Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 30)

Robroye Yaar By Yumna Writes

اپنے گالوں سے آنسو صاف کرتے اُس نے گلاسز لگای “

شاہ ولا کے قریب گاڑی رکی جبکہ دوسری جانب عین اُس کے سامنے آبان چوہدری کی بھی گاڑی رکی۔۔

وہ فائلز اٹھاتے ڈور ان لوک کرتی باہر نکلی اور اسی لمحے آبان چوہدری بھی اپنی گاری سے باہر نکلا تھا دونو ایک دوسرے کی موجودگی سے انجان تھے

اچانک نظروں کا زوردار تصادم ہوا تھا ۔

آبان چودھدری کی تو اُسے اتنے وقت بعد دیکھ کر سانسیں تھمی تھی ۔۔

وہ بھاری قدم اٹھاتا اُس کے قریب جا کھڑا ہوا ۔

ہوا میں ایک سکوت سا چھا گیا ،،،آبان چوہدری نظروں کی پیاس بجھاتا اُس کے خوبصورت سراپے کو دیکھ رہا تھا

آنکھیں اُس کے سوگوار حسن کا طواف کر رہی تھی

وہ گلابی رنگ کے سادہ سے کرتے کھلے آسمانی رنگ کے ٹراؤزر میں ،، سکارف گلے میں ڈالے ” بالوں کا میںسی جوڑا بناے ہوے تھی

بالوں کی کچھ آوارہ لیٹن گالوں پر آ رہی تھی۔۔

سفید رنگت پر مقابل کو دیکھتے غصے کی زیادتی سے پل میں سرخی چھآئی تھی ۔

مزنہ اُسے اپنے سامنے کھڑا دیکھ لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ اندر کی جانب جانے لگی

لیکن اچانک مقابل کی مضبوط گرفت میں اپنا ہاتھ محسوس کیا اور ایک جھٹکے سے مڑی “

آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ،،آگ بگولا ہوتی وہ تنفر سے کہتی اُسکا ہاتھ جھٹک گئی

مزنہ بس ایک بار میری بات سن لو پلیز ،،،آبان منت بھرے لہجے میں گویا ہوا جبکہ مزنہ اُسکی بات کا اثر لیے بغیر اندر کی جانب قدم بڑھانے لگی۔۔

اُسے جاتے دیکھ اُسکی سانسیں رکنے لگی تھی ۔۔

وہ پل کی تاخیر کیے بغیر ایک جست میں اُس تک پہنچا

مزنہ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی ،، پلیز میری بات تو سن لو ۔۔

مجھے اپنے بچے کو تو دیکھنے دو وہ لہجے میں ترپ لیے بولا،،وہ بے بس سا اُسکی جانب دیکھ رہا تھا۔

مزنہ جھٹکے سے اُسکی جانب پلٹی

گلاسز اُتار کر ہاتھ میں پکڑتی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی

کیا کہا بچہ ،،،کس کا بچہ آبان چوہدری “

تمہاری یہاں کوئی اولاد نہیں ،،وہ صرف میرا بیٹا ہے تعلق ختم کر چکی ہوں میں تم سے ۔۔

مر چکے ہو تم ہمارے لیے اس لیے بہتر ہے کہ میرے بچے کا ذکر بھی اپنی زبان پر نہ لانا ۔۔

تمہارا برا سایہ میں کبھی اپنے بچے پر نہیں پڑنے دونگی

وہ تیش کے عالم میں پھنکاری تھی

اور آبان چوہدری ساکت سا اُسے دیکھنے لگا ،،

اتنی نفرت ” کیا اُسکا گناہ قابل معافی نہ تھا ۔

اُس کے لہجے میں گھلی نفرت کی وہ تاب نہ لا پا رہا تھا

ہوا میں عجیب سی وحشت چھا گئ تھی ،،آبان چوہدری اُسکے لفظوں کو برداشت نا کر پا رہا تھا

وہ جو محبت میں پاگل لڑکی تھی اب اسے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کر پا رہی تھی

اور یہ بات اُس کے لیے جان لیوا تھی

اُس کے اوسان خطا ہونے لگے تھے،،،

اتنی نفرت ” محبت کرتی تھی تم مجھ سے ۔۔ بے بسی سے وہ اُسے دیکھتا بولا

محبت کا تو پتہ نہیں لیکن نفرت دل سے کرتی ہوں

اُسکے حقارت زدہ انداز سے دل سکڑا تھا

ایک بار بس مجھے میرے بیٹے کو دیکھنے دو پلیز وہ منت سماجت کرنے لگا

بلکل بھی نہیں سوچنا بھی مت۔۔

جس طرح تم نے مجھے میرے بابا سے دور کیا تم بھی اپنے بیٹے سے دور رہو گے

جس طرح میں ترس رہی ہوں اپنے بابا کے لیے اسی طرح تم بھی تر سو گے

تمہاری وجہ سے میں نے اپنے بابا کو کھو دیا ،، تم ذمےدار ہو میرے بابا کی موت کے ۔۔

وہ اشتعال سے غرائ تھی ۔۔

بس ایک بار اجازت دے دو میں دیکھنا چاہتا ہوں اپنے بچے کو ،،دل ترپ رہا تھا اپنے بچے کو دیکھنے کہ لیے

تمہیں ہماری محبت کا واسطہ ” شدت ضبط سے وہ سرخ پڑتا لب بینچتا کہتا اُس سے محبت کی بھیک مانگنے لگا

کونسی محبت “”

محبت نہیں حوس تھی وہ تمہاری

جاؤ یہاں سے آبان چوہدری تمہارا یہاں کوئی نہیں رہتا کہتی وہ پلٹ گئی تھی

اور جاتے جاتے اُسے ایک گہری کھائی میں دکھیل گئ تھی

وہ جو محبت کو حوس سمجھتے ہیں نہ”

تو کہہ دو ان سے

کہ ہاں بدن ہی چاہیے

پر تا قیامت چاہیے ۔۔۔

وہ اُسے ساکت چھوڑ کر جا چکی تھی ۔۔

آبان چوہدری اُسے دھندلی آنکھوں سے جاتا دیکھ رہا تھا

اُس نے تو اُس سے اسکے بچے کو دیکھنے کا حق تک چھین لیا تھا ۔۔

نام تک نا معلوم تھا اُسے ،، وہ جس کے آنے سے پہلے ہی دل اُس لمحے کے لیے ت تھا

اب جب وقت قریب آیا تو وہ اُسکی خشبو تک نہ پہنچ سکتا تھا

آبان کسی ہارے ہوے جواری کی طرح شاہ ولا کے گیٹ سے ہی واپس لوٹا تھا

واپسی پر ایک آنسو ٹوٹ کر اُسکی بیئر میں جذب ہوا تھا

سنو پھر کسی موڑ پر مل جاوں تو منہ پھیر لینا

پرانا عشق ہوں اُبھرا تو قیامت ہو گی ۔۔

دوسری جانب مزنہ کا گھر میں داخل ہوتے ہی ضبط ٹوٹا تھا اور و پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔

_______________Y❣️W

غصے سے بپھرا وہ پہلی فلایٹ سے حویلی گیا تھا

دل سب کچھ تباہ و برباد کرنے کو کر رہا تھا،،،اتنے قریب جا کر بھی وہ اپنے بچے کو نہ دیکھ سکا

حویلی پہنچنے تک اُسکے غصے میں اضافہ ہو چکا تھا

خویلی کا گیٹ کھلا ہوا تھا ،،، حسن چوھدری ابھی ہی اپنی گاڑی لے کر نکلے تھے حویلی سے۔۔

وہ گاڑی سے تیزی سے باہر نکلتا اندر کی جانب بھرا تھا

اُسکا لال چہرہ دیکھ کر گارڈ بھی سہم گیا تھا

اندر داخل ہوتے ہی اُس نے کورٹ اُتار کر لاؤنج میں پٹحا

نور العین جو فجر کو کھانا کھلانے میں مصروف تھی ایک دم اپنی جگہ سے اچھلی ۔۔

باقی سب بھی اُسے اتنے دنوں بعد سامنے دیکھ اور اُسکی اس حرکت پر صدمے سے گنگ اُسے دیکھنے لگے

اُس کے لال چہرے کو دیکھ کر ایک دم سے حمنہ بیگم کے چہرے پر بھی خوف نے جگہ گهیر لی تھی

کیا ہوا ہے آبان ؟… یہ کیا طریقہ اختیار کر رہے ہو تم”

بی اماں نے سخت لہجے میں کہا ۔۔

لیکن مقابل تپا بیٹھا تھا اسلیے سب پر پھٹ پڑا

تو کیا کروں میں ،،کسی قابل چھوڑا ہے آپ لوگو نے مجھے ،،

وہ سرخ آنکھوں سے کھا جانے والے لہجے میں غرایا تھا

آپ لوگو کی بے جا ضد کی وجہ سے میں نے نکاح کیا ۔۔

پھر اس رشتے کو آگے بھی بڑھایا کہ کہی دوسری بیوی کے ساتھ زیادتی نا ہو ۔۔بے شک اُسکی وجہ سے میری محبوب بیوی کو تکلیف پہنچ جائے۔۔

میں نے پھر بھی کچھ نہ کہا صرف آپ لوگو کی محبت میں ،،میں نے اپنی بیوی کو دھوکے میں رکھا

اُس سے اس رشتے کو گناہ کی طرح چھپا کر رکھا ۔۔۔

لیکن آپ لوگو نے کیا کیا ؟…

میرا دل کر رہا ہے ابھی اسی وقت کھڑے کھڑے اسے طلاق دے دوں”

تاکہ میرے گناہ کا کچھ تو ازالہ ہو سکے۔۔

وہ عین اُس کے سامنے آ کر اشتعال انگیز لہجے میں بولا تھا

نور العین کو تو اپنی جان فنا ہوتی محسوس ہوئی تھی

یہ ،،ي کیا کہہ رہے ہو تم آبان !!

وہی جو آپ سن رہی ہیں ۔۔

وہ بھی اونچی آواز میں بولا تھا

نہیں میرا مطلب ہوا کیا ہے بیٹا؟..

حمنہ بیگم اپنے لہجے کو ختی لاملکان نرم کرتے ہوئے گویا ہوئی ۔۔

یہ آپ پوچھ رہی ہیں چاچی ؟…

وہ تمسخرانہ مسکراہٹ سے اُنھیں دیکھتا گویا ہوا

سب کچھ تو کر آئی ہیں آپ ۔۔۔اب کچھ رہتا ہے باقی کرنے یاں پوچھنے والا

بات کیا ہے آبان بتاؤ تو سہی میرا بچہ مریم بیگم محبت بھرے لہجے میں بیٹے کو دیکھتی استفسار کرنے لگی

سب پریشان نظروں سے اُنھیں دیکھ رہے تھے ۔۔

آخر بات کیا ہے ہمیں بھی تو علم ہو

آپکو بتایا نہی چچی نے !!… چلیں میں بتا دیتا ہوں

انہوں نے جان بوجھ کر مزنہ کو سب کچھ بتایا ۔۔

جبکہ یہ اس بات سے با خوبی واقف تھی کہ وہ اس نکاح کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتی

آنکھوں میں سرد تاثر لیے وہ اُنھیں بری طرح سے گھورتا بولا تھا جبکہ حمنہ بیگم کو تو اُسکے چہرے کو دیکھنا محال ہو گیا تھا ۔۔

اُسکی آنکھوں سے اُنھیں وحشت ہونے لگی تھی ۔۔وہ تھوک نگلتی کچھ بولنے کے لیے منھ کھولتی کہ ایک بار پھر آبان بول اٹھا

صرف ان کی وجہ سے اور آپ لوگو کی ضد کی وجہ سے آج میری بیوی مجھ سے اتنی دور ہے ۔۔

مجھے میری اولاد تک کو دیکھنے نہیں دیا

میرا بیٹا ” میں اُسے نہیں دیکھ پایا ۔۔

میری بیوی جانے اکیلی کن مشکل خالات کا اکیلے سامنا کرتی رہی جبکہ میں واقف بھی تھا کہ اُسکا میرے علاوہ کوئی نہیں اس دُنیا میں ۔۔

جانتے بوجھتے میں نے آپ لوگو کی محبت میں یہ پاگل پن کیا ۔۔

بی جان آپ نے ہی کہا تھا نا کہ اپنو کو ڈھانپنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں ۔۔۔

لیکن میں برا بن گیا اور مجھے برا بنانے والے آپ سب ہیں

میں ایک بزنس ٹائکون ” جگہ جگہ گھومنے والا بندہ،، جو کسی کو اپنے سامنے ٹکنے نہیں دیتا وہ اپنے گھر والوں کے ہاتھوں کی کٹ پتلی بنا پھر رہا ہے۔۔

کتنا برا انسان ہوں میں “کتنا برا شوہر ،، اپنؤ کو ڈھانپتے ڈھانپتے اپنی بیوی کو تنہا کر دیا میں نے ۔۔

وہ آخر میں تھک ہار کر شکست خوردہ لہجے میں بولا

جبکہ سب کی سوئی تو اُسکے بیٹے کی بات پر اٹکی پری تھی

بی جان اور مریم بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جبکہ نور العین اور حمنہ بیگم کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔

ایک سایہ سا لہرایا تھا دونو کے چہرے سے ۔۔

لیکن فلحال وہ خاموش سانسیں روکے بیٹھی تھی

کیا کہا آبان بیٹا ہمارا پوتا ” ۔۔۔ہمارا وارث”..

مریم بیگم دل پر ہاتھ رکھتی اُس کے قریب گئ تھی

اُس نے ہولے سے سر ہلایا تھا ۔۔

وہ تھک گیا تھا اس سب سے ۔۔

بی اماں اپنا چہرہ ندامت اور شرمندگی کی وجہ سے اٹھا ہی نہ سکی۔۔

کیوں کہ وہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اُسے مجبور کیا تھا

میرے بچے تم فکر مت کرو ہم خود اُس سے بات کریں گے وہ سن لے گی ہماری بات ۔۔

اُسکی ڈھارس بندھاتی وہ گویا ہوئ ۔۔

نہیں سنے گی وہ کسی کی بات ۔۔ہماری وجہ سے اُسکا باپ مر چکا ہے ۔۔جس دن انہوں نے اُسے سچای بتائی تھی اسی دن اُسکا باپ مر گیا ۔۔وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائے ۔۔

اور میں جانتا ہوں کہ وہ کبھی کسی صورت بات نہی سنے گی آپ لوگو کی

تم فکر نہ کرو ہم بات کریں گے وہ مان جائے گی نا جانے کیوں اُنکا اپنا دل بھی پریشان ہو گیا تھا ۔۔

کچھ اپنے پر پوتے کو دیکھنے کے لیے دل بے تاب ہونے لگا تھا ۔۔

میں نے کچھ غلط نہیں کہا آبان صرف سچای بیان کی ہے آج یاں کل تو ویسے بھی اُس کے سامنے آنی ہی تھی

آبان لال انگارہ آنکھوں سے اُنہیں دیکھا

اور سب کو نظر انداز کرتا بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔

پیچھے حمنہ بیگم اور نور العین نے اپنا اٹکا سانس بخال کیا تھا ۔۔

ان کے کان بجنے لگے تھے اُسکی طلاق کی بات پر ۔۔اور نور العین کی آنکھوں کے سامنے تو باقاعدہ اندھیرا چھانے لگا تھا ۔۔