Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 10)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 10)
Robroye Yaar By Yumna Writes
وہ سوئی ہوئی فجر کو گود میں اٹھائے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔نظر اسکی جانب اٹھی جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے ہوے تھی ۔۔
وہ آہستگی سے چلتا اُسکے قریب آتا اسکی نیند کا خیال کرتا سوئی ہوئی فجر کو بیڈ پر لٹا کر قریب بیٹھی نور کو دیکھا ,،،چہرے پر آنسو کے نشان واضح تھے ،،روتے روتے شاید وہ سو چکی تھی ۔۔۔
آبان اُسکے روئے ہوے سرخ چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا ،،کیا تھی وہ لڑکی اور کیا بن گئی تھی ،،اُسکے بھائی نے تو کبھی اُسے ہلکی سی کھروچ نہ لگنے دی تھی
اُسکی جان بستی تھی اُس میں ،،وقت نے کیسا ستم کیا تھا اُس معصوم پر ،، وہ رنگوں میں بسی لڑکی اب بلکل بے رنگ سی رہنے لگی تھی ۔
اُسنے اسکے سرخ چہرے کی جانب دیکھتے دل میں ارادہ کیا تھا کہ وہ اپنی پوری کوشش کرے گا اُسے زندگی کی جانب لانے کی ،،اُسے واپس رنگوں سے عشق کرانے کی ،،اُسے وہی ،محبت ،،عزت دینے کی جس کی وجہ سے اُسکے گھر والوں نے اُسے اُسکے نام کیا تھا ۔۔
وہ اٹھتا کبرڈ سے اپنا آرام ده ڈریس نکالتا چینج کرنے چلا گیا ۔۔۔
چینج کرکے جب وہ باہر آیا تو اُسے ہنوز ویسے ہی سوتا پایا ۔۔
آبان نے اُسکے قریب جاتے اُسکا نام پُکارا ۔۔
نور العین “
اُسکی روتے روتے کس وقت آنکھ لگ گئی اُسے معلوم ہی نہ ہوا ،،اپنا نام سنتی آنکھیں کھولتی کمرے کو دیکھ رہی تھی،، ذہن کے پردوں پر بیتے لمحے آئے تو آنکھیں پل میں آنسوؤں سے بھر گئی
آبان کو اپنے قریب دیکھ اُسکا جسم ہولے ہولے لرزنے لگا
اُسے یوں اچانک روتا دیکھ آبان اُسکے قریب بیٹھ گیا ۔۔۔۔ریلیکس نور العین ۔۔
نور العین اُسے قریب بیٹھا ،،خود کو اُسکے کمرے میں اُس کے بیڈ پر بیٹھا دیکھ بے بسی سے آنکھوں میں آتی نمی کو پیچھے دکھیلنے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔
اُسکی نم آنکھوں اور لرزتے وجود کو دیکھ وہ نرم لہجے میں گویا ہوا
میں جانتا ہوں تمہارے لیے سب کچھ بہت مشکل ہے ،،لیکن اس طرح کسی کے جانے سے زندگی رک تھوڑی نہ جاتی ہے،،اور ویسے بھی وہ ہم سب میں موجود ہے ،،کیا تمہیں فجر میں وہ نظر نہی آتا ،،تمہیں جب کبھی وہ یاد آئے تم فجر کو پیار کرو ،،اُسے دیکھو وہ اُس میں تمہیں نظر آئے گا ،،وہ بڑی محبت سے اُسے سمجھا رہا تھا ۔۔
نور سے اپنے آنسو ضبط کرنا مشکل ہو گیا ۔۔۔
آپ مجھے اُنھیں یاد کرنے سے روکیں گے نہی وہ چہرے پر خیرت اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات لیے اُس سے سوال کر رہی تھی ،،آنکھوں سے آنسو زارو قطار بہہ رہے تھے۔۔
کیوں میں کیوں روکو گا تمہیں ،،لیکن اس طرح رو کر تم اُسکی روح کو تکلیف دے رہی ہو ۔۔
میں جانتا ہوں تمہارا غم بہت بڑا ہے تم نے دو دو رشتے ایک ساتھ کھوے ہیں لیکن اس طرح رونے سے خود کو تکلیف دینے سے بہتر ہے خود کو مضبوط بناو ،،اُسکے لیے مغفرت کی دعا کرو ،،اُسے اپنی کمزوری نہی اپنی طاقت بناو ،،
وہ چہرہ اٹھائے بھیگی نم آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔
لیکن کیسے ،،یہ تکلیف درد مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ،،میرا دل کرتا ہے میں بھی مر جاوں ،،میں کیوں زندہ ہوں اُنکے بغیر میں مر کیوں نہی جاتی وہ روتے ہوے ایک دم ہزیانی ہوتی چلائی ،،۔۔
آبان نے اُسے رونے دیا،،وہ یہی چاہتا تھا کہ اُسکے اندر کا غبار باہر نکلے
نور العین روتی اسکے شانے پر سر رکھتی زارو قطار رونے لگی،، اتنے دن کا غبار وہ اپنے اندر لیے بیٹھی تھی ،،،وہ سارا اپنے آنسو کے ذریعے نکال رہی تھی
وہ خاموشی سے اُسکی سسکیاں ،،آہیں سن رہا تھا ،،وہ چاہتا تھا وہ جی بھر کر رو لے تاکے اُسکے اندر کا غبار ختم ہو جاے جو اُسنے اپنے اندر چھپا کر رکھا ہوا تھا
اُسکی وحشت سے بھری خاموش سرد آنکھوں سے اُسے خوف آنے لگا تھا
کیوں ،،آخر کیوں میرے ساتھ یہ ہوا ۔۔میں نے کیا بگاڑا تھا کسی کا ۔۔کیوں مجھ سے لے لیا اُنہیں ۔ میں نہی رہ سکتی اُنکے بغیر ،،مجھے اُنکے پاس جانا ہے ،،مجھے زندہ نہی رہنا،،
مجھے اس زندگی سے موت بہتر محسوس ہوتی ہے ،،میرا دم گھٹتا ہے سوچ سوچ کر کہ آہل اب ہم میں موجود نہی ،،وہ میرے پاس نہی ،،وہ کیسے جا سکتا ہے ہمیں چھوڑ کر یوں بے آسرا ،،
آپ اُنھیں کہیں واپس آ جائیں نور العین مر رہی ہے اُنکے بغیر ،،،نور ٹوٹ گئی ہے آ جائیں ،، بلائیں نا اُنھیں آپکی بات مانتے تھے نہ بولیں نہ آپ اُنھیں ۔۔وہ روتی اُسکی شرٹ مٹھیوں میں بیچتی چیخ رہی تھی ۔۔
میں منہوس ہوں ،،میری وجہ سے ہی سب کچھ ہوا ہے ،،اور اب آپ بھی ،،نہی دور دور رہیں مجھ سے کہیں آپکو بھی نہ کچھ ہو جائے ،،میری منہوسیت آپ کو بھی ختم کر دے گی وہ روتی بولتی اچانک اُس سے دور ہوئی ۔۔
نور کیا فضول بول رہی ہو تم،، ایسی کوئی بات نہیں وہ پہلی بار سخت لہجے میں بولتا اُسکے قریب ہوا ۔۔۔نہی سچ بول رہی ہوں میں میری منہوسیت سے آہل چلے گیا ،،نہی دور وہ چیختے ہوے اُسے پرے دھکیل رہی تھی ،،
آبان اُس پر اپنی گرفت مضبوط کرتا بلند آواز میں دھاڑا
خاموش بلکل خاموش لہجے میں سختی لیے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ۔۔جانے کیوں اُسکی باتیں خود کو کوسنا اُسے تکلیف دے رہا تھا ۔۔
وہ روتی ہولے ہولے کانپ رہی تھی اُسکی آواز سے سہمتی خاموش ہوئی تھی ۔۔۔ادر میری طرف دیکھو،،آبان اُسکی آنکھوں میں دیکھتے اُسکے کانپتے وجود اور نم آنکھوں میں دیکھتا بولا
اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں یہ سب ہونا ایسا ہی لکھا تھا ۔۔۔اُسکی زندگی ہی اتنی تھی ،،سب قسمت کے کھیل ہیں۔۔۔اس لیے خود کو کوسنا بند کرو ۔۔۔
کیا تمہیں خدا پر بھروسہ نہی ،،کیا تم اُس سے بھر کر آہل سے محبت کرتی ہو ۔۔۔ہم سب نے ایک دن جانا ہے موت تو برحق ہے اُسکا جانا اس طرح لکھا تھا تو بس ،،،
اس میں خود کو قصور وار ٹہرانا اور اپنے لیے موت مانگنا خدا کی نا فرمانی ہے۔۔خدا نے ہماری قسمت میں جو لکھا ہے ہونا وہی ہے پھر چاہے جتنے آنسو بہا لو یاں چیخ لو کیوں کے وہ بہتر جانتا ہے ہمارے لیے کیا بہتر ہے
وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی آنسو ہنوز لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے ۔۔
آبان اُسکی باتیں سنتا ،،اسکا خود کہ لیے موت مانگنا جان کی ترپ اٹھا تھا ،،
وہ مسلسل چار ماہ سے اسی اذیت اور تکلیف میں تھی کہ اُسکی وجہ سے سب ہوا ،،
اُسے گھر والوں کا فیصلہ بہت غلط لگا تھا لیکن اب وہ اُسکی حالت دیکھ خود پریشان ہو گیا تھا ،،اور آج اُسکے دل کا حال نہ جانتا تو عنقریب وہ یہ اذیت اور تکلیف برداشت کرتی کرتی خود کو ختم کر لیتی
اُس نے اسی وقت ارادہ کر لیا کہ اب وہ اُسے سمبھالے گا،،اُسے زندگی کی طرف لائے گا ،،مزنہ کا خیال بلکل دماغ سے نکل چکا تھا ۔۔
اُسکی نم آنکھوں کو دیکھتا وہ اُسے سینے سے لگاتا اُسکے نرم و ملائم بالوں میں اُنگلیاں پھیرنے لگا
زندگی کسی ایک کے جانے سے رک نہی جاتی نور العین،،تم اپنے ارد گرد دیکھو زرا ،،،کیا باقی سب کا دکھ تم سے کم ہے لیکن وہ سب کچھ بھلائے خوش رہنے کی کوشش کر رہے ہیں ،،زندگی اسی کا نام ہے ،،یہ تمام نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں ،،دیکھو کیا چاچی کا دکھ تم سے کم ہے
میری اماں نے بھی تو اپنا جوان بیٹا کھویا ہے
لیکن تم میں اور اُن میں فرق یہ ہے کہ وہ اس سب کو خدا کی مرضی مان کر زندگی میں دوبارہ نارمل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں ۔۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں اسی لیے بیجھا ہے کہ ایک دن سب نے واپس جانا ہے۔۔ہمارا اصلی ٹھکانہ تو وہی ہے ہر چیز فانی ہے۔۔
موت کا کوئی بھروسہ نہیں خدا جب چاہے ہمیں بولا لے۔۔
اسلئے خدا سے شکوہ کرنے رونے سے بہتر ہے کہ جانے والوں کے لیے دعا کی جائے۔۔اُنہیں اپنے آنسو سے تکلیف دینے کی بجائے اُنکے لیے کچھ پڑھا جائے۔۔
جتنی زندگی ہے اُس میں خوش رہنے اور خدا کا شکر ادا کرنے کی کوشش کی جائے
تم بھی یہ کوشش کر سکتی ہو سب کو خوش کرنے کے لیے ہی سہی،،
سب تمہارے لیے اتنے پریشان ہیں ،،تمہاری فکر سب کو کھائے جا رہی ہے اور تم سب سے بےخبر اُس کے لیے رو رہی ہو جو منو مٹی تلے دبا ہوا ہے نرمی سے بولتا وہ اُسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔
وہ خاموش ہوتی سب کو سوچتی پھر سے رونے لگی ،،اُس سے دور ہوتی وہ بولی سب میری وجہ سے پریشان ہیں اور آپکو بھی تنگ کر دیا میں نے ۔۔سب غلط ہو گیا ۔۔سب میری وجہ سے ہوا ۔۔۔میں نے بہت منع کیا تھا نکاح سے بہت روکا تھا امی کو لیکن کسی نے میری نہی سنی وہ ایک بار پھر پانیوں بھری انکھوں سے اُسے دیکھتی لب بینچتی بولی،،
میری وجہ سے آپ بھی پھنس گئے ،،مزنہ آپکی کو پتہ چلے گا تو وہ کتنا ناراض ہونگی وہ اسکو سوچتی چہرہ ہاتھوں میں چھوٹی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
آبان لب کاٹتا اُسے ساتھ لگائے خاموش کروانے لگا ۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا یار ۔۔۔میں سمجھا دونگا مزنہ کو جب پتہ چلے گا تم ابھی اس سب کی ٹینشن نہ لو
اور میں نے یہ نکاح اپنی رضا مند سے کیا ہے اسلیے فضول سوچیں دماغ میں مت لاوں۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا انشا اللہ ۔۔۔۔خدا پر یقین رکھو ۔۔
کچھ ہی دیر میں اُسکی بھاری ہوتی سانسوں کی آواز سنتا وہ بہت احتیاط سے اُسے فجر کے قریب بیڈ پر لٹاتا دور ہوا ۔
اُسکی نم پلکوں ،،سرخ روئے ہوے چہرے کو دیکھتا وہ دور ہوتا وہ سائڈ ڈرا سے لا ئیٹر سگریٹ نکالتا ٹیرس پر چلے گیا ۔۔۔
سگریٹ لبوں میں دباتا وہ مختلف سوچوں میں ڈوبا پرا تھا ۔
وہ خود کو بہت بے بس سا محسوس کر رہا تھا ایک طرف نور تھی تو دوسری طرف اُسکی محبت ،،اُسکی بیوی
وہ کیسے بتایۓ گا اُسے”….
چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ سگریٹ کے گہرے کش لگاتا وہ آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا ۔۔
وہ مسلسل سوچو میں ڈوبا ٹھنڈ میں بغیر کسی گرم لحاف کے کھڑا تھا،،
سردیوں کی رات،،ٹھرٹھرا دینے والی ٹھنڈ۔۔ دھند کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا
لیکن اُسکے اندر کی بے چینی کہ باعث اُسے باہر کی ٹھنڈ بلکل محسوس نہیں ہو رہی تھی
جب اندر خاموشی اور ویرانی ہو تو باہر کا ہر منظر برا ہی لگتا ہے
اُس نے سوچ لیا تھا کہ صبح پہلی فلایٹ سے اسلامباد کے لیے نکلے گا اور مزنہ کو ساری حقیقت سے آگاہ کرے گا۔
