Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 28)

Robroye Yaar By Yumna Writes

ایک ہفتہ وہ دبئی رہ کر آیا ” ہارون کی بات پر عمل کرکے وہ واپس نہ گیا اور نہ ہی کسی کا فون اٹھایا البتہ سب کی پریشانی کا سوچتے اُس نے ہارون کو کہہ دیا کے حویلی فون کرکے اُس کے بیرون ملک ہونے کی اطلاع اُنہیں کر دے ۔۔

کیوں کہ پندرہ دن سے اوپر ہو گئے تھے اُسے واپس نہ پلٹے ہوے۔

اُس نے مزنہ کہ گھر ،، اُسکی والدہ کو ،، اُس کے پرسنل نمبر پر بے تحاشا کالز کی لیکن جواب موصول نا ہوا

اور وہ جانتا تھا کہ ہوگا بھی نہیں ” اُس کے روبرو جانے کو خود میں وہ سکت نہ پاتا تھا کچھ ہارون نے سختی سے اُسے ابھی وہاں جانے سے روکا تھا ” آفیس کے کام کے سلسلے میں اُسے دبئی جانا پڑ گیا ” اکثر میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لئے وہ وہاں جایا کرتا تھا ۔۔

ایک ہفتّے بعد وہ لوٹا ” ایئرپورٹ سے واپسی پر اُس نے ڈرائیور کو کال ملائی _ جو کہ جلد ہی ریسیو کر لی گئی

کال یس ہوتے دیکھ آبان ڈرائیور پر پھٹ پڑا ” کہا تھے تم؟..

کتنی کالز کی ہیں میں نے “فون کیوں نہیں تھے اٹھا رہے تھے ؟؟

کہاں مرے ہوئے تھے “

آبان شدید اشتعال میں اُس پر برسا “

ڈرائیور تو اُسکی دھار پر ہی گھبرا گیا ۔۔۔وہ سر میں گھر آیا ہوا تھا پیچھے گاؤں میں !!

میری والدہ کی طبیعت کافی ناساز تھی میں کل ہی واپس آیا ہوں کانپتی آواز میں اُس نے ڈر کے مارے رک رک کر اپنی بات مکمل کی۔۔

ہمم” وہ ہنکار بھرتا سخت لہجے میں گویا ہوا “

اب مجھے صاف صاف بتانا کیا صورت حال ہے شاہ ولا کی “…

مزنہ کی طبیعت کیسی ہے اور گھر میں کیا چل رہا ہے۔۔

صاحب جی آپ کو علم نہیں مصطفیٰ صاحب کی وفات کا ” ۔۔۔

اُن کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی تھی ہسپتال لے کر گئے لیکن اُنکی زندگی ہی اتنی تھی وہ دکھ سے بولا

مزنہ بی بی کی بھی حالت کافی خراب تھی ” ۔۔ماشا اللہ بیٹا ہوا ہے آپکا ” مجھے لگا آپ کو معلوم ہوگا ۔۔

وہ اپنی دھن میں بولے جا رہا تھا دوسری جانب آبان کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر گرا تھا ۔۔۔

انکل ” نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔

بیٹا ” ۔۔۔۔میرا بیٹا ،،،

اوہ میرے خدایا ” میں کیسے اتنا لا علم رہ سکتا ہوں اپنی بیوی بچے سے” ۔۔۔

انکل ” اُس نے آنکھیں میچی …

وہ اکیلی کس قدر تکلیف برداشت کر رہی ہوگی ۔۔

ایک طرف افسوس تھا مصطفیٰ کمال کے جانے کا تو دوسری جانب بیٹے کی خوشی “…

ایک نئی صبح ان کی زندگی میں نمودار ہوئی تھی

وہ ارادہ کر چکی تھی اُسے آگے کیا کرنا ہے ،، خود کو مضبوط کرتی وہ آگے بھرنے کا سوچ چکی تھی

آج اُسے آفیس جانا تھا اس لیے وہ جلد ہی اٹھ گئ تھی

ایک نفیس سا جوڑا اُس نے کبرڈ سے نکالا اور چینج کرنے چلی گئیں ۔۔

ہلکا سا تیار ہوتی وہ اپنے ننھے سوئے ہوئے شہزادے کو اٹھاتے سنایا بیگم کے روم کی جانب چلی گئیں

اختیاط سے مصطفیٰ کو اُنکے قریب لٹایا اور باہر نکل گئی۔۔

ڈرائیور تو موجود نہ تھا اسی لیے موبائل سے رایڈ منگوائی اور انتظار کرنے لگی

کل اُس نے آفیس میں کال کرکے میٹنگ ارینج کرنے کا کہہ دیا تھا ۔۔

آج اُسکی امپورتنت میٹنگ تھی ۔۔

وہ جلد از جلد یہاں سے کام واینڈ اپ کرنا چاہتی تھی

اُس نے کل مصطفیٰ کمال کے سیکٹری کو گھر بلوایا تھا اُس آیا تمام معملات سمجھتی اور فائل ریڈ کرتے اُسے کافی وقت بیت گیا تھا ۔۔۔

مزنہ کو یہ سب بہت مشکل لگ رہا تھا وہ تو کب کا ان سب چیزوں کو پیچھے چھوڑ آئی تھی ۔۔اُسے لگ رہا تھا کہ اُسکا دماغ بلکل سن سا ہو گیا ہو کوئی چیز سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی۔۔۔

کچھ اتنا عرصہ وہ بیزنس سے بلکل کٹ کے رہی تو اُسے لگ رہا تھا کہ جیسے اُس نے کبھی یہ کام کیا ہی نہ ہو ۔۔

لیکن اُسے اپنے بابا کی محنت کو آگے بڑھانا تھا ” اسلیے رات بھر وہ فائل نکالے اُنھیں پڑھتی رہی اور مختلف پوانٹ

ہائ لائٹ کیے تاکہ آج جا کر وہ میٹنگ میں اُنھیں ڈسکس کر سکے ۔۔

وہ فائل گاڑی میں رکھواتی پر اعتماد سی بیٹھتی آفیس کے لیے نکل گئی۔۔

بڑی سی بلڈنگ کہ آگے گاڑی رکی ” وہ فائل لیتی خاموشی سے باہر نکلی اور پر اعتماد سے چال چلتی بلڈنگ کے اندر داخل ہوئی۔۔

تمام سٹاف اُس کے انتظار میں ویلکم کرنے کے لئے کھڑا تھا تابش نے ایک بوک یٹ اُس کے آگے بڑھایا اور چہرے پر مسکراہٹ لاتے گویا ہوا

ویلکم آپی” ۔۔۔۔بہت شکریہ” کہتے اُس نے تھام لیا اور

اپنے آفیس کی جانب چلی گئی۔۔۔آفیس میں داخل ہوتے اُس نے میٹنگ کے لیے سب کو انفورم کرنے کا کہا “

کچھ ہی دیر میں سب میٹنگ حال میں بیٹھے تھے۔۔

وہ اسپاٹ تاثرات کے ساتھ سب کے درمیان میں بیٹھی اور سرد لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہیں میرے بابا یعنی مصطفیٰ کمال نے ہے کمپنی بہت محنت سے کھڑی کی ہے اور اب اُنکے جانے کے بعد بھی میں چاہتی بوں کہ ہمارا بیسن ویسے ہی ترقی کرے ۔۔۔

مصطفیٰ کمال کا نام کبھی نہ ڈوبے ” ۔۔

آج میٹنگ رکھنے کا میرا خاص مقصد ي تھا کہ میں آپ سب کو بتا سکوں کہ میں بس کچھ وقت آپ لوگو کے ساتھ یہاں ہوں ۔۔۔

میرے پیچھے سے باقی کا سارا کام تابش دیکھے گا ۔۔

میں آپ سب سے آن لائن رابطے میں رہوں گی اور آفیس کہ پل پل کر خبر سے آگاہ بھی اسلیے یہ مت سوچیے گا کہ میں یہاں موجود نہیں تو آپ لوگ ریلیکس ہیں۔۔

اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو ابھی مجھ سے ڈسکس کر لے بعد میں مجھے کوئی الٹی سیدھی نیوز ملی تو میں بغیر کچھ سنے اسکو فائر کر دونگی ۔۔

صائم ہم نے جو کل پوائنٹ ڈسکس کیے تھے وہ آپ ایک بار سب کے ساتھ شیئر کریں ۔۔

صائم اُسکے پی اے نے پروجیکٹر آن کیا اور سب کو سمجھآنے لگا۔۔

آپ لوگ دیکھ لیں اور اگر کوئی ایشو ہو تو مجھ سے ڈسکس کر لین کہتی وہ والک آؤٹ کر گئی۔۔

جب کہ پیچھے سب خاموشی سے پروجیکٹر کی جانب متوجہ ہو گئے۔۔

اپنے آفیس میں داخل ہوتے اُس نے جلدی سے گھر کال ملآئی…

سنایا بیگم نے ویڈیو کال پر لگای اور مصطفیٰ کی جانب کیمرے کا رخ کیا۔۔

موم رو تو نہیں رہا تھا وہ پریشانی سے استفسار کرنے لگی

مصطفیٰ جو بڑے مزے سے سو رہا تھا مزنہ نے اُسے دیکھ کر سکوں کا سانس لیا

میں اور مصطفیٰ سو رہے تھے تم نے میری تو نیند خراب کر دی لیکن ہمارا صاحبزادہ ابھی بھی مزے سے سو رہا ہے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔

سب ٹھیک ہے اگر رویا تو میں تمہیں کال کر دونگی وہ اُسے ریلیکس کرتی کچھ دیر اُس سے بات کرتی رہی

ڈور نوک ہونے پر مزنہ نے فون بند کر دیا ۔

یس” ۔۔۔تابش جو باہر کھڑا تھا مزنہ نے اُسے دیکھ کر کہا

آ جاؤ تابی ” وہاں کیوں کھڑے ہو؟…

وہ خیران ہوتی گویا ہوئی۔۔

وہ اندر داخل ہوتا کان کھجاتا گویا ہوا،،وہ دراصل آپ اب بوس ہیں یہاں تو ایسے تو نہیں آ سکتا تھا۔۔

اُسکی بات پر مزنہ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی

کوئی بات نہیں میں یہاں بھی پہلے تمہاری آپی ہوں بعد میں بوس” ۔۔اسلیے بے جیجک ہو کر آ جایا کرو۔

وہ سر ہلاتا اُسکے چہرے کی جانب دیکھنے لگا” کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ،،اسے خود کو تکتا پا کر وہ

بولی “۔۔

دیکھ رہا ہوں کہ عورت کتنی مضبوط ہوتی ہے “

کہتے ہیں کہ عورت بہت نازک شہہ ہے ،، جلد ٹوٹ جاتی ہے لیکن آج آپ کو یہاں دیکھ کر یہ بات غلط لگ رہی ہے

عورت سچ میں بہت مضبوط ہوتی ہے اتنی تکلیفیں ،،دکھ برداشت کرنے کہ باوجود وہ کھڑی رہتی ہے

اپنا آپ گرنے نہیں دیتی” کبھی اولاد کے لیے،،تو کبھی والدین کہ لیے۔۔

آپ جانتی ہیں آپی جب آپ ہسپتال میں بستر پر پڑی زندگی اور موت کی جنگ کر رہی تھیں تب میں نے آنٹی کو اکیلے سب خالاتوں کا سامنا کرتے دیکھا تھا ۔۔

تب میرے دل میں خیال آیا کہ دنیا کیوں کر عورت کو کمزور سمجھتی ہے ۔۔

اور آج آپ کو یہاں دیکھ کر میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں ۔۔میں نے ہمیشہ آپ کو اپنی سگی بہن کی طرح مانا ہے ۔۔

اور مجھے بے حد فخر ہو رہا ہے آپ پر۔۔۔

اس قدر مشکل وقت پر بھی آپ ہمت نہیں ہاری”

اور شرم آ رہی ہے اُس مرد اور جس نے اتنی انمول عورت کھو دی ” کہتا وہ مزنہ کی جانب دیکھنے لگا

مزنہ آنکھوں میں نمی لیے اُسکی جانب دیکھتے گویا ہوئی ” مجھے تو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب میرا بھای اتنا بڑا ہو گیا ۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں کہاں سے سیکھی .!! میرے شہزادے نے۔۔

وقت نے سیکھا دی ،،، اور کچھ مما کے جانے کے بعد ” ہم بہت اکیلے ہو گئے اگر انکل کر آنٹی کا ساتھ نہ ہوتا تو جانے ہمارا کیا بنتا اُسکی آواز میں گلی نمی کو محسوس کرتے مزنہ کو بے تحاشا شرمندگی محسوس ہوئی۔۔

میں بہت شرمندہ ہوں تابی !! میں نے بہت کوشش کی آنے کی لیکن حویلی میں اُس وقت میری بہت ضرورت تھی اور نکلنا بے انتہا مشکل” ۔۔

آپی آپکو شرمندہ ہونے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ..میں جانتا ہوں آپ کے دیور کی ڈتھ بھی اسی عرصے میں ہوئی تھی۔۔۔

تف ہے ویسے اُن لوگو پر جو مکافات عمل بھول بیٹھے ہیں ۔

آپ نے اپنا آپ ان کے لیے بدل لیا لیکن اُنھیں قدر نہ آی۔

سہی کہا ہے کسی نے ہیرے کی اصل پہچان جوہری کو ہوتی ہے ورنہ بے قدروں کے لیے تو وہ ہیرا بھی کوئلے کے برابر ہی ہوتا ہے ۔۔

ان شاء اللہ سب بہتر ہو گا ” ہم سب آپ کے ساتھ ہیں آپ آرام سے جائیں” میں آپکو ایک ایک بات سے آگاہ کرتا رہونگا _

تھینک یو” سو مچ ۔۔۔تمہاری باتوں نے مجھ میں آگے بھرنے کا حوصلا پیدا کیا ہے ۔۔

وہ مسکراتا کمرے سے نکل گیا جب کہ مزنہ آنکھوں میں آتی نمی کو کنٹرول کرنے لگی”