہ انہیں چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پر وہ تھیں کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں تھیں۔
بھابھی چپ کر جائیں اب آپ کو ہی بہادر بننا ہو گا۔ ورنہ بچوں کا کیا ہو گا۔ بشرہ بیگم ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولیں۔
ازلان اگر تم چاہتے ہو تمہارے باپ کی طرح تمہاری ماں نا مرے تو میرے شوہر کے قاتلوں کو ابھی کے ابھی اس گھر سے نکالو۔ ماجدہ بیگم اپنے چہرے پر بہے آنسوں کو صاف کرتے ہوۓ سرد لہجے میں بولیں۔ پاس ہی کھڑی بشرہ بیگم ان کے لہجے کو سمجھ گئیں۔
امی ابھی آپ آرام کریں۔ یہ سب بعد میں دیکھ لیں گے۔ ازلان نے ٹالنا چاہا۔
تمہیں ایک بار میری بات سمجھ نہیں آئی۔ نکالو انہیں ابھی کے ابھی ورنہ میں دھکے مار کر نکالوں گئی۔ ماجدہ بیگم زور سے چلائیں۔
ازلان نے بے بسی سے حامد کو دیکھا۔ جو کہ پہلے ہی چہرے پر سرد تاثرات لیے کھڑا تھا۔بشرہ بیگم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ کیونکہ ابھی بھی گھر میں محلے کی خواتین موجود تھیں۔ جو ماجدہ بیگم کی اتنی اونچی آواز سن کر کمرے میں آ گئیں تھیں۔
امی فل حال آپ آرام کریں۔ ازلان اتنا بول کربیڈ سے کھڑا ہو گیا۔ وہ یہ سب تماشا نہیں لگانا چاہتا تھا۔
امی ٹھیک کہ رہی ہیں۔ بھلائی اسی میں ہو گئی۔ چچی آپ اپنی بیٹیوں اور اپنے خاوند صاحب کو لے کر گھر چلی جائیں۔ اور دوبارہ اس گھر میں قدم مت رکھیے گا۔ جو بے نام رشتہ تھا۔ آپکے خاوند نے وہ بھی ختم کر دیا ہے۔ تو لوگوں کو دیکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حامد سپاٹ لہجے میں بولا۔ افرحہ نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا۔جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو۔ یہ وہی انسان بول رہا ہے جو کبھی اسکے ساتھ زندگی گزارنے کے وعدے کیا کرتا تھا۔ اور آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد چپ کرو۔ ازلان اسکے یوں بدتمیزی سے بولنے پر غصے سے بھرے لہجے میں بولا۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ یہ باتیں محلے میں پھیلیں۔ پر ان بات ہاتھ سے نکل چکی تھی۔
تمہاری اتنی اوقات نہیں جو ہمیں اس گھر سے نکالو۔ اور ویسے بھی اس جھوپڑی میں دو پل بھی رہنا محال ہے۔ امین صاحب کی آواز دروازے کے قریب سے آئی۔ حامد نے مُڑ کر پیچھے دیکھا تو وہ ٹھیک اسکے پیچھے کھڑے تھے۔
تای۔۔۔۔ازلان کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے جب ماجدہ بیگم نے اسکا بازو پکڑ کر روکا۔ اسنے مڑ کر دیکھا تو ماجدہ بیگم کی وزرنگ دیتی نظروں کو دیکھ کر وہ چپ کر گیا۔
ہنہ! امین صاحب شکر ہے اللہ کی ذات کا اسنے اتنا تو دیا ہے۔ دو وقت کا کھانا کھا سکیں کم ازکم غرور میں نہیں ہیں۔ آپ بھی اس وقت سے ڈریں جب آپکی ڈھیلی چھوری رسی کو کس لے گا۔ حامد انکے سامنے آ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ امین صاحب اسکے یوں بے خوف رویے جو دیکھ کر اپنا غصہ کنٹرول کرتے بشرہ بیگم سے مخاطب ہوۓ۔
بشرہ ابھی کے ابھی بچیوں کو لے کر باہر آؤ۔
بھابھی میں چلتی ہوں۔ ہو سکے تو دل برا کر معاف کر دیجیے گا۔ بشرہ بیگم آگے ہو کر ہاتھ جورتے ہوۓ بولیں۔ ماجدہ بیگم نے سر گھما لیا۔
انکے سرد رویے کو دیکھ کر بشرہ بیگم نے حوریہ ،افرحہ ، اور ماہم کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔
معاف کر دینا۔ وہ ازلان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر بولیں۔ اور دروازے کی اور بھریں۔ ازلان نے بے بسی سے سامنے دروازے سے ان کو جاتے دیکھا۔ وہ جانتا تھا۔ شائد یہ دیکھا آخری بار ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ داخلی دروازیں کو عبور کر گئیں۔
وہ ماجدہ بیگم کو زبردستی سلا کر کمرے کی لائیٹ بند کر کر تھکے قدموں کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا۔ گھر پورا خالی تھا۔ سبھی اس پاس کے لوگ جا چکے تھے۔ وہ نم نظروں سے حال کر دیکھنے لگا۔ جب اسکی نظر حال میں رکھی چارپائی پر پڑی۔ اس چارپائی کے سامنے زمین ہر حامد بیٹھا تھا۔ اپنا بازو چارپائی پر اور اوپر سر رکھے وہ بے اواز رو رہا تھا۔ ازلان اسکے قریب آ کر بیٹھا۔
ایسا کیوں ہوا؟ ابا کیوں اتنی جلدی چلے گے۔ بھائی مجھے یقین نہیں ہو رہا کوئی ایسے بھی جا سکتا ہے۔ ابھی صبح ہی تو دیکھا تھا۔ پر اب دیکھو ساری زندگی ان کی شکل نہیں دیکھ سکیں گے۔ ان کی آواز نہیں سن سکیں گے۔ حامد روتے ہوۓ بولا۔
بس حامد اتنا مت رو۔ اگر تم رو گے تو امی، باجی اور کرن کا کیا ہو گا۔ ہمیں ہمت کرنی پڑے گئی۔ جو ہو گیا ہم بدل نہیں سکتے۔ وہ اسے گلے سے لگاتے ہوۓ بولا۔
مجھے سکون نہیں آ رہا بھائی ابا کو لے آؤ۔۔۔ وہ اتنا رو رہا تھا کہ روتے روتے اسکی ہچکی بند گئی۔
بس چپ۔۔۔ ازلان بس اتنا ہی بولا۔ اسکے پاس جیسے بولنے کے لیے الفاظ ختم ہو گے تھے۔وہ تو خود یقین نہیں کر پا رہا تھا۔ تو دوسروں کو کیسے کرواتا۔ سب اتنا اچانک ہوا کہ اسکا بھی دماغ بند ہو رہا تھا۔
ابا! ابا! وہ اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ تبھی اندر سے کرن کے چیخنے کی آواز آئی۔ دونوں اندر کی طرف بھاگے۔ جہاں صدف اسے سھنمبالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسکے چیخنے سے ماجدہ بیگم بھی اُٹھ گئیں۔
کرن بچے سھنمبالو خود کو۔ ازلان اسے ساتھ لگاتے ہوۓ بولا۔
بھائی ابا باہر ہیں نا انہیں کچھ نہیں نا ہوا۔ پتہ ہے ابھی ابھی میں نے خواب دیکھا۔ انہیں کچھ ہو گیا تھا۔ کرن جیسے ابھی بھی خواب کے اثر میں تھی۔ صدف ماجدہ بیگم کے پاس بیٹھی جو رو رہیں تھیں۔
وہ سب سچ تھا۔ ہوش میں آؤ۔ ازلان نے اسے جھنجھورتے ہوۓ کہا۔
بھائی ایسا مت بولیں میرے ابا۔۔۔۔۔ کرن اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوۓ رو دی۔۔ ازلان اپنا سر ہاتھوں میں گِڑا گیا۔ وہ جیسے بے آواز رو رہا ہو۔
اگر کسی دن میں نا رہا تو تم سب کو سھنمبال لینا۔ کرن اور حامد کی اچھی جگہ شادی کرنا۔ اور خود بھی جلدی شادی کر لینا۔ اپنے اس پاس اسے کچھ دن پہلے کے کہے گے رشید صاحب کے الفاظ سنائی دیے۔ کچھ دن پہلے جب وہ دکان پر انکے ساتھ کام۔ کروا رہا تھا۔ تب انہوں نے سنجیدہ انداز میں کہا تھا۔ جسے وہ کیسی باتیں کر رہے ہیں ابا بول کر ٹال گیا تھا۔ آج اسے محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے وہ اپنے جانے کو محسوس کر گے تھے۔ ایسے جیسے وہ جانتے تھے کہ وہ چلے جائیں گے۔
ابا مجھ سے سب سھنمبل نہیں رہے آپ کیوں چلے گے۔ ہمیں کیوں اکیلا چھوڑ گے۔ وہ سب کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں ان سے مخاطب ہوا۔ جیسے وہ اسے سن رہے ہوں۔
ایک ماہ بعد:
ایک ماہ کیسے گزرا چاہے باقیوں کو پتہ نا چلا ہو پر ازلان اور اسکے گھر والوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ وقت کو کام ہے چلانا وہ نا تو کسی کے لی آج تک رُکا ہے اور نا کبھی رکے گا۔ کسی کے چلے جانے سے کچھ رکتا نہیں۔ دل پر پتھر رکھ کر ان حالات کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ سب چیزیں دوبارہ سے اپنی جگہ پر آ گئیں تھیں۔ سب اپنی اپنی روٹیں میں مصروف ہو گے۔ بس ایک چیز سب کے چہروں سے غائب تھی اور وہ تھی مسکراہٹ۔
جہاں ایک طرف ازلان اور اسکے گھر والے رشید صاحب کی موت کے غم کو کم کرنے کی کوشش میں تھے وہی دوسری طرف امین صاحب اور اسد کے گھر شادی کی تیاریاں ہو رہیں تھیں۔ اگلے ایک ہفتے میں شادی تھی۔ اور تیاریاں زورو شور سے ہو رہیں تھیں۔ اس دن کے بعد ان دو گھرانوں نے مڑ کر ان کے گھر کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔
وہ مجھے اپ سے ایک بات کرنی تھی۔ امین صاحب سٹدی روم میں بیٹھے کام کر رہے تھے جب بشرہ بیگم اپنے ہاتھ میں دودھ کا گلاس لے کر بات کرنے آئیں تھیں۔
بولو! انہوں نے ایک آئی برو اچکا کر کہا۔
اللہ کے فضل سے بہت جلدی اپنی حوریہ کی شادی ہو رہی ہے۔ بہت مشکل سے یہ دن آیا ہے۔ بہت خوشی کا دن ہے۔ تو میں سوچ رہی تھی کیوں نا بھابھی کو بلوا لیں۔ پچھلی ساری باتیں بھول جائیں۔ وہ ہچکچاتے ہوۓ بولیں۔
بشرہ بیگم آج تو تم نے یہ بات بول دی پر خبر دار جو آج کے بعد یہ الفاظ منہ سے نکالے۔ تمہیں زار شرم نہیں آئی یوں منہ اُٹھا کہ ان کی حمایت میں اتر آئی۔ یہ جانتے ہوۓ کہ اس دن اسکے چھوٹے بیٹے نے کیسے سب کے سامنے ہماری بے عزتی کی۔ وہ ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوۓ غصے میں بولے۔ ٹیبل پر پڑے دودھ کے گلاس سے تھوڑا سا دودھ جھلک کر ٹیبل پر گِڑا تھا۔ بشرہ بیگم کانپ گئیں۔
پر اس بات کو اتنا بڑھانا نہیں۔۔۔۔ ابھی انکے الفاظ منہ میں تھے۔ جب امین صاحب کرسی سے اُٹھے اور وہی دودھ کا گلاس زمین پر دے مارا۔ شیشے کا گلاس ٹوٹ گیا۔ دودھ سارا باہر نکل گیا۔ بشرہ بیگم کے پاؤں پر ایک ٹکڑا لگا۔ انکے پاؤں سے خون رسنے لگا۔
تمہیں میری ایک دفع کہی ہوئی بات سمجھ نہیں آتی۔ اتنی ان لوگوں کی اوقات نہیں جتنا وہ اُڑ رہے ہیں۔ بہت جلد زمین پر گِڑیں گے۔ اور پھر انکا تماشا میں دیکھوں گا۔ یہاں پیروں پر گڑ کر اس دن کے رویے کی معافی مانگیں گے۔ وہ مغرورنہ انداز میں بولے۔ بشرہ بیگم نے بے بسی سے انہیں دیکھا۔ اور بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئیں۔
امی وہ کمرے سے تھوڑی دور گئیں کے پیچھے سے حوریہ کی اواز آئی۔ وہ مڑیں۔
کیا ہوا تم سوئی نہیں۔
ادھر آئیں یہاں بیٹھیں وہ انہیں ہاتھ سے پکڑ کر حال میں رکھے صوفے پر بیٹھنے لگی۔اور وہی کیبنٹ سے فسٹ ایڈ باکس نکالا۔اور انکے پاؤں پر لگا کانچ کا ٹکڑا نکالا۔ اور پٹی لگانے لگی۔
امی آپ نے ابو کو کچھ کہا کیوں نہیں آپکے پاؤں پر کانچ چھبا پھر بھی آپ نے اف تک نہیں کی کیوں؟ آپکو لڑنا چاہیے تھا آپ ہمشہ چپ کیوں کر جاتی ہیں۔ ایک دفع ابو کو بتائیں انہیں احساس دلائیں۔ آپ مزید ان کا بلاوجہ چیخنا ،چلانا تھپر مارانا مزیز نہیں سہیں گئی۔ وہ پٹی لگا کر سوالیہ انداز میں بولی۔ بشرہ بیگم ہلکا سا مسکرائیں۔
اس میں مسکرانے والی کیا بات ہے؟ وہ حیرانگی سے انہین مسکراتے ہوۓ دیکھ کر بولی۔ اگر وہ تجربہ کار ہوتی تو جان لیتی اس ایک مسکراہٹ میں کتنا درد چھپا تھا۔
تمہیں ایسا کیوں لگا کہ میں نے کبھی ان سے لڑنے کی کوشش نہیں کی۔ شروع شروع میں ان کے ہر پل بدلتے رویے نے مجھے بہت ڈسٹرب رکھا۔ میں ایک دفع ان کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ان سے لڑنے لگی۔ پھر پتہ ہے انہوں نے کیا کہا۔ وہ بولتے بولتے رکیں۔ حوریہ انہیں کو سن رہی تھی۔
انہوں نے کہا بشرہ بیگم ابھی کے ابھی مجھ سے معاف مانگو ورنہ ابھی کے ابھی چوٹی پکڑ کر گھر سے نکال دوں گا۔ طلاق دے دوں گا۔ وہ اس رات کو سوچتے ہوۓ بولیں۔
طلاق لفظ نے میرے پیر روک دیے۔ مجھے گھٹنوں پر بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے ان سے معافی مانگی۔ اگر صرف اپنا سوچتی تو اسی پل گھر سے نکل جاتی پر میں خود غرض بن ہی نا سکی۔ قدم باہر نکالنے کا سوچا تو سامنے تمہارا اور علینہ کا چہر آ گیا۔ اپنے بوڑھے ماں باپ کا چہرا آ گیا۔ سوچا اگر اج نکل گئی تو ساری زندگی یہ معاشرہ قبول کرے گا اور نا تم دونوں کو دیکھ پاؤں گئی۔ اس دن میں نے اپنا اپ مار دیا۔ میں بشرہ سے صرف امین کی بیوی بن گئی۔ بولتے بولتے وہ آخر میں مسکرا دیں۔
ماما حوریہ نے اگے بڑھ کر انکے ہاتھ چومے اور سر انکی جھولی میں رکھ دیا۔
حوریہ ایک ہفتے میں تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ مجھ سے وعدہ کرو زندگی کا کوئی بھی موڑ آ جاۓ تم قدم باہر نہیں نکالو گئی۔ انہوں نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر کہا۔
اگر میں اتنا سہ نا پائی تب بھی؟ وہ سوالیہ انداز میں بولی۔
ہاں تب بھی۔ وہ اتنا ہی بولیں۔
اسد اچھا لڑکا ہے وہ تمہیں عزت اور محبت سے رکھے گا۔ اور دیکھنا تم بہت خوش رہو گئی۔ تم اپنا ہر فرض دل سے پورا کرنا۔ سبھی تم سے پیار کریں گے۔ اور میری دعا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گئی۔ وہ اسکا ماتھا چومتے ہوۓ بولی۔ حوریہ کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر گال پر بہا۔
چلو اب تم سونے جاؤ مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔ بشرہ بیگم نے کہا۔ حوریہ ہاں مین سر ہلا کر اُٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔ بشرہ بیگم اسکو جاتے ہوۓ دیکھنے لگی۔ نا جانے کہاں سے بھولا بھٹکا آنسو انکی گال پر بہا۔
حوریہ کمرے میں داخل ہوئی تو سائیڈٹیبل پر پڑا فون بچ رہا تھا۔ اسنے اگے بڑھ کر فون اٹھایا۔ تو اسکے اوپر اسد کی کال آ رہی تھی۔ اسنے بیڈ کی طرف دیکھا۔ ماہم اور افرحہ سو رہی تھیں۔ اسد کا نام دیکھتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔ اسنے یس کا بٹن دبایا۔ اور کان سے لگایا۔ اور اسد سے باتیں کرنے لگی۔ جس دن کی ان کی بات طے ہوئی تھی۔ اسکے بعد سے وہ اسد سے بات کرنے لگ گئی تھی۔ پہلے تو دونوں میں کم ہی بات ہوتی تھی۔ پر اب وہ دونوں گھنٹوں باتیں کرتے تھے۔ اسد اسے حسین خواب دیکھاتا۔ اور وہ مسکرا کر ان خوابوں کے دیس چلی جاتی۔ اب اسکا رشتہ اپنی ڈائری کے ساتھ بہت کم ہو گیا تھا۔۔ وہ جو کم بولتی تھی۔ اب ہر بات اسد سے کرنے لگی۔۔ وہ بہت خوش تھی۔ اپنی زندگی سے کالے بادلوں کو ہٹتے دیکھ وہ دل سے مسکراتی تھی۔ اب اسکی انکھوں میں ایک چمک سی رہتی تھی۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ رہتی تھی۔ اسے بلاوجہ مسکرانا پسند آنے لگا تھا۔ وہ اپنے اپ کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کرتی تھی۔
اہ۔۔۔ بشرہ بیگم دکان سے باہر نکل کر سڑک پار کر رہی تھین کہ انہین زور کا چکر آیا وہ لڑکھڑائیں۔ کل مہندی تھی تو وہ تھوڑا سا سامان لینے آئیں تھیں۔ حوریہ ۔ افرحہ اور ماہم پالر گئیں تھیں۔ بشرہ بیگم اکیلے ہی دکان سے حوریہ کے لیے کچھ لینے ا گئیں۔
آپ ٹھیک ہیں؟ کسی نے انکا ہاتھ پکڑ کر انہیں گڑنے سے بچایا تھا۔ اور پانی پلایا۔
انہوں نے چہرہ اُٹھا کر دیکھا تو وہ ازلان تھا جو کہ پاس ہی میڈیکل سٹور سے ماجدہ بیگم کی بی پی کی دوائی لینے ایا تھا۔ اس نے دور سے بشرہ بیگم کو دیکھ لیا تو فوراً آگیا۔
ازلان بیٹے تم شکریہ مین ٹھیک ہوں۔ وہ کھڑی ہو کر بولیں۔
چچی اگر اپکی طبعیت ٹھیک نہیں تو مین ہسپتال لے چلتا ہوں۔ وہ فکرمندانہ انداز میں بولا۔
ارے نہیں ضرورت نہیں میں ٹھیک ہوں بس گرمینکی وجہ سے چکر سا آ گیا تھا۔ تم بس مجھے ایک رکشہ کروا دو۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولیں۔
آپکی طبعیت خراب ہے چلیں مین چھوڑ دیتا ہوں۔ وہ انہیں اپنی بائیک کی طرف لایا۔ لاکھ ان کے منع کرنے کے اسنے انہیں بائیک پر بیٹھایا۔ اور بائیک انکے گھر کے رستے پر ڈال دی۔ آدھے گھنٹے بعد بائیک انکے گھر کے سامنے رکی۔ تبھی ایک ٹیکسی بھی رکی اس میں سے مسکراتین ہوئیں وہ تینوں باہر نکلیں۔ سامنے ازلان کو دیکھ کر رکیں۔ ازلان جو انہیں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ حوریہ کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ خوش ہوا تبھی اسکے دل مین ٹھیس اُٹھی کہ جس چہرہ کو وہ دیکھ رہا ہے اب وہ کسی اور کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ جیسے ہی حوریہ نے اسکو دیکھا۔ وہ فوراً نظریں پھیر گیا۔
چچی میں چلتا ہوں۔ وہ بشرہ بیگم کی طرف دیکھ کر بولا۔
ازلان بھائی کل حوریہ آپی کی مہندی ہے۔ آپ آئیں گے نا ماہم مسکراتی ہوئی اسکے پاس آ کر بولی۔ ازلان کا ہیلمٹ کو جاتا ہاتھ ایک پل کے لیے رک گیا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا تھا اسکی کل مہندی ہے۔۔
میں چلتا ہوں۔ وہ بنا کسی کو دیکھے ہیلمٹ سر پر پہن کر بائیک پر بیٹھا۔ ہیلمٹ کے شیشے کو انکھوں کے اگے کیا۔ جیسے اپنی آنکھوں میں آئی نمی اور درد کو چھپانا چاہتا ہو۔ حوریہ اب بشرہ بیگم کے پاس ا کر ان سے سامان لے رہی تھی۔ ازلان نے کچھ پل جی بھر کر اسے دیکھا۔ جیسے وہ آج آخری بار اس چہرے کو دیکھ رہا ہو۔ بائیک کے ہینڈل پر ہاتھ مضبوط کیے۔ جیسے اپنا درد دبا رہا ہو۔ اور اگلے ہی پل بائیک آگے بڑھا دی۔ باقی سب نے نا سہی پر افرحہ نے ازلان کا یوں خود پر ضبط کرنا ضرور دیکھا تھا۔ اسے بہت کچھ سمجھ آگیا۔ ان کے گھر میں سب کو یہ تھا کہ رشید صاحب اپنی خوشی ست حوریہ کو بہو بنانا چاہتے تھے۔ پر کوئی یہ نہین جانتا تھا۔ یہ خواہش ازلان کی تھی۔ افرحہ کو حامد کا چونک جانا یاد ایا۔ اب اسے سمجھ آئی کیوں ازلان اس دن حوریہ کی شادی کی بات سن کر اتنا غائب دماغ ہوا تھا۔ اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا۔ کہ ازلان جیسا چپ سنجیدہ رہنے والا بند یوں چپکے سے کسی کو اتنا چاہ سکتا ہے بنا کسی کی نظر میں لاۓ وہ نا جانے کب سے اہنے دل میں کسی کے لیے اتنی محبت لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
