Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 35)

Robroye Yaar By Yumna Writes

اپنی اجار زندگی کو سوچتے وہ روتے ہوئی فرش پر بیٹھی تھی

کیوں کیوں آبان آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا “

میری خوبصورت زندگی کے تمام رنگ نوچ ڈالے “وہ گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی

سنایا بیگم نے کمرے کا دروازہ کھولتے اُسے زمین پر بیٹھا دیکھا تو فوراً اُسکی جانب لپکی

کیا ہوا میرا بچہ کیوں خود کو رو رو کے ہلکان کر رہی ہو اُس کے قریب بیٹھ کے اُسکے آنسو پونچھتے پیار سے سمجھایا

موم اُس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ” اُسے ابھی بھی بس اپنی اولاد کی پری ہے اُسے میری کوئی پرواہ نہیں تب کہاں تھا وہ جب میں ہاسپٹل میں لا وارثوں کی طرح پڑی تھی اس وقت تو اُسے اپنے بچے کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور اب آ گیا

موم میں جانتی ہوں وہ لوگ صرف میرے بچے کو حویلی کے وارث ہونے اور مجھے اُس کی ماں کی حیثیت سے لے کے جانا چاہتے ہیں

اُسے ابھی بھی اپنے کیے پر کوئی پشیمانی نہیں “

وہ بے بس سی روتے ہوئے کہتی ماں کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔

موم وہ شخص اتنا خودغرض کیوں ہے اُس کا دل غم سے پھٹنے کو تھا ۔۔

سنایا بیگم اپنی نم ہوتی آنکھو سے بیٹی کی حالت پر غم زدہ سی ہوتی اُسے حوصلہ دینے لگی

میری جان تم ایسے ہمت ہار جاؤ گی تو میرا کیا ہو گا ” میں تو بلکل اکیلی پر جاؤنگی ۔۔

ایک بات یاد رکھو “

میری جان دُنیا کسی ایک شخص پر ختم نہیں ہوتی ” دنیا میں بہت سے سچی بے لوث محبت کرنے والے انسان بھی موجود ہیں

ہم کسی ایک کا غم لے کر ساری عمر نہیں بیٹھ سکتے ” خدا کا شکر ادا کرو جس نے تمہیں وقت رہتے ان کی اصلیت دیکھا دی ورنہ کل کو وہ ہمارے مصطفیٰ کو زبردستی چھین لیتے تو “

کیوں کہ حقیقت تو یہی ہے کہ آبان مصطفیٰ کا باپ ہے اور اگر وہ چاہے تو ابھی بھی مصطفیٰ کو حاصل کر سکتا ہے

تم جانتی ہو نہ ان چوہدریوں کو ” ان کے لیے کوئی کام مشکل نہی”

میں اپنے بچے کو کسی کو نہی دونگی ” ان سب سے بہت دور چلی جاؤں گی جہاں کوئی برا سایہ میرے بچے پر نہ پڑ سکے۔۔

جیسے تمہیں بہتر لگے میرا بیٹا!! لیکن فیصلہ سوچ سمجھ کر لینا ۔۔۔اور اتنا یاد رکھنا کہ آبان کا بھی مصطفیٰ پر حق ہے وہ اُسکا باپ ہے اس لیے اُسے ایک نظر اپنے بچے کو دیکھنے دو

لیکن موم وہ کیوں نہیں مزنہ اپنے کرلاتے دل سے چیخی

وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ملازمہ نے آ کر مصطفیٰ کے رونے کا بتایا جو اٹھ چکا تھا اور رو رہا تھا

مزنہ جلدی سے اٹھتی آنسو صاف کرتی باہر نکلی اور اُسکے پیچھے سنایا بیگم بھی

روتے ہوئے مصطفیٰ کو گود میں لیا اور سینے سے لگایا

ماں کی گود میں آتے ہی مصطفیٰ سکون میں آ گیا بچہ ماں کا لمس محسوس کرتے ہی خاموش ہو گیا اور اپنی خوراک لینے لگا

کچھ ہی دیر میں وہ پرسکون ہوتا ماں کے چہرے پر ہاتھ مارتا مسکرا رہا تھا ۔۔

مزنہ بھی سب کچھ بھولتے اُس کے ہاتھوں پر لب رکھتی مسکرا دی

ملازمہ جو قریب کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی دھیمے لہجے میں گویا ہوئی

بیبی جی ایک بات کہو آپ سے ؟؟…

ہاں بولو سکینہ مزنہ نے نرم لہجے میں اجازت دی.۔۔

میں کب سے چھوٹے شاہ جی کو خاموش کروانے کی کوشش کر رہی تھی اور دودھ کی بوتل بھی منھ سے لگائ لیکن یہ مزید رونے لگے اور مجھے آپکو بلانا پڑا ۔

آپ کی گود میں آتے ہی یہ بلکل خاموش ہو گئے ” مجھے یہ دوسرے بچوں سے کچھ مختلف لگتے ہیں ” مطلب کچھ خاص ۔۔

بچوں کو اپنی مان کی پہچان ہوتی ہے لیکن یہ تو ابھی بہت چھوٹے ہیں ۔۔

وہ عجیب کشمکش میں گھیری اپنی بات سمجھآنا چاہ رہی تھی ۔۔سنایا بیگم اُس کی بات کا مطلب سمجھتی ہلکا سا مسکرای ” بھئی خاص کیوں نہیں ہوگا شاہ خاندان کا سپوت ہے مصطفیٰ کو پیار کرتی وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوئی

اچھا جاو تم اب کھانا لگاو ” صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔۔

ویسے یہ بات میں نے بھی نوٹ کی ہے مزنہ یہ چھوٹا سا ہے اور تمہیں دیکھتے ہی خاموش ہو جاتا ہے ۔۔

مصطفیٰ کو گود میں لیتی سنایا بیگم اُسکی کانچ سی آنکھوں کو دیکھتی گویا ہوئی

اُسکی آنکھو میں ماں کو دیکھتے ایک عجیب سی چمک آ جاتی تھی جسے دیکھ سنایا بیگم بھی خیران رہ جاتی ۔۔دوسرے بچوں کی طرح وہ بلکل بھی روتا نا تھا

ہاں جب ماں کو قریب نہ دیکھتا تو شور مچاتا ،،اسی وجہ سے مزنہ بھی آفیس سے جلد آ جاتی ۔۔اُسے وہاں بھی سارا وقت اپنے چھوٹے شہزادے کی فکر ستائے رہتی

ڈاینگ پر بیٹھے مزنہ کو کسی سوچ میں ڈوبے دیکھ سنایا بیگم نے مخاطب کیا”

کیا بات ہے مزنہ کیا سوچ رہی ہو نرمی سے وہ گویا ہوئی

موم ہم کل ہی دوبئی کے لیے نکل جائے گے ۔۔

جو پیکنگ کرنی ہے آج ہی مکمل کریں میں مبین انکل سے کہتی ہوں ہماری ٹکٹس کا “

اور شام کو تابش کو بھی گھر بلا کر سب سمجھا دونگی ۔۔۔

ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہیں بہتر لگے میں تمہارے مامو کو کال کرکے بتا دیتی ہوں تاکے وقت پر ڈرائیور ریسیو کرنے اس جائے ۔۔

ہمم ۔۔میں سکینہ کے ساتھ ضروری سامان پیک کر لیتی ہوں وہ اٹھتی ہوئی بولی

ٹھیک ہے تم جاو میں بھی دیکھتی ہوں سامان کو ” وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتی گویا ہوئی

______________

گاڑی میں بیٹھتے ہی حمنہ بیگم تو خوشی سے سرشار ہو اٹھی جبکہ نور العین کی بھی حالت ان سے مختلف نہ تھی

میں نے کیا کہا تھا کہ ایسی گیم کھیلوں گی کے وہ لڑکی دوبارہ کبھی یہاں کا منھ نہیں کرے گی

وہ تو سب ٹھیک ہے امی لیکن اُس نے آپ پر ہاتھ اٹھایا نور العین بدک کر ماں کو دیکھتی غصے سے لال ہوتے چہرے سے بولی

تو تمہیں کیا لگتا ہے اتنی آسانی سے بھول جاؤنگی میں ” تم بس خالات قابو میں آنے دو ذرا پھر دیکھنا یہ تھپڑ سود سمیت واپس لوٹاوں گی میں اُس لڑکی کو

اور تم بھی ذرا آبان کو مٹھی میں لو ” اُس کے قریب جاؤ اُسکا غم ہلکا کرو اور جلد از جلد اُسے خود میں گم کرو تاکہ وہ مکمل طور پر ہمارے اعتماد میں آ سکے اور اُس لڑکی کو بھول جائے پھر حویلی بھی ہماری اور جائیداد بھی “

وہ حویلی آئے گا تو میں کچھ کرونگی نہ ” وہ تو اس وقت اپنے بچے کے پیچھے پاگل بنا ہوا ہے اتنی ذلت کے باوجود وہاں سے ہل نہیں رہا تھا دیکھا نہیں تھا آپ نے

ہاں وہ تو میں بھی دیکھ رہی تھی نور العین کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے وہ گویا ہوئی

جانے کیا ہے اس لڑکی میں ” چلو خیر حویلی پہنچنے دو اسکا بھی حل ہے میرے پاس ” ابھی تو کامیابی کا جشن مناؤ۔۔وہ مکاری سے ہستی ہوئی اپنی اگلي چال کا بتانے لگی۔

______________

مبین ملک کو کال کرکے وہ پیکنگ کرنے لگی ۔۔

پیکنگ کرتے وقت کا اندازہ نہ ہو سکا ” رات کو تابش اور زینب آ گئے ۔

زینب تو اپنا پسندیدہ کام مصطفیٰ کو گود میں لے کر بیٹھ گئی جبکہ وہ دونوں قریب بیٹھے لیپ ٹاپ کھولے کچھ ضروری ڈسیکشن کرنے لگے ۔۔۔

زینب کی گود میں مصطفیٰ کھیلتے کھیلتے سو گیا ” تابش لیپ ٹاپ بند کرتے وقت دیکھتا خیران ہوا

بارہ بج گئے اور معلوم ہی نہ ہوا مزنہ خود بھی کافی تھک چکی تھی ۔۔اسلیے اُنھیں سی آف کرتی اپنے کمرے میں آ گئی

قریب مصطفیٰ کو لٹایا اور تھکن سے بے خال ہوتی خود بھی ساتھ ہی لیٹ گئی اُسے صبح جلد اٹھ کر آفیس بھی جانا تھا

جانے سے پہلے وہ تمام کام نپٹا کر جانا چاہتی تھی ۔۔

تھکن کے باعث وہ جلد ہی نیند میں چلی گئی

___________

آبان کی جب سے آنکھ کھلی تھی وہ اس وقت کا ٹیرس پر بیٹھا سگریٹ نوشی کر رہا تھا ۔۔

ہارون نے اُسکے ہاتھ سے سگریٹ چھینا ” دوسری ڈبی ہے ي تیری ” یوں اپنی جان جلانے کا کیا فائدہ ۔۔

میں کہتا رہا تجھے تب تو نے میری ایک نہ سنی ،،ہمدردی کا بحار چڑھا ہوا تھا تیرے سر پر ۔۔

اور اب بیٹھ کے رو رہا ہے ہارون شدید اشتعال میں اُسے گھوڑتے گویا ہوا

مانگ تو رہا ہوں معافی یار کیوں نہی سن رہی وہ میری بات ” ایک نظر ۔۔۔اپنے بچے کی جھلک کے لئے ترس گیا ہوں میں لیکن وہ کچھ سمجھے سنے تب نہ ۔۔۔

وہ ازیت سے دو چار ہوتا بولا

فرض کر اگر وہ مان جائے اور تجھ سے کہے کہ نور العین کو چھوڑ دے تب کیا کرے گا ۔۔

حویلی والے تجھے ایسا کرنے دین گے ” تیری وہ خوفناک چاچی تجھے کچا چبا جائے گی اور ویسے بھی اب تیرے پاس کوئی راستہ بھی نہیں ۔۔

تیری سچویشن بہت خراب ہے آگے کنوا اور پیچھے کھآئی ہے تو جائے تو کہا اس لیے میری مان خاموشی اختیار کر

ابھی کچھ وقت مزنہ بابھی سے دور رہ ” اُنھیں کچھ وقت دے ۔۔

کیوں کہ اب تو نور العین کو بھی طلاق نہی دے سکتا ۔۔تیرے گھر والوں کو کسی بھی صورت میں وارث چاہیے اور مزنہ بابھی تو کبھی تیرے بیٹے کو اب حویلی نہیں لے کر جائیں گی

اور نور العین بھی ایکسپکٹڈ ہے ۔۔۔

تیرے پاس کوئی راستہ نہیں ،،

سب کچھ خالات پر چھوڑ دے اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں اور اس کے علاوہ میں تجھے کوئی جھوٹی اُمید نہیں دلانا چاہتا ۔۔

بھابھی اس وقت سخت خفا ہیں تجھ سے اور سب گھر والوں سے ” بار بار اُنکے سامنے آ کر تم لوگ انکو ضد دلا رہے ہو اور وہ نور العین نہیں ہیں”

جن کے پاس بہت رشتے ہوں ٫،، تم بہتر جانتے ہو کہ دو گنے چنے رشتے ہیں اُس معصوم کے اور ان میں سے بھی ایک چھن چکا ہے ۔

بیشک اللہ تعالیٰ کا حکم تھا انکل کی موت ایسے لکھی تھی لیکن جو دھچکا اُنہیں تیری جانب سے لگا تھا تو سننے والا اور دیکھنے والا اُنکی موت کا ذمےدار تجھے ہی سمجھتا ہے ۔۔۔

اسلیے صبر سے کام لے بار بار اُنکے سامنے جا کر اُنکے زخم پھر سے نہ اُدھیر”

ابھی اُنکا گھآؤ کچا ہے ذرا مندمل ہو لینے دے پھر کچھ کرتے ہیں

ہارون نے اُسے بڑی تسلی دی اور تمام حقیقت سے بھی آگاہ کیا جس سے وہ انجّان بنا پھر رہا تھا ۔۔

______________

شام چار بجے کی اُنکی فلائٹ تھی مزنہ ابھی ضروری میٹنگ اٹینڈ کرکے آئی تھی رات جو اُس نے تابش کے ساتھ مل کے پوائنٹس ہائی لایٹ کیے تھے انہیں سب کے ساتھ شیئر کر رہی تھی ۔۔

گھنٹے بعد وہ عجلت میں باہر نکلی ۔۔۔اُسے جلد گھر جانا تھا ۔۔صبح سے اُسکا دل بہت اُداس تھا

عجیب وحشت لیے ہوے تھا اور کچھ مصطفیٰ کی بھی پریشانی تھی کی وہ تنگ نا کر رہا ہو ۔۔سنایا بیگم کو اور بہت سے کام تھے