Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 32)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 32)
Robroye Yaar By Yumna Writes
سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے سوائے نور العین اور حمنہ بیگم کے “
وہ دونوں تو ابھی تک سکتے میں تھی،،نور العین کو تو اُمید ہی نہیں تھی کہ آبان اُسے طلاق دینے کی بات کے سکتا ہے۔۔
امی آپ نے سنا وہ کیا کہہ کر گئے ہیں ،،اگر آج کچھ ہو جاتا تو نور العین خوف زدہ لہجے میں گویا ہوئی
ہمم میں تو پہلے ہی کہتی تھی وہ شہری لڑکی بہت چلاک ہے تم ہی اُسکے آگے پیچھے گھومتی تھی اب دیکھ لو طلاق دلوانے والی تھی وہ نخوت سے کہتی کچھ سوچنے لگی
ابھی اُس نے اپنا بیٹا دیکھا نہیں تو کیسے تیور بدل گئے طلاق دینے پر آ گیا تھا اور کل کو اُسکا بیٹا اُسکے قریب ہوا تو پھر ہمارا کیا ہوگا ۔۔
اپنی اولاد کے لیے وہ تمہیں چھوڑ بھی سکتا ہے اگر مزنہ نے واپس آنے کی شرٹ ہی یہ رکھی تو پھر!!
نور العین اضطرابی کیفیت میں گھڑی اُنھیں دیکھتی بولی
پھر میرا کیا ہوگا امی؟؟..
میرے ہوتے ہوئے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا بس تم دیکھتے جاؤ میں کرتی کیا ہوں اس مزنہ اور اُسکے ب کے ساتھ
وہ کاٹ دار لہجے میں کہتی اٹھی ۔۔
چلو تم بھی اپنے کمرے میں بہت وقت ہو گیا ہے ،،میں اپنے کمرے میں جاؤنگی مجھے اس وقت آبان سے خوف آ رہا ہے مجھے کچھ کہہ دیا تو
ہمم بہتر ہے ابھی اُسکی نظروں سے اوجھل رہو ،، میں دیکھتی ہوں آگے کیا کرنا ہے
____________
وہ اٹھتا جلدی سے اپنا فون لیتا ہارون کو کال کرنے لگا ،،
دوسری جانب ہارون بیل کی آواز سے جاگتا نیند میں ہلکی آنکھیں کھولتا سکرین پر جگمگاتا اُسکا نام دیکھ کر اٹھ بیٹھا ۔۔
فون یس کرتے اُس نے پریشانی سے استفسار کیا
خیریت ہے آبان !! سب ٹھیک ہے ؟..
رات کے اس پہر اُسکی کال دیکھ کر وہ متفکر ہوتا پوچھنے لگا۔۔
یار سب ختم ہو گیا ،،میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اب تباہ کر دیا ۔۔
میرا بچہ ،،میرا بیٹا ” اُس نے مجھے اُسکا چہرہ تک نہی دیکھنے دیا ،،
وہ مجھے مار چکی ہے یار ،،وہ کہتی ہے میں اُس کے لیے مر گیا
وہ کرب زدہ لہجے میں اُسے سب بتاتا چلا گیا
ہارون اپنے دوست کے غم کو سنتا خود بھی متفکر ہوا اور اپنی چپ کو توڑتا گویا ہوا
میں نے تجھے پہلے کہا تھا آبان دو کشتیوں کا مسافر ہمیشہ ڈوبتا ہی ہے لیکن تو نے ایک نہ سنی
اب تو اپنا کیا ہی بگھت رہا ہے جو بیج تونے بویا تھا وہ کاتنا تو پڑے گا
عورت اگر احساس کرنے والی جتنی نرم دل ہوتی ہے نہ تو وقت آنے پر اُس سے سخت جان بھی کوئی نہیں
جو عورت ماں بننے کی تکلیف برداشت کر سکتی ہے تجھے کیا لگتا ہے وہ کمزور ہوگی۔
اور مزنہ بابھی تو ویسے ہی ایک بسئنس وومن ہیں ،،میں تجھے کہتا رہا اپنے گھر والوں کی باتوں میں نہ آئی لیکن تو نے میری ایک نہ سنی
تو نے سونے کو مٹی سمجھ کر پھینک دیا ،،اور مٹی کو سونا بنانے چلا تھا
لیکن ایسا ممکن نہیں میرے یار
اب جب وقت ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گیا تو تجھے خیال آ گیا کہ تو تجھے خیال آ گیا کہ تو غلطی پر تھا
لیکن اب کیا فائدہ پچھتاوے کا ” اُسکا تو سب کچھ تو تھا نہ
تو نے مر کر اُسے دیکھا نہ کہ وہ کس خال میں ہوگی ،، اُسکا باپ صدمے سے مر گیا ،، اُسکی ماں ہسپتال میں مر رہی تھی شوہر اور بیٹی کے غم میں ،، وہ معصوم لڑکی تیرے دھوکے سے کوما میں جانے والی تھی
یار کیا کیا بتاؤ تجھے میں ،،ایک پل کے لیے تو میرا اپنا دل کیا تھا کہ تیرے جیسا شخص اُس پیاری لڑکی کو ڈیزرو ہی نہیں کرتا ۔۔
وہ گہرا سانس خارج کرتا بولا جبکہ فون کے دوسری جانب بیٹھے بندے کو اپنا آپ ختم ہوتا محسوس ہوا
ماحول میں عجیب سی ویرانی چھائی ہوئی تھی
وہ ساکت بیٹھا تھا ۔۔
تو سن رہا ہے نہ آبان آخر ماحول میں پھیلی خاموشی کو ہارون کی آواز نے توڑا
یار تو نے خود اپنا گھر برباد کر دیا ۔۔
اُسکی آواز سے آبان کا سکتا ٹوٹا ” میں مانتا ہوں میرا قصور ہے ۔۔میں معافی مانگ رہا ہوں یار ایک بار اسے ایک بار کہہ مجھے معاف کر دے
تجھے تو وہ اپنا بھائی مانتی ہے نہ اُس کو بتا میں مجبور تھا ۔۔
وہ جو کہے گی وہ میں کرونگا لیکن مجھے معاف کر دے میرے بچے کو دیکھنے دے وہ بے بس سا التجاء کرتا آنکھوں میں نمی لیے بولا
جبکہ ہارون اُسکی رنجیدہ آواز سے اُسکا نم لہجہ محسوس کرتا اُسے خوصلہ دیتا بولا
تو صبح آ یہاں پھر مل کر جاتے ہیں اور بات کرتے ہیں آنٹی سے بھی ۔۔۔کیا پتہ بابھی کا بھی دل نرم پر جائے۔
کافی وقت اُس سے بات کرتا اُسے تسلی دیتا وہ فون بند کر گیا
اور آبان ارادہ کر چکا تھا کہ وہ مزنہ کو ہر حال میں منا لے گا وہ خود کو تسلی دیتا فریش ہونے کہ لیے اٹھا کہ اُسے سب کے جاگنے سے پہلے حویلی سے نکلنا تھا فلہال وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
_______________
وہ کاوچ پر بیٹھی خاموشی سے ذینی کو مصطفیٰ کے ساتھ کھیلتا دیکھ رہی تھی
تابش اور زینب مصطفیٰ سے کھیلنے کے لئے آئے تھے ۔۔
کچھ دیر باتوں کہ بعد وہ دنوں مصطفیٰ سے کھیلنے میں مگن ہو گئے۔۔
زینی مصطفیٰ کے چھوٹے چھوٹے کپڑوں کو دیکھ کر بے انتہا خوش ہو رہی تھی
محبت سے اُسکے پاؤں چومتی تو کبھی ہاتھ ۔۔
سرشار سی وہ تابش کی گود میں مصطفیٰ کو دینے لگی جو اُسے اٹھاتا ہوا ڈر رہا تھا اور زینب کہ ساتھ ساتھ سنایا بیگم کے بھی چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
دیکھ لیں مزنہ آپی اس نے کیا بیزنس سمبھالنا ہے جو چھوٹا سا بےبی نہیں پکڑ پا رہا
زینب جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کہ لیے بولی
جبکہ تابش بھی چڑتا ہوا بولا ” آپو اسے کہیں فضول میں پروفیشنل لائف کو نہ اندر لائے ۔۔
وہ تو ویسے میں تھوڑا سا ڈرتا ہوں اتنا چھوٹا ہے یہ ” کہی مجھ سے گر نہ جائے ۔۔
مزنہ دونو کو جھگڑتا دیکھ مسکراتی زینب سے مصطفیٰ کو لیتی بولی
مت تنگ کرو زینب ” تم دیکھنا اسکی شادی ہو لینے دو تب اپنے بچوں کو پکڑتے اُسے ڈر نہیں لگے گا
اپي ۔۔آپو آپ بھی وہ چیختا صدمے سے کہتا منھ پھولا گیا
اچھا اچھا نہیں کرتی کچھ یہاں اؤ میرے پاس ،، اُسے اپنے قریب کاوچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
اب دونو ہاتھ آگے پھیلاو ” اُس کے ہاتھ آگے بڑھانے پر اُس نے مصطفیٰ کو اُسکے ہاتھوں میں دیا
یہ لو بھئی دیکھو اب” اس میں ڈرنے والی کوئی بات ہے
آپی ي گر نہ جائے ،، تابش اسکو دیکھتا ڈرتے ہوئے بولا
کچھ نہیں ہوتا ” نہیں گرے گا تم رلیکس ہو کر بیٹھو
پیچھے کی جانب کھسکتا وہ مصطفیٰ کے ساتھ کھیلنے لگا
بس بہت ہوا ” تمہاری ٹرن ختم ،،اب مجھے دو اسے ۔۔زینب تنگ پڑتی کہتی اُسکی گود سے مصطفیٰ کو اٹھانے لگی
رکو ،،شش” ابھی یہ میرے پاس ہے کب سے تم ہی کھیل رہی تھی اُس سے
اُنھیں آپس میں مصطفیٰ کے لیے لڑتا دیکھ مزنہ کھلکھلاتی گویا ہوئی
یہ میرا بیٹا ہے کوئی ٹوآئے نہیں جو تم لوگ شور مچا رہے ہو
سنایا بیگم مسکراتی بیٹی کو ہنستا دیکھ نم آنکھوں کو صاف کرنے لگی
مہینے بعد اُنکی بیٹی کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ورنہ تو وہ مرجھا کر رہ گئی تھی۔۔
انکو آپس میں بحث کرتا چھور وہ ملازمہ کو ڈنر کا کہنے چلی گئی ۔۔
زیاد تر وہ خود ہی کھانا بناتی تھی اور جب سے مزنہ آئی تو وہ اُسکی صحت کا بہت خیال رکھ رہی تھی۔
__________________
صبح سے آج وہ کافی میٹنگز اٹینڈ کر چکی تھی وہ تھکی ہاری اپنے آفیس میں داخل ہوئی
گلاس ڈور لوک کرنے کے بعد وہ خاموشی سے کرسی سے پشت ٹیکاتی آنکھیں موند گئ
خود کو بے تحاشا مصروف کرنے کے باوجود بھی اُس شخص کا خیال کہی نہ کہی سے دماغ میں آ جاتا تھا
وہ بار بار خود کو جھٹکتی ” لیکن ایک وقت گزارا تھا اُس نے اُس شخص کے ساتھ
اتنی جلدی تو وہ بھولنے والا نہ تھا ۔۔ضبط کے مارے آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔وہ آنکھیں کھولتی کرب زدہ سا سانس خارج کرتی گھر جانے کے لئے کھڑی ہو گی
اُس میں مزید یہاں رکنے کی سکت نہ تھی ۔۔
اپنے سرخ ہوتے چہرے سے آنسو صاف کرتی وہ گلاسز لگاتی باہر نکلی
ڈرائیور کو اشارا کرتی وہ گاڑی میں بیٹھتے مبین ملک کو کال کرنے لگی۔۔
ڈرائیور ایک نظر اُس کے سرخ چہرے کی طرف ڈالتا واپس سے سامنے کی جانب متوجہ ہو گیا
اُسے فون میں مگن دیکھ کر اُس نے ہارون کے سیل فون پر مس بیل دے دی ۔۔
ہارون کو سب اچھے سے جانتے تھے ۔۔۔کچھ ہارون پارٹیز میں بھی مصطفیٰ کمال سے ملتا رہتا تھا اُس کے بعد اُنکا اتنا گہرا تعلق ہو گیا
تو اکثر اُسکا شاہ ولا آنا جانا لگا رہتا تھا ۔۔
اُسے ایک ،،دو دن پہلے ڈرائیور نے ہی تمام روداد سنای جو شاہ ولا میں ان لوگو پر بیتی ۔۔اُسے سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اُسے اس سب کا علم ہوا
وہ تو مزنہ کو اپنی بہن کہتا تھا اور اس کے ہوتے ہوئے اُسکی بہن اکیلی رہی
ہارون کی بیوی کینیڈین تھی اور کچھ انتظامی امور کے باعث اُسے واپس جانا پڑا تھا
ہارون کو جب اُسکی طبیعت خرابی کا علم ہوا تو وہ بھی کینڈا چلا گیا
آبان سے اُس دن اُسکی آخری ملاقات تھی اُسکے جاتے ہی وہ کینڈا نکل گیا
اُسکی شادی اُسکے مامو کی بیٹی کے ساتھ ہوئ تھی وہ ساری فیملی کینڈا میں رہائش پذیر تھی
اب جب اسکی بیوی کے ڈیلیوری کہ دن قریب تھے تو وہ واپس کینڈا چلے گئ تھی
اپنی بیوی بچے کی پریشانی میں وہ مزنہ کو بلکل اگنور کر گیا
کل جب اُسکی واپسی ہوئی تو اُسے شدید افسوس ہوا یہ جان کر جو ڈرائیور نے اسے بتایا
اب وہ آبان کے ساتھ شاہ ولا جانا چاہتا تھا کہ کچھ تو بہتری ہو گی دونو کے رشتے میں
وہ مانتا تھا کہ آبان بہت غلط کر چکا ہے لیکن اُسے اُمید تھی کہ مزنہ اُسے معاف کر دے گی
اسی اُمید کے تخت اُس نے آبان کو گھر بلایا تھا۔۔
