Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 34)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 34)
Robroye Yaar By Yumna Writes
تمہیں ذرا شرم نہ آئی ایسی بے خودہ حرکت کرتے ہوئے ایک جائیداد کے پیچھے تم نے اپنے شوہر کی جان کی جان داؤ پر لگا دی
مزنہ صدمے سے گنگ اس پر چلای ،،آنکھوں کے سامنے آهان کا مسکراتا ہوا چہرہ آ گیا ۔۔دل کو اچانک تکلیف پہنچی”
یہی تو اب ہم تمہیں یہاں بتانے آئیں ہیں لڑکی” کہ اگر ہم اُس کی جان لے سکتی ہیں تو تم کیا چیز ہو
حمنہ بیگم سرد لہجے میں گویا ہوئی ،،
اور اب تو ویسے بھی تم اکیلی نہیں ہو تمہارا بچہ بھی ساتھ ہے ۔۔سوچو اگر اُسے کچھ ہو گیا تو “
وہ ہونٹوں کو گول کرتی ماتھے پر انگلی سے اشارہ کرتی کہتی مزنہ کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گی
سمجھ تو تم گئ ہو گی اسلیے آبان سے دور رہو ۔۔ہو سکے تو جلد از جلد اُس سے طلاق لو اور تمام روابط ختم کرو
واپسی کا تو تصور بھی نہیں کرنا ورنہ میں تمہارے بیٹے کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتی ۔۔کل کو اُسے کچھ ہو جائے تو ” تمہارے پاس تو اب اُسکے سوا کوی ہے بھی نہیں۔ ۔۔
مزنہ اُنکی بات پر ترپ اٹھی” آگے بڑھتے ایک زور دار تھپر حمنہ بیگم کے چہرے پر مارا”
حمنہ بیگم جو اس سب کے لیے تیار نا تھی اچانک لگنے والے طمانچے سے دو قدم پیچھے کو ہوئی ،،،
نور العین گنگ سی کبھی ماں کی جانب تو کبھی مزنہ کی جانب دیکھنے لگی
حمنہ بیگم گال پر ہاتھ رکھے مزنہ کو دیکھ رہی تھی اُنھیں تو اُسکے اس فعل سے دھچکا ہی لگا تھا
میرے بچے پر اپنی گندی نظر رکھنے کی کوشش کی تو دونو ماں بیٹی کو اسی وقت یہی زمین میں دفن کر دونگی لال ہوتے چہرے کے ساتھ مزنہ سلگتے لہجے میں پھنکاری ” ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بیٹے کہ بارے میں بات کرنے کی تمہاری”
جی تو چاہ رہا ہے تم دونوں کو زندہ آگ لگا دوں شدید اشتعال انگیز لہجے میں اُنھیں دیکھتی پھار کھانے والے انداز میں دھاڑی
تم لوگو کو کیا لگا کہ میں ،،مطلب مزنہ شاہ ایک بزنز وومن ،،جو اپنے باپ کے ساتھ مل کرکے ایک ایمپائر چلاتی تھی اتنی کمزور ہونگی کہ تم لوگو کی اس سو کالڈ دھمکیوں سے ڈر جاؤنگی۔۔
اُنکی عقل پر یہ طنزیہ مسکراتی گویا ہوئی “
نور العین مزنہ کو مارنے کے لیے آگے بھری لیکن اُس سے پہلے ہی سنایا بیگم نے پیچھے سے اُسکا ہاتھ تھامتے
مورتے ایک تھپڑ نور العین کے گال پر رسید کیا
نور العین سرخ پڑتی گال پر ہاتھ رکھے اُنھیں کچھ بولنے کے لیے منھ کھولا ہی تھا جب اپنے عقب سے آتی آواز کی جانب متوجہ ہوئ
آبان اور ہارون شاہ ولا داخل ہوئے تھے کہ سامنے نور العین اور حمنہ بیگم کو کھڑے دیکھ دونو چونکے ابھی اُنہیو نے آگے کو قدم بڑھائے ہی تھے کہ نور العین کو گال پر ہاتھ رکھے دیکھ آبان تیزی سے اُنکی جانب آیا
ایک سیکنڈ میں نور العین نے اپنے چہرے پر مسکینی طاری کی اور آبان کو قریب آتا دیکھ جلدی سے آگے کو بڑھتی روتے ہوئے اُسکے سینے سے لگ گئی
انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا آبان ” میں اور امی تو یہاں آپی کو راضی کرنے آئی تھی لیکن انہوں نے ہماری ایک نہ سنی وہ مصنوعی آنسو صاف کرتی بھراے ہوے لہجے میں کہتی اُس سے دور ہوئ
حمنہ بیگم جو لہو چھلکاتی نظروں سے مزنہ کو دیکھ رہی تھی آبان کو دیکھ کر اُسکے قریب آتی گویا ہوئی
اب تم ہی سمجھاؤ اسے میرے بچے ” ہم دونو نے تو بہت عزت کروا لی اپنی ۔۔ہم تو یہاں صرف تمہاری خاطر آئے تھے لیکن اس لڑکی نے ہمیں سب کے سامنے دو کوری کا کر دیا حمنہ بیگم افسردہ چہرے سے بولی
نور العین چلو بیٹا اور کتنی عزت کروانی ہے اپنی “
بیٹی نے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا اور ماں نے تم پر” بیٹا ہم نے بہت کوشش کی اسے سمجھانے کی لیکن یہ لڑکی سننے کو تیار نہیں ۔۔اسکے سینے میں جیسے دل نہیں پتھر ہو
کہتی وہ نور العین کو لیے جانے لگی لیکن مزنہ کی آواز نے ان کے قدم روک لیے ۔۔
رکو ” کچھ بھول رہی ہو اپنا تم لوگ ” آبان کے سامنے آتے مزنہ نے اُنھیں روکا ،،
وہ رکتی الجھن زدہ سی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
جس کے لیے تم لوگ آئے ہو اُسے تو بھول کے جا رہے ہو
وہ ایک ناگوار نظر آبان پر ڈالتی کہتی آبان کی جانب بڑھنے لگی اور آبان ساکت سا اپنا دل ڈوبتا محسوس کر رہا تھا
ماحول میں ایک عجیب قسم کی وحشت اور پر اسراریت تھی وہ دونوں ماں بیٹی بھی خاموشی سے اُسکی کاروای دیکھ رہی تھیں
اس سے پہلے کے مزنہ آبان کا ہاتھ تھامتی ہارون نے قریب آتے آنکھوں میں التجاء لیے مزنہ کی جانب دیکھا
بابھی بس تھوڑا سا وقت دے دیں اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا ” میں مانتا ہوں آبان سے غلطی ہوئی ہے لیکن آپ بھی جانتی ہیں کہ یہ ایسا نہیں ہے ۔۔
پلیز اپنے بھائی کی خاطر”
لوگو کی حقیقتوں سے انجان ہے آخری بات اُسنے حمنہ بیگم کی جانب دیکھتے کہی اور وہ اُسکی تکنی سے گھبراتی پہلو بدل گئی
کیا چاہتے ہیں آپ لوگ ؟…کیا وقت دوں میں آپ کو آبان چودھری ” کہ مجھے اپنی مجبوری کا بتایۓ آپ۔۔
آپ اتنے مجبور تھے کہ اپنی بیوی کو یہاں اکیلا چھوڑ کر آپ کسی دوسری لڑکی کے ساتھ تھے اسکو ہمدردی دیکھا رہے تھے،،
یاں یہ سمجھو کہ آپ مجھے یہاں راتوں کو اکیلا چھوڑ کر اپنی دوسری بیوی کو بانہوں کا ہار بنائے اُسکا غم ہلکا کر رہے تھے۔۔
وہ جذبات سے عاری چہرے پر سختی لیے گویا ہوئی
آبان کو اُسکے لفظوں کے وار سے اپنا آپ لہو لوھان ہوتا محسوس ہوا
وہ کمال ضبط کے ساتھ اُسکے سامنے جھکتا اُسکا ہاتھ تھامتا دھیمے گھمبیر لہجے میں گویا ہوا
میں جانتا ہوں بہت تکلیف دے چکا ہوں تمہیں ” اسے میری زندگی کی پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دو ” جی کڑا کرکے اُس نے اُس کے ہاتھ تھامے تھے کہی جھٹک ہی نہ دے
مزنہ نے اُسکے ہاتھ نہیں جھٹکے ” اُسے دیکھتی وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی
میرے بابا واپس لا کر دے سکتے ہو” اگر انکو لا دو تو تمہیں معاف کیا آبان چودھری ” ۔۔میری عزت واپس لا سکتے ہو جیسے تم نے سب کے سامنے دو کوری کا کر دیا
میرا ٹوٹا ہوا مان واپس لا سکتے ہو ،،، میری ماں کو اکیلے ہاسپٹل میں خوار ہوتا دیکھ ،، اُنکی تکلیف وہ سب بدل سکتے ہو
آبان نے ایک بے بس سی نظر اُسکے چہرے پر ڈالی
نہیں نہ تم کچھ نہیں کر سکتے ” تم ہماری تکلیف نہی سمجھ سکتے ،، تمہیں کبھی معافی نہی ملے گی آبان چوہدری۔۔۔
اور تم اس قابل ہی نہیں کہ میں تمہارے ساتھ رہوں تم انہیں دھوکے باز عورتوں کے ساتھ رہنے کے قابل ہو کیوں کہ تم لوگ ایک جیسے ہو
ہتک اور شرمندگی سے نور العین اور حمنہ بیگم کا چہرہ لال ہو گیا جبکہ آبان خود پر ضبط کے کرے پہرے بیٹھاے
خاموشی سے اُسے سن رہا تھا
اتنی ذلت ،،شرمندگی کے باوجود وہ ڈٹا رہا کہ وہ غلطی پر تھا
ہارون اپنے دوست کی حالت پر لب بینچ گیا ۔۔اتنا بڑا بیزنس چلانے والا شخص آج کیسے سر گرائے کھڑا تھا
وہ جانتا تھا کہ اُسکی غلطی بہت بڑی ہے اسی لیے مجرموں کی طرح اُس کے سامنے خاموشی سے کھڑا تھا
وہ اُس سے بے انتہا بد گمان ہو چکی تھی اور آبان چوہدری کسی بھی حال میں اُسکی بدگمانی ختم کرنا چاہتا تھا ایک بار پھر سے اُسے اعتماد میں لینا چاہتا تھا
لیکن جو غلطی وہ سرزرد کر چکا تھا اُس کے بعد کہا ممکن تھا یہ
بس کریں آبان اور کتنی عزت نفس مجروح کریں گے یہاں اپنی چلیں یہاں سے نور العین سرعت سے آگے بھرتے اپنے محصوص نرم لہجے میں بولی
اتنی تذلیل کے بآوجود آبان اُس کے سامنے کھڑا تھا اپنا آشیانہ بچانے کی ایک آس لیے “
ہاں ہاں لے جاؤ اپنے پیارے شوہر کو اور دوبارہ کبھی یہان پلٹنے کی کوشش نہ کرنا “
تم اتنی پتھر دل تو نہ تھی ” ایک بار مجھے معاف کر دو تم جو کہو گی میں وہ کرنے کے لئے تیار ہوں آبان اُسکے سرد اندز کو دیکھتا بولا
لیکن اب میں ایسی ہی ہوں سرد ٹھنڈے لہجہ میں کہتی وہ آبان چودھری کو بے کل کر گئ
وہ بے بسی کی انتہا پر تھا ۔۔۔
تم اس شخص کے لیے میرے گھر آئی تھی نہ تو جاؤ دیا تمہیں ي شخص بھیک میں ” ارے میں تو کسی دوسرے کی نگاہ نا اپنی چیز پر پڑنے دوں اور یہ شخص تو بٹا ہوا
اور استعمال شدہ ہے اور گھٹیا مواد سے مجھے سخت نفرت ہے
وہ تنے تاثرات کے ساتھ اُسے دیکھتی بولی
کراہیت محسوس ہو رہی ہے مجھے تم لوگو سے ” عجیب گھن آ رہی ہے نکلو میرے گھر سے سب “
اُس کے ہونٹوں سے نکلے زہر ہند الفاظ سے آبان کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا
وہ اُسکی ایک ہی تکرار سے بے زار ہو چکی تھی
میں تم پر اپنا سب کچھ لوٹا چکی ہوں آبان ” اب میرے پاس تمہیں دینے کہ لیے کچھ بھی نہیں
میرے اعتبار ، بھروسے محبت کو تم نے روند ڈالا ہے اب کیا چاہتے ہو مجھ سے تم
آبان بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگا ۔۔۔پھر نرم لہجے میں گویا ہوا بس ایک بار مجھے میرا بچہ دیکھنے دو ۔
نہیں بلکل بھی نہیں تم لوگو کا سایہ تک میں اپنے بچے پر برداشت نہی کرسکتی ۔۔۔میرے باپ کے قاتل ہو تم سب
مزنہ بپھری شیرنی کی طرح اُس پر چیخی۔۔
سنایا بیگم جو خاموشی سے سب کچھ ملاحظہ کر رہی تھی ہارون کی جانب دیکھتے گویا ہوئے
ہارون لے جاؤ انہیں یہاں سے یہاں کوئی نہیں رہتا انکا اور دوبارہ کبھی مر کر بھی یہاں کا رخ نہ کرے
اور جلد از جلد میری بیٹی کو طلاق دے دے ورنہ ہمیں کورٹ جانا پڑے گا ۔
وہ ان کی بات پر ترپ کر مزنہ کو دیکھنے لگا جو ناگواری سے رخ پھیر گئ
چلو آبان ” ہارون کی آواز سے اُسے لگا جیسے اُسکے کانوں میں کسی نے صور پھونک دیا ہو
اپنی جان فنا ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ” یار اسے کہ بس ایک بار مجھے میرا بیٹا دیکھنے دے وہ بے بس سا نم آنکھوں سے ہارون کو دیکھتا بولا اور اُسکی جانب بھرنے لگا لیکن ہارون نے اُسے شانوں سے تھامتے وہی روک لیا
اُسکی گرفت سے خود کو چھرانے کی کوشش کرتا وہ بے حال ہو رہا تھا
میں مر جاوں گا مزنہ پلیز میرے ساتھ یہ ظلم نا کرو “
وہ دھارا تھا ماحول میں پھیلی وحشت میں اُسکی دردناک دھار گونجھی تھی لیکن اُسے پرواہ نا تھی وہ ہے حس بنی ہوئی تھی
یہ جو پتھر کے ہو گئے ہیں لوگ
اپنے حصے کا رو چکے ہیں ۔۔۔۔
ہارون اُسے لیتا باہر کی جانب جانے لگا لیکن وہ ترپتا چہرہ موڑے اُسے دیکھ رہا تھا جو اُسے دیکھنے سی مکمل گریز برت رہی تھی
آنسو ٹوٹ کر آبان کی دھاری میں جذب ہوئے تھے وہ ازیت اور تکلیف سے رو رہا تھا لیکن اُسے پرواہ نا تھی
ہارون انہیں اُنکی گاڑی میں بیٹھاتے آبان کو مشکل سے سنبھالتا گاڑی میں بیٹھاتا اپنے گھر لے کر گیا تھا
مجھے مار دے یار ۔۔یہ تکلیف میری برداشت سے باہر ہے ۔۔میں پل پل مر رہا ہوں ۔۔
آنسو آنکھوں سے روا تھے وہ اونچا لمبا مضبوط اعصاب کا مرد رو رہا تھا
یار حوصلا کر سب ٹھیک ہو جائے گا میں بات کرو گا بابھی سے اُسکی خالت دیکھ ہارون کے اپنے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔۔
جیسے تیسے وہ اُسے گھسیٹ کر اپنے گھر لے کر گیا تھا اور نیند کی گولی جوس میں ملا کر اُسے زبردستی پلایا
تاکے کچھ وقت اُس کے دماغ کو سکون ملے۔
اُسے جاتا دیکھ مزنہ روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئی
کب کے ضبط کیے آنسو بہنے لگے
دروازے کے ساتھ ٹیک لگاتی وہ بیٹھتی چلی گئی
آج اُس نے دل کو سخت کرکے بہت مشکل سے یہ فیصلہ کیا تھا
اُسے اس طرح دیکھ کر اُسکا اپنا دل تکلف میں مبتلا ہو گیا تھا
ایک دل کیا اُسکی ساری خطآئیں معاف کر دے لیکن اُسکے دھوکے پر دل پر جو کاری ضرب آئی تھی جو دنیا کا خوبصورت رشتہ اس سے چھین گیا تھا ۔۔
اُس نے کتنی تکلیف دیکھی تھی ،،اپنی ماں کو اُس سے چھپ چھپ کر روتا دیکھا تھا وہ سب یاد کرتی سسک پڑی۔۔
مانتا ہی نہیں دل تمہیں بھولنے کو
میں ہاتھ جوڑتا ہوں وہ پاؤں پر جاتا ہے۔۔
