Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 4)

Robroye Yaar By Yumna Writes

وہ ایک بھرپور انگڑائی لیتی اٹھ کر بیٹھی تھی کہ آبان ٹرے میں سجا ناشتا لیتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔

گڈ مورنینگ سویٹ ہارٹ ..

وہ مسکراتی ہوئی نظروں سے اُسے دیکھتی گڈ مورنینگ بولتی فریش ہونے چلی گی

فریش سی جب وہ باہر ائی تو وہ ناشتا روم میں بی ٹیبل پر لگا چکا تھا ۔۔۔

اسکی کیا ضرورت تھی آبان ،، میں باہر ہی آ رہی تھی وہ نم چہرہ صاف کرتی ہوئی بولی ۔۔

رات بھی آپ کچھ کھائے بغیر سو گئی ،،اسلیے میں یہان ہی لے آیا ۔۔۔

ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اُسے لیے ڈاکٹر کے پاس مکمل چیک آپ کے لیے چلے گیا ۔۔۔

ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کروا کر وہ مطمئن سا اُسے لیے اُسکی والدہ کے گھر گیا

اتنی بڑی خوشی سن کر مزنہ کی والدہ نے روتے ہوئے بیٹی کو ساتھ لگا لیا ۔۔۔

اتنے وقت بعد یہ خوشی سب کو ملی تھی ،،،وہ خدا کا شکر ادا کرتی دونو کو دعائیں دینے لگی ۔۔۔

آبان اُس کو وہیں چھوڑ آفیس میں ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے چلے گیا ۔۔۔۔

چاہتا تو وہ اُسے واپس ساتھ لے کر جانا تھا لیکن مزنہ کی والدہ کے اتنی اسرار پر اُس نے رات تک رکنے کی اجازت دے دی ۔۔

دوسری طرف حویلی میں صبح صبح شورو گل ڈلا ہوا تھا

سب ملازمین ہربڑی میں آگے پیچھے ہو رہے تھے ۔۔۔

مریم بیگم گاڑی میں مختلف لوازمات پیک کروا کر رکھوا رہی تھی ،،بی جان بھی اُن کو بیٹھے بیٹھے چیزوں کی فہرست گنوا رہی تھی ۔۔

نور بھی اُنکے ساتھ کیچن میں مجود دیسی گھی ڈبے میں ڈال رہی تھی ۔۔۔۔

حمنہ بیگم کاوچ پر بیٹھی خطرناک تیور لیے نُور کو دیکھ رہی تھی جو سب کے ساتھ کاموں میں جوتی ہوئی تھی

امّاں سائیں دیکھیں کچھ رہ تو نہی گیا پھر میں فجر کو بھی تیار کر دوں جانے کے لئے ۔۔۔

میں کہتی ہوں ابھی بھی کیا ضرورت ہے بیٹی کو تیار کرنے کی ۔۔۔تم پہلے دوسرے کام تو کرلو

بیٹی کی کوئی فکر ہی نہی خدا نے دے دی ہے نہ اسلیے ناشکری کرتی ہو۔۔۔اپنی جیٹھانی کی طرف ہی دیکھ لو سہک سہاک کر خدا نے یہ وقت لایا ہے

حمنہ بیگم اُسے کیچن سے نکلتا دیکھ غصے سے پھٹ پری۔۔

امی میں نے کب ناشکری کی ہے اور ویسے بھی مجھے پتا ہے آپ ہیں نہ فجر کو سمبھا لنے کے لیے نور شرمندہ ہوتی بولی

نہیں پُتر تو جا بچی کو تیار کر پھر نکلتے ہیں شہر ۔۔۔واپس بھی آنا ہے مریم بیگم اُنکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے محبت سے گویا ہوئی

نور سر ہلاتی خاموشی سے اپنے کمرے میں فجر کو تیار کرنے چلی گی ۔۔

کچھ ہی دیر اُن لوگو کی گاڑیاں اسلام آباد کے لیے نکل پڑی تھی ۔۔۔۔

سب پیچھے ہونے والی قیامت سے بے خبر خوشی خوشی شہر روانہ ہوے ۔۔۔

آہل کو زمینوں کا کوئی سودا کرنا تھا اسلیے وہ اپنے خاص ملازم کے ساتھ پنچایت کے لیے نکل گیا ،،حسین صاحب بھی آہل کے ساتھ ہی رک گئے کہ وہ اُسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔۔

______________

مزنہ جو خراب طبیعت کی وجہ سے کافی دیر سے سوئی تھی اسلیے بمشکل اٹھتے زبردستی آبان کو آفیس بیجھا تھا اپنے روم میں آ کر فریش سی باہر آتی ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے گولڈن بالوں کو ڈراے کر رہی تھی ،،

موسم سرما کی آمد تھی اسلیے موسم میں حنکی محسوس کرتے وہ شاور لیتی بال حشک کرنے لگی ۔۔۔۔

رات جب وہ اپنے گھر سے واپس لوٹے تو اُسکی طبیعت عجیب ہو رہی تھی ،،دل خراب سا ہو رہا تھا لیکن اُس نے آبان کو نہی بتایا کہ وہ پریشان نہ ہو جائے ۔۔۔

گھر آتے ہی اُسکی وومیٹنگ سٹارٹ ہو گئی ۔۔۔جتنا کھایا پیا تھا سب نکلا تو اُسکی جان کو سکون آیا ۔۔

وہ نڈھال سی ہوتی بستر پر ڈھ سی گئی ۔۔

آبان نے ڈاکٹر پر لے جانا چاہا لیکن وہ منع کرتی بولی ۔۔۔

کچھ نہیں ہے بس سو جاوں گی تو ٹھیک ہو جاؤنگی ۔۔

بیڈ پر نیم دراز وہ موبائل فون میں مصروف تھی جب نیچے سے آتے شور کی جانب متوجہ ہوتی وہ دوبٹہ شانوں پر پھیلاتی کمرے سے باہر نکلی ،،

تو سب گھر میں داخل ہو رہے تھے ،،مریم بیگم ملازموں سے ڈھیر سامان اندر رکھوا رہی تھیں ۔۔۔

وہ ساکت کھڑی چہرے پر خوشی اور حیرانی کے تاثرات سجائے سب کو دیکھ رہی تھی ،،،

اتنے میں فجر بھاگتی ہوئی اُس کی ٹانگوں سے چپک گئی ،،

بڑی مما “

میرا بچہ “،، وہ نیچے ہوتی اسکو اٹھانے لگی جب تیزی سے نور اُسکے قریب آئی ،،

آپی یہ کیا کر رہی ہیں آپ ؟۔۔۔

منزہ ہونق بنی صورت سے نور کو دیکھ رہی تھی جو خود سے فجر کو دور کرتی اُسکے سامنے آتی بولی

اس خالت میں وزن بلکل بھی نہی اٹھانا آپ نے “

مزنہ اُسکی بات سنتی منھ بصور گئی ۔۔۔

لو بلا میری چھوٹی سی جان کا کتنا وزن ہے کہتی وہ فجر کو اٹھا گئی ۔۔۔

آپی بی اماں نے دیکھ لیا تو ڈ انت پرے گی آپکو بھی اور مجھے بھی اُس سے فجر کو لیتی وہ بولی ۔۔۔

مزنہ کچھ اور بولتی اس سے پہلے ہی بی جان مریم بیگم کے ساتھ اندر داخل ہوئی ۔۔۔

میری بچی ،،میری جان یہاں آ میری دھی ” بی جان مریم بیگم کا سہارا لیتی اُسکی جانب بھرتی اُسکاماتھا چومتی چہرے پر چمک لیے اُسے دیکھتی بولی ۔۔

مریم بیگم بھی اسکو گلے لگاتی اُس کے سر پر بوسا دیتی نم لہجے میں اُسکی بلائیں لینے لگی ۔۔

بابا سائیں بھی اُسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے اُسکا حال احوال پوچھنے لگے

اُن سب کے چہرے پر پھوٹتی خوشی اور مسرت دیدنی تھی ۔۔

بی اماں اور مریم بیگم اُسے اپنے ساتھ بیٹھاتی محتلف نصیحتیں کر رہی تھی ،،،

یہ دیکھ پُتر میں گاؤں سے خالص تیرے لیے یہ دیسی گھی لے کے ائی ہوں ،،، ٹھنڈ بھر رہی ہے اس لیے یہ دیسی گھی کی بنی پنجیری بھی تجھے روز دودھ کے ساتھ کھانی ہے ،،

اور یہ دیکھ ،،اُن کے الفاظ منھ میں ہی تھے جب آبان سلام کرتا اپنی سحر انگیز شحصیت کے ساتھ اندر داخل ہوا اور سب کو وہاں دیکھ کر مسکراتا بی جان کے آگے سر جھکا گیا ۔۔۔

جیتا رہ میرا پُتر ،، میرا شیر جوان ،، خدا تجھے اپنی اولاد کی خوشی دیکھنا نصیب کرے ۔۔۔بی جان اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے محبت سے اُسکے مسکراتے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دعائیں دینے لگی ۔۔۔

مریم بیگم بھی بیٹے سی ملتی اتنی بری خوشی پر غمگین ہو گئی ۔۔۔ حسن صاحب سے وہ ملتا باقی سب کا پوچھنے لگا

حمنہ بیگم سرسری سا ملتی اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر واپس خاموشی سے بیٹھ گئی

فجر کو پیار کرتا گود میں لے کر بیٹھا ،،اباں آہل اور چچا جان کیوں نہی آئے ،،

پُتر آج پنچایت بیٹھنی تھی زمینوں کا کچھ معاملہ سلجھانا تھا اس لیے وہ لوگ وہی رہ ہائے ۔۔۔

کہہ رہا تھا جلد ہی ملنے آئے گا تجھ سے ۔۔

وہ سر ہلاتا مزنہ کی جانب دیکھنے لگا جو گھبرائے ہوے چہرے سے سبکی باتیں سن رہی تھی ۔۔

پُتر یہاں دیکھ یہ سب ہم تیرے لیے لائے ہیں یہ سب تو نے خود کھانا ہے ،،

تاکے ہمارا وارث مکمل صحت مند اور خوبصورت ہو ۔۔

لیکن میں اتنا سب کچھ کیسے کھاؤں گی وہ اُنگلیاں چٹخاتی ہچکچاتی ہوئی بولی

جیسے کھاتے ہیں میری دهی،، دیکھ یہ سب تیرے اور بچے کے لیے بہت ضروری ہے ۔۔

آبان پُتر یہ تیری ڈیوٹی ہے تو نے بہو کا بہت خیال رکھنا ہے ۔۔ جب تک یہ حویلی نہی آتی تب تک مجھے تجھ سے کوئی شکایت نہی ملنی چاہیے ۔۔

ابھی کچھ وقت یہاں ہی رک جا بس دو مہینہ بعد میں خود لینے آونگی میری دھی کو اور اپنے ساتھ لے جائونگی

مزنہ تو اُنکی بات سنتے ہی چہرے پر بے چینی واضح ہونے لگی

جسے آبان نے صاف دیکھا ،، وہ التجاء نظروں سے آبان کو ہی دیکھ رہی تھی

جی بہتر آبان اُنکی جانب دیکھتا مودب انداز میں بولا ۔۔

اور مزنہ کے پھولے ہوئے چہرے کو دیکھتا لب دباتا اپنی مسکراہٹ چھپانے لگا ۔۔۔

اُسکا ایک پل مزنہ کہ بغیر نہی تھا گزرتا وہ کہاں اُسے حویلی بیجھتا ،،لیکن ابھی سب کی خوشی دیکھتا وہ خاموش ہو گیا ۔