Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 21)

Robroye Yaar By Yumna Writes

جس وقت وہ حویلی پہنچا ساری حویلی اندھیرے میں ڈوبی پری تھی ۔۔۔۔وہ طویل لاؤنج عبور کرتا اوپر سیرھریوں کے اطراف میں جانے لگا ۔۔۔

اُسکا رح اپنے کمرے کی جانب تھا ۔۔۔وہ خاموشی سے قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب گیا ۔۔۔

وہ بغیر کسی کو بتاے اچانک آیا تھا ۔۔۔اس وقت وہ کسی کو تنگ نہی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

اچانک اُسکا دل نور العین کی جانب سے پریشانی ہوا تھا ۔۔۔ایک مہینے بعد وہ حویلی آیا تھا ۔۔۔

بات تو وہ روز ہی سب سے کرتا تھا لیکن واپس چکر نہی لگا سکا ۔۔۔وجہ مزنہ کی طبیعت تھی ۔۔۔

فون پر وہ سبکو اپنے نہ آنے کی وجہ بتا چکا تھا ۔۔

فجر کو سرپرایز دینے کا سوچتا وہ آہستگی سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا،،

کمرہ مکلمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔واشروم کا دروازہ نیم واہ تھا ۔۔

واشروم سے آنے والی روشنی کمرے کا منظر واضح کر رہی تھی ۔۔بیڈ پر سوی فجر کے قریب جاتے اُس نے اُسکے ماتھے پر لب رکھے اور بیٹھ کے نور کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔

پانچ منٹ گزر گئے لکین وہ جب نہ آئی تو اُسے فکر لاحق ہونے لگی ۔۔

وہ اٹھتا واشروم کے باہر کھڑا ہوا اور اُسے پُکارا لیکن اُسکی آواز نہ آئی وہ دروازے کو کھولتا اندر داخل ہوا

نور العین بیسن پر جھکی مسلسل قہہ کر رہی تھی ۔۔۔وہ تیزی سے آگے بڑھتا اُسکی بیک رب کرنے لگا ۔۔

نور العین آپ ٹھیک تو ہیں ؟؟…کیا ہوا ہے طبیعت کو ۔۔

اُسکی سپید پڑتی رنگت اور نڈھال وجود کو دیکھ کر

آبان بیچین سا اُس سے استفسار کرنے کہا ۔۔

نور العین آبان کو پیچھے دیکھتی اپني چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی بمشکل اُس کے کندھے پر سر رکھ کر کھڑی تھی

آبان نے اُسکی کمر میں بازو حمایل کرتے اُسے سہارا دیا اور باہر بیڈ پر لا کر بٹھایا ۔۔۔

اتنی طبیعت خراب تھی تو بتایا کیوں نہیں مجھے اس نے متفکر ہوتے اُسکے زرد چہرے کو دیکھتے کہا

نور العین جو خود پر اتنے دنوں سے ضبط کیے بیٹھی تھی اسکی آواز سنتے اپنے سامنے دیکھ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔

آبان اُسے اتنی شدت سے روتا دیکھ بوکھلا گیا وہ پریشان ہوتا اسکے قریب بیٹھ کر اُسے خاموش کروانے لگا

نور کیا ہوا ہے کچھ بتائیں تو سہی۔۔۔کیوں رو رہی ہیں زیادہ طبیعت خراب ہے۔۔۔ڈاکٹر پر چلتے ہیں

اُسے روتا دیکھ صحیح معنوں میں اُس کے اوسان خطا ہوئے تھے۔۔

سب غلط ہو گیا سب غلط آبان “۔۔۔وہ سرخ پرتے چہرے سے روتی ہوئی کانپتی آواز میں بولی ۔۔

کیا ہوا ہے نور”؟؟؟

کیا غلط ہو گیا کچھ بتاو تو سہی!!!

آبان دھڑکتے دل کے ساتھ اُسکی پیٹھ رب کرتا بولا

آ آبان میں” ۔۔۔میں ” پریگننٹ “۔۔اسکے آگے سے اُس سے کچھ بولا ہی نہی گیا ۔۔وہ روتی ہوئی لرزتے کانپتے وجود سے اٹک اٹک کے بولتی چہرے کو پھر سے ہاتھوں میں چھپاتی رونے لگی ۔۔۔

آبان اُسکی بات سنتا ساکت سا ہو گیا ۔۔اُسکی بات کا مطلب سمجھتا وہ اُسکی لرزتے وجود کو دیکھ رہا تھا ۔۔

اُسکا اپنا دل اس انکشاف پر دھک آیا رہ گیا اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا کہے”

وہ خوش ہو یاں پریشان۔۔۔۔۔

اس نے ایسا تو بلکل نہ سوچا تھا ۔۔۔

نور العین کے کانپتے وجود کو وہ ساکت و جامد دیکھ رہا تھا۔۔

ایک طرف خوشی بھی تھی لیکن دوسری جانب مزنہ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے جھلملایا

اُسکی سوچ آتے دل گھبرا گیا۔۔۔وہ جتنا سب سے بچنا چاہتا تھا اتنا اُلجھتا جا رہا تھا ۔۔

ایک جھوٹ کی وجہ سے سب برباد ہو رہا تھا

وہ تو پہلے اُسے سچ نہی بتا پایا تھا اور اب اس انکشاف نے تو اُسے دہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔

اُسے لگا شاید اُسکے کانو نے کچھ غلط سن لیا ۔۔۔

سب غلط ہو گیا اب اگر مزنہ آپی کو پتہ چل گیا پھر کیا ہوگا ۔۔۔

سب خراب ہو جائے گا۔۔۔چہرے پر خوف لیے وہ اُسے لرزتی روتی ہوئی بولی ۔۔۔

سب آپکی وجہ سے ہوا ہے ۔۔اُسکو خود سے دور دھکیلتی وہ غم و غصے سے سرخ پڑتی چیخی

آبان اُسے خود سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا روتی ہوے دیکھ رہا تھا۔۔۔اُسکی بات سنتا اُسکے چہرے پر ایک شریر مسکراہٹ آئی جیسے اُسے فوراً چھپا لیا ۔۔

اُسے خود کے قریب کرتا اپنے ساتھ لگاتا اُسکا ڈر سمجھتا ہوا بولا۔ ۔۔

میری جان کچھ غلط نہی ہوا ،،سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔

اس میں پریشان ہونے والی اور رونے والی کوئی بات نہیں ۔۔

آله پاک نے اتنی بڑی خوشی دی ہے اس طرح رو کر اُسکی نا شکری مت کرو “

خود پر قابو پاتا اس وقت وہ اُسے سمجھا رہا تھا ۔۔۔

جو بہت زیادہ خوفزده اور سہمی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔

لللکیں مم”۔ ۔ میں ایسا نہی چاہتی ۔۔۔یہ ٹھیک نہیں ہے وہ ۔۔۔

کیا غلط ہے اس میں ۔۔۔اللہ پاک ہمیں اولاد کی نعمت سے نوازا رہا ہے اور تم ناشکری کر رہی ہو ۔۔۔آبان گہرا سانس لیتا ہوے اُسکے بیگھے چہرے کی جانب دیکھ کر بولا۔۔

کسی چیز کی بھی پریشا نی لینے کی ضروت نہی ۔۔۔مزنہ کو کچھ پتہ نہیں چلے گس ۔۔سمجھ رہی ہو نہ تم۔۔اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتا وہ گویا ہوا

کوی بھی نہی ہے جو اُسے بتایۓ گا ۔۔میں خود وقت دیکھ کر اس سے بات کرونگا ۔۔

ابھی فلحال خالات تھوڑے بہتر ہو لینے دو۔۔۔وہ اُسکی حالت کے پیشے نظر اسکو سینے سے لگاتا بولا ۔۔

لیکن اگر اُنھیں پتہ چل گیا تو وہ اُسکے سینے کے ساتھ۔ لگی سوں سوں کرتی بولی ۔۔۔۔

اس وقت اُسے اس خوشی سے کوئی سروکار نہیں تھا اُسکا دل دماغ میں بس یہی جنگ چل رہی تھی کہ وہ مزنہ کے حق پر ڈاکا ڈال بیٹھی ہے۔

اُسے اپنا آپ اس وقت مجرم سے لگ رہا تھا

یہی خوف اُسے اتنے دن سے ستائے جا رہا تھا

اُنھیں نہیں پتہ چلے گا نا؟…

وہ ایک آس لیے اُسے دیکھتی بولی”

جی “..اُنکا حویلی اور یہاں کے کسی بندے سے کوئی رابطہ نہیں۔۔۔۔اور جب تک اُنکی ڈیلیوری نہی ہی جاتی میں اُنھیں بلکل حویلی نہی لاؤنگا ۔۔

ایک بار سب اچھے سے ہو جائے ۔۔۔وہ فارغ ہو جائیں تو میں اُن کو تمام سچائی بتا دونگا

آبان اُسے ریلیکس کرتا اُسکی پیشانی پر لب رکھتا نرم لہجے میں کہتا اُسکے بالوں میں نرمی سے اُنگلیاں پھیرنے لگا

وہ خود بھی تو تھک گیا تھا اس تمام صورتِ حال سے ۔

۔اُسکو ساتھ لگائے وہ بیڈ کی ایک جانب لیٹ گیا

نور بھی تھوڑا پرسکون ہوتی اُسکی انگلیوں کی اپنے بالوں میں سرایت محسوس کرتی آنکھیں موند گئی

اُسکی بھاری ہوتی سانسوں کی آواز سنتا آبان

اسکا سر اپنے سینے پر رکھتا اُسے خود میں بینچ کر آنکھیں موند گیا ۔۔

صبح و اُسے ڈاکٹر پر کے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔

____________________Y* W

صبح آبان کی آنکھ کھڑکیوں سے آتی ہوئی سورج کی روشنی سے کھلی ۔۔۔اُسنے اپنے قریب سوئے دونو وجود کو دیکھا تو ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ بکھر گئی

فجر کی ایک ٹانگ اُسکی بازو پر پڑی تھی اور

نور العین اُسکے سینے پر سر رکھ کر دنیا جہاں سے بے خبر نیند میں گم تھی ۔۔۔

آبان اُسکی کیفیت بخوبی سمجھ رہا تھا پہلے تو وہ کبھی اتنا وقت نہی سوئی ۔۔۔رات کو اُسکی طبیعت کے باعث وہ سو نا پائ تھی۔۔۔ ساری رات وہ وومٹ کرتی رہی ،،آبان بھی رات اُسکے ساتھ جاگتا رہا ۔۔۔

کچھ اُسکا ڈر خوف ،،اور اچانک ملنے والی اس خبر نے اُسے نڈھال کر دیا ۔۔

سانولی رنگت پر سایہ فگن گھنی ہم دار پلکیں ،،سیاہ آنکھو پر اس وقت اُن کا پہرا تھا ۔۔تیکھے نقوش اور لمبے گھنے بال جو اس وقت چوٹی سے نکل کر کچھ اُسکے چہرے پر بکھرے پڑے تھے ۔۔

بے ساختہ اُسکی نظر اُس پر ٹھہر سی گئی ۔۔۔

اُسے اس معصوم پر ت آنے لگا جو جانے کتنے دن سے پریشان ،،اور خوف میں مبتلا رہی تھی ،، ساری رات

وہ خود بھی سکون میں نہ رہا تھا خود کو عجیب کیفیت میں گھیرا ہوا محسوس کے رہا تھا ۔۔۔

بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ اٹھ کر فریش ہونے واشروم میں چلے گیا ۔۔۔

باہر آیا تو فجر بیٹھی آنکھیں مل رہی تھی ۔۔۔میرا بچہ اٹھ گیا وہ سرگوشی میں بولتا اُسے اٹھاتا اُسکے سرخ گالوں پر محبت سے لب رکھتا اُسے لیے خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

اسلام علیکم نیچے لاؤنج میں قدم رکھتے اس نے سب کو سلام کیا ۔۔ سب اُسکی آمد سے خیران ہو گئے۔۔

میرا بیٹا مریم بیگم اُسکے قریب آتی اُسکے ماتھے پر لب رکھتی بولی ۔۔

تم کب آے،،ہمیں تو نہی بتایا کسی نے ۔۔

وہ بی اما کے آگے سر جھکاتے اُن سے ملتا فجر کو گود میں لیے سب کے درمیان بیٹھ گیا

رات میں کافی دیر سے آیا تھا اسلیے نہی اٹھایا کسی کو

مزنہ کیسی تھی ،،طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اُسکی مریم بیگم مزنہ کی طبیعت پوچھنے لگی ۔۔

جی الحمدللہ بلکل تھیک ہے وہ سبكو بہت یاد کرتی ہے سلام دے رہی تھی

حمنہ بیگم نے مزنہ کے ذکر پر پہلو بدلہ جو بی جان کی زیرک نگاہوں سے محفی نہ رہ رہ سکا

بیٹا اتنی دیر سے کیوں آئی ،،تھوڑی جلدی آ جاتے حمنہ بیگم بات بدلنے کے لیے بولی

جی چچی جان مزنہ کو اُسکی والدہ کے ہاں چھوڑا ہے اور کچھ آفیس کے کام کی وجہ سے دیر ہو گئی

اچھا اچھا جیتے رہو میرا بچہ اُنہو نے محبت سے اسے دیکھتے کہا

نور کہا ہے” اتنا وقت ہو گیا ۔۔ ابھی تک نہیں آئی،، مریم بیگم آبان کو دیکھتی استفسار کرنے لگی

اُسکی طبیعت خراب تھی رات میں ،،اس وجہ سے ابھی میں نے اٹھایا نہی ،،

کیا ہوا ہے میری بچی کو حمنہ بیگم پریشانی سے استفسار کرنے لگی

پریشانی کی بات نہی چاچی ،،اب بہتر ہے وہ ۔۔جب اٹھے گی تو ہسپتال چیک اپ کی لیے لے جاؤنگا۔

بیٹا جانے کی کیا ضرورت ہے گھر پر ہی ڈاکٹر کو بلا لیتے ہیں

اکثر بی جان کی طبیعت کی وجہ سے ڈاکٹرنی کو بولتے ہیں ہم ۔۔مریم بیگم اُسے دیکھتی گویا ہوئی

پہلے پتہ ہوتا تو رات میں ہی بلا لیتے اُسے “

ہوا کیا ہے پُتر اُسے بی جان پریشانی سے بولی ۔۔

فجر کا بھائی آنے والا ہے وہ فجر کو پیار کرتا سادہ سے لہجے میں بولا۔ ۔

جبکہ سب اُسکی بات کا مفہوم سمجھتی خوشی سے سرشار ہو گئے ۔۔

ماشا اللہ بہت بہت مبارک ہو میرا پُتر ،،اللہ بہتری والے فیصلے کرے اور نیک اور صالح اولاد عطا کرے”

بی جان اُسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتی بولی ۔۔میریم بیگم بھی نم آنکھوں سے بیٹے کو دیکھتی مسکرا دی ۔۔

حمنہ بیگم مبارک دیتی بولی

میں ڈاکٹرنی کو فون کرتی ہوں وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔۔چہرہ خوشی سے دھمک رہا تھا

وہ اٹھ کر چلی گئی

ڈاکٹر کو فوراً حویلی آنے کا کہتی وہ نور کے کمرے کی جانب چلی گئی

نور العین دکھتے سر کے ساتھ اٹھ کر بیٹھی ،،کمرے میں بلکل خاموشی تھی سے کھڑکیوں سے پردے نہی ہٹائے ہوئے تھے

کل رات کا ایک ایک منظر اُسکی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا ،،اُسکا پیار سے سمجھآنا ،،اُسکی فکر کرنا ،،

فجر کا سوچتی وہ اپنے بکھرے بالوں کو جوڑے کو شکل میں قید کرتی اٹھنے لگی ۔۔

جیسے ہی وہ اٹھنے لگی حمنہ بیگم کمرے میں داخل ہوتی خوشی سے آگے بھرتی اُسکے ماتھے پر لب رکھتی سرشار سی اُسے مبارک دینے لگی

بہت بہت مبارک ہو میری بچی ،،میں تمہیں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں ،،اسے گلے لگاتی وہ مسرت سے بول رہی تھی ۔۔

خدا نے میری سن لی وہ اُس سے الگ ہوتی بولی ۔۔ اب تمہارے قدم اس گھر میں اور بھی مضبوط ہو گئے ہیں

میں بس یہی چاہتی تھی کہ تمہاری اولاد ہو جائے تاکہ آبان کی کمزوری تمہارے پاس موجود ہو ۔۔۔

کل کو اگر اُسکی بیوی کو حقیقت کا علم ہو تو کہی وہ اُسے تمہیں چھوڑنے کا بولے تو تم کہا جاتی ۔۔

اب تمہارے قدم اس حویلی میں جم گئے ہیں ،،تم اس حویلی کو جب وارث دو گی تو اس مزنہ کو آبان خود ہی طلاق دے دے گا

وہ سفاکیت سے اپنے آگے کا سارا منصوبہ بتا رہی تھی جسے سنتی نور بلکل حق دق سی رہ گی ۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی ،میں ایسا بلکل بھی نہی چاہتی ،،

میں کیوں کسی کے حق پر ڈھاکہ ڈالوں

مجھے جو مل گیا میں اتنے پر خوش ہوں ۔۔اور میں جانتی ہوں آبان مجھے کبھی نہی چھوڑے گے وہ اُنہیں دیکھتی ٹھنڈے لہجے میں بولی ۔۔

میری معصوم بچی تم نہی جانتی ان شہری لڑکیوں کو ۔۔انکو برے طریقے آتے ہیں مردوں کو لبھانے کہ ۔۔

جس طرح اس نے آبان سے شادی کرلی اُسی طرح اور باتیں بھی منوا سکتی ہے

تم بس دیکھتی جاؤ آگے !!! تمہاری ماں کرتی کیا ہے ۔۔آبان صرف تمہرا ہے ۔۔اب تم اپنا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ۔۔ پریشان نہی ہونا بلکل بھی ۔۔

اٹھ کر فریش ہو جاؤ ڈاکٹرنی کو حویلی بلایا ہے آتی ہوگی ۔۔پیچھے نور اُنکی باتوں کو سوچتی پریشان ہو گی

کچھ ہی دیر میں سب اُسکی کمرے میں موجود تھے ڈاکٹر اُسکا چیک اپ کرکے جا چکی تھی ،،اتنی بڑی خوشی کی خبر سن کر سب کے بہت خوش تھے ،،وہ سب کے درمیان خاموش سے سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی ،،آبان بلکل سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔۔

فجر ماں کو یوں خاموش دیکھ کر اُسکی گود میں بیٹھ کر اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر بولی ،،مما میرا بھائی آنے والا ہے ،،بابا جان نے کہا میرا بھائی آنے لگا۔

نور کا چہرہ اُسکی بات سن کر پل میں لہو چھلکا نے لگا ۔۔

مما بتاؤ نا نور کو خاموش پا کر وہ پھر سے بولی ۔۔

جی میری جان ” وہ جھکتی اُسے پیار کرتی دھیمے آواز میں بولی۔۔۔