Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 22)

Robroye Yaar By Yumna Writes

اگلے دِن آبان نور العین اور حمنہ بیگم کے ساتھ اسلام آباد کی ایک جانی مانے لیڈی ڈاکٹر کے پاس اُسے لایا تھا۔۔

نور العین نے بہت کہا کہ یہی قریب سے ہی چیک اپ کروا لیتے ہیں وہ روز تھوڑی نہ اسلام آباد جا سکتے ہیں۔۔

لیکن حمنہ بیگم کا کہنا تھا ایک بار تفصیلی جائزہ ہو جائے اُسکے بعد قریب شہر چلے جایا کریں گے ۔

فجر کی پیدائش پر بھی اُسکا مکمل چیک اپ کے لیے وہ اسی ڈاکٹر کے پاس آئی تھی۔

آبان اسلیے جلد ہی اُنہیں لے کر آ گیا تھا تاکہ کچھ وقت کے لیے وہ مزنہ سے بھی مل آئے۔۔

جانے آنے سے پہلے بھی اُسکا دل عجیب سے خدشوں میں گھیرا ہوا تھا ۔۔اور اب بھی ایک بے چینی سی تھی جو کہی سکون نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔

نور العین کو ڈاکٹر کے روم تک چھوڑتا وہ ڈرائیور کو کال ملانے لگا تاکے کچھ وقت گھر جا سکے۔۔

_________________

دوسری جانب مزنہ کے والد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی۔۔

ناشتا کرتے وقت اُنکا دل گھبرانہ لگا ” ۔۔۔مزنہ فوراً اٹھتی اُنکی پیٹھ رب کرنے لگی۔۔

جبکہ سنایا بیگم چیختی ملازمہ کو پانی لانے کا کہنے لگی۔

بابا لمبا سانس لیں” کچھ نہیں ہوگا ہم ابھی ہسپتال چلتے ہیں اپنی ماں کو روتا دیکھ مزنہ نے جلدی سے بیگ لیا اور دونو مصطفیٰ کمال کو سہارا دیتی گاڑی تک لائیں ۔

ڈرائیور جو اپنا بجتا فون نکالنے لگا تھا مزنہ کو آتے دیکھ جلدی سے گاڑی میں بیٹھا ” مصطفیٰ کمال کو بیٹھاتے وہ لوگ جلدی سے ہسپتال پہنچے۔

مزنہ نے جلدی سے باہر نکلتے وارڈ بوئے کو آواز دی جو جلدی سے سٹریچر لاتے بھاگے چلے آئے۔

جلد ہی اُنھیں ایمرجنسی روم میں لے جایا گیا۔

سنایا بیگم روتی اُنکی صحت کے لیے دعا کرنے لگی

مزنہ اُنھیں قریب کرسی پر بیٹھاتی خوصلہ دینے لگی۔

سنایا بیگم کو مسلسل روتا دیکھ وہ بولی”

کیا ہو گیا ہے موم کیوں اتنا رو رہی ہیں ۔۔ان شاء االلہ بابا بلکل ٹھیک ہونگے۔۔

خدا پر بھروسا رکھیں،، اس طرح رو کر اپنی طبیعت خراب کر لیں گی آپ۔

کچھ وقت انتظار کے بعد ڈاکٹر باہر آیا ” مزنہ اور سنایا بیگم جلدی سے اٹھتی قریب گئی۔۔

میرے بابا کیسے ہیں ڈاکٹر؟۔۔۔۔

ہی از فائن !!!

ہم نے کچھ ٹیسٹ کیے ہیں اُنکے کل تک رپورٹ آ جائے گی سٹمک انفیکشن ہے اُنھیں اور خوراک کی نالی تھوڑی سی زخمی ہے جسکے باعث کھانا خزم نہیں ہوتا اور سانس بند ہونے کا باعث بنتا ہے۔۔

اور ہاں اُن کا بیپی بہت ہائی تھا” کوشش کریں کے ٹینشن کم سے کم دیں اُنھیں ” ،،زیادہ اسٹریس سے بات بگڑ سکتی ہے۔

آپ اُنھیں لے جا سکتی ہیں ،، نرس آپکو میڈیسن کے بارے میں سمجھا دے گی۔

بہت شکریہ وہ سکون کا سانس لیتی روم میں چلی گئی۔

بابا آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا ،،

مصطفیٰ صاحب جو ٹیک لگائے بیٹھے تھے مزنہ کی آواز سنتے آنکھیں کھولتے اپنی بیٹی کو پیار بھری نظر سے دیکھا “

میری جان آپکی مما کو بھی یہی سمجھا رہا تھا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں” ،،زندگی موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔

دیکھا پھر مرنے کی باتیں کر رہیں ہیں یہ٫ سمجھا لو اپنے بابا کو مزنہ اگر اب انہوں نے ایسی بات کی تو میں اپنے بھای کے گھر چلی جاؤں گی۔

سن لیں بابا ” اور ہاں اس بات پر تو میں بھی آپ سے ناراض ہو جاؤں گی اور اپنے گھر چلی جاونگی.

مزنہ منھ بناتی کہتی اُن کے گلے میں بانہیں ڈالتے لاڈ سے بولی۔

اچھا میرا بچہ نہیں کہوں گا اب ” معاف کرو مجھے دونو،، وہ کہتے دونو کے ماتھے پر لب رکھ گئے۔

بابا آپ چل کر گاڑی میں بیٹھیں” ڈرائیور وہی موجود ہے میں آپکی میڈیسن لے کر آتی ہوں”

نہیں بیٹا تم چلو گاڑی میں بیٹھو تمہاری ماں لے آتی ہے پہلے ہی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ۔

ہاں بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں تمہارے بابا مزنہ میں چلی جاتی ہوں تم کہا میڈیسن لینے جاؤگی۔

وہ گہری سانس بھرتے بولی کچھ نہیں ہوتا مجھے اور میں نے نرس سے ٹیسٹ کا بھی پوچھنا ہے ،،مما کو پتہ نہیں چلنا آپ لوگ جائیں میں بس آ رہی ہوں کہتی وہ شانوں پر شال اچھی طرح لیتی چلی گئی۔

سنایا بیگم سر کو نفی میں ہلاتَی مصطفیٰ کمال کو ساتھ لیتی باہر کے راستے کی جانب چل دی۔

مزنہ نرس سے ڈائیٹ چارٹ اور رپوٹس کی ٹایمنگ کا پوچھتی کوریڈور سے نکلتی باہرِ کی جانب آنے لگی۔

آبان جو ڈرائیور کے فون نہ اٹھانے پر اشتعال میں آتا مزنہ کو کال کر رہا تھا اُسکا بھی فون مسلسل بند آتا دیکھ متفکر ہوتا سنایا بیگم کو کال کرنے لگا۔

ملازمہ نے فون بجتا دیکھ اٹھا کر کان سے لگایا “

آبان نے دوسری جانب سے کال موصول ہوتے دیکھ جلدی سے پوچھا “

آنٹی مزنہ کہا ہے؟؟…سب ٹھیک ہے نہ ” ڈرائیور بھی کال ریسیو نہیں کر رہا “

صاحب جی مزنہ باجی بلکل ٹھیک ہیں” بڑے صاحب کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی تو وہ لوگ ہسپتال گئے ہیں۔

ملازمہ آبان کی پریشان آواز سنتی جلدی سے اُسے بتانے لگی۔

کون سے ہسپتال گئے ہیں وہ لوگ ؟؟… کچھ علم ہے!!

نہیں صاحب جی میں نہیں جانتی ،،

اوہ اوک میں دیکھ لیتا ہوں اور اگر تمہاری میڈم جی گھر آ گئیں تو مجھے بتا انفورم کر دینا کہتے اُس نے فون پاکٹ میں رکھا ۔

حمنہ بیگم جو باہر بیٹھی انتظار کر رہی تھیں آبان کو مسلسل چکر لگاتے و فون پر محو گفتگو دیکھ کر اُسکی جانب آ گئی۔

سب خیریت ہے نا آبان” پریشان لگ رہے ہو ۔۔

جی چچی مزنہ فون نہیں اٹھا رہے تھی بس اسی وجہ سے تھوڑا !!

اُس کے الفاظ منھ میں ہی تھے کہ نور العین باہر آ گئی۔

آپّ،، آپ کو ڈاکٹر بلا رہی ہیں ۔۔۔

آبان اثبات میں سر ہلاتے اُسکے ساتھ چلے گیا ۔

سر آپکی مس از کی رپورٹ اور الٹراساؤنڈ کے مطابق انکی پریگننسی میں کچھ کمپلیکشنز ہیں” ڈاکٹر مزید بولتی کہ ابان کا فون بجنے لگا”

ایکسکیوز می !! پلیز اُس نے کہتے فون نکالا تو ڈرائیور کی کال آ رہی تھی۔

کال کٹ کرتے اُس نے ڈاکٹر کی جانب دیکھا ۔۔

انہوں نے بتایا ہے کہ سیکنڈ بےبی ہے آپ لوگو کا “

لیکن پھر بھی انکو بہت احتیاط کی ضرورت ہے انکا انٹرنل باڈی بہت کمزور ہے جس کی وجہ سے چھوٹی سی کوتاہی ہی بچے اور ماں کی جان لے سکتی ہے۔

اسلئے آپ انکا بہت خیال رکھیں اور یہ انکا ڈائیٹ چارٹ اور میڈیسن آپ کو نیچے ہمارے میڈیکل سینٹر سے ملیں گی۔

اگر پریشانی کی بات ہے تو آپ پہلے ہی بتا دیں ” آبان پریشان ہوتا ڈاکٹر سے پوچھنے لگا ۔

نہیں آپ ان کی ڈائیٹ اور میڈیسن کا خیال رکھیں اور منتھلی چیک اپ کرواتے رہیں ۔۔۔ان شاء االلہ االلہ بہتر کرے گا۔

ڈاکٹر نے اُنھیں مطمئن کرنے کے لیے کہا ۔۔آبان نور العین کا ہاتھ تھامے اُس کے ساتھ باہر آ گیا ۔

کیا بات ہے کوئی پریشانی تو نہی” ڈاکٹر نے کیوں بلایا تھا ۔۔

کیا کہا اُس نے۔۔۔ حمنہ بیگم اُنکے باہر آتے ہی آبان سے سوال کرنے لگی۔۔

کچھ نہیں ہوا چچی ” سب ٹھیک ہے بلکل ۔۔۔

آپ لوگ چل کر وہاں بیٹھیں میں میڈیسن لے کر آتا ہوں تب تک ڈرائیور بھی آ جائے گا ۔

نور العین اور مزنہ بیگم ویٹنگ چئیر کی جانب جانے لگی۔۔۔

مزنہ جو باہر کے راستے کی جانب جا رہی تھی دوسری جانب سے حمنہ بیگم اور اُنکے پیچھے سست قدم اٹھاتے نور العین کو دیکھا تو اُنکی جانب مختاط سے قدم اٹھاتے جانے لگی۔

چچی آپ” آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں مزنہ نے سوالیہ نگاہوں سے اُنکی جانب دیکھا ۔۔اور مجھے بتایا بھی نہیں سب خیریت ہے ناں؟؟

نور العین اُسے سامنے دیکھ حق دق سی رہ گئی”

حمنہ بیگم بھی اُسے سامنے دیکھ کر گربرا گئی۔۔لیکن پھر اُن کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔

فوراً ان کے شیطانی دماغ نے کام کرنا شروع کیا

کیسی ہو میری بچی آگے کو ہوتی وہ اُس سے گلے ملی

اور مزنہ کی جانب دیکھتے چہرے پر سادگی لیے کہا”

نور العین کا چیک اپ کروانے آئے ہیں ہم ” ما شاء اللہ سے خوش خبری ہے ۔

نور العین نے ماں کی جانب پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھا جبکہ دوسری جانب مزنہ بھی منھ کھولے اُنکی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش میں تھی۔۔

کیا مطلب ” میں کچھ سمجھی نہیں” آپ لوگو نے نور العین کی دوسری شادی کب اور کس سے کی” اور مجھے کسی نے بتایا کیوں نہیں۔

مزنہ نے خیرت سے اُنکی جانب دیکھا”

مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا اتنی جلدی یہ سب” مطلب۔۔

ہاں تمہیں نہیں بتایا آبان نے٫” مجھے تو لگا تم ساری بات سی آگاہ ہو اور تم سے اجازت لے کر ہی تو اُس نے یہ قدم اٹھایا ہوگا ۔۔

حمنہ بیگم دوغلے پن کا مظاہرہ کرتی خیران سے کہتی اُسکی جانب دیکھنے لگی۔۔

کیا مطلب” میں سمجھی نہیں” مجھ سے کیوں پوچھنا اُنہوں نے ۔۔آپ صاف صاف بات بتائیں یہ ہو کیا رہا ہے

وہ اضطرابی کیفیت میں اُنھیں دیکھتی بولی!!

یہی کہ آبان کا نکاح نور العین سے ہو چکا ہے اور اب ماشا اللہ میری بیٹی اُسے وارث دینے والی ہے۔۔

حمنہ بیگم نے بغیر کسی لگی پٹی کے اُسے دیکھتے سفاکیت سے کہا “

مزنہ ساکت سی اُن کی جانب دیکھنے لگی”

ي”” یہ،، آپ کیا کہہ رہی ہیں …

اُسکی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔

یہی حقیقت ہے!!…. ہمیں تو لگا تم جانتی ہو گی اسی لیے دوبارہ حویلی نہیں آئی۔۔

بھئی ایسا کبھی ہوا ہے کہ خاوند اتنے اتنے دن غائب رہے اور بیوی کو خبر نہ ہو ۔۔

حمنہ بیگم اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی جبکہ دوسری جانب مزنہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا ۔۔

وہ غائب دماغی سے نور کی جانب دیکھنے لگی۔۔

اور پھر جی بھر کر چاہنے والوں کا”

جی بھر گیا ہم سے۔۔۔