51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

اسد یہ کون ہے؟ وہ شام کے وقت کسی لڑکی کو لے کر گھر آیا تھا۔ جس نے بہت نا مناسب لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ جس سے اسکا کافی جسم نما ہو رہا تھا حوریہ سے طلاق کے بعد وہ اپنی نئی گرل فرینڈ کے ساتھ گھومتا رہتا۔ وہ بہت خوش تھا۔ یوں جیسے جنگ سے جتنے کے بعد جشن منایا جاتا ہے۔ وہ ایسے اپنی طلاق کو سیلیبریٹ کر رہا تھا۔
امی یہ میری بوس کی بیٹی اور میری ہونی والی وائف امبر ہے۔ اسد ایک ہاتھ امبر کی کمر میں ڈالے اسکا تعارف کروا رہا تھا۔ مریم بیگم اسکی اتنی بے شرمی پر شرمندگی سے چہرا پلٹ گئیں۔
کم سے کم اگر کسی لڑکی کو لے کر آ رہے تھے تو اسے کپڑے تو ڈھنگ کے پہنانے تھے۔ مریم بیگم نے امبر کے کپڑوں پر نشانا سادھا۔
امی پلیز یہ پرانے زمانے والی باتیں مت کریں۔ ہمارے لیے کافی بنوا دیں۔ امبر لیسٹ گو بے بی میں تمہیں اپنا کمرہ دیکھاتا ہوں۔ وہ مریم بیگم کو چپ کرواتا مسکرا کر امبر کی طرف دیکھ کر بولا۔ جو مریم بیگم کی باتوں پر کافی غصے میں آگئی تھی۔ تبھی زین گھر میں داخل ہوا۔ آج اسکا دوسرا پیپر تھا وہ وہی دے کر آیا تھا۔ جب سامنے اسد کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا۔
لو زین بھی آ گیا۔ زین کم۔ ان سے ملو۔ یہ ہے میری ہونی والی بیوٹیفل وائیف اور تمہاری بھابھی اسد نے زین کو اپنے پاس بلاتے ہوۓ کہا۔ زین چلتا ہوا ان دونوں کے قریب آیا۔ اور دونوں کو ایک نظر دیکھا۔
معاف کرنا بھائی پر میں نے صرف ایک لڑکی کو ہی اپنی بھابھی مانا تھا۔ شرم کریں ابھی طلاق کو مہینہ بھی نہیں ہوا یوں منہ اُٹھا کر کسی کو بھی گھر لے آۓ۔ وہ بنا کوئی لحاظ رکھے بولا۔ جیسے آج اپنے اندر کی ساری بھراس نکالنا چاہتا ہو۔
زین تمیز سے بات کرو اسد تمہارا برا بھائی ہے۔ مریم بیگم نے اسے جھڑکا۔ امبر ایک طرف کھڑی ہو کر سب دیکھنے لگی۔
تمیز سے بات کروں۔ ہنہہ انہوں نے اج تک کوئی ڈھنگ کا کام کیا ہے جو تمیز سے بات کروں۔ ایک معصوم لڑکی کی عزت پر کیچڑ اچھال کر اسے سارے خاندان کے سامنے مجرم بنا کر خود عیاشی کر رہے ہیں۔ وہ جیسے پھٹا تھا۔
ٹھاہ! میرے ٹکڑوں پر پلنے والا آج مجھے باتیں سناۓ گا۔ اسد اگے بڑھ کر اسکے منہ پر تھپر مارتے ہوۓ بولا۔زین ایک دم لڑکھڑایا۔
ہنہہ ٹکڑوں پر۔۔۔ اسد صاحب مت بھولیں آپ نے جس طریقے سے یہ سارا حرام کا پیسا کمایا ہے۔ سب جانتا ہوں۔ وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر طنزیہ انداز میں بولا۔ اسد کا غصے سے برا حال ہو گیا۔ اسنےا گے بڑھ کر دوبارہ اسکے چہرے پر تھپڑ مارا۔ مریم بیگم نے اسے چھڑوایا۔
اگر اتنا ہی حرام کا پیسہ ہے تو دفع ہو جاؤ میرے گھر سے تم جیسے کو پالنے کا کوئی فائدہ نہین جنہوں نے بعد میں ڈسنا ہوتا ہے۔ دفع ہو جاؤ۔ اسد اسے چھوڑتے ہوۓ بولا۔
کیا بول رہے وہ اسد مت بھولو زین تمہارا بھائی یے۔ مریم بیگم چیخیں۔
مجھے بھی کوئی شوق نہیں۔ حرام کا کھانے کا۔ اللہ کا شکر ہے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔ کما سکتا ہوں۔ زین غصے سے بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ اور جلدی جلدی ایک چھوٹے سے بیگ میں اپنی کتابیں اور دوسری اہم چیزیں ڈال کر باہر آیا۔
زین تم پاگل ہو گے وہ مت جاؤ بیٹے۔ مریم بیگم روتے ہوۓ بولیں۔
آپ میری سگی ماں ہیں اسی لیے میں سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ ورنہ اپنی ماں کی سچائی جان کر مجھے خود کے وجود پر شرمندگی ہو رہی ہے۔ کہ میں آپکا بیٹا ہوں۔ کاش آپ نے مجھے مار ہی دیا ہوتا۔ خدا کے قہر سے ڈریں۔ آپ ماں بیٹے نے مل کر ایک پاک باز لڑکی پر تمہت لگائی اور اسے طلاق دی اسکی زندگی برباد کر دی۔ اتنی گندی سازش کرنے پر آپکا دل نہیں کانپا؟ نہہہ کہاں کانپا ہو گا دل پر تو حرام کے پیسوں کی کالی تہ جم چکی ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں دونوں کو دیکھ کر بولا۔ مریم بیگم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔
نکل جا خبردار جو واپس آیا۔ اسد اونچی اواز مین گرجا۔
سڑک پر مرنا پسند کروں گا کبھی مڑ کر اپکی چوکھٹ پر نہیں آؤں گا۔ زین سرد لہجے میں بول کر اپنا بیگ لیے گھر کی دہلیز پار کر گیا۔
اف بہت بورنگ تھا جو اسد ہم تمہارا کمرا بعد مین دیکھ لیں گے چلو کچھ کھا لیتے ہیں۔ امبر اسکا بازو پکڑکر بولی۔ اور اسے لیے گھر سے باہر نکلی۔
پیچھے مریم بیگم اپنے خالی گھر کو دیکھ رہیں تھیں۔ ابھی جو کچھ زین نے کہا تھا انکے دماغ میں وہی سب چل رہا تھا۔ انہیں اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا۔


حامد کے گروپ کی پرزٹیشن بہت اچھی ہوئی تھی۔ افرحہ کل سے بہت چپ چپ تھی۔ وہ کسی کو نہیں بُلا رہی تھی۔ ابھی کچھ دنوں میں انکے سمسٹر کے فائینل ہونے والے تھے۔ حامد نے بھی ابھی فل حال اسے بلانا مناسب نا سمجھا۔
کرن اور ماہم کے سیکنڈ ایر کے پیپرز ہو رہے تھے۔
حوریہ کیچن میں بریانی بنا رہی تھی۔ باہر بشرہ بیگم کی خالہ اور انکے گھر والے آۓ ہوۓ تھے۔ حوریہ چاۓ بنا کر باہر لائی۔ سامنے ایک صوفے پر بشرہ بیگم اور انکی خالہ بیٹھیں تھیں اور وہی دوسری طرف دوسرے صوفے پر خالہ کی بیٹی اور اسکے چھوٹے چھوٹے بچے بیٹھے تھے۔
السلام علیکم! حوریہ نے سلام کیا اور چاۓ سب کو دینے لگی۔
دیکھو تو ذرا معصوم سی بچی کی کیا حالت ہو گئی۔ مریم کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سگی خالہ ہو کر کیسے اتنا ظلم ہونے دیا۔ صوفیہ بیگم نفی میں سر ہلا کر بولیں۔ حوریہ نے چاۓ کا کپ انکی طرف بڑھایا۔
ادھر بیٹھو صوفیہ بیگم کی بیٹی نے حوریہ کو کہا۔ وہ نا چاہتے ہوۓ بھی انکے پاس بیٹھ گئی۔
ویسے بشرہ مریم تو نا جانے کیا کیا بول رہی تھی۔ بول رہی تھی کہ حوریہ کا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ اپنے ازلان کے ساتھ نا جانے کیا کچھ بول رہی تھی۔ صوفیہ بیگم نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔ اور چاۓ کی چسکی لی۔ حوریہ نے اپنی مُٹھیاں بھیچیں۔
خالہ میری بیٹی کا کردار تو سفید کاغذ کی طرح صاف ہے۔ بس اسے بہانہ بنانا تھا۔ جھوٹ بول کر میری بچی کا کردار مشکوک کر رہی ہے۔ بشرہ بیگم اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ بولی۔
ویسے آنٹی برا مت مانیے گا۔ اگر وہ ایسی باتیں کر رہیں ہیں تو کیا پتہ اس میں کچھ سچائی ہو۔ کیا پتہ دونوں آپس میں پسند کرتے ہوں اور بتانے سے شرما رہے ہوں۔ سامنے بیٹھی صوفیہ بیگم کی بیٹی بولی۔ حوریہ نے زور سے آنکھیں بند کر کے کھولیں تو ان میں ہلکی سی نمی تھی۔
چپ کرو کیسی باتیں کر رہی ہو بشرہ کی بیٹی ہے۔ ایسی حرکت نہیں کر سکتی۔ بشرہ تم اسکی باتوں کو دل پر مت لینا۔
ابھی ایک مہینا تو ہو ہی گیا ہے۔ میری بات مانو تو عدت کے فوراً بعد اسکی شادی کر دو۔ میرے قریب میں ایک رشتہ ہے۔ لوگ بہت اچھے ہیں۔ بس لڑکی کی عمر تھوڑی سی بری ہے۔ اسکی بیوی پچھلی سردیوں میں مر گئی۔ دو بچے ہیں۔ لڑکا بہت اچھا ہے۔ کہو تو عدت کے بعد بات چلاؤں گئی۔ صوفیہ بیگم اب اپنی بات پر آئیں تھیں۔ وہ اسی کے لیے یہاں آئیں تھیں۔ حوریہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور ٹرے میں رکھے۔ کچین کی طرف بڑھی۔
خالہ آپ فکر نا کریں میری بچی کی قسمت میں اللہ نے کچھ اچھا ہی لکھا ہو گا۔ بشرہ بیگم حوریہ کو یوں جاتے ہوۓ دیکھ کر بولیں
بشرہ یاد رکھنا ابھی دو جوان بیٹیاں بیاہنی ہیں۔ اگر طلاق یافتہ بیٹی گھر میں ہو گئی۔ جس پر اتنے برے الزام لگے ہیں۔ تو اس گھر اچھے رشتے آنا ناممکن ہے۔ صوفیہ بیگم نے ایک طرح سے انہیں یاد دھیانی کروائی۔
حوریہ کیچن میں کھڑی سب سن رہی تھی۔ اسکی انکھوں سے آنسوں جاری ہو رہے تھے۔۔۔
خالہ امین سے بات کر کے بتاؤں گئی۔ بشرہ بیگم نے جیسے انہیں ٹالنا چاہا۔
چلو جیسی تمہاری مرضعی۔ چلو چلیں۔ صوفیہ بیگم اُٹھتے ہوۓ اپنی بیٹی کو بولیں۔
خالہ کھانا پک رہا ہے کھا کر جائیں۔ بشرہ بیگم نے کہا۔
ارے نہیں پھر کبھی تم میری بات پر غور کرنا۔ صوفیہ بیگم اپنا پرس پکڑ کر کھڑی ہوئیں۔ اور باہر کی طرف بڑھیں۔ انکی بیٹی اپنے بچوں کے ساتھ انکے پیچھے چلی گئی۔
بشرہ بیگم انہیں چھوڑ کر اندر آئیں کیچن میں دیکھا حوریہ وہاں نہیں تھی۔ وہ جان گئیں۔ کہ حوریہ سب سن کر ہرٹ ہوئی ہو گئی۔ اور اب وہ کمرے میں بند ہو گئی۔ بہت مشکل سے وہ کمرے سے نکلی تھی۔ اب دوبارہ سے بند ہو گئی۔
حوریہ اپنے کمرے میں بیڈ پر گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی آنسوں اسکی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔ کچھ یاد آنے پر اسنے اپنی طرف کی سائیڈ ٹیبل کھولی اور اس میں سے اپنی ڈائری نکالی۔
ہاۓ دوست!
آج بہت دنوں بعد میں دوبارہ تم سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ جب دل کسی اور سے بات کرنے کا نا کرے تو لکھ کر اپنے احساسات بتا دینے چاہیے۔ میں ہمیشہ تمہیں سب بتاتی ہوں۔ تمہیں پتہ ہے بہت بار جب ہمارے درد ،زخم بھر رہی ہوتے ہیں۔ جب ہم ان خوف ناک یادوں کو بھلانا چاہتے ہیں۔ اور زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔ تب نا جانے کیوں لوگ آکر آپکے زخموں پر چاشنی اور نمک کو مکس کر کے لگاتے ہیں۔ وہ ایسے آپکے ہمدرد بن کر بات کر رہے ہوتے ہیں۔ وہی دوسری طرف وہ آپکے انہیں زخموں کو کُرید کو اس پر نمک کی طرح اپنے الفاظ پھینکتے ہیں۔ کہ میٹھے سے جلن نا ہو اور نمک سے ذخم ریسنے لگ جاۓ۔ اپنے لفظوں کو استعمال کر کے وہ آپکے اندر تک کُریدتے ہیں۔
مجھے ان دونوں میں اسد کے نام کے علاوہ اگر کسی نام سے سخت نفرت محسوس ہو رہی ہے تو وہ ازلان کا نام ہے۔ کیوں وہ میرے گھر رشتے لے کر آیا۔ اسکے رشتہ لانے پر میرے کردار کی دھجیاں اُڑ گئیں۔ مجھے اس سے بہت نفرت ہے۔ بہت زیادہ۔۔۔۔کیوں میرے ساتھ ہی کیوں کیوں ہمشہ میں ہی کیوں۔ کیوں؟ بچپن سے لے کر اج تک مجھے ہی کیوں دکھ ملتا رہا کیوں میرے ہی چہرے پر داغ ہے کیوں میرے ہی رشتے نہیں آتے تھے؟ کیوں میری شادی اسد سے ہوئی؟ کیوں وہ اتنا برا دھوکے باز نکلا؟ کیوں وہ مجھے مارتا تھا؟ کیوں میری طلاق ہوئ؟ کیوں؟؟ کیوں میں ہی کیوں؟ یا اللہ میں ہی کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ وہ لکھتے لکھتے جب تھک گئی تو آخر پر سوالیہ نشان بنانے لگی۔


جاری ہے۔۔۔