Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 8)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 8)
Robroye Yaar By Yumna Writes
اگلی صبح مزنہ کا چیک اپ تھا اور آبان کو بھی کچھ کام تھا جسکی وجہ سے وہ لوگ اسلام آباد کے لیے نکل گئے ۔۔۔
سب سے پہلے وہ لوگ ہسپتال ڈاکٹر سے چیک آپ کروانے گئے تھے
ڈاکٹر نے اُسے کچھ ملٹی وٹامنز لکھ کر دی اور اچھی ڈایٹ کا کہا ۔۔
اُسکے علاوہ سب کچھ بلکل نارمل تھا ۔۔
آبان ڈاکٹر کی بات سنتا ریلیکس ہوتا مزنہ کو اُسکی امی کے گھر چھوڑتا کچھ ضروری کام سے آفیس کے لیے نکل گیا ۔۔
دوسری جانب گھر آتے ہی مزنہ اپنے بابا کو بیمار دیکھ کر پریشان ہو گئی ،، آبان سے اجازت لیتی وہ کچھ دن اُن کا خیال رکھنے کی لیے اُنکے پاس ہی روک گئی ۔۔۔کیوں کے سنایا بیگم کی بھی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔
مزنہ کو اُنہوں نے اپنی خراب طبیعت کے مطلق نہیں بتایا تھا کہ اس وت حویلی میں اُسکی زیادہ ضرورت ہے
مزنہ اپنے والدین سے اس وجہ سے کافی ناراض بھی ہوئی
آبان اُس سے ملتا واپس حویلی چلے گیا تھا ۔۔۔۔کیوں کہ اس وقت اُسکا وہاں ہونا زیادہ ضروری تھا شہر وہ بس ایک امپورٹنٹ میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لیے آیا تھا۔
وہ واپس آ کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ملازمہ نے اسکے آگے پانی رکھتی ادب سے سر جھکا کر پاس کھڑی ہو گئی۔
آبان نے آبرو اچکا کر اُسکی جانب دیکھا ۔۔
کیا بات ہے ؟؟کچھ کہنا ہے۔۔۔۔
جی سرکار!!
آپکو بڑے سرکار یاد فرما رہے ہیں۔۔اُنکا حکم ہے کہ آپ کے آتے ہی اُنکے کمرے میں بیجھ دیں۔۔
اچھا تم چلو میں آتا ہوں وہ کہتا اٹھتا اُنکے کمرے میں داخل ہوا ۔۔
اسلام کرتا وہ اُنکے قریب بیٹھتا عزت و احترام سے گویا ہوا
بابا سائیں ۔۔آپ نے یاد فرمایا۔۔۔
ہاں کچھ ضروری بات کرنی تھی تم سے ،،
سب خیریت ہے بابا سائیں کیا بات ہے۔۔
اگر آج ہم تم سے کچھ مانگیں تو دو گے کیا ؟؟
بابا یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ حکم فرمائیں۔
ٹھیک ہے پھر اسے میرا حکم سمجھو یاں پھر فریاد۔۔
وہ گہرا سانس لیتے کچھ توقف کے بعد گویا ہوے۔
میں چاہتا ہوں کہ تم نور العین سے نکاح کر لو ۔۔اُنھو نے اُسکی جانب دیکھتے کہا
کیا “….،،بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا اور نور العین کا نکاح ؟؟…..
وہ اُنکی بات سنتا گنگ بلکل صدمے سے اُنھیں دیکھتا بولا ۔۔
میں شادی شدہ ہوں بابا ۔۔۔
میری بیوی مزنہ ہے ۔۔ آپ جانتے ہیں میں اُس سے کتنی محبت کرتا ہوں ،،میں کیسے ،،
آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا۔۔
ابھی آہل کو گئی وقت ہی کتنا ہوا ہے۔۔اور اؤ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔
جانتا ہوں لیکن میں پھر بھی یہ چاہتا ہوں کہ تم نور سے نکاح کر لو۔۔
وہ اُنکا حکم سنتا غصے سے پہلو بدلتا اُنہیں دیکھنے لگا
ہم نور کو اس طرح ترپتا نہیں دیکھ سکتے ،،آخر کب تک ہم اُسے گھر بیٹھا کر رکھیں گے۔ ۔۔۔ ہمارے جانے کے بعد کون اُسکا والی وارث ہوگا ۔۔۔
سب اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے تو اس معصوم بچی کا کیا ہوگا۔۔۔۔
میرے آہل نے اپنی بیٹی اور بیوی کو پھولوں کی طرح رکھا ہوا تھا کبھی زمانہ کی اُسے گرم ہوا نہی لگنے دی میں کیسے اُسے اس بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ دوں
میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہی اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم نور سے نکاح کرو تاکہ میرے آہل کی نشانی ۔اسکی بیٹی ہمیشہ کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے رہے ۔۔۔۔
اپنو کے جانے کے دکھ سے اُنکی شخصیت میں موجود روعب و دبدبہ سب ڈہ گئے تھے ۔۔وہ بکھرے ہوئے لہجے میں اُسے دیکھ کر بول رہے تھے ۔۔ ۔
میری بچی کو اپنا لو ،،میں مزید ایک و بوجھ لے کر نہیں مرنا چاہتا ،،
بابا سائیں وہ زخمی لہجے میں اُسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگے کہ آبان نے ایک دم اُن کہ ہاتھ تھام لیے
یہ کیا کر رہے ہیں آپ بابا سرکار ۔۔۔اس طرح کرکے مجھے گناہگار نہ کریں ۔۔ وہ بے بس ہوتا اپنی لال ہوتی آنکھیں میچتا بولا،،
لیکن بابا ہم کہی اور کسی بھی اچھے لڑکے سے اُسکی شادی کر دیں گے آبان نے اُنکا ہاتھ تھام کر آنکھوں میں ایک اُمید لیے اُنھیں بولا ۔۔
حمنہ نہی چاہتی کے اُسکا خاندان سے باہر نکاح ہو ،،ورنہ تمہیں کیا لگتا ہے میں نے نہی کہا ہوگا اُسے۔۔۔
میں تو خود مزنہ بیٹی کے ساتھ کسی قسم کی نہ انصافی نہی کرنا چاہتا لیکن،،
حمنہ چاہتی ہے کہ تم اُس سے نکاح کرو ،،اُسکا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کہ معاملے میں کسی پر یقین نہیں کر سکتی،، حسن چودھری نے اپنے جان سے پیارے بیٹے کی بے چین نگاہوں میں دیکھتے ہوے کہا۔۔
میں جانتا ہوں میرا پُتر یہ بہت مشکل فیصلہ ہے لیکن تیرا باپ مجبور ہے۔۔میں اُسے انکار نہی کر سکا ۔۔
وہ خود قسمت کی اس ستم زریفی پر آبدیدہ تھے ،،چھوٹا بیٹا ویسے اتنی دور چلا گیا جہاں سے واپس آنا ممکن نہیں ،،اور بڑے کو وہ اب دوہری اذیت میں ڈال رہے ہیں
لیکن وہ مجبور تھے ،،حمنہ بیگم نے شرط رکھی تھی کہ وہ آبان سے ہی نور کا نکاح کروانا چاہتی ہیں
آبان اپنے باپ کا جھکا سر دیکھ کر سختی سے لب بیینچتا لہجے میں نمی لیے بولا
ٹھیک ہے میں تیار ہو نکاح کے لیے ۔۔مجھے کوئی اعتراض نہی ۔۔۔لیکن میں ایک بار چاچی جان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔
کوئی فائدہ نہیں پُتر سب نے اُسے بہت سمجھایا لیکن اُسکی ضد یہی ہے وہ نور کو حویلی سے باہر نہیں بیجھنا چاہتی۔۔۔
آبان ان کی بات سنتا غم و اشتعال میں کمرے سے نکل گیا
پیچھے حسین صاحب مضطرب سے کمرے میں بیٹھے اپنا سر ہاتھوں میں گرا گئے
کمرے میں آکر اُسنے غصے میں سب تہس نہس کر دیا تھا کمرے کی خالت بری طرح خراب کر دی ۔۔۔ وہ چیزوں کو توڑتا پھورتا اُن پر بھڑاس نکال کر سر ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گیا
اپنی کنپٹی سیہلاتا وہ غصے سے پھٹتے سر پر ہاتھ جماتا آنے والے وقت کا سوچنے لگا
وہ حسین صاحب کے سامنے نکاح کے لیے حامی تو بھر آیا تھا لیکن اب _،،اب سوچ سوچ کر اُسکے دماغ کی رگیں پھٹنے کو تھی کہ وہ مزنہ کو کیسے بتاے گا ۔۔۔۔
وہ کبھی بھی اس کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی۔۔۔
سوچیں جیسے دماغ سے چمٹ سی گئی تھی ۔۔۔۔۔
بیٹھے بیٹھے یہ کیسی افتاد سر پر آ پڑی تھی
وہ غصے اور بے بسی سے پاگل ہو رہا تھا
وہ کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ،،اپنی بیوی کو وہ دل و جان سے محبت کرتا تھا اور بخوبی اُسے جانتا تھا کہ وہ کبھی اسکو اس چیز کی اجازت نہیں دے گی اگر وہ اسکو بتا کر ایسا کرنا بھی چاہے تو۔۔۔
بی جان دروازہ دھکیلتی اُسکے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
اور کمرے کا بگڑا نقش دیکھ کر پریشان ہوتی اُسکے قریب بیٹھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے آبان ۔۔میرا پُتر بی جان اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے محبت سے گویا ہوئی۔۔
اُنکا محبت بھرا لمس محسوس کرتے وہ زمین پر بیٹھتا اپنا سر اُنکی گود میں رکھ گیا ۔۔۔
وہ غصے اور بے بسی سے پاگل ہو رہا تھا
بی جان بابا سائیں چاہتے ہیں کہ میں نور سے نکاح کر لوں
وہ ٹوٹے ہوے لہجے میں سر اٹھاتا اُنھیں دیکھتا بولا۔ آپ ہی بتائیں میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں مزنہ کے ساتھ،،۔میری شادی ہو چکی ہے ،،میں کیسے اُس سے نکاح کر سکتا ہوں
وہ بکھرا ہوا سا اُلجھا اُلجھا اُنھیں دیکھتا بولا
بیٹا میں حسین کے فیصلے سے متفق ہوں ۔۔
وہ حیرت و صدمے سے اُنکی گود سے سر اٹھاتا ہوا اُنھیں اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا
بیٹا یہ فیصلہ حمنہ کا ہے وہ چاہتی ہے کہ نور العین کا مسقبل بہتر ہو جائے ،،ہم نے اُسے بہت سمجھایا کہ ہم کسی اچھی جگہ نور کا رشتہ دیکھیں گے لیکن وہ چاہتی کہ نور کا نکاح تم سے ہو ۔۔
کیوں کہ باہر والا جو بھی ہو اُسکی بیٹی کو باپ کا پیار نہیں دے سکتا ،،اور ہم اُسکی اس بات سے متفق ہیں ۔۔
پہلے میں بھی اس بات سے انکار تھی لیکن جب بات فجر کی آئی تو مجھے خاموش ہونا پڑا۔
آپ جانتے ہیں آجکل کیا کچھ نہیں ہو رہا باہر ،،نفسا نفسی کا دور ہے۔۔
ہر طرف حیوان بیٹھے ہیں ،،ایسے میں ہم کیسے کسی غیر پر یقین کریں ۔۔
کل کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو ہم خود کو کیسے معاف کریں گے۔۔
جہاں کہی بھی ہم نور کا نکاح کریں گے فجر کو تو وہ ساتھ لے کر جائے گئی ۔۔ایک ماں سے اُسکی بچی تو ہم جدا نہیں کر سکتے میرا پُتر “
پہلے وہ اتنے بڑے غم سے گزر رہی ہے ایک اور ظلم تو نہیں نہ ڈھا سکتے معصوم بچی پر،،
اور فرض کرو ہم کر بھی دیں اچھا لڑکا ڈھونڈھ کر اُسکا نکاح لیکن فجر کے لیے تو وہ غیر ہی رہے گا نہ۔۔
اُس کے لیے تو وہ نا محرم ہوگا اسی لیے میں حمنہ سے متفق ہوں
اور اُسے انکار نہی کر پائی
نکاح میں کوئی برائی نہیں ہے ۔۔اور ویسے بھی اسلام میں دوسری شادی کی اجازت ہے۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں تم مزنہ کی طرف سے پریشان ہو کہ اسے کیسے بتائیں تو بیٹا اسکا آسان حل تو یہ ہے کہ کچھ وقت تک اُس سے یہ نکاح خفیہ رکھ لو ۔۔۔
جب بہتر سمجھو گے تب اُسے بتا دینا ۔۔۔
میں خود بھی یہی چاہتی ہوں میرے بیٹے کیوں کہ مجھ سے نور کی یہ حالت دیکھی نہی جاتی۔ ۔۔۔
وہ خود سے بلکل لا پروا ہو چکی ہے ۔۔ خود کو اپنے کمرے تک ہی محدود رکھتی ہے ۔۔۔ کب تک وہ ایسے ہی رہے گی ۔۔ اُسکی عدت ختم ہو چکی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم اُس سے نکاح کرلو
اسے دوبارہ زندگی کی طرف لے کر آؤ۔۔۔حمنہ کی بات بھی برحق ہے دو ہی تو بچے ہو تم لوگ ہمارے
اور انہیں بھی اپنی آنکھوں سے دور کریں ۔۔۔
آج نہی تو کل ہم نے اُسکی شادی کرنی تو ہے ۔۔۔ابھی اُسکی عمر ہی کیا ہے ۔۔تو پھر اس بات میں غلط ہی کیا ہے کہ گھر کی بچی گھر میں ہی رہے ۔۔
بی جان لیکن میں کیسے ،،، وہ لاچاری سے اُنکی جانب دیکھتا بولا
آپ جانتی ہیں جب اُسے پتہ چلے گا تو کیسی قیامت گزرے گی اس پر ،،نہی برداشت کر پائے گی وہ۔
۔۔وہ اُس کے بارے میں سوچتا اشتعال انگیز لہجے میں دھاڑا
تمہیں اُسکا غم دکھ دکھ رہا ہے جو ابھی کل کو آئی ہے اور یہاں ہمارا کوئی خیال نہی تمہیں ،،تمہارا باپ کس حالت میں ہے ،،ماں ساری ساری رات بیٹھے بیٹے کی تصویر لیے روتی رہتی ہے،،
تمہیں اُس لڑکی کی بس پرواہ ہے بی جان تندہی سے اُسے دیکھتے گویا ہوئی
ایسی بات نہیں ہے بی جان مجھے سب کا احساس ہے لیکن آپ کیوں نہیں سمجھ رہی محبت کرتا ہوں اُس سے بے انتہا ،،نہی جی سکتا اُسکے بغیر
جب اُسے حقیقت کا عمل ہوگا وہ ٹوٹ جائے گی بی جان ،،وہ مجھے چھوڑ دے گی ،،میں جانتا ہوں اُسکی شدت پسندی۔۔
وہ مجھے کبھی کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی ،،وہ نم لہجے میں شکن زدہ سے لباس میں تھکا ہارا سا بی جان کے قدموں میں بیٹھ گیا ،،
جیسے کوئی بچہ اپنی من پسند شہہ کے لیے ضد کر رہا ہو ،،وہ بھی اس وقت ان کو معصوم بچہ ہی لگا جو نم شکستہ سے لہجے میں اُن سے ضد کر رہا تھا اپنی بات منوانے کی ،،
لیکن وہ مجبور تھی،،
اپنے بھائی کی خوشی کے لیے ،،اُسکی اولاد کے لیے،، سب کی خوشی کے لیے تمہیں یہ نکاح کرنا ہے۔۔ بی جان دو ٹوک لہجے میں اُسے سب کی مرضی سے آگاہ کرتی بہت کچھ باور کرواتے ہوے گویا ہوئی
اُنکے لہجے کی پختگی اور سختی دیکھ وہ ساکت سا اُنھیں دیکھنے لگا
اُنکی آنکھوں میں مان اور اُمید دیکھ کر وہ ایک کٹھن فیصلہ لیتا وہ بولا
ٹھیک ہے بی جان جیسا آپ کا حکم ۔۔۔ غم کی شدت سے اپنے پھٹتے سر کو جھکائے وہ اس وقت زخموں سے چوڑ لہجے میں بولا ،،
اُسکا دل و دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا سرخ لہو چھلکاتی آنکھیں سختی سے جبروں کو بینچ ،،وہ عجیب کشمکش میں گھیرا ہوا خود کو محسوس کر رہا تھا اٹھتا تیزی سے کمرے سے نکل گیا
بی جان آنے والے وقت کا سوچتی اپنی نم ہوتی انکھوں کو دوپٹے کے پلو سے صاف کرتی آبان کی تکلیف کو محسوس کرتی شرمندہ تھی ،،
وہ جانتی تھی وہ بہت تکلیف میں ہے لیکن وہ نور العین کہ ساتھ بھی کوئی نا انصافی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
