Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 37)

Robroye Yaar By Yumna Writes

جس وقت وہ دبئی پہنچے شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے ۔۔

مزنہ کو بے تحاشا تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔سوئے ہوے مصطفیٰ کا سر کندھے پر ٹکائے وہ اپنے لگیجّ کے ساتھ ایئرپورٹ پر کھڑی ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھیں

سنایا بیگم نے اُنھیں کال کر دی تھی ۔۔

ماہم شاہ نے زارون کو کال کرکے اُنھیں ایئرپورٹ سے رسیور کرنے کا کہا ۔۔

زارون شاہ دھڑکتے دل کے ساتھ آفیس سے گاڑی کی کیز لیتا نکلا ۔۔

مزنہ جو ڈرائیور کو دیکھ رہی تھی اپنے سامنے زارون کو آتا دیکھ ساکت سی رہ گئی ۔۔

دوسری جانب آگے بھرتے زارون کے قدم تھمے تھے اُس پری پیکر کو دیکھ کر ۔۔

وہ جس کے بغیر سانس لینا محال ہو ” جس کے بغیر آنکھوں کو کوئی جھچتا نہیں وہ سامنے ہو تو نظر کیسے نہ بھٹکے “

آتشی شورٹ فروک زیب تن کیے بلیک شال کندہوں پر لیے وہ اُسے دُنیا جہاں کی سب سے خوبصورت لڑکی لگی”.

دل جو اتنے عرصے سے اُسکی دید کا پیاسا تھا ،،کانچ سی سرخ ڈاوروں والی آنکھیں ،، بھرے بھرے گلابھی گال اُس پر سے نظر ہٹانا ماحال ہو گیا تھا

بے زار سی وہ چھوٹے سے روئی جیسے وجود کو ساتھ لگائے ہوئے تھی ۔۔

خود کو ڈپٹتا کہ اُسے ایسا کوئی حق حاصل نہیں “

وہ پر جوش سا آگے بڑھتا سلام کرتا اُن کے آگے سر جھکا گیا ۔۔

سنایا بیگم نے اُسے پیار دیا ” ۔۔۔

کچھ نہیں بدلا تھا اُس شخص میں ” وہ اب بھی پہلے جیسا ہی تھا ۔۔۔

لمبے سیاہ سلکی بالوں کو بینڈ سے پیچھے قید کیا گیا تھا

سفید رنگت پر ” بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں جو مقابل کو زیر کرنے کا فن رکھتی تھی ،،عنابی لب ،، خاصی بڑھی دھاری موچھ” جو اُسے دیکھتے ہی شاہو کا سپوت ہونے کا پتہ دیتی تھی۔۔

دراز قد ،، کسرتی بدن بلاشبہ وہ بے انتہا خوبصورت مرد تھا “

اُس نے ایک نظر مزنہ کو دیکھا اور آگے بڑھتے اُسکا لگیج تھاما ” کیسی ہیں آپ؟؟..

مزنہ کی اچانک محویت ٹوٹی تو شرمندگی کا احساس ہوا ۔۔۔

ٹھیک ہوں یک لفظی جواب دیتی وہ اُس کے پیچھے چلنے لگی،، اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے احترام دیکھ کر اُسے شدت سے کسی کی یاد آئی تھی ۔۔

وہ آنسو پیتی ،،مشکل سے خود پر ضبط کیے گاڑی میں بیٹھی تھی

راستے میں مزنہ تو بلکل خاموش رہی جبکہ سنایا بیگم اُس سے باتیں کرتی رہی “۔۔

گاڑی ایک بہت ہی شاندار بنگلے کے سامنے رکی ” وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی حماد شاہ اور ماہم شاہ اُن کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔۔

ماہم شاہ نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا ۔۔

چھوٹے سے مصطفیٰ کو دیکھ کر سب اس کے صدقے واری جا رہے تھے ۔۔

ماہم شاہ نے ایک نظر اندر آتے اپنے بیٹے کی جانب ڈالی جس کی آنکھوں میں وہ آج الگ ہی دیپ جلے دیکھ رہی تھی ۔۔

اُسکے چہرے میں ایک الوہی خوشی دیکھتی وہ بھی مسکرا دی ۔۔

آپ لوگ فریش ہو جائیں پھر اُس کے بعد مجھے اپنی بیٹی سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں ” ۔۔صرف بیٹی سے سنایا بیگم قدرے حفگی سے گویا ہوئی

ارے نہیں پھوپھو جان میں ہوں نہ آپ کے لیے زارون اپنے مزاج کے برعکس آگے کو ہوتا محبت سے گویا ہوا تو سب مسکرا دیے ۔۔۔۔

مصطفیٰ سو چکا تھا “

ماہم شاہ نے اُنھیں ان کے روم دیکھا دیے وہ زارون کو لٹاتے ،، آرام کرنے کی غرض سے اپنا ایک ڈریس نکالتے فریش ہونے چلی گی ۔۔

کچھ دیر بعد وہ کمرے سے باہر آئی تو ماہم شاہ سرشار سی ڈائننگ پر کھانا لگا رہی تھی ساتھ زارون اُنھیں چیزیں پکڑا رہا تھا ” ۔۔

اُسکے قدم وہی تھمے تھے ۔۔اُسے وہاں کھڑا دیکھ کر ماہم شاہ نے محبت سے چوڑ لہجے میں پُکارا “

آ جاؤ میرا بچہ” وہاں کیوں کھڑی ہو ۔۔

وہ کنفیوز سی زارون کی موجودگی میں اُن کے قریب آئی ” میں کچھ ہیلپ کروں ممانی جان”..

نہیں میرا بچہ ہو گیا سب” ۔۔زارون جاؤ اپنی پھپھو کو بلا کر لاو،،

میں سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی ہوں ۔۔تنگ آ جاتی ہوں اسلیے گھر کے تمام کام خود ہی کرتی ہوں “

زارون نے تو بہت کہا میڈ کا لیکن مجھے خود اپنے ہاتھوں سے کام کرنا پسند ہیں ساتھ میں زارون بھی کافی ہیلپ کروا دیتا ہے ۔۔وہ مسکراتی ہوئی محبت سے گویا ہوئی

مزنہ سر ہلاتی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئی” آپ بیٹھو میں ذرا حماد صاحب کو بلا کر لاتی ہوں کہتی وہ چلی گئی

کچھ ہی دیر میں سب ڈائننگ پر موجود تھے ” ارے ہمارا شہزادہ کہاں گیا ؟؟…

حماد شاہ مصطفیٰ کے متلعق استفسار کرنے لگے ۔۔

وہ مامو جان سو رہا ہے ،،تھک گیا ہے سارا وقت اٹھا ہوا تھا ۔۔

اچھا اچھا چھوٹا سا تو ہے بیٹا ٫ کوئی بات نہیں آپ کھانا کھاؤ ۔۔آپکی ممانی نے خاص طور پر سب آپ کے لیے بنایا ہے ۔۔

وہ مسکراتی اپنی پلیٹ پر جھک گئ ” اپنے سامنے بیٹھے زارون کی نظریں اُسے بری طرح ڈسٹرب کر رہی تھی ۔۔

زارون اُس کے بلکل سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا

آنکھوں میں تشنگی لیے دیکھ رہا تھا

اُسے اتنا خاموش دیکھ اُس کے دل کو برا لگا تھا وہ تو کبھی ایسی نہ تھی لیکن حماد شاہ نے پاک سے لوٹتے اُسے ساری حقیقت سے آگاہ کیا تھا ۔۔

وہ مصطفیٰ کمال کا افسوس کرنا چاہتا تھا لیکن ہمت نہیں ہو پا رہی تھی اُس سے بات کرنے کی

کھانے کے بعد وہ تھکن کے باعث جلد ہی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

____________

اُسکی آنکھ مصطفیٰ کے رونے سے کھلی ” اُسے بلکل بھی خیال نہ رہا کہ معصوم بچہ بوکھا ہی سو چکا تھا ۔۔

جلدی سے اٹھ کر اسے ساتھ لگا کر خاموش کروایا “…

اُسے ایک بازو میں لیے وہ اپنے ہینڈ بیگ سے اُسکا فیڈر نکالتے باہر کی جانب بھری۔۔

کیچن کی لائٹ آن کرتے اُس نے مائکرو میں پانی گرم ہونے کے لیے رکھا “…

اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس کرکے وہ پلٹی “..

اپنے پیچھے زارون کو کھڑا دیکھ وہ پل میں گھبرای”

نیند میں ڈوبی آنکھیں وہ بمشکل کھولتی اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔

زارون شاہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی”..

اُس کے سر پر موجود ٹوپی دیکھتے وہ سمجھ گئ تھی کہ وہ نماز ادا کرکے آ رہا ہے۔۔

خیریت ” اُس کی طبیعت ٹھیک تو ہے وہ اُس کی سرخ آنکھوں سے نظریں چراتا ہوا دریافت کرنے لگا۔۔

جی وہ دودھ گرم کرنے آئی تھی میں ” مزنہ پلکیں جھپکتے اٹکتی ہوئی بولی ۔۔

لائیں اسے مجھے دیں آپ آرام سے اپنا کام کر لیں۔

اُس سے مصطفیٰ کو لیتا وہ لاؤنج میں چلا گیا

مزنہ نے اسے جاتے دیکھ جلدی سے اُسکا فیڈر تیار کیا اور لیتی کیچن سے نکل گئی ۔۔

وہ کاوچ پر بیٹھا اُسے گود میں لیے باتیں کر رہا تھا “

کیسے ہو چیمپ”..آپ تو بلکل اپنی مما جیسے ہو ۔۔

اُسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ مصطفیٰ سے باتیں کر رہا تھا

مزنہ نے نم ہوتی آنکھوں سے اس خوبصورت منظر کو دیکھا”۔ منظر بہت حسین تھا لیکن یہاں بیٹھا ہوا بندہ کوئی اور ہونا چاہئے تھا جسے پرواہ تک نہ تھی ،،

تلحی سے اپنے آنسو صاف کرتی وہ اُس کے قریب جا کر کھڑی ہوئی۔۔

اُسے قریب کھڑا دیکھ زارون نے اُسکی نظرو کا مفہوم سمجھتے پوچھا “

آپ نے نماز ادا کر لی”..مزنہ نے اُسکے سوال سے سراسیمگی سے نفی میں گردن ہلای۔۔

اُس کے ہاتھ سے فیڈر لے لیا” یہ میں اسے پلا دیتا ہوں آپ نماز ادا کر لیں تب تک ہم تھوڑی باتیں بھی کر لیں گے ہے نہ چیمپ”..

مصطفیٰ کی جانب دیکھتے اُس نے اپنے بھاری گھمبیر لہجے میں کہا تو وہ کھلکھلا اٹھا ۔۔

اب اُسے کیا بتاتی کہ نماز چکھے اُسے کتنا عرصہ بیت گیا ہے

مزنہ تذبز کا شکار ہوتی اپنے کمرے کی جانب چلے گئی۔۔

کمرے میں آتے ہی وہ وضو کی نیت سے واشروم میں چلی گئیں ۔۔

جائے نماز بچھاتے اُس کے دل کی کیفیت عجیب ہو رہی تھی” نماز ادا کرتے اُس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے..

آنسو بل بل اشکو سے روا ہوئے تھے وہ ایک شخص کی چاہ میں کتنی دور نکل گئی تھی کہ اپنے رب کو بھول گئی ۔۔

بے آواز کتنی ہی دیر وہ ہاتھ پھیلائے سسکتی رہی ،،وہ پشیمان تھی اپنے رب سے دوری پڑ ” ۔۔۔رو رہی تھی گر گرا رہی تھی معافی طلب کر رہی تھی ۔۔

اور وہ رب تو رحیم ہے جب بندہ اُسے ایک بار پکارتا ہے تو وہ دس بار فرماتا ہے جی میرے بندے”.۔۔

قرآن کریم میں اللہ نے اُن کے پکارنے کا انداز بیان کیا ہے۔۔

سورت مریم ( آیت نمبر ۲..۳)

چپکے سے پکارنا ” ساری دنیا سے چھپ کر دل میں پکارنا

اللہ تعالیٰ وہ واحد ذات ہے جیسے ہم دل میں پکاریں تو وہ سنتا ہے ۔۔

حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب کو رات کے پہر چھپ کر پکارا تھا اور اللہ کو اُنکا یہ انداز بہت پسند آیا تھا ۔۔

اے رب اے میرے رب ” اُنہو نے اپنی کمزور خالت بیان کی تھی اور اللہ کو اُنکا یہ انداز بہت پسند آیا تھا ۔۔

وہ بھی پُکارا رہی تھی اپنے رب کو رو رہی تھی سجدے میں “..

کسی کی آہٹ محسوس کرکے وہ جلدی سے اٹھی تھی ” زارون دروازے کے قریب کھڑا اُسکی اجازت کا طلبگار تھا

اُسے کمرے سے باہر کھڑا دیکھ مزنہ نے اپنی نم سرخ آنکھوں سے اُسے اندر آنے کی اجازت دی۔۔

کمرے میں داخل ہوتے زارون نے ایک نظر سوئے ہوے مصطفیٰ پر ڈالی اور آگے بڑھتے اُسے بیڈ پر لٹا دیا ۔۔

مزنہ کا سرخ چہرہ اُسکے رونے کی چغلی دے رہا تھا

وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گیا “… پیچھے مزنہ اُس مسیحا کو تکتے رہ گئی جس نے اُسے اُس رب کے قریب کیا تھا ۔۔

ہے محبت حیات کی لذت

ورنہ کچھ لذت حیات نہیں۔۔۔

کیا اجازت ہو ایک بات کہوں “

وہ ،،مگر ” خیر کوئی بات نہیں ۔

(جون ایلیا)

___________

حمنہ بیگم فون سنتی لال بھبھوکا چہرہ لیے نور العین کے کمرے کی جانب بڑھی”

نور العین ماں کا سرخ چہرہ دیکھ کر متفکر سی ان سے استفسار کرنے لگی”

کیا ہوا امی آپکا چہرہ کیوں اتنا سرخ پر رہا ہے۔۔

وہ شہری لڑکی بچ گئ ہے جانے کہا چھپ گئ ہے ۔۔جسے میں نے اُس کے قتل کا حکم دیا تھا اُسکا فون آیا تھا کہ وہ اُس کے گھر کے باہر کھڑا انتظار کرتا رہ گیا لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا ۔۔

پوچھنے پر علم ہوا کہ وہ کہی جا چکے ہیں ” اب وہ لڑکی جانے کیا سوچے بیٹھی ہوئی ہے جو غائب ہو گئے ۔۔

وہ پریشانی سے چکر لگاتے سوچنے لگی۔۔

اوہو امی چھوڑیں اُسے ” کیا پتہ ڈر کر بھاگ گئ ہو فکر تو آبان کی کریں اُسے حویلی لانے کا سوچیں ۔۔

ہمم کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو “…