Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 9)

Robroye Yaar By Yumna Writes

نئی صبح اپنے اندر بہت پراسرریت ،،اور اُداسی لیے نکلی تھی ۔۔۔

حمنہ بیگم پرجوش سی اسکی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔

نور العین بیڈ پر بیٹھی آہل کی تصویر گود میں رکھے آنکھیں موندے بیٹھی تھی ۔۔۔

کھٹکے کی آواز سنتی ایک دم سیدھا ہوئی ۔۔امی آپ خود کیوں آئی۔۔

مجھے بولا لیتی میں آ جاتی وہ تصویر ایک طرف رکھتی اُنکا ہاتھ تھامتے محبت اور فکرمندی کے ملے جلے تاثرات سے اُنھیں دیکھتی گویا ہوئی۔ ۔۔

وہ جانتی تھی کہ اُسکی ماں کا غم اُس سے کہیں زیادہ ہے ۔۔۔وہ تو حسین صاحب کے جانے کی بعد بلکل خاموش ہو گئی تھی لیکن شاید اُسکے لیے خود کو مضبوط ظاہر کرتی ۔۔۔۔لیکن نور العین صدا کی معصوم حقیقت سے انجان اپنی ماں کو غمگین سمجھ رہی تھی

نہیں کوئی بات نہی مجھے ویسے بھی تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے اُمید ہے کہ تم مجھے مایوس نہی کروگی اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ محبت سے آنکھوں میں ایک مہم سی اُمید لیے بولی

میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں وہ الجھن بھری نظروں سے اُنھیں دیکھتی بولی۔۔

حمنہ بیگم ہوا کی سپر سانس حارج کرتی اُسے دیکھتی نرمی سے گویا ہوئی

ہم سب چاہتے ہیں کہ تمہارا اور آبان کا نکاح کر دیا جائے ۔۔۔۔چہرے پے حد درجہ مسکنیت طاری کرتے وہ دل میں بے انتہا خوش ہوتی اُسے دیکھتے گویا ہوئی

حمنہ بیگم کو بے یقینی سے دیکھتی وہ اُنکا ہاتھ چھوڑ پل میں اُن سے فاصلہ بنا گئی ۔۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ،،کونسا نکاح اور کسکا نکاح ؟؟..

یہ بات اُس کے لیے کسی صدمے سے کم نہی تھی ۔۔

تمہارا اور آبان کا نکاح ،،

اور سب بروں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ کل تمہارا اور آبان کا نکاح سادگی سے کیا جائے گا اور تمہیں اُسکے کمرے میں شفٹ کر دیا جائیگا ۔۔حمنہ بیگم نے خشک لہجے سے اُسے دیکھتے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔

نور العین کو لگا جیسے اُسکی سمتوں پر کسی نے بمب گرا دیا ہو ۔۔۔

وہ اچانک پھٹ ہی تو پڑی ۔۔۔

میں کسی سے نکاح نہیں کرونگی ،،ابھی آہل کو گئے وقت ہی کتنا ہوا ،،،میں ایسا کبھی نہی کرونگی ،،مجھے نہی کرنا کوئی نکاح وہ بلند آواز سے روتے ہوے تقریبا چیخی ۔۔

میں آہل کے علاوہ کسی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتی ،،،اُن کے علاوہ میں اپنی زندگی میں کسی دوسرے شحص کے ساتھ نہی گزار سکتی ۔۔

وہ ہزیانی ہوتی چلائی ۔۔۔

ٹھیک ہے پھر اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو میں سب کو تمہارے فیصلے سے با خبر کر دیتی ہوں ۔۔

لیکن اتنا یاد رکھنا باپ اور شوہر تو تمہارا ویسے ہی جا چکا ہے ۔۔لیکن اب ماں اور دادی تمہاری بھی جلد ہی مر جائے گی

وہ آنکھوں میں آنسو لاتی اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔

وہ اپنی بنی بنائی پلاننگ نور کی بے وقوفی کی نظر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔

اتنی مشکل سے تو وہ سب حاصل کرنے والی تھی اور اب نور العین کے انکار کی وجہ سے وہ پیچھے نہی ہٹ سکتی تھی۔۔

اُنکی نظر میں نور بہت معصوم تھی نہیں جانتی تھی کہ اُسکے لیے بہتر کیا ہے

اسی لیے اُس کے سامنے ناٹک کرتی روتی ہوئی گویا ہوئی

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی ،، وہ اُنکی بات سنتی ت کر اُنکے قریب آتی بولی ۔۔۔

بلکل سہی کہہ رہی ہوں ۔۔ویسے تو ہم نے مانا نہی لیکن اس طرح تمہیں گھٹ گھٹ کر جیتے دیکھ میری جان نکل جانی ہے۔۔

میں تمہیں اس طرح سب سے دور ،،خاموش ،،تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔ دل پھٹتا ہے میرا ۔۔دل کر ہے میں بھی تمہارے باپ کے ساتھ ہی مر جاتی وہ آنسو سے تر چہرے سے اُسے دیکھتی گویا ہوئی

اور ویسے بھی تمہیں ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے جو آبان کی صورت تمہیں ملے گا ۔۔

میں نہی چاہتی کے میرے جانے کے بعد میری بیٹی بے آسرا رہے ۔۔وہ بولتی رو پری ۔۔اب اگر تم نے کسی کے سامنے بھی انکار کیا تو میرا مرا ہوا منھ دیکھو گی

امی آپ ایسا کیوں بول رہی ہیں سب ہیں نہ میرے پاس ،،اور میں کیسے کر سکتی ہوں آبان بھای کے ساتھ نکاح ،،،میرا دل اس بات کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں وہ بے بسی سے اُنھیں دیکھتی بولی

آپ کیوں نہیں سمجھ رہی امی

میں کیسے آہل کی جگہ کسی کو دے سکتی ہیں ،،،اور ویسے بھی آبان بھائی بھی نہی راضی ہوں گے ,وہ شادی شدہ ہیں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتے ہیں ،،،

اُسنے انکار کا جواز پیش کیا

آپ __،،آپ ایسا کریں کسی اور سے میرا نکاح کروا دیں لیکن آبان سے نہی وہ روتی ہوئی ہچکیاں لیتی ماں کا ہاتھ تھامے آنکھوں میں التجاء لیے اُنھیں دیکھ رہی تھی ۔۔

اس بات سے انجان کہ اُسکی ماں سب جان بوج کر ایک پلان کہ تحت تو اُسکا نکاح کروا رہی ہے

حمنہ بیگم اُسکی بات سنتی اُسکا ہاتھ جھٹکتی روکھے انداز میں گویا ہوئی ۔۔

پاگل تو نہی ہو گئی تم “تم گھر کے بچے کو چھوڑ کر باہر کے لوگوں کو ترجیح دے رہی ہو ۔۔

کبھی بھی نہی ۔۔تمہارا نکاح آبان کے ساتھ ہی ہوگا ۔۔۔اس ساری جائیداد کا وہ اکیلا وارث ہے۔۔

پہلے کی بات اور تھی ،،لیکن اب”… اب وہی ان تمام چیزوں کا ملک ہے ۔۔۔

اور تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں باہر بیاہ دوں تاکہ تمہارے پاس کچھ نہ آئے ۔۔سب کچھ وہ شہری لڑکی لے اُڑے

وہ سخت تاثرات کے ساتھ اُسے گھورتی بول رہی تھی۔۔

میری تو شروع سے ہی خواہش تھی کہ تمہاری شادی آبان سے شادی ہو ۔۔لیکن بھائی جان نے تمہارے بچپن میں ہی آہل کے لیے تمہیں مانگ لیا ۔۔۔

اور اب تو حویلی کا اس تمام جائیداد کا ملک آبان ہے۔۔

کسی اور سے شادی کرنے تمہیں کیا ملے گا ،،،اس جائیداد پر جتنا حق آبان کا ہے اتنا ہی تمہارا بھی ۔۔اسلیے فضول میں بولنے کی کسی کے سامنے ضرورت نہیں ۔۔۔

میں نہی چاہتی کہ کل کو وہ لڑکی سب لے اُرے۔۔۔

اب تو اُسکی بھی اولاد ہوگی ،،تمہیں کیا ملے گا اگر وہ یہاں آ گئی تو ۔۔۔

اپنا نہی تو اپنی بیٹی کا ہی خیال کرو۔۔۔

اور ویسے بھی

آبان کو کوئی اعتراض نہی اور تمہیں بھی نہی ہونا چاہتے ،،ہم سب جو بھی فیصلہ کر رہے ہیں وہ تمہاری بہتری کی لیے ہی ہے

بس تم کل خاموش رہنا ۔۔ میں اب انکار نہی سننا چاہتی ۔۔وہ کہتی روکی نہی ،،اٹھ کر کمرے سی نکل گئی ۔۔

نور العین اُنکی بات سنتی اُنکے چہرے پر سخت تاثرات دیکھتی دکھ و تکلیف سے زمین پر بیٹھ کر آنسو بہانے لگی ۔۔۔

اُسنے کبھی سوچا بھی نہی تھا کہ زندگی یوں اچانک اتنا بڑا موڑ لے گی ۔۔ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔تکلیف حد سے سوا تھی ،،

اُسکی اپنی ماں اُسے سمجھ نہیں رہی تھی ،،صرف جائیداد کی لالچ میں وہ اُسکا نکاح آبان سے کروا رہی تھی۔۔نکاح کی آڑ میں وہ اپنا اصل مقصد حاصل کرنا چاہتی تھی۔۔

اُنکی بے حسی پر اُسے جی بھر کر رونا آیا

اُسے اس وقت اپنی زندگی سے نفرت محسوس ہونے لگی

اُس ایک شخص سے زندگی میں کتنی بہاریں تھی ،،وہ گیا تو زندگی جینا دشوار ہو گیا

کتنا مشکل ہوتا ہے اپنے جان سے پیارے شخص کو کھو دینا ۔۔۔جدائی انسان کو مار دیتی ہے ،،اُسکی روح جھنجھور لیتی ہے ،،،اور وہ اس وقت یہی سب کچھ محسوس کر رہی تھی ۔۔

_____________________

وہ آنکھیں موندے کرسی پر براجمان تھا ،،جب ملازمہ اجازت لیتی کمرے میں داخل ہوئی ،،اور سر جھکاتی ہوئی بولی ۔۔۔

چھوٹے سرکار بڑے سائیں آپکو نیچے یاد کر رہے ہیں ،،اُنکا حکم ہے کہ جلدی سے تیار ہو کر آپ نیچے تشریف لائیں ،،مولوی صاحب آ چکے ہیں ۔۔

ہمم میں آ رہا ہوں ،،وہ دکھتے سر ،،سرخ لہو رنگ آنکھوں کو کھولتا بھاری آواز میں ناگواریت سے اُسے دیکھتا بولا۔۔

ملازمہ اُسکا جواب سنتی اُسکا سرخ چہرہ دیکھتی فوراً وہاں سے غائب ہوئی

سوچیں دماغ سے چپک سی گئی تھی ،،وہ کیسے مزنہ کے ساتھ بے وفائی کر سکتا ہے ،،،کیسے اُسکے ساتھ،،اُسکی جگہ کسی اور کو دے سکتا ہے ۔

وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا ،،دل کر رہا تھا کہ ان سب سے کہی دور بھاگ جائے۔

وہ گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتا اٹھا اور وارڈروب سے ایک سفید شلوار قمیص نکال کر چینج کرنے چلا گیا ۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ نیچے سب کے درمیان بیٹھا تھا

لائٹ پنک سادہ سے لباس میں وہ بغیر کسی آرائش و زیبائش کے بڑی سی چادر خود پر پھیلائے بلکل خاموش بیٹھی تھی

نکاح نامے پر دستحط کرتے وقت اُسکے دل میں کوئی ہلچل کوئی شور نہی مچایا ۔۔کیوں کہ وہ اپنے تمام جذبات خیالات ایک شخص کے نام کر چکی تھی ،،اب اُسکا دل مردہ ہو چکا تھا ،اُسے اس بات سی کوئی غرض نہیں تھی کہ گھر والے اُسکی بہتری یاں اُسکی حفاظت لیے اُسکا نکاح کرے رہے ہیں ،،وہ بلکل ساکت بیٹھی تھی ،،دل میں کسی طرح کے کوئی احساسات نہی تھے ۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ نور العین آبان چوہدی بن چکی تھی

سب اُس سے ملتے اسے ڈھیر ساری دعائیں دے رہے تھے

ہوش تو اسے تب آیا جب اُسے آبان کے کمرے میں اُسکے بیڈ پر بٹھایا گیا ۔۔۔دل ایک دم لرز اٹھا،،دھڑکنوں نے الگ شور برپا کیا ہوا تھا ،،وہ اُس کے کمرے میں اُسکے بیڈ پر موجود تھی ،،

وہ کیسے آہل کی جگہ کسی اور کو دے سکتی تھی ،اور مزنہ ،،وہ اُسکے ساتھ کیسے یہ نا انصافی کر سکتی تھی ،،جس نے ہمیشہ اُسے بہنوں کی طرح مانا آج وہ اُسے کے حق پر ڈھاکہ مار بیٹھی تھی اُسکا دل سب سوچ کر پھٹنے کو تھا ۔

نکاح کے بعد وہ خاموش سرد تاثرات کے ساتھ اٹھتا باہر کو جانے لگا

جب بی جان نے اُسکا ہاتھ تھام کر اُسے روکا،،

اُنکا نرم لمس محسوس ہوتے وہ اُنکی جانب مرتا اُنکے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔

وہ آنکھوں میں ایک اُمید لیے اسے دیکھ رہی تھی ،،مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے آبان میرے کمرے میں آؤ

کہتی اپنی کمرے کی جانب چلی گئی ،،آبان اُنکی تکلید میں اُنکے پیچھے اُنکے کمرے میں داخل ہوا ۔۔

بیٹھو میرا بچہ ،،میں جانتی ہوں تم ناراض ہو سب سے کہ ہم نے زبردستی تم پر اپنا فیصلہ مسلط کیا ہے

لیکن یقین کرو ہم بہت بے بس تھے میرے بچے ،،

تم مزنہ کی وجہ سے بلکل بھی پریشان نہ ہو اُسے تمہارے نکاح کے بارے میں بلکل معلوم نہیں ہوگا ،،تم جیسے پہلے رہتے تھے شہر واپس ویسے ہی رہنا کرنا اُسکے ساتھ لیکن ہفتے بعد دو دن کے لیے ہی حویلی کا چکر بھی لگا لینا کیوں کو اب نور بھی تمہاری زمیداری ہے ،،

اب تمہیں دونو کو برابر کے حقوق دینے ہوں گے ،،کبھی نور کے حقوق میں کمی نا کرنا میرے بچے ،،،وہ پہلے ہی بہت ٹوٹ چکی ہے ،،یہ نکاح ہم نے صرف نور العین کو ایک مضبوط سہارا دینے کے لیے کیا ہے

اُسکو زندگی کی جانب واپس لانے کے لیے کیا ہے کیوں کہ وہ خود کو بلکل ایک کمرے میں بند کر چکی ہے سب سے بلکل لا تعلق ہو چکی ہے

اُسکی بالوں میں اپنا ممتا بھرا لمس بکھیرتے محبت سے اُسے سمجھا رہی تھی ،،

ایک بات یاد رکھا میرے بچے مجھے تم پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے اسلیے نور کی زمیداری تم پر ڈالی ہے مجھے کبھی اُسکی ماں یاں اُسکے سامنے شرمندہ نہ ہونے دینا ،،میرے یقین کو قائم رکھنا ،،

گزرے یہ چار مہینے ہم سب کے لیے بہت تکلیف دہ تھے لیکن اس سب میں نور العین نے سب سے زیادہ تکلیف برداشت کی ،،رو رو کر اب تو شاید اُسکے آنسو بھی خشک ہو چُکے ہیں ،،میری بس ایک گزارش ہے میرا بیٹا ،،میری بچی کو زندگی کی جانب واپس لے آؤ ،،پیار ،محبت اور نرمی سے اُسے ایک نئی دنیا سے روشناس کرواو جس میں تم اُسکے ساتھ ہو ،،اسے اپنے ہونے کہا احساس دلاو

بی جان کہتی اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئی ۔۔

بی جان یہ کیا کر رہی ہیں او سر اٹھاتا سیدھا ہوتا اُنکے ہاتھوں پر لب رکھ گیا ،،

بی جان بے آواز آنسو بہاتی نم آنکھوں سے اُسکی جانب دیکھ رہی تھی ،،۔

میں وعدہ کرتا ہوں بی جان میں کبھی آپ کے مان کو ٹوٹنے نہی دونگا ،،میں نور کو خوش رکھنے کی کوشش کرونگا ،،اُنکے ہاتھوں پر اپنا چہرہ رکھتا وہ نم شکستہ خوردہ لہجے میں گویا ہوا اور کتنی ہی دیر اُنکی گود میں سر رکھتا بے آواز روتا رہا ،،

حمنہ بیگم اور میريم بیگم نورکو اُسکے کمرے میں بیٹھا کر بی جان کے کمرے میں داخل ہوئی ،،آبان کو اُنکی

گود میں سر رکھے بیٹھا دیکھا ۔

مریم بیگم ترپ کر اپنے بیٹے کی جانب بڑھی جو اتنی ٹھنڈ میں بغیر کوئی چیز اوڑھے زمین پر بیٹھا تھا ۔۔

میرا بیٹا ،، میری جان ،،میرے جینے کا سہارا اُسے زمین سے اٹھاتی بیڈ پر بیٹھاتی اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اُسکے چہرے پر جا بجا لب رکھنے لگی ۔۔

اُنہیں اس وقت وہ وہی چھوٹا بچہ لگا جو بچپن میں اُن سے روٹھ کر بی جان کی گود میں سر رکھ کر اُنھیں اپنی ماں کی شکایت کرتا تھا ۔۔۔

میرا بیٹا مجھ سے ناراض ہے وہ نم آنکھوں سے اُسکے ہاتھ تھامتے اُن پر اپنا ممتا بھرا لمس بکھیرتی نم بیگھے لہجے میں گویا ہوئی۔

آبان ماں کی آنکھوں میں اپنے لیے بے انتہا محبت دیکھتا اُنکے محبت بھرے لمس کو محسوس کرتا اُنہیں سینے سے لگاتا بولا ۔۔نہیں اماں سائیں میں کسی سے ناراض نہیں ہوں۔۔

بی جان اور مریم بیگم ماں بیٹے کی محبت دیکھ کر نم آنکھوں سے مسکرا دی ۔۔

میں ایک بیٹے کو کھو چکی ہوں آبان دوسرے کو کھونے کی ہمت نہی مجھ میں ،،مجھ میں مزید کوئی غم برداشت کرنے کی ہمت نہی میرے بیٹے ،،مجھ سے کبھی ناراض نہ ہونا ،،کبھی دور نہ جانا ورنہ اس بار تمہاری مان زندہ نہی رہ پائے گی وہ روتی ہوئی اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ محبت سے گویا ہوئی ۔۔

میرے آہل کے بال ایسے ہی تھے نہ بی جان اور اُسکی ناک،،لب وہ اپنے ساتھ ساتھ سبکو رولا گئی تھی ۔۔

آبان خود پر بے انتہا ضبط کرتا مریم بیگم کے ہاتھوں کو تھامتے اُن پر لب رکھتا بولا ۔۔

میں آپ کا آہل اور آبان دونو ہوں اماں،،آہل زندہ ہے۔۔مجھ میں زندہ ہے ،،وہ مرا نہیں ہے وہ ہمارے دلوں میں ہے ،،

کیا آپ کو وہ مجھ میں دکھ نہیں رہا وہ اُنکے ماتھے پر لب رکھتا بولا ،،

مریم بیگم اپنی سسکیاں دباتی سر ہلاتی اُسے ساتھ لگا گئی،،وہ اُنھیں اور حمنہ بیگم کو اپنے چوڑے سینے میں بینچ گیا ۔۔

میں اپنی پوری کوشش کرونگا گا کہ آپ سب کو کبھی کوئی شکایت کا موقع نہ دوں ۔۔بی جان اُسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے بولی جیتے رہو میرے بچے۔

بس کرو اب تم دونوں کیوں اپنے ساتھ ساتھ بچے کو بھی رولا رہی ہو اُسے اُن سے دور کرتی اُنہیں ڈپٹ کر بولی

جاؤ میرا بیٹا اپنے کمرے میں نور العین تمہارا انتظار کر رہی ہوگی۔۔

وہ سر ہلاتا اُنکے قریب سے اٹھتا بولا۔

چاچی جان فجر کہا ہے ۔۔۔

بیٹا وہ میرے کمرے میں سو رہی ہے۔۔۔

میں اُسے لے کر جا رہا ہوں اپنے کمرے میں وہ کہتا وہاں سے نکل گیا ۔۔

سب پیچھے سے اُن دونو کی خوشیوں کی دعائیں کرنے لگے ۔۔یہ جانے بغیر کے عنقریب بہت بڑا طوفاں اُنکے دروازے پر دستک دینے والا ہے ۔