Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 41)

Robroye Yaar By Yumna Writes

حمنہ بیگم اس وقت نور العین کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔آبان زمینوں کو دیکھنے حسن چوھدری کے ساتھ نکل گیا تھا ۔۔

بی اماں نیچے سو رہی تھی اور مریم بیگم اپنے کمرے میں موجود تھی ۔۔

حمنہ بیگم نور العین کو تنہا بیٹھا دیکھ کر اُس کے کمرے میں آئی تھی

شاباش میری بچی ” بہت اچھا کیا تم نے” سب کچھ پلان کہ مطابق ہو رہا ہے ،،آبان کو ایسے ہی اپنے قابون میں رکھو تاکہ اُس چریل کے جال سے جلد ہی نکل آئے

وہ نور العین کو دیکھتی چہرے پر شاطر مسکراہٹ لاتے گویا ہوئی تھی ۔۔

امی باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن مزنہ کا کیا ” کچھ معلوم نہیں کہ وہ لوگ کہا چلے گئے ہیں۔۔

آخر ذرا پتہ تو چلے وہ کہا ہے اور آگے کیا کرنا چاہتی ہے مجھے تو ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا کہ وہ آ کر آبان کو ساری حقیقت نہ بتا دے ” نور العین چہرے پر خوف لیے بولی “

ارے کچھ نہیں ہوتا جو اُس کے ساتھ ہو چکا ہے وہ کبھی بھی واپس نہیں آئے گی ،،جو میں نے اُس کے گھر اُسے دھمکی دی تھا نہ اُس کے بیٹے کو نقصان پہنچانے کی ” اُسکا ہی اثر ہے جو وہ راتوں رات یوں منھ چھپائے غائب ہو گئی ورنہ ایسا کبھی ہوا کہ کسی کے علم میں ہی نہ ہو کہ اتنے بڑے باپ کی بیٹی کہا ہے

بیچارے وہ تاسف سے سے ہلاتی مکرو ہسی ہسنے لگی

امی کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں لیکن میں چاہتی ہوں آبان اُسے طلاق دے دے تاکہ یہ جو میرے سر پر تلوار لٹک رہی ہے وہ تو ہٹے ” مجھے ہر وقت محسوس ہوتا ہے وہ ابھی آئے گی اور آبان اُسکی جانب مائل ہو جائے گا

اگر اُس نے ہماری اصلیت بتا دی کہ ہم نے یہ سب جان بوجھ کر ایک پلان کے تخت کیا تو ہم کیا کریں گے ” سب ہمارے خلاف ہو جائیں گے “..۔۔

وہ ابھی مزید کچھ بولتی کہ دروازے میں کھڑے آبان کو دیکھ کر اُس کے چہرے کا رنگ سفید پڑا تھا ” ۔۔

اسے اچانک اس طرح سامنے کھڑے دیکھ کے نور العین کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے دوسری طرف حمنہ بیگم بھی اُس کے اچانک آ جانے پر خیران پریشان سی تھی ۔۔۔

وہ حسن صاحب کے ساتھ زمینوں پر جا رہا تھا جب راستے میں اُسے مینجر کی کال آئی کہ اُسے کچھ ضروری ڈاکومنٹس چاہتے تھے جو وہ ساتھ لے آیا تھا “

اُس نے وہاں سے ہی واپسی کر لی تاکہ جا کر اُسے میل کر سکے ” ابھی وہ کمرے میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ مزنہ کا نام سن کر کچھ چونکا ” اور وہی رک گیا ۔۔آگے اُس نے جو سنا اُسے لگا وہ کھڑا کھڑا زمین پر گر جائے گا “

چہرہ دهوا دھوا ہو گیا ” ۔۔

اپنے من من کے ہوتے بھاری قدم اٹھاتا وہ خود کو گھسیٹتا ان کے قریب گیا تھا ” ۔۔۔کیوں !!….

فقط ایک لفظ کا جواب اُسے چاہیے تھا کیوں ” کیا تم نے ایسا ” ۔۔۔

آبان میں نور العین سفید پڑتی رنگت کے ساتھ اُسے کچھ بولتی کہ اُسکی دھار سے کانپ کر رہ گئی

میں نے پوچھا کیوں ” ۔۔۔۔ وہ دھارا تھا

اُسکی دھاڑ سے حمنہ بیگم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ” ایسا کچھ نہیں” آبان ۔۔۔

میں آپ سے مخاطب نہیں ہوں وہ سنجیدگی سے اُنکی جانب دیکھے بغیر بولا۔۔

نور العین کو بازو سے جھنجھوڑتے وہ غرایا تھا ” تمہیں ذرا شرم نہ آئی اتنی گھناونی سازش رچتے ہوے “

نور العین کانپتی ٹانگوں سے اُسکی گرفت میں مچلتی بمشکل سے بولی

میں نے کیا کیا ” ہے۔۔۔ آبان آپ میری بات تو سہی ” باقی مانندہ الفاظ اُس کے لبوں پر ہی تھے کہ آبان کا ہاتھ اٹھا تھا۔۔

چٹاخ”____اور نور العین کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا

غلیظ عورت بکواس کر رہی ہو ابھی بھی ” میرا یقین بھروسا سب ختم کرکے کہتی ہو تم نے کیا کیا ۔۔

تھپر کی شدت سے نور العین کو اپنا گال سن ہوتا محسوس ہوا ” ۔۔

میری زندگی ،،میری محبت چھین لی تم نے ” دل تو چاہ رہا ہے اسی وقت تمہارا گلا گھونٹ دوں وہ آگے بھرتا سخت لہجے میں پھنکارا ” ۔۔

حمنہ بیگم نے اُس کے سامنے آتے ہاتھ جوڑ دیے” معاف کر دو میرے بچے ” ۔۔

آبان نے غصے سے لال ہوتے ایک قہر الود نظر اُن پر ڈالی نہیں ہوں میں آپکا کچھ بھی ” اتنے مکار لوگ کچھ نہیں لگتے میرے کہتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا ۔۔

امی وہ چلا گیا وہ روتی چیختی اٹھتی اُس کے پیچھے لپکی ” آبان پلیز میری بات سن لیں ” ۔۔اس میں میرا کوئی قصور نہیں آبان کو رکتا نے دیکھ وہ سیڑھیاں تیزی سے اترنے لگی “

پیچھے حمنہ بیگم بھی جلدی سے آئی ۔۔اُسے اتنی تیزی سے سیرھیان پھلانگتے دیکھ حمنہ بیگم کا دل کانپ گیا “

نور العین دھیان سے میری بچی” دل پر ہاتھ رکھتے انہوں نے بلند آواز میں کہا

اُس نے پیچھے مڑ کر ماں کی جانب دیکھا ہی تھا کہ سیڑھی سے پاؤں بری طرح پھسلا تھا اور ایک دل خراش چیخ اُس کے منھ سے نکلی تھی ” آبان جو لاونج سے گزرتا باہر کی جانب جانے لگا تھا ” اُسکی چیخ سنتا تیزی سے اُسکی جانب آیا تھا ۔۔

حویلی کی طویل سیڑھیوں سے وہ بل کھاتی نیچے فرش پر گری تھی ۔۔

وہ منجمند نگاہوں سے اُسے دیکھتا فوراً بھاگا تھا

اوپر حمنہ بیگم دھم سادھے کھڑے اسے گرتا دیکھ رہی تھی ۔۔

چیخ و پکار کی آواز سنتے مریم بیگم اور بی اماں بھی اپنے کمرے سے باہر آئی لیکن سامنے پرے ہوش و حرد سے بیگانہ خون میں لت پت نور العین کے وجود کو دیکھ کر ساکت رہ گئے ۔۔

نور العین حمنہ بیگم دوڑتی نیچے آی تھی جبکہ مریم بیگم بھی ہوش میں آتی نور العین کی جانب لپکی ۔۔

بی اماں نور العین کو دیکھ کر وہی ڈھ گئ ” مریم بیگم نے اُنھیں گرتا دیکھ تھاما تھا ۔۔

چیختے اُنہوں نے ملازمہ کو بلایا تھا ” ڈاکٹر کو فوراً کال کرتے گھر بلایا ۔۔

آبان نے قریب آتے اُس کے خون میں لت پت وجود کو جلدی سے باھوں میں بھرا اور باہر کی جانب دوڑا اُس کے پیچھے حمنہ بیگم اور مریم بیگم بھی تیزی سے گئی

حمنہ بیگم بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر بے تحاشا رونے لگی جبکہ آبان کا بھی بڑا خال تھا ۔۔

باہر نکلتے وقت حسن چوھدری کی گاڑی حویلی میں داخل ہوتی دیکھ مریم بیگم نے اُنھیں بی اماں کا خیال رکھنے کا کہا اور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ گئی

کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ہاسپٹل میں موجود تھے

نور العین کو ایمرجنسی روم میں لے جایا گیا تھا پیچھے حمنہ بیگم زارو قطار رو رہی تھی ۔۔سب میری وجہ سے ہوا ہے ” سب اُنکی سسکیاں کوریڈور میں گونج رہی تھی ۔۔۔مریم بیگم اُنھیں حوصلا دے رہی تھی ۔۔

آبان دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا بلکل خاموش تھا ٫ حسن چوھدری نے اُسے سینے سے لگا کر ہمت دی ” سب ٹھیک ہو جائے گا میرا پتر ” ۔۔

بی اماں کا بی پی بہت ہائی تھا انہیں آرام دہ انجیکشن لگایا گیا تھا ” حسن چوھدری بھی ان کے پیچھے ہی ہسپتال آئے تھے ۔۔

مکافات عمل سے خوف آ رہا ہے بابا سائیں ” وہ بکھرے ہوئے لہجے میں بس اتنا بول پایا تھا” اتنا بڑا دھوکا ” اتنی بڑی سازش ” اور وہ کیسے اُن کی باتوں میں پھستا چلا گیا ۔۔

اُسکا ذہن اس وقت کام نہی تھا کر رہا ” ي جو حقیقت اُس پر آشکار ہوئ تھی اُسے اپنا آپ ختم ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔

چھ گھنٹے ہو گئے تھے آپریشن کو لیکن ابھی تک کوئی خبر نہ ملی تھی ” اُس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھی ،،سوچ سوچ کر اُسکا برا حال تھا جب آپریشن تھیٹر سے نرس ایک ننھا سا مردہ وجود لیے اُس کے قریب آئی تھی ۔۔

حمنہ بیگم جلدی سے اُس کی جانب بھری لیکن اس کے کہے گئے الفاظ نے اُنہیں ساکت و جامد کر دیا

سوری سر ہم آپکے بےبی کو نہیں بچا سکے” ائیٹھ منتھ تھا آپکی وائف کا اور بےبی کی گروتھ بھی اتنی نہی تھی کہ وہ سروایو کر سکتا ” اور کچھ آپکی مسز پیٹ کے بل گری ہیں اور بھی بہت سی سیریس انجریز آی ہیں اُنھیں ” اس وقت اُنکی جان کو بھی خطرہ ہے آپ دعا کیجئے اُن کے لیے ۔۔

آگے اللہ کی جو مرضی ہم اپنی پوری کوشش کریں گے اُنھیں بچانے کی کہتے اُس نے

ایک ننھا وجود سفید کپڑے میں لپیٹے اُسکی جانب بڑھایا تھا بیٹا”… تھا لیکن بہت کوشش کے باوجود ہم بچا نہی پائے نرس دکھ سے کہتی جا چکی تھی

آبان چوہدری نے دھندلی آنکھوں سے اُس ننھے وجود کو تھاما تھا اور پھر وہ دراز قد کا لمبا اونچا مرد ہاسپٹل کے فرش پر بیٹھتے پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔۔

حمنہ بیگم بیٹی کی خالت اور چھوٹا سا مردہ وجود دیکھتی ہسپتال کے فرش پر گرتی چلی گئیں ۔۔مریم بیگم نے روتے آگے بھرتے اُنھیں تھامنے کی کوشش کی لیکن اُنھیں کہا ہوش تھی کسی کی ،،اُنکی دردناک چیخیں ہسپتال میں گونجنے لگی ۔۔

میری بچی ” وہ چیختی فرش پر ہاتھ مار رہی تھی ۔۔

ہائے میرا بچہ” اللہ ،،ابھی تو اس نے دنیا بھی نہ دیکھی ” ہائے اللہ ایسا ظلم نہ کریں ،،میری نور ” اُسے بیٹے کی کتنی چاہ تھی ۔۔اُنکی دہائیاں ” سسکیاں ماحول میں وحشت پیدا کر رہے تھے

اُنکی آہیں سسکیاں عروج پر تھی مریم بیگم بھی غمزدہ سی اُن کے اس دکھ میں شریک تھے ۔۔

حسن چوھدری کی بھی آنکھیں اشک بار تھی ۔۔

بابھی جب میری بچی پوچھے گی کہ اُسکا بچہ دکھائیں تو میں کیا کہوں گی ” میری بچی سہہ نہیں پائے گی اس تکلیف کو ‘ ۔۔۔۔

آبان بلکل ٹوٹ چکا تھا خود میں بری مشکل سے ہمت لاتے اُس نے وہ سفید کپڑا اُس ننھے وجود سے ہٹایا تھا اور آنکھوں کہ سامنے سفید روئ سا چہرہ دیکھ کر نم آنکھو سے اُس کے ماتھے پر لب رکھے تھے بچے کی بند آنکھوں کو دیکھتا وہ رو دیا تھا ۔۔ اس وقت اُسے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے پھسلتی محسوس ہوی تھی

اتنی تکلیف ” انسان کتنا بے بس ہوتا ہے ” اولاد کے

معاملے میں اس وقت اُسکا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی سانسیں وہ اپنے بچے کو دے دے لیکن کسی طرح اُسے بچا لے ۔۔لیکن انسان خدا کے فیصلوں کے آگے مجبور تھا ۔۔۔

حمنہ بیگم نے ترپ کر اس کے سامنے ہاتھ پھیلاے تھے ۔۔آبان نے نم آنکھوں سے ایک نظر اُس ننھے فرشتے پر ڈالی اور اُنکی گود میں دے دیا

مریم بیگم اور حمنہ بیگم اُس ننھے سے فرشتے کو دیکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔

بس کرو لاو مجھے دو اس کی تدفین کا انتظام کیا جائے

حسن چوھدری نے بچے کو ان سے لیتے کہا تھا “

نہیں ابھی میری بچی نے نہی دیکھا اپنا بچہ “حمنہ بیگم روتے ہوے چیخی تھی ۔۔

وقت گزرتا جا رہا ہے زیادہ وقت اس کو ایسے نہیں رکھ سکتے حسن چوھدری غم زدہ سے کہتے آبان کو اشارہ کرتے باہر نکل گے پیچھے حمنہ بیگم کی سسکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔

اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی جان کے ٹکڑے پر مٹی ڈالتے آبان کے ہاتھ کانپے تھے ۔۔

وہ کتنا ہی وقت وہاں بیٹھا روتا رہا ۔۔دل کو سکون نہیں مل رہا تھا ۔۔اُسکی حالت اس وقت بہت بدتر تھی

پُتر اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے حسن چوھدری نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی لیکن اب اُسے کہا صبر آنا تھا ” لہو ٹپکتی آنکھوں سے وہ نڈھال سا بیٹھا تھا ایک بیٹے کو اُس نے ابھی تک دیکھا نہی اور جسکو دیکھا وہ اتنی جلدی چلا گیا ۔۔۔

سچ کہتے ہیں لوگ محبت کرنے والے اگر آپ کے گرد موجود ہوں تو آپ لوگ ایک بار پھر سے جی اٹھتے ہو ۔

کبھی کبھی جینے کے لیے ہمدردی کے دو بول کی ضرورت ہوتی ہے

آزمائشیں سچ میں بہت کٹھن ہوتی ہیں لیکن آپ کہ قریب لوگ جو آپ سے محبت کرتے ہیں وہ آپ میں ان کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کرتے ہیں ۔۔

آپ کو جینے کا مقصد فراہم کرتے ہیں ،،،اگر آپ ساری زندگی ایک ہی چیز کے پیچھے روتے رہے گے تو اپنے اردگرد پھیلی روشنیوں کو کبھی نہیں دیکھ سکے گے ۔۔

اس لیے خوش رہیں آلہ پاک کی نعمتوں کا اتنے پیارے رشتوں کا شکر ادا کریں ۔۔

وہ اس وقت پارک میں بیٹھی اُس کی جانب دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں چھپی محبت کی تحریر اُس سے اوجھل نہ رہ سکی تھی ۔۔۔۔

بہت خاص تھا وہ شخص اور کسی بہت خاص کو ہی

ڈیزرو کرتا تھا وہ اُس کے لیے نہیں بنی تھی ” وہ تو محبت میں ہاری ہوئی لڑکی تھی وہ کیسے اس کی زندگی میں رنگ بھرتی جس کی خود کی زندگی اس وقت سیاہ ہو چکی تھی

زارون مصطفیٰ کو ہوا میں اچھال رہا تھا ماحول میں اُس کے قہقہے گونج رہے تھے جن کو دیکھتے مزنہ کے چہرے پر ایک دل فریب مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔۔

زارون ” میں واپس جانا چاہتی ہوں ” اُسکی بات سے زارون کے ہاتھ تھامے تھے ..

میں مصطفیٰ کو اُس کے بابا سے ملوانا چاہتی ہوں آپ نے ٹھیک کہا تھا غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے میں اُس سے ي حق نہیں چھین سکتی وہ نیچے سر کیے پلکیں جھپکتے اپنے آنسو روکنے کی سعی میں تھی ۔۔

زارون کو اُس کے لہجے کی نمی سے اندازہ ہو گیا کہ وہ رو رہی ہے خود پر ضبط کیے وہ لہجے کو نورمل کرتا گویاں ہوا تھا ۔۔

بہت اچھا فیصلہ ہے آپکا ” میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔

کرب زدہ سا وہ بس اتنا بول پایا تھا

میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں ” جائیں گے نہ اُس نے آنکھوں میں اُمید لیے اُسکی جانب دیکھا تھا

آپ حکم کریں بس ” بندہ ناچیز حاضر ہے ۔۔سینے پر ہاتھ رکھتا وہ جھکتا بولا تھا

مزنہ نے نم آنکھوں سے مسکراتے اُس کی جانب دیکھا تھا

اُسکی آنکھوں میں چھپا کرب وہ چاہ کر بھی اس سے چھپا نہ پا رہا تھا مسکراہٹ ساتھ نہ دے رہی تھی ۔۔

کبھی یوں بھی آ میرے رو برو ۔۔

تجھے پاس پا کر میں رو پروں۔۔۔

مجھے منزل عشق پر ہو یقین۔۔۔

تجھے دھڑکنوں میں سونا کروں۔۔۔

کبھی سجا لوں تجھ کو آنکھو میں۔۔۔

کبھی تسبیحوں میں پڑھا کروں۔۔۔

کبھی چوم لوں تیرے ہاتھ کو۔۔۔۔

کبھی تیرے دل میں بسا کروں۔۔

________________Y❣️W

رات میں وہ اپنا سامان پیک کر رہی تھی جب سنایا بیگم ڈور نوک کرتی روم میں داخل ہوئی تھی ۔۔

یہ میں کیا سن رہی ہوں تم واپس جا رہی ہو ” اُنہوں نے اسپاٹ تاثرات سے اُسکی جانب دیکھتے استفسار کیا “

جی ” مزنہ نے کہتے مصطفیٰ کا ضروری سامان بیگ میں رکھا ۔۔

کیا میں پوچھ سکتی ہوں کیوں !!…اچانک ایسا کیا ہو گیا جو تم جانا چاہتی ہو۔۔

موم میں جلد واپس آ جائونگی بس کچھ کام ہیں وہاں جنہیں مکمل کرنا ہے اور میں مصطفیٰ کو آبان سے ملوانا چاہتی ہوں ۔۔

میں نہیں چاہتی کل کو میرا بیٹا مجھ سے پوچھے کہ اُسکا باپ کہا ہے اور اُسے کیوں نہیں ملوایا اُس سے۔۔

آخر کیوں جانا ہے تم نے وہاں کیا تم بھول گئی ہو ان لوگو کی دھمکیاں ،،اگر انہوں نے کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی پھر ” سنایا بیگم جذباتی ہوتی بولی

موم آپ یہاں بیٹھیں ” مزنہ نے ان کا ہاتھ تھامے اُنھیں بیٹھایا ” ۔۔

وہ لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی زارون میرے ساتھ ہونگے اور میں جلد واپس آ جاوں گی پلیز آپ پریشان نا ہوں ۔۔

مزنہ ایک بات سچ سچ بتاو بیٹا کیا تمہیں زارون کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نہی دکھائی دے رہی”

پہلے بھی ہم نے اُس کے ساتھ بہت برا کیا اُس کے جذبات کو نظرنداز کرکے تمہاری بات مانی ” چھ سال گزر گئے ہیں لیکن وہ اب بھی بلکل تنہا ہے ،،وہ تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے میری بیٹی” ۔۔۔اُسے کھونا مت ” ماہم بابھی نے اُسے بہت کہا شادی کے لیے لیکن وہ نہیں مانا کہ اُسکا کہنا تھا محبت صرف ایک بار ہوتی ہے ہو گئی سو اب ہو گئی بیشک وہ نہ ملے لیکن وہ شادی کرکے کسی کے ساتھ دھوکا نہی کر سکتا ،،

دنیا میں بہت کم لوگ سچی محبت اور چاہت والے ملتے ہیں ورنہ تو سب کسی نہ کسی پل آپکو توڑ دیتے ہیں جیسے آبان نے کیا ۔۔

لیکن جو آپکا انتظار کرتے ہیں اُنھیں خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہیے ورنہ وقت گزرنے پر ہم خود حالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور تب رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیوں کہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں لوٹتا ۔۔

باقی تمہارا فیصلہ ہے کے تمہیں آبان کو معاف کرنا ہے کہ نہیں لیکن سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا تاکہ کل کو تمہیں پیچھے دیکھتے ہوے کوئی پچتاوا نہ ہو ۔۔

اُس کے ماتھے پر لب رکھتی وہ چلے گئ تھی لیکن پیچھے مزنہ پر بہت سے در ‘ کھول کر گئ تھی۔

سیاہ رات” ______اُداس دل

💔💔💔اُلجھی ہوئی زندگی”_____ تھکے ہوئے ہم۔۔۔۔