51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

اسد کیسے ہو؟ وہ ایک طرف کھڑے اسد کے پاس آ کر بولا۔۔
نہیں مجھے بتاؤ اتنی گرمی میں شادی رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ اپنے چہرے پر آۓ پسینے کو صاف کرتے ہوۓ بولا۔
باجی کے سسرال والوں کے کہنے پر جلدی کرنی پڑی۔ تم یہاں بیٹھو پنکھے سے پسینہ ختم ہو جاۓ گا۔ وہ اسے لیے ایک طرف رکھی کرسی کے پاس آیا۔
آہ شکر ہے۔ تمہیں پتہ ہے۔ ایک منٹ اے سی کے بغیر نہیں رہا جاتا۔ آفس ہو یا گھر ہمشہ اے سی چلا ہوتا ہے۔ وہ چہرے کو رومال سے صاف کرتے ہوۓ بولا۔ ازلان نے بس سر ہلانے پر اکتفاد کیا۔
اسد بھائی کیا بات کرتے ہیں۔ یاد نہیں اسی محلے میں ہمارے گھر کے ساتھ ہی آپکا گھر ہوتا تھا۔ صرف۔ ایک ڈیدھ سال پہلے ہی تو شفٹ ہوۓ ہیں۔ ساری زندگی اسی گرمی میں گزاری ہے۔ ویسے مجھے اس چھری کا نام تو بتا دیں جسے استعمال کر کے اپ راتوں رات اتنے امیر ہو گے۔ اور خود کا بزنس شروع کیا۔ ۔ حامد جو کہ تھوڑی دور ہی کھڑا اسعد کی باتیں سن رہا تھا۔ آخر میں اسکے پاس آ کر ہنستے ہوۓ بولا۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟ تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں حرام کا پیسہ کماتا ہوں؟ اسد غصےمیں کرسی سے کھڑا ہو گیا۔
اسد تم اس پاگل کی باتوں کو اگنور کرو۔ یہان بیٹھو میں پانی بجھواتا ہوں۔ حامد چلو میرے ساتھ۔ ازلان نے سچویشن کو سھنمبالا اور حامد کو لیے ایک طرف بڑھا۔
کیا بکواس کر رہے تھے؟ ازلان نے حامد کے سر پر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔
وہ جو بول رہے تھے کیا وہ ٹھیک ہے؟ سچ ہی تو بولا دو سال پہلے تو یہی رہتے تھے تو اب یوں امیروں والے طریقے اپنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اور ویسے بھی بھائی سوچیں اتنے تھورے سے عرصے مین وہ کیسے اتنے امیر ہو گے؟ حامد کے لہجے میں تجسس بڑھا ہوا تھا۔
اس نے کس طرح کمایا۔ یہ دیکھنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ ہمارا مہمان ہے۔ اور کزن بھی۔ اور تم سے برا ہے۔ اب میں تمہیں کبھی بھی اس سے بدتمیزی کرتے ہوۓ نا دیکھوں۔ چھوٹے ہو تو چھوٹوں کی طرح بی ہیو کرو۔ بارات کی اچھے سے خاطر داری کرو۔ چلو میرے ساتھ ازلان اسے ڈانٹتے ہوۓ بولا۔۔
بارات پہنچ گئی تھی۔ خوشگوار ماحول میں نکاح ہوا۔ نکاح کے بعد کھانا لگایا گیا۔۔ اب باری رخصتی کی تھی۔ سب نے اپنی دعاؤں کے سائے میں صدف کو رخصت کیا۔ رخصتی کے وقت سب سے زیادہ کرن اور حامد رُوۓ۔ تقربیاً سبھی مہمان چلے گے تھے۔ صرف امین صاحب اور مریم بیگم کی فیملی بچی تھی۔ جو کہ ہال میں بیٹھے ہوۓ تھے۔
رشید بھائی اگر اپ کے پاس پیسوں کی کمی تھی۔ تو مجھے بول دیتے میں دے دیتا۔ کتنا برا کھانا بنوایا تھا۔ صرف مرغی اور چاول ۔کیا شادیوں پر اسطرح کے کھانے ملتے ہیں۔ امین صاحب کرسی پر بیٹھے رشید صاحب سے مخاطب ہوۓ۔ سب جو آپس میں باتیں کر رہے تھے ایک دم سے چپ ہو گے۔ اور امین صاحب کی طرف متوجہ ہوۓ۔۔
کیا ہوا؟ امین سب اچھے سے تو ہو گیا۔ رشید صاحب چہرے پر جبراً مسکراہٹ لا کر بولے۔
اچھے سے ہنہہہہ یہ اچھے سے ہوا۔ میرے برابر میں جتنے بھی آدمی بیٹھے تھے سبھی باتیں بنا رہے تھے۔ اور اتنی بُری فیملی کیوں ڈھونڈی، بالکل ہی لو کلاس کے لوگ ہے۔ جنہیں نا کھانے کی تمیز ہے نا بیٹھنے کی۔ امین صاحب غصے سے بولے۔
یہ کیسی باتیں کر رہے ہو امین لڑکا اور اسکا خاندان بہت اچھا ہے۔ لڑکا بہت پڑھا لکھا ہے۔ اور بہت اچھی نوکری بھی کرتا یے۔ سب سے زیادہ اور اہم بات بہت شریف ہے۔ رشید صاحب نرم لہجے میں بولے۔
ہنہہہہ اچھی نوکری۔ وہ تو میں دیکھ ہی چکا ہوں کس طرح کے لباس زیب تن کیے ہوۓ تھے۔ اور آپ اسے خاندانی کہتے ہیں۔ وہ طنزیہ انداز مین بولے۔
بالکل ٹھیک بول رہے خالو۔ مجھے تو لڑکے کا کردار مشقوق لگا۔ اسکا ابا بھی کافی عجیب لگ رہا تھا۔ اسد سیدھا ہو کر بولا۔۔
جب سب کچھ خود چھپ چھپا کر کیا ہو تو ایسے ہی ہوتا ہے ۔ کیا جاتا اگر آپ مجھے بلوا لیتے۔ میرے قریبی میں ایک لڑکا کافی امیر اور شریف تھا۔ اسکا رشتہ آ جانا تھا۔ پر نہیں آپ نے ہمیں پرایا کِیا۔ ایک دفع بھی نہیں پوچھا۔ اور اب اسطرح کی روٹی پکا کر ناک ہی کٹوا دی۔ پیسے کم تھے تو مانگ لیتے۔ امین صاحب غصے سے بھرے انداز میں بولے۔ رشید صاحب سر جھکا گے۔ حوریہ ماجدہ بیگم کے ساتھ مل کر سب کو چاۓ دے رہی تھی۔۔ ازلان ایک طرف چارپائی پر بیٹھا کب سے ساری باتیں سن رہا تھا۔ جب اسکی ہمت جواب دے گئی تو وہ اُٹھا اور ان سب کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
چاچو میری بہن کے نصیب میں جو تھا وہ اسے مل گیا۔ اب وہ اچھا ہے یا برا ہے یہ تو اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ لڑکا اسکا کردار جیسا بھی ہوا۔ اس پر ہمیں یوں بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اور آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں۔ وہ لڑکا میرے قریبی دوست کا خالہ ذاد کزن ہے۔ میں اپنی بہن کے معاملے میں اتنا لاپرواہ نہیں جو لڑکے کی پوچھ تاش نا کرواؤ۔ سب تصدیق کے بعد ہی ہم نے ہاں کی تھی۔ اور جہاں تک بات رہی روٹی کی۔ تو خدا کا شکر ہے۔ جتنی ہماری حیثیت تھی۔ اسکے مطابق بہت اچھی روٹی بنی اور کوئی ایک بھی بھوکا نہیں گیا۔
مجھے بہت اچھے سے یاد ہے۔ ابا نے رشتہ طے کرنے سے پہلے آپ کو فون کیا تھا۔ تا کہ آپ خود بھی سب دیکھ لیں۔ پر آپ بہت مصروف تھے۔ تو اب یہ گِلہ کرنا بنتا نہیں۔ وہ بہت ہی سنجیدگی سے نرم لہجے میں بولا۔ جو کہ اسکی شخصیت کا حصہ تھی۔ وہ ہر بات میں ہائپر نہیں ہوتا تھا۔ اپنی بات بہت ہی سنجیدگی سے رکھتا جس سے کسی کو برا بھی نا لگے۔۔
امین صاحب نے اسکی بات پراپنا پہلو بدلا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے جس دن رشید صاحب نے فون کیا تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ڈینر کرنے گے تھے۔
بھائی صاحب ان باتوں کو چھوڑیں اور یہ چاے پیں۔ماجدہ بیگم نے چاۓ کا کپ ان کو پکڑایا۔۔۔۔
ایک طرف بیٹھی سحر مسکرا کر ازلان کی باتیں سن رہی تھی جو اب بول کر واپس اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔ چہرے پر ہزاروں سوچیں چل رہی تھیں۔ جب اپنے قریب سے وہی خوبصورت آواز سنائی دی۔
چاۓ! اسکی آواز بالکل قریب سے آئی تھی۔
شکریہ۔ اسنے نظریں جھکاۓ ہی چاۓ پکڑ کر کہا۔ حوریہ واپس پلٹ گئی۔
چلیں بھائی صاحب ہم اب چلتے ہیں۔ بہت دیر ہو چکی ہے۔ امین صاحب کھڑے ہو کر بولے۔ سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔
اللہ حافظ ازلان بھائی ویسے بہت اچھا بولتے ہیں۔ ماہم اسکے پاس آ کر ہنستے ہوۓ بولی۔۔ وہ بس مسکرا دیا۔ مسکراتے ہوۓ انجانے میں اسکی نظر سامنے کرن سے گلے ملتی حوریہ پر پڑی۔ کچھ پل تو وہ ٹرانس کی کیفیت میں اسکو تکتا رہا۔ جیسے کتنے عرصے بعد اسے دیکھ رہا ہو۔ آج بھی وہ دو دفع مخاطب ہوئی پر اسنے ایک دفع بھی اسکی طرف نا دیکھا۔ اپنی بے خودی پر خود کو ہی کوستا اپنی نگاہیں پھیر لیں۔ سب جا چکے تھے۔
یہ رشید صاحب کا گھر تھا۔ جو کہ کافی پرانا تھا۔ یہی وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کے ساتھ رہتے تھے۔ ماں باپ کی وفات تو کافی سال پہلے ہی ہو گئی۔ رشید صاحب سب سے برے تھے۔ ان کی شادی ماجدہ بیگم سے ہوئی۔ ان کے چار بچے تھے۔ دو بیٹے اور دوبیٹیاں۔ سب سے بری صدف تھی۔ دوسرے نمبر پر ازلان جس نے ایم بی اے کیا ہوا تھا۔ اور ابھی نوکری کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔ تیسرے نمبر پر حامد تھا جس نے اسی سال گورمینٹ یونیورسٹی بی ایس کیمسٹری میں ایڈمیشن لیا تھا۔ اور آخر مین کرن تھی۔ جو کہ ایف ایس سی کر رہی تھی۔ اور سب کی لاڈلی تھی۔
رشید صاحب کے بعد امین صاحب آتے تھے۔ جن کی شادی بشرہ بیگم سے ہوئی۔ اور ان کی چار بیٹیاں تھیں۔ بری بیٹی عطیہ تھی۔ دوسرے نمبر پر حوریہ جو کہ بارویں کے بعد ہی گھر بیٹھ گئی تھی۔ تیسرے نمبر پر افرحہ تھی جو کہ ماجد کی ہی یونی میں اسی کی کلاس میں پڑھتی تھی۔ اسکے بعد ماہم آتی جو کہ ایف ایس سی کر رہی تھی۔ وہ اور کرن دونوں ایک کالج میں پڑھتیں تھیں۔


یار ابو نے اتنا سب بول کر اچھا نہیں کِیا۔ کتنا برا لگ رہا تھا۔ افرحہ بیڈ پر بیٹھ اپنی ہیل اتارتے ہوۓ بولی۔۔
ہاں۔ اچھا تو نہیں لگ رہا تھا۔ پر دیکھا ازلان بھائی نے کیسے جواب دیا۔ مزہ آ گیا۔ ماہم ہنستے ہوۓ بولی
اتنا سب سن کر کسی کو بھی برا لگ سکتا ہے۔۔ خیر مجھے تو شادی کا بہت مزہ آیا۔ وہ اپنے پاؤں آزاد کرتے ہوۓ بولی۔
ویسے آج عطیہ اپی نے حوریہ اپی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ کتنا غلط غلط بولیں۔ بہت برا لگا۔ ماہم منہ بسورتے ہوۓ بولی۔
ہاں حوریہ آپی کدھر ہے۔ دیکھنا اب ساری رات وہ انہیں باتوں کو سوچے گئیں۔ افرحہ لحاف لیتے ہوۓ بولی۔
ماہم افرحہ یہ دودھ پی لو تبھی حوریہ کمرے میں دو گلاس دودھ لے کر داخل ہوئی۔ جسے دونوں نے تھام لیا۔
آپی آپ عطیہ آپی کی باتوں کی وجہ سے پریشان تو نہیں؟ ماہم اسے دیکھتے ہوۓ بولی۔
ارے نہیں میں کیوں پریشان ہوں۔ اور وہ تو ہر دفع ایسی باتیں کرتی ہیں۔ اب کیا ہر دفع سوچتی رہوں۔ اور تم دونوں سو جاؤ کل اُٹھنے میں دیر لگا دو گئی۔ حوریہ انہیں لیٹا کر خود دونوں گلاس لے کر کیچن میں ا گئی۔ اور چاۓ بنا کر واپس کمرے میں آئی۔کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھ کر وہ چاۓ پینے لگی۔
یہ تو سچ تھا۔ اسکے دماغ میں ابھی تک عطیہ اور محلے کی عورتوں کی باتیں گھوم رہی تھیں۔
وہ چاۓ پیتی سامنے لگے لیمپ کی روشنی کو تکے جا رہی تھی۔۔ کچھ سوچ کر وہ اُٹھی اور اپنی ڈائری نکال کر صوفے پر دوبارہ بیٹھ گئی۔
ہاۓ دوست! کیسی ہو؟ مجھے آج تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ وہ پین کو کورے کاغذ پر چلانے لگی۔
تمہیں پتہ آج مجھے ایک بات کا شدت سے احساس ہوا۔ اسی صوفے پر بیٹھے بیٹھے میری نظر بالکل سامنے رکھے لیمپ پر گئی۔ جس کی روشنی بالکل تھوڑی سی ہے۔ جو اس کالے سیاہ اندھیرے میں جگنو کا کام کر رہی ہے۔جیسے ہی اسکا بٹن بند کر دوں گئی۔ واپس سے اندھیرا ہو جاۓ گا۔ بلکل میری زندگی کی طرح۔ اسکو جب دوبارہ جلاؤ گئی تو روشنی بکھر جاۓ گئی پر میری زندگی میں تو وہ روشنی آ ہی نہیں رہی۔ جس سے سب حسین ہو جاۓ۔ ایسا لگتا ہے میرے آس پاس بہت سارا اندھیر ہے۔ اور اس اندھیرے مین جب بھی کوئی ہلکی سی روشنی لاتا ہے۔ وہ میرے چہرے پر پڑے داغ کو دیکھ کر دوبارہ سے بھجا دیتا ہے ۔ پتہ نہیں ان لوگوں کو کیا مزہ اتا ہے دوسرے کی خامیوں کو ہائی لائیٹ کرنے کا۔ دوسروں کو بار بار یہ احساس کروانے کا کہ دیکھو تم میں یہ سب خامیاں ہیں۔ اللہ نے مجھے ہی کیوں ایسا بنایا۔ وہ نم آنکھوں سے ڈائری کے پنوں پر لکھ رہی تھی۔ وہ جب کبھی بہت زیادہ ٹوٹ جاتی تو یونہی کافی دیر تک ڈائری میں اپنے احساسات قلم کے ذریعے اتارتی رہتی۔
آہستہ سے ڈائری بند کر کے وہ اُٹھی اور چاۓ کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ ڈایری کو اپنے لاکر میں رکھا اور خود بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔انکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کر نے لگی۔۔


بھائی آج جو کچھ چاچو نے بولا بہت برا لگا۔ حامد ازلان کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا ہوا بول رہا تھا۔ اس وقت دونوں چھت پر پری چارپائی پر بیٹھے ہوۓ تھے۔
ان کی سوچ کے مطابق پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ کرن ان دونوں کے پاس بیٹھ کر بولی۔
مجھے تو ایک بات سمجھ نہیں آتی۔ یہ سب یہی رہتے تھے تو آج سالوں بعد یہ سب برا کیوں لگنے لگ گیا۔ صرف پیسوں کی وجہ سے سب بدل گے۔ حامد نفی مین سر ہلاتے ہوے طنزیہ لہجے میں بولا۔۔
بھائی یہ لوگ کیوں بدلتے ہیں؟ کرن سوالیہ انداز میں بولی۔۔
گڑیا لوگ نہیں بدلتے صرف حالت بدلتے ہیں۔ اگر آج حالات اچھے ہو جائیں تو لوگ خود باخود اچھے ہو جاتے ہیں۔ ازلان کھوے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔
تو اسیے لوگوں کا کیا فائدہ جو حالات بدلنے پر اچھے ہوں۔ وہ تو فیک ہوۓ نا حامد بولا۔
صحیح کہا۔ تم دونوں نے پڑھا نہیں اللہ دے کر بھی ازماتا یے اور لے کر بھی۔ وہ اپنی رحمت برسا کر دیکھتا ہے کہ میرا بندہ اس رحمت کے ملنے سے کیا کرتا ہے۔ اور جب وہ اسے چھین لیتا ہے تب وہ کیسے ری ایکٹ کرتا ہے۔ اور یہی ہماری آزمائش ہوتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جو چاچو نے بولا۔ وہ ان کی سوچ تھی۔ ان باتوں کو دل مین رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ وہ برے ہیں جو بول گے سب دل سے نکال دو۔اور چلو دونوں بھاگو سو جاؤ جا کر صبح کالج بھی تو جانا ہے۔ رات کو ولیمہ اٹینڈ کرنا ہے۔ ازلان دونوں کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے مسکرا کر بولا۔۔
ایک تو پڑھائی پتہ نہیں کس نے بنا دی ہے۔ اوپر سے ایف ایس سی یا اللہ مجھ معصوم کو بچا۔ کرن اوپر ہاتھ اُٹھا کر دھایا دیتے ہوۓ بولی۔
ہاہاہا چل ڈرامے باز مجھے اپنے ٹیسٹ دیکھا۔ حامد اسکے بالوں کو پکڑتے ہوۓ بولا۔ اور ساتھ کھینچ کر نیچے لے گیا۔ ان دونوں کے جانے کے بعد ازلان چارپائی پر لیٹ گیا۔
اپنے ماتھے پر بازو رکھتے ہوۓ وہ اوپر کالے آسمان پر چھاے چھوٹے چھوٹے تاروں کو دیکھنے لگا۔ تبھی کسی کے خیال پر اسکے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ ابھری۔
آج کتنے عرصے بعد اسنے دو بار میرا نام پکارا۔ اسکے منہ سے اپنا نام سن کر نام اور پیار لگنے لگ گیا۔ ویسے کیا سچ میں اسی نے بلایا تھا۔ وہ اوپر دیکھتے سوچ رہا تھا۔
ہاں پاگل سچ میں تمہیں ہی پکارا تھا۔ اور کس کا نام ازلان ہے۔ تبھی اسکو اپنے اندر سے اواز سنائی دی۔
اسکے پکارنے سے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی جیسے ابھی دل باہر نکل کر آ جاۓ گا۔ کاش وہ ہمشہ مجھے ایسے ہی پکارے۔ کاش میں کبھی اسکو پکار سکوں۔ حوریہ میری حور ازلان کی حور۔ اسنے دل ہی دل میں سوچتے ہوۓ آخر میں حور کا نام لبوں سے ادا کیا۔ دل بے اختیاری میں دھڑکا۔اسنے اپنا ہاتھ دل پر رکھ لیا۔
پر پتہ نہیں مجھ سے اسکا نام کیوں نہیں لیا جاتا۔ اور جب اس نے پکارا تھا۔ پلٹ کر دیکھنے کی ہمت کیوں نہیں ہوئی۔ مجھے ایسے لگتا ہے جب بھی میں اسے دیکھوں کا میری انکھیں میری چوری پکڑ لیں گئی۔ ایسا لگتا ہے سارے زمانے کو میرے دل کے راز کا پتہ چل جاۓ گا۔ میری چوری پکڑی جاے گئی۔ وہ خود سے ہی سوال کر رہا تھا۔ اور خود ہی جواب دے رہا تھا۔
اسکی یاد، اسکا خیال سب کتنا خوبصورت ہے۔ کاش کے وہ میرے نصیب میں لکھ دی جاۓ۔ یا خدا اسے میرے نصیب میں لکھ دے حوریہ کو میری حور کر دے۔ وہ اوپر آسمان کو دیکھ خدا سے مانگ رہا تھا۔ اور یہ تو اسکا معمول تھا۔ ازلان کو بچپن سے حوریہ سے محبت تھی۔ جب اسے محبت کے م کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا تب سے اسے اس لڑکی سے محبت تھی۔ وہ جب بھی اس کے گھر جاتا۔ وہ بے پراوہ اپنی دھن میں لگی ہوتی۔ ازلان کو اسکی معصومیت اسکی بے پرواہگی سے محبت تھی۔۔ یوں کہنا غلط نہیں تھا۔ ازلان اگر جیتا تھا تو صرف اسکی یاد میں۔ اسکا خیال ہر پل اسکے ذہن میں رہتا۔ وہ اپنی ہر نماز میں رب سے اسے مانگتا۔۔ اور روز رات کو یونہی اسمان کو دیکھے وہ اسے یاد کرتا۔ اور یوہنی اسکو سوچے کب اسکی آنکھ لگ جاتی وہ نہیں جانتا تھا۔


تمہیں کیا لگتا ہے یہ سن کرنا ٹھیک ہو گا؟ مریم بیگم اس وقت اسد کے کمرے میں بیٹھیں تھیں۔
افکورس ماما یہی ایک طریقے یے جس سے اس امین کی ساری اکڑ مر سکتی ہے۔ دو سال پہلے جس انداز سے ہماری بےعزتی کی تھی۔ وہ تذلیل میں آج تک نہیں بھولا۔ اب بس اسکا بدلہ لینا ہے۔ مجھے آج بھی غصہ آتا ہے جب میں سوچتا ہوں صرف اسکے غرور اور اکڑ کی وجہ سے مجھے میری محبت سے دور ہونا پرا۔ اور آج وہ میرے سامنے جب کسی دوسرے کے ساتھ جاتی ہے تا دل کرتا ہے امین کا سارا غرور جلا کر راکھ کر دوں۔ اسد انگارے بھرتے نظروں سے پچھلے لمحے سوچتے ہوۓ بولا۔۔
ہممم ٹھیک ہے تو صحیح وقت پر میں ان کے گھر جاؤ گئی۔ اس دفع وہ انکار نہیں کریں گے۔ مریم بیگم ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولیں۔ اور اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔
امین میاں اب تیار ہو جاؤ۔ تمہارا سارا غرور نا ختم کر دیا تو میرا نام اسد نہیں۔ وہ مٹھیوں کو بھیچتے ہوۓ بولا۔۔۔


کالی ہُڈی پہنے چہرے کو کور کیے کوئی دیوار کو پھاند کر گھر میں داخل ہوا۔ وہ وجود آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ مین گیٹ کی طرف بڑھا۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔