Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 33)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 33)
Robroye Yaar By Yumna Writes
وہ اس وقت ہارون کے گھر موجود تھا
اور اب دونو بیٹھے شاہ ولا جانے کا سوچ رہے تھے
ہاتھوں میں سر گرائے وہ اُس سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا
جبکہ دوسری جانب حمنہ بیگم نے فجر کی اذان سنتے ہی آبان کے کمرے کی جانب قدم بڑھاے
خاموشی سے دروازہ دھکیلتے کمرے میں جھانکا
خالی بستر اور واشروم کا کھلا دروازہ دیکھ کر اُنھیں کنفرم ہو گیا کہ وہ جا چکا ہے
اسی لیے جلدی سے باہر نکلتے انہوں نے نور العین کو جگایا اور ساتھ لیتی جانے کے لیے تیار ہو گئی
بی اماں حویلی کے لاؤنج میں بیٹھی تسبیخ کر رہی تھی انکی عادت تھی نماز ادا کرنے کے بعد لاؤنج میں بیٹھ کر کلمات پڑھنے کی
بی اماں اُنھیں کہی جانے کے لیے تیار دیکھتی تسبیح رکھتی استفسار کرنے لگی
کہاں کی تیاری ہے تم دونوں کی ؟؟..
بی اماں وہ نور العین کا آج چیک اپ بھی ہے اور میں نے سوچا کہ جلدی جا کر مزنہ کے گھر بھی ایک بار ہو آئیں گے۔۔
اُنھیں راضی کرنے کے لیے کیوں کہ مسئلہ تو اُسے نور سے ہے نہ تو سزا آبان بیچارہ کیوں سہے ۔۔
وہ رسانیت سے کہتی اپنا ہینڈ بیگ کندھے پر ڈالتی نور العین کو اشارا کرتی جانے لگی
ٹھہرو ” ایسا کرو پھر مریم کو بھی ساتھ لے جاو ۔۔۔وہ بھی مل لے گی اور کیا پتہ اُسکی بات سن بھی لے
بی اماں نے نور کو مریم بیگم کے کمرے میں انہیں بلانے کے لیے بیجھا ۔۔۔
بی اماں رک تو جائیں ،، میری بات تو سن لیں
وہ پہلو بدلتی جلدی سے نور العین کا بازو پکڑتی اُسے روکتی گویا ہوئی
وہ میں کہہ رہی تھی کہ کیا پتہ ہم سب کو دیکھ کر زیادہ غصے میں نہ آ جاے ،،اور بابھی بیگم بھی غصے کی تیز ہیں
معاملہ سدھرنے کی بجائے اور ہی نہ بگڑ جاے ۔۔۔
پہلے ہی آبان آپ بچے کو دیکھنے کے لیے ترس رہا ہے چہرے پر افسردگی لاتی
وہ بات بگڑتے دیکھ جلدی سے بہانہ گرتی گویا ہوئی
ہمم کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو چلو ٹھیک ہے پھر جاو اور خیال سے بی اماں کہتی تسبیح اٹھاتے پڑھنے لگے
نور العین گہرا سانس خارج کرتی باہر نکلیں اُسکے پیچھے حمنہ بیگم بھی شکر کا کلمہ پڑھتے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کرتی باہر آ گئ
گاڑی میں بیٹھتے دونو نے چین کا سانس لیا
امی مجھے تو لگ رہا تھا آج پکڑے جائیں گے نور العین اپنے سفید پرتے چہرے کے ساتھ ماتھے سے پسینہ صاف کرتی مین گیٹ سے گاڑی باہر نکلتے دیکھ بولی
تمہاری ماں کے ہوتے کبھی ایسا ہو سکتا ہے ۔۔تم بس اب دیکھتی جاؤ میں کرتی کیا ہوں ۔۔
بس دعا کرو آبان کے پہنچنے سے پہلے ہم شاہ ولا پہنچ جائیں ۔۔
حمنہ بیگم سرسراتے لہجے میں کہتی اپنے شاطر دماغ کو لڑا رہی تھی ۔
امی کیا کریں گی آپ ؟… نور العین ماں کی جانب دیکھتی بے چینی سے استفسار کرنے لگی
بس تم پہنچنے دو وہاں مجھے !! ایسا وار کرونگی کہ مزنہ کبھی واپسی کا تصور بھی نہیں کرے گی
میں اُسکی ایسی جگہ وار کرونگی کہ وہ بلبلا کے رہ جائے گی
اور واپس کبھی آبان کی جانب مڑ کر نہ دیکھے گی
کڑخت لہجے میں کہتی وہ نور العین کو پر سکون کر گئ
اب یہ سکون سے سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتی آنکھیں موند گئی کہ اُسکی ماں سب سمبھال لے گی
______________
مزنہ کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ سنایا بیگم خیران ہوتی آگے بڑھتی پوچھنے لگی
اتنی جلدی آ گئی میرا بچہ ۔۔طبیعت ٹھیک ہے نا ؟؟..
مزنہ ماتھا مسلتی گویا ہوئی ۔۔بس موم سر میں بہت پیںن تھی بیٹھنے نہیں ہوا زیادہ وقت اسی لیے آ گئ
اچھا میرا بچہ تم جاو اپنے روم میں ” میں چائے لے کر آتی ہوں ،، مصطفیٰ کہا ہے ؟؟..
وہ لال ہوتی آنکھوں کو دباتی بولی
مصطفیٰ ابھی سو رہا ہے میرے روم میں ہے تم جاو میں سکینہ کو کہتی ہوں اُسے تمہارے روم میں چھوڑ آئے
وہ سر ہلاتی اپنے کمرے کی جانب چلے گئ
کمرے میں جاتی بے سدھ سی وہ بیڈ پر لیٹ گئی ۔۔
نظریں کمرے کی چھت پر مرکوز تھی جبکہ دماغ کہی اور کھویا ہوا تھا
اندھا اعتبار اور بھروسا جب ٹوٹتا ہے تو اُس اعتبار کی کرچیاں انسان کو اپنے سینے میں پیوست ہوتی محسوس ہوتی ہیں ۔۔
عجیب شخص تھا وہ بھی اُسے تباہ کرکے اب معافی مانگنے چلا تھا ۔۔
اُسکا سب کچھ چھین کر جو آخری اُمید تھی جینے کی اُسے بھی بجھانے نکلا تھا
وہ نور کو طلاق دے بھی دیتا تب بھی اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیوں کہ اُس نے محبت کی ہی نہیں تھی اُس سے ۔۔
محبت تو بس اُس نے کی تھی اور اندھی محبت جس میں وہ سب کھوتی چلے گئی اور معلوم تب ہوا جب ہاتھ خالی رہ گئے
وہ بھی دُنیا کے نوے فیصد مردوں میں سے ایک نکلا جو شادی صرف ایک رسم اور سکون کے لیے کرتے ہیں
اس شادی میں محبت نہیں ہوتی بلکہ صرف انسان کسی دوسرے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے
جہاں تیس چالیس سال بعد بھی مرد عورت کو اپنے لفظوں سے دو کوری کا کر دیتا ہے
مرد کیا جانے اُس تکلیف کو جو عورت برداشت کرتی ہے اگر اُسے اُس تکلیف کا اندازہ ہو جائے جو وہ اپنے لفظوں سے اُسے دیتا ہے تو ساری زندگی سر اٹھانے کے قابل نہ رہے
عورت کا دل کٹ کے رہ جاتا ہے جب ایک مرد کہتا ہے کہ دنیا کی تمام عورتیں بچے پیدا کرتی ہیں ،،تمام گھریلو کام سر انجام دیتی ہیں تم کوئی انوکھی نہی ہو
کاش کبھی وہ یہ سمجھ پائے۔۔
وہ اس غم کو بھلا نہیں پا رہی تھی ۔۔۔یہ تکلیف اُسے دن با دن ختم کر رہی تھی ۔۔اس نے تو اُسے سب سے الگ جانا تھا
آنسو پلکوں کی بار توڑ کر روا ہوئے ۔۔
ملازمہ کب آئی چائے رکھ کر گئ اُسے کوئی خبر نہیں وہ تو آنکھیں موندے اُس بے محر کے لیے آنسو بہا رہی تھی
اُسکی آنکھ اچانک آنے والے شور سے کھلی ۔۔
وہ جلدی سے اٹھتی چہرے پر ہاتھ پھیرتے باہر نکلیں ۔
لاؤنج میں حمنہ بیگم اور نور العین کو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی
سنایا بیگم اُنھیں گھر سے جانے کا کہہ رہی تھی جبکہ وہ مسلسل مزنہ سے ملنے کی ضد کر رہی تھی
مزنہ کے آنے سے حمنہ بیگم تیزی سے اُسکی جانب لپکی
مزنہ بیٹی ایک بار میری بات سن لو ” اپنی ماں کو کہو ہمیں بس پانچ منٹ رکنے دے یہاں
اُنہیں سا منے دیکھ مزنہ کا دماغ بلکل سن ہو گیا ہو جیسے ۔۔
ان کے جھنجھوڑنے پر اُسکی محویت ٹوٹی اور وہ دوھوا دھووا چہرے کے ساتھ ان کی جانب دیکھتی غصے سے پھنکاری”
کیا لینے آئی ہیں آپ دونو یہاں “؟؟..
کیا میرے خاوند کو لے کر دل نہی بھرا جو منھ اُٹھا کر یہاں چلی آی ہیں ۔۔
نہیں بیٹی ایسی بات نہیں بلکہ میں تو تمہیں کچھ بتانے آئی تھی۔۔
کچھ نہیں سننا مجھے میرے باپ کی موت کے ذمےدار ہیں آپ لوگ “
حمنہ بیگم منت بھرے لہجے میں گویا ہوئی ۔۔
نور العین چابی والی گڑیا کی مانند ایک جانب کھڑی ماں کے اشارے کے انتظار میں تھی
کچھ نہیں سننا اور سمجھنا ہمیں نکلو فوراً میرے گھر سے دونو ورنہ گارڈ سے ڈھکے دے کر باہر نکلواو گی
سنایا بیگم اگ بگولا ہوتی کہتی نور العین کا ہاتھ تھامے اُسے مزنہ سے دور کرنے لگی
دفعہ ہو جاو دونو ماں بیٹی تم دونو کو تم لوگو جیسا دوغلہ شخص مبارک ۔۔
بہت جلد میری بیٹی اُس شخص سے آزادی حاصل کر لے گی سنایا بیگم کا دل چاہ رہا تھا یہی دونو کے چیتھڑے اُڑا دیں کیسے گندے لوگ تھے
اتنا کچھ کرکے بھی اُن کے سامنے آنے کا حوصلہ رکھتے تھے
چلیں جائیں گے ہم ” ہم بھی بس کچھ کہنے ہی آئے تھے لیکن مجھے لگتا ہے کہ زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوگی آپ لوگ خود ہی بہت سمجھدار لگ رہے ہو حمنہ بیگم اچانک اپنا لہجہ بدلتی عجیب سے لہجے میں گویا ہوئی
جبکہ مزنہ اور سنایا بیگم انکی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتی اُنھیں الجھن زدہ سی نظروں سے دیکھتے بولی
کیا کہنا چاہتی ہو جلدی سے بولو اور نکلو ۔۔
سنایا بیگم پھار کھانے والے انداز میں بولی
یہی کہ بہت اچھا فیصلہ لیا ہے آپ لوگو نے آبان سے آزادی کا ۔
دراصل بات یہ ہے کہ میں تو شروع دن سے ہی نور العین کو آبان کے ساتھ دیکھنا چاہتی تھی لیکن آہل کے ساتھ اسکا نکاح ہو گیا
اب جب مجھے اتنا اچھا موقع ملا تو میں ضایع تو نہیں نہ جانے دے سکتی تھی
اسی لیے میں آبان کے سامنے لا چار سی لڑکی بنی
نور العین آگے کو ہوتی اپنے بالوں کی لیٹ کو انگلی پر لپیٹی چہرے پر مسکراہٹ لاتے گویا ہوئی
اور جان بوجھ کر اُسے اپنی جانب راغب کیا اور دیکھ لو تمہارا شوہر چار ماہ میں تمہاری چار سالوں کی محبت بھول کر میری جانب مبذول ہو گیا
اور اب بیچارہ عجیب پاگل بنا پھر رہا ہے کبھی میرے پاس تو کبھی تمہارے ،،
نور العین کے بدلے لہجے کو دیکھ کر مزنہ دھنگ سی ہوتی اُسے دیکھنے لگی
تم ،،تم بھی اس سب میں شامل تھی اور مجھے لگا تمہیں مجبور کیا گیا ہے مزنہ اٹکتی با مشکل سے بولی
نور العین قہقہ لگاتی اُسکی جانب دیکھتی تنفر سے گویا ہوئی
یہ سارا کا سارا پلان ہی میرا تھا پیاری بہنا” مزنہ کا تمسخر اڑاتی وہ بولی
میں تو شروع دن سے اُس آہل کو پسند نہیں کرتی تھی لیکن بابا کے سامنے اچھی بیٹی کی طرح سر جھکا دیا
جاھل سا باپ کے پیچھے بھاگنے والا شخص تھا وہ مجھے ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی تھی
ساری جائیداد بھی آبان کے نام اور عیش و عشرت کی زندگی بھی آبان گزار رہا تھا یہاں رہ کر تمہارے ساتھ
اور میں اُس گوار کے ساتھ حویلی میں سروں ،،
کیوں۔۔
وہ تو شکر ہے قسمت نے میرا ساتھ دیا اور کچھ میری مان کا دماغ تھا
ہم جانتے تھے کہ دوسری برادری والے آج گاؤں میں حملہ کرنے والے ہیں اسی لیے جان بوجھ کر آہل کو وہاں چھوڑ آئے
پلان تو ہمارا تایا کو چھوڑنے کا تھا لیکن افسوس بابا بھی لڑای میں چل بسے لیکن ہمارا مقصد پورا ہو گیا ۔۔
اب آبان بھی میرا اور جائیداد بھی کہتی وہ مزنہ کی
اڑی ہوئی رنگت دیکھتی مسکرا لنے لگی
کیسا لگا میرا پلان ۔۔۔
مزنہ کا تو سب حقیقت جان کر اوسان خطا ہونے لگے
