Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 13)

Robroye Yaar By Yumna Writes

حویلی جانے سے پہلے وہ آفیس گیا تھا ،،بے شک اُسکا دوست سب کچھ سمبھال رہا تھا لیکن پھر بھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جائے

اسلیے وہ خود ایک دو میٹنگ اٹینڈ کرنے گیا تھا ۔۔

ہارون اُسکا بچپن کا جگری دوست تھا ۔۔۔

اُس پر اُسے مکمل طور پر اعتماد تھا اور وہ اُس کے گھر کے تمام خالت سے بھی واقف تھا

وہ آفیس روم میں داخل ہوا تو آبان کو آنکھیں موندے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے دیکھا

اُسکے قریب آتے شانے پر ہاتھ رکھتے اُس نے اُسکی پریشان صورت دیکھ کر کہا

کیا ہو گیا ہے یار کیوں اتنا پریشان ہے؟؟….

آبان اُسکی بات سنتا آنکھیں کھولتا استہزایہ مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا

یہ پریشانی تو اب عمر بھر کی ہے میرے یار!!

تیرا دوست ایک گہری کھائی میں گر چکا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں۔۔

یار ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ہارون اُسے تسلی دیتا بولا ۔۔

کچھ ٹھیک نہیں ہو گا اُسے جب پتہ چلے گا سب کچھ تو چھوڑ دے گی مجھے وہ متفکر سا سر ہاتھوں میں گرائے بولا ۔۔

یار یہ تو تجھے پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔۔تو نے بہت جلدی کردی ۔۔

کچھ وقت رک جاتا ابھی دیر ہی کتنی ہوئی تھی آہل کو گئے ہوے جو تیرے گھر والوں کو اتنی جلدی پر گئی۔۔۔

گھر کی بچی تھی کچھ عرصہ تو انتظار کرتے۔۔

کوئی اچھا انسان ڈھونڈھ کے ہم اُسکا نکاح کروا دیتے۔۔

لیکن انہوں نے تجھے ہی پھسایا اس سب میں۔۔

جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ تیرے گھر والوں نے جان بوجھ کر یہ نکاح کروایا ہے۔۔

کیوں کہ والد تو تیرے تیری وجہ سے خاموش تھے تمہاری خاندان سے باہر شادی کے لیے

اور اب تو اُنہیں ایک اچھی سولڈ ریزن مل گئی۔۔

اور تو بھی خاموش تماشائی بنا سب دیکھتا اور کرتا رہا

ہارون تمام خالت سے واقف تھا اسی لیے بات کی تہہ تک پہنچتا اُسے جو ٹھیک لگا اُس نے اُسے بتا دیا ۔۔

آبان اُسکی بات سنتا ٹھٹھکتا اُسکی جانب دیکھتا بولا

میں نے جلدی کی ،،میں کیوں خاموش نہ ہوتا جب میرے باپ نے میرے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔

اُمید کے لیے دادی کی جانب دیکھا تو اُس نے بھی میرے آگے ہاتھ باند دیے ۔۔

تو ہی بتا اپنے بڑوں کو اپنے سامنے جھکتا کیسے دیکھتا ۔

اب پھر تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے مزنہ بابھی کو اعتماد میں لے کر اُنھیں ساری بات بتا دو انشا اللہ وہ سمجھے گی تیری مجبوری ” ورنہ مجھے بتای میں عافیہ (ہارون کی بیوی) کو بھی ساتھ لے اؤنگا” وہ بھی بھابھی سے بات کر لے گی ۔۔

آبان سر کو جنبش دیتا خاموش ہو گیا ۔۔۔

اُسے لگا تھا خالت تھوڑے بہتر ہونگے تو وہ مزنہ کو حقیقت بتا دے گا لیکن ٹھیک ہونے کی بجائے سب کچھ خراب ہو رہا تھا۔۔

اور وہ خود کو اس دلدل میں مزید پھستا محسوس کر رہا تھا۔

میٹنگ اٹینڈ کرکے شام کو حویلی کے لیے نکل گیا ۔۔

تھکا ہارا سا جب وہ ملازم کو گاڑی کی چابیاں دے کر حویلی کی راہداری عبور کرتے جیسے ہی اُس نے طویل لاؤنج میں قدم رکھا تو فجر بھاگتے ہوے اُسکی ٹانگوں سے لپٹ گئی

اُسنے محبت سے اُسے اٹھاتے اُسکے نرم و ملائم گالوں پر پیار کیا ۔۔

اُسے اٹھاے وہ سیدھا بی جان کے کمرے میں اجازت لیتا داخل ہوا

سلام کرتا وہ اُن کے آگے سر جھکاتے پیار لے کر اُنکے قریب بیٹھ گیا۔۔

بی جان اُس کی آمد سے بے خبر تھی اسی لیے اُسے خیرت سے دیکھنے لگی

میرا پُتر،،میرا بچہ کب آیا ہے ۔۔۔

میں صدقے جاوں میرے بچے کہ شہر جا کر تو بھول ہی جاتا ہے ہمیں آنکھوں میں نمی لیے اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتی وہ آخر میں تھوڑی سے خفا ہو گئی۔۔

آبان مسکراتا اُنھیں محبت سے دیکھتا گویا ہوا ۔۔۔

یار کیا کرتی ہیں آپ” آپ لوگو کے لیے ہی تو آیا ہوں ورنہ آپ جانتی ہیں میرا کام بھی ضروری ہے اور اب مزنہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں اتنی ”’

میرا پُتر میں جانتی ہوں ،، تو جا جا کر اپنی ماں سے مل وہ تجھ سے بہت اُداس ہو گئی تھی ۔۔تیرے من پسند کھانے بنا رہی ہے۔۔۔

وہ مسکراتا سر ہلاتا اٹھتا کمرے سے نکل گیا ۔۔

وہ باورچی خانے میں داخل ہوتا پیچھے سے مریم بیگم کے گرد حصار بناتا لاڈ سے بولا

کیا بنا رہی ہیں اما سائیں ؟…..

لگتا علم ہو گیا تھا میرے آنے کہ جو میرے لیے خاص کچھ بنایا جا رہا ہے ۔۔

وہ مسکراتا اُنکے ماتھے پر لب رکھتا بولا

مریم بیگم بیٹے کو دیکھ کر خفا ہوتی گویا ہوئی

پڑے ہٹ… تُجھے کیا لگے ہم سے ” تو بس اپنی بیوی کے پاس رہ ،،، اسکو تیری زیادہ ضرورت ہے ۔۔

ہماری فکر چھوڑ دے ۔۔۔

ایک بیٹا تو ویسے چلا گیا ہے اور دوسرا جو ہے اُس کے پاس ہمارے لیے وقت ہی نہیں۔

اماں یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ”’

حق ہے آپکا مجھ پر ۔۔۔لیکن آپ جانتی ہیں مزنہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی میں کیسے آ جاتا ۔۔

پہلے ہی میں اُس سے نظریں چراتا پھر رہا ہو اور اب اُسے اس خالت میں اکیلا چھوڑ کیسے آ جاتا ۔۔

وہ متانت بھرے لہجے میں اُنھیں دیکھتا بولا۔۔

آبان مجھے سمجھ نہیں آتی تمہاری،،

تم نے کیوں اس نکاح کو خوا بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔

بتا بھی دو اُسے تو اس میں کوئی برائی نہیں ۔۔

آجکل ساری دنیا چھپ چھپا کے دو دو بیاں رچا کر بیٹھے ہوتے ہیں ۔۔۔

اور ایک تم پریشان پھر رہے ہو۔۔

نکاح میں کوئی برائی نہیں جو تم اُس سے چھپا رہے ہو ۔۔

آجکل جوان لڑکے ایک دو سال بعد اگر کسی پر دل آن گیا تو نکاح کر لیتے ہیں اور اپنی بیوی کو بھی بتا دیتے ہیں۔۔

تاکے رہنا چاہے تو ٹھیک ورنہ علیحدگی اختیار کر لے

ابھی تو یہ واقعہ ہمارے گاؤں میں ہوا ہے ۔۔۔

لڑکا شادی کے بعد باہر ملک کمانے کے لیے گیا تھا اور دل آن گیا کسی انگریزن پر۔۔

یہاں پر بھی دو بچے تھے ۔۔وہاں بھی اُس سے نکاح کرکے اسے یہان لے آیا ۔۔۔

اور اگر میزنہ کو پتہ چل بھی گیا اور اگر اُسے کوئی مسئلہ ہوا تو کوئی بات نہیں ۔۔۔

تم اُسے چھوڑ دینا ۔۔

ویسے بھی اب تمہاری خاندانی بیوی نور العین ہے۔۔

وہ بڑے آرام سے اُسے کہتی ساتھ میں کچھ بنا رہیں تھی

اور آبان اُنکی بات سنتا پھٹی آنکھوں سے اُن کو دیکھ رہا تھا ۔۔

اماں سائیں آج یہ بات کر دی ہے ،،،لیکن دوبارہ مت کریے گا ۔۔۔

وہ ترپ ہی تو گیا تھا اُنکی بات سن کر۔۔۔

آپ حق رکھتی ہیں مجھ پر ” مجھے جو مرضی کہیں لیکن اپنی بیوی کے خلاف میں ایک لفظ نہیں سنو گا ۔۔

مریم بیگم اُس سے ہاتھ چھرواتی دوسری جانب سے چیزیں اٹھاتے ہوے غصے سے سرخ ہوتی سرد لہجے میں پھنکاری۔

مجھے تو سمجھ نہیں آتا ہے کیا اُس لڑکی میں جو تم پاگل ہوے پھر رہے ہو ۔۔

ٹھیک ہے خوبصورت ہے تو اس میں کونسی بات ہے ۔۔دنیا میں بہت خوبصورت لڑکیاں ہیں ۔۔

اپنی نور العین کسی سے کم ہے ۔۔

اور ویسے بھی ایک اولاد تو دے نہ سکی تجھے۔۔

تین سال ہو گئے شادی کو اور اب آ کر خوشی نصیب ہوئی

تو نے اُسے کبھی کچھ نہیں کہا اس معاملے میں تو اُسکا بھی کوئی حق نہیں بنتا تجھے کچھ بولنے کا ۔

باقی اگر وہ علیحدگی کا سوچے تو اُسے روکنا نہیں چاہیے ۔۔

اور تم بہتر جانتے ہو کہ تمہارے بابا سائیں اس شادی پر راضی نہیں تھے لیکن تمہاری شادی نہ کرنے کی ضد کے پیچھے وہ خاموش ہو گئے۔

ورنہ ہمارے خاندان میں آج تک ذات سے باہر لڑکی نہیں آئی۔۔

اور اب نور جو ہے تمہاری خاندانی بیوی تمہیں اُسکی فکر کرنے کی کیا ضرورت ۔۔

بتا اُسے خود کہ تو نکاح کر چکا ہے ورنہ میں بتا دیتی ہوں ۔۔مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔

آبان اُنکی باتیں سنتا خود پر ضبط رکھتا خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا ۔۔

اُنہیں خاموش ہوتا دیکھ وہ مسکراتا اُن کی جانب دیکھتا بولا ۔۔

شاید آپ جانتی نہیں کہ وہ لڑکی میرے لیے کیا ہے ۔۔

میرے جینے کی وجہ ہے وہ لڑکی” میری جان بستی ہے اُس لڑکی میں ۔۔اُسکے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا میں اسی لیے تو ڈرتا ہوں اُسے سچ بتانے سے۔۔

کیوں کہ میری بیوی ہی وہ واحد لڑکی ہے جس نے مجھے خوش رہنا سکھایا ۔۔جس نے مجھے محبت کرنا سکھایا

اور آپ جیسے عام سی لڑکی کہہ رہی ہیں تو میں بتا دوں آپ کو

وہ عام سی لڑکی ٹاپ کے بزنس مین کی اکلوتی صاحبزای ہے۔۔

اور وہ عام سی لڑکی کوئی گھریلو عورت نہیں بلکہ ایک ایمپائر چلاتی تھی۔۔

ٹاپ بزنس لیڈیز میں اُسکا شمار ہوتا ہے ۔۔

اور آپ کہتی ہیں اُس نے کیا کیا آپ کے لیے ۔۔

آپ شاید بھول گئی ہیں اپنی خالت کا خیال کیے بغیر وہ لڑکی دو ماہ آپ لوگو کے ساتھ خوار ہوتی رہی ۔۔

میرے لاکھ کہنے کہ باوجود وہ میرے ساتھ واپس نہی گئی ۔۔

صرف اور صرف آپ لوگو کی اور میری محبت میں وہ اتنے سال بعد ملنے والی خوشی کو بھلا کر آپ لوگو کے غم میں شریک ہوئی۔

اور اولاد کا طعنہ تو آپ اُسے مار ہی نہیں سکتی کیوں کہ آپ بہتر جانتی ہیں کہ اولاد مرد کے نصیب میں ہوتی ہے اور دولت عورت کہ۔

اُسکے نصیب کا اُسے خوب ملا اور الحمدللہ اب اللہ پاک ہمیں اولاد سے بھی نواز رہے ہیں۔۔

اور صرف اور صرف میری بیوی کی نیک نیتی کی وجہ سے ۔۔

اُس نے آج تک آپ لوگو کا برا نہیں سوچا اور آپ ،، آپ کیا کہہ رہی ہیں اُسے۔۔

آج مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے کہ کاش میں آپ لوگو کی بات نہ مانتا

وہ سرد اسپاٹ لہجے میں کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی جانب چلے گیا ۔۔

اُسکا سر اس وقت شدید درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔مریم بیگم کی باتیں اُسکا خون کھولا رہی تھی ۔۔

وہ نائٹ ڈریس نکلتا واشروم میں چلے گیا شدید سردی میں وہ شاور آن کرتا ٹھنڈے پانی کے نیچے کافی دیر تک کھڑا رہا ۔۔

فریش ہو کر جب وہ باہر کمرے میں آیا تو نور العین کھڑی اُسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔

آبان نے اپنی سرخ سرد آنکھوں سے اُسکی جانب دیکھا تو نور العین جو اُسکا انتظار کر رہی تھی

اُسکی سرخ آنکھوں اور سرد تاثرات کو دیکھ کر ڈرتی اسلام کرتی آہستہ آواز میں بولی

وہ،،وہ نیچے سب آپکا کھانے پر انتظار کر رہے ہیں نظریں جھکائے وہ بہت دھیمے لہجے میں بولی جو آبان بہت مشکل سے سن پایا ۔۔۔

اپنے سر میں ٹاؤل رگڑتے اُس نے قدرے نرم لہجے میں کہا۔۔

میرا ابھی دل نہیں ہے ۔۔

نور اُسکی بات سنتی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔

آبان بیٹھتا اپنا موڈ بہتر کرنے کے لیے مزنہ سے بات کرنے لگا ۔۔

کچھ دیر بعد مزنہ سے بات کر کے وہ فارغ ہوا تو حسن صاحب اُسکے کمرے میں داخل ہوے۔۔

کیا بات ہے میرا پُتر؟….

کی گل اے۔۔۔

اماں سائیں سے ناراضگی میں کھانا بھی نہیں کھایا وہ اُسے سینے سے لگاتے محبت سے گویا ہوے۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس میرا دل نہیں تھا ابھی۔۔

میں جانتا ہوں پتر” تجھے اپنی اما کی بات بری لگی ہے

بتایا ہے اُس نے مجھ۔۔۔

وہ تو بس غصے میں ایسا بول گئی لیکن اُسکا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔

تو درگذر کر دے۔۔۔

وہ بس یہی چاہتی ہے کہ تو مزنہ کے ساتھ ساتھ اب نور کا بھی خیال رکھ اب وہ بھی تو تیری زمیداری ہے۔۔

دونو کو برابر کے حقوق دے۔۔۔

کر میرا پُتر تو جانتا ہے یہ تو خدا کا بھی حکم ہے کہ دونوں بیویوں کو برابر کے حقوق دیے جائیں ۔۔

اُن کے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہی گئی بات کی اُسے سمجھ آ گئی تھی لیکن خاموش رہا

اگر تو مزنہ کے ساتھ شہر میں وقت گزارتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔۔

لیکن تو نور کو بھی وقت دے۔۔

اُس کے ساتھ وقت گزار تاکہ وہ تیرے قریب ہو ۔۔

اُسے اپنے رشتے کا احساس دلا۔۔

بس یہی تیری اماں چاہتی ہے اور ہم سب بھی کہ تو نور اور فجر کا خیال رکھ ۔۔

انکو بھی وقت دے ۔۔اُنہیں۔ باہر لے جا ۔۔۔

شہر گھوما پھیرا لا ” فجر تو ویسے بھی آجکل اپنے باپ کو بہت یاد کرتی ہے۔۔

تیرے بھای کی اولاد ہے اُسکی نشانی” ۔۔ہم نہیں چاہتے وہ ہم سے بھی دور جائے ۔۔۔

اسی لیے تو یہ نکاح کروایا تھا ۔۔

مجھے یقین ہے تو میری بات سمجھ گیا ہو گا اور اپنی اما کو معاف کر دے ۔۔۔

غصے میں اول فول بول دیا اُس نے اور تو بھی ناراض ہو کہ بیٹھ گیا ۔۔

آبان سر ہلاتا اُنہیں دیکھتا گویا ہوا ۔۔

بابا آپ لوگو کہ کہنے پر میں نے نکاح کر لیا ہے اس سے بھر کر اور کیا کر سکتا ہوں میں۔۔۔

آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ میری بھی زندگی ہے جس میں میں اپنی بیوی کہ ساتھ بہت خوش ہوں ۔

لیکن آپ لوگو کی ضد کی وجہ سے سب میرے ہاتھوں سے چھوٹ رہا ہے ۔۔مجھے ہر وقت یہی دھرکا لگا رہتا ہے کہ اُسے سچ پتہ نا لگ جائے ۔۔

اور آپ لوگ اس بات کو سمجھ ہی نہیں رہے۔۔

وہ شکست خوردہ لہجے میں کہتا اُنکی جانب دیکھنے لگا ۔۔

انشا اللہ بہتر ہوگا تو فکر نہ کر۔۔۔

اب سو جا صبح صبح زمینوں پر جانا ہے میرے ساتھ کچھ ضروری کام کے سلسلے میں ۔۔

حسن چوھدری بیٹے کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھرتے اٹھ کر چلے گئے۔

آبان لائٹ آف کرتا خاموشی سے لیٹ گیا ۔۔