Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 40)

Robroye Yaar By Yumna Writes

اُسے تو معافی کا کہہ آیا تھا لیکن یہ وہ خود جانتا تھا کہ کس طرح اُس نے اپنے دکھتے دل کے ساتھ یہ الفاظ کہے تھے ” دکھ ،،تکلیف یہ سب لفظ چھوٹے تھے اُس احساس کے آگے جو زارون شاہ اس وقت محسوس کر رہا تھا

اپنی محبت کو دوسرے کے لیے روتا دیکھ سب سے ازیت ناک لمحہ ہوتا ہے جو بڑے آرام سے مقابل کو اُس نے کہہ دیے تھے” محبت تو زارون شاہ نے بھی کی تھی آج سے چھ سال پہلے ،،محبت تو زارون شاہ اب بھی کرتا ہے مزنہ شاہ سے اسی لیے تو شادی کا نام تک نہی سننا گوارا کرتا

وہ وحشت زدہ سا ہوتا اپنے اندر کے غبار کو ختم کرنے کے لیے ٹیرس پر کھڑا ہو گیا

وہ خود کو باور کروا چکا تھا کہ وہ اُسکی نہیں ہے اور اب وہ اُسے حاصل کرنا چاہتا بھی نہیں تھا

کیوں کہ محبت میں تو محبوب کی خوشی دیکھی جاتا ہے اور وہ خوش تھی اپنی زندگی میں آبان کے ساتھ “

اتنے سال بعد جب وہ اُسے بھولنے میں کامیاب ہو رہا تھا تو اچانک پھر سے وہ اُس کے سامنے آ گئ تھی وہ خود کو کوئی جھوٹی اُمید تلسلی نہیں دینا چاہتا تھا وہ جانتا تھا کہ اُسے واپس جانا ہی ہے پھر کیوں یہ دل بغاوت کرنے لگا تھا ” کیوں جذبات بدل رہے تھے ٫٫٫

تو نہیں تو تیرا استعارہ نہیں”

آسمان پر کوئی ستارہ نہیں

وہ میرے سامنے سے گزرا تھا

پھر بھی میں چپ رہا پکارا نہیں۔۔

وہ نہیں ملتا ایک بار ہمیں

اور یہ زندگی دوبارہ نہیں

ہر سمندر کا ایک ساحل ہے”

ہجر کی رات کا کنارا نہیں۔۔۔

ہو سکے تو نگاہ کر لینا

تم پے کچھ زور تو ہمارا نہیں۔۔

(امجد اسلام امجد)

وہ خود سے خوفزدہ ہوتا وضو کی نیت سے واشروم میں چلے گیا

نماز ادا کرنے کے بعد ہاتھ اٹھائے رب کے آگے بیٹھ گیا

اے میرے پیارے رب بیشک تو بہترین عطا کرنے والا ہے میں بس یہی چاہتا ہوں کہ جو آپ نے میرے لیے سوچا ہے وہ سب سے بہترین ہوگا ” میرے پیارے اللہ مجھے بکھرنے سے بچا لے ” میں پھر سے ٹوٹنا نہیں چاہتا ۔۔

میرے رب آپ تو جانتے ہیں میرے حق میں کیا بہتر ہے میرے اللہ مجھے وہی عطا فرما

تو مجھے وہ عطا فرما جو تیری چاہت ہے میں اُس میں خوش ہوں ،،،اللہ ہمارے لیے آسانیاں فرما ” بیشک میرا رب اپنے بندے کو اکیلا نہی چھوڑتا ۔۔

آنسو گرتے اُسکا چہرہ بگھو رھے تھے وہ اپنے خدا کے روبرو بیٹھا اُس سے مانگ رہا تھا اپنا خال دل بیان کر رہا تھا ۔۔۔

_____________

آبان کو حسن صاحب نے فون کرکے حویلی بلایا اور اُسے تمام صورت حال بتای ” وہ خاموشی سے اُنکی بات سنتا اٹھتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔۔

نور العین اور حمنہ بیگم اُسے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئی لیکن اُس نے کوئی خاص بات نہ کی نور کو بھی فقط ہاں ہوں میں جواب دیتا لیٹ گیا

دن یوں ہی گزرنے لگے آبان نے سب سے بات کرنا بہت کم کر دیا تھا فجر کے ساتھ وہ تھوڑی بہت بات کرتا لیکن زیادہ تر وہ سنجیدہ ہی رہتا تھا ۔۔

مریم بیگم بیٹے کو خاموش دیکھ کر بہت روئ اور اُس سے معافی بھی مانگی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا سوائے پچتاوے کے ” ۔۔۔

نور العین اور حمنہ بیگم نے بھی یہ بات بہت محسوس کی تھی لیکن فلحال چپ سادھے رہی

آبان زیادہ وقت اسلامباد میں آفیس میں گزارتا حویلی میں مہینے بعد دو دن کے لیے جاتا ” یاں ہارون کے گھر ہوتا

کسی میں اُس سے بات کرنے کی ہمت نہ تھی کیوں کہ وہ لوگ خود ہی تو اُسکے نقصان کے ذمےدار تھے۔۔

نور العین کو وہ با قاعدگی سے ڈاکٹر پر لے کر جا رہا تھا ڈاکٹر نے اُسکی پریگننسی میں کچھ کمپلیکشن بتآئی تھی جس کی وجہ سے وہ اب تھوڑا نرم پڑا تھا اور نور العین سے تھوڑی بہت بات کر لیتا ۔۔۔

وہ آفیس سے سیدھا اپارٹمنٹ میں چلا جاتا تھا اور زیادہ وقت مزنہ اور اپنی یادوں کے سہارے گزارتا ۔۔اُس نے اپنا دھیان کرنا چھوڑ دیا تھا ” نہ وہ گھر والوں سے ہمکلام ہوتا اور نہ نور سے ،، زندگی اُسے خود پر تنگ ہوتی محسوس ہونے لگی تھی ۔۔

وقت کا کام تھا گزرنا اور گزرتا جا رہا تھا دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں ” چھ ماہ گزر گئے تھے اُسے گئے ہوئے وہ واپس نہ پلٹی تھی ۔۔اُسکی یاد میں وہ دن با دن خود سے لا پرواہ ہوتا چلا جا رہا تھا ۔۔

مزنہ لان میں بیٹھی مصطفیٰ کو گود میں لیے بیٹھی تھی جو اُسکے ہاتھ پکڑتا اُنگلیاں منھ میں لیتا کھانے کی کوشش کر رہا تھا

شام کا وقت تھا سورج ڈھل رہا تھا ٫،، وہ لوگ بیٹھیں باتیں کر رہی تھی جب مین گیٹ سے حماد شاہ اور ان کے پیچھے زارون اندر داخل ہوئے تھے ۔۔

ان کو لون میں بیٹھا دیکھ وہ قریب آئے تھے مصطفیٰ کو اب سب کی پہچان ہو چکی تھی زارون کو اپنی جانب آتا دیکھ وہ ہاتھ اٹھاتا اچھلنے لگا تھا ۔۔

میرا شیر ” اُسے اٹھاتے پیار کرتے اُس نے بلند آواز میں کہا

مصطفیٰ سب سے زیادہ اٹیچ زارون سے تھا ” اور اب تو اُسے دیکھ کر وہ باقاعدہ آوازیں نکالتا تھا ۔۔

سب اُنکی محبت دیکھ مسکرا اٹھے “۔۔۔مصطفیٰ اُسے لیے اندر چلا گیا ..

مزنہ جو پانی لینے کیچن میں گئی تھی مصطفیٰ کو اُس کی گود میں بیٹھے اُس کے بال اپنے دونو ہاتھوں میں لیے دیکھا تو بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئ وہ جانتی تھی زارون اپنے بالوں کو لے کے بہت کونشیئس تھا

مصطفیٰ یار نا کر ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ” مصطفیٰ جو اُس کے بالوں کو کھینچ رہا تھا اُسے چیختا دیکھ اُسکے ناک پر حملہ کرتے اُسے منھ میں لے چکا تھا

زارون کی دہائیاں عروج پے تھی ۔۔اُو میرے شیر بس کر کیوں مجھے گنجا کرنے پر تلا ہے ” ي جو لڑکیاں مجھ پر مرتی ہیں نہ مجھے گنجا دیکھ سچ میں مر جائیں گی۔

مزنہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے اسپاٹ سے چہرے سے اُسکے قریب آتے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا اور آبرو اٹھائے استفسار کرنے لگی ۔۔

کون سی لڑکیاں مرتی ہیں ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے آنکھیں چھوٹی کیے وہ اُسے دیکھ رہی تھی

زارون اُسے سامنے دیکھ آنکھیں پھیلائے اُس کے سوال اور اُسکی کمر پر رکھا ہاتھ دیکھتا تھوک نگلتا اچانک اُسکا انداز اُسے خیرت میں ڈال رہا تھا

گہری سانس لیتے اُس نے مزنہ کی جانب دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ظاہر ہے آفیس میں اسٹاف موجود ہے اور ویسے بھی پارٹیز میں لیڈیز موجود ہوتی ہیں ۔۔

ہمم مصطفیٰ کو اُسکی گود سے لیتی وہ آنکھوں میں شرارت لیے گویا ہوئی !! ہاں ” آپ تو گنجے ہو رہے ہیں اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی مزنہ پریشانی سے اُسکی جانب دیکھتی بولی

کیا سچ میں وہ تیزی سے اٹھتا اندر کی جانب بھاگا ” مزنہ کھلکھلاتی باہر نکل گئی ۔۔۔

تم بچو ذرا جھوٹی ڈریسنگ کے سامنے اپنے بکھرے بال درست کرتا وہ تیزی سے باہر نکلا تھا

________________

وہ دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی،،،سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا پڑا تھا،،ٹیرس سے ہلکی چاند کی روشنی اندر کے منظر کو واضح کرنے میں ناکام تھی،

اُسکی نظر بیڈ کے قریب کرسی پر بیٹھے آنکھیں موندے سر کو کرسی کی پشت سے لگائے ہوئے شخص پر پڑی

جو خود سے بلکل بے نیاز سا بیٹھا تھا

پورے کمرے میں سگریٹ کا دھوا چھایا ہوا تھا،،وہ ناک پر ہاتھ رکھتی اپنے بھاری بھرکم وجود کو سمبھالتی چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے اُسکے قریب آئی

قریب آتے ہی نظر اُس یونانی دیوتا پر پڑی ،،بڑھی ہوئی دھاڑی ،،بکھرے بال ،،آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُسکے رت جگو کی گواہی تھے،،،گلابی ہونٹ جو کثرت سے سگریٹ نوشی سے سیاہ پر گئے تھے۔۔

سچ کہا تھا کسی نے محبت پھر بھی بھلائی جا سکتی ہے لیکن عادت ،،،عادت کبھی ختم نہیں کی جا سکتی ۔۔۔

اور وہ صرف اُسکی محبت نہیں ،،،اُسکی عادت ” اُسکا عشق تھی،،بلا انسان اپنی عادتوں کو بھی کبھی بھولتا ہے ۔

اُسے بھی اُسکی عادت تھی ،،جس کے بغیر دِن با دن وہ ٹوٹ رہا تھا ،،ختم ہو رہا تھا”مر رہا تھا

کس قدر خوبصورت تھا وہ شخص ” ایک دنیا اُس پر فدا تھی لیکن اسکو جسکی چاہ تھی وہ اُس سے کوسوں دور تھی ۔۔۔وہ سوچتی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتی اُسکے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔

آبان ” کب تک خود کو اس طرح تکلیف میں رکھیں گے ،،جاتے کیوں نہیں ہیں اُس کے پاس ؟؟

کیوں خود کو اور مجھے اذیت دے رہے ہیں” نہیں دیکھ سکتی آپکو اس طرح،

جب نہیں رہ سکتے اُس کے بغیر تو راضی کر لیں نہ اُسے ،،یوں اس طرح خود کو اذیت میں تو مت رکھیں ،،میرا دل پھٹتا ہے آپکو تکلیف میں دیکھ کر وہ بولتی سسک پری،،

وہ جو آنکھیں موندے بیٹھا تھا اُسکے رونے پر ایک پل میں سیدھا ہوا،،

کیوں رو رہی ہیں آپ ؟؟ وہ اضطرابی کیفیت میں گھرا اُسے روتا دیکھتا بولا،،

کیا چاہتی ہیں آپ کہ جو کچھ پل سکون کے مجھے میسر ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں ،،اُسے شکوہ کناہ نظروں سے دیکھتا وہ انگلیوں کی پوروں سے اُسکے آنسو صاف کرنے لگا

اُسکے رونے کی شدت میں اور اضافہ ہوتے دیکھ وہ اُسے ساتھ لگا گیا

کیوں رو رہی ہیں یار۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں”

آپ کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی ،،،آپ اس طرح ٹینشن مت لیا کریں ،،بس کچھ پل اکیلے بیٹھنا چاہتا تھا اسلیے یہاں آ گیا”

آپ ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ اُس کے بغیر نہیں رہ سکتے ” آپ کیوں نہیں جاتے اُس کے پاس؟؟

جائیں اُسے منائیں “وہ مان جائے گی ۔۔۔وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے ،،وہ روتے ہوے ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی،، آپ ایک بار جائیں تو سہی،،

آبان اُسکی کیفیت سمجھتا سختی سے لب بینچتا اُسکی پشت سہلاتا ہوا گویا ہوا

آپ کو کیا لگتا ہے میں نہیں گیا اُن کے پاس” یاں میں نے نہیں منایا انہیں۔ ،،

میں نے اُسے راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ،،وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ،،

اور آپ جانتی ہیں،،

وہ اس خویلی اور اسکے مکینوں سے شدید نفرت کرتی ہے،،اُسکا جتنا نقصان یہاں ہو چکا ہے وہ اُسے کبھی نہیں بھلا پائے گی ،،

اور میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں ،،وہ جتنی شدت سے محبت کرتی ہے ،،اُس سے کہی زیادہ شدت سے نفرت بھی نبھاتی ہے۔۔۔

آنکھوں میں آئی نمی کو وہ چھپاتا وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا “

اور اُسکا کہنا ہے کہ اسے نفرت ہے مجھ سے” نفرت کرتی ہے وہ،، یہاں رہنے والے ہر ایک فرد سے ،،وہ اپنے ہوے نقصان کا زمیدار ہم سب کو سمجھتی ہے ۔۔۔

اسی لیے تو چھ ماہ سے اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا ،،

میں جانتا ہوں اسکو وہ کبھی واپس نہیں پلٹے گی ،،

کیوں کہ اُسکے بقول

محبت خدا کا تخفہ ہے ،،جس طرح خدا کی ذات میں شرک سب سے بڑا گناہ ہے ،،جسکی کوئی معافی نہیں، اُسی طرح عشق میں شرک کی کوئی معافی نہیں۔۔۔

اور میں نے عشق میں شرک کیا ہے،،اور شرک کی سزا ہے معافی نہی”

اس نے میرے لیے یہی سزا تجویز کی ہے” جدائی ” کی سزا،

اب تو شاید عمر بھر اس سزا کو کاٹنا ہے،،کیوں کہ وہ ہمیشہ کہتی تھی محبت میں جب تک دو رہیں تب تک محبت ہوتی ہے ،،جب کوئی تیسرا آ جائے تو ایک کو تفریق ہونا پڑتا ہے،،

اور اُس نے خود کو تفریق کر لیا۔۔

وہ گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتا اپنے اندر بھرتی گٹن کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا

یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے کاش ایسا نہ ہوتا،،کاش آپ مجھ سے نکاح نہ کرتے تو آج وہ آپ کے ساتھ ہوتی۔

میں ہوں ہی منہوس ” پہلے میری وجہ سے آہل چلے گئے اور اب آپ”

آپ کو بھی میری وجہ سے اتنی تکلیف سہنی پر رہی ہے،،

وہ اُسکی شرٹ مٹھیوں میں بینچتی بے بس سی بولتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔

یہ کیا بول رہی ہیں آپ” وہ سختی سے اُسے دیکھتا گویا ہوا

آپ نے کچھ نہیں کیا ،،نہ اس میں آپکا کوئی قصور ہے،،اُس وقت خالات ہی اس طرح کے پیدا ہو چکے تھے کہ ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔۔

اور میں اپنے عمل سے بلکل بھی شرمندہ نہیں ہُوں،،

اسلیے آپ خود کو اس سب کا زمیدار ٹھہرانا بند کریں وہ اُسکے آنسو پونچھتے قدرے سخت لہجے میں بولا”

اُس کے لہجے کی سختی کو محسوس کرتی نور العین کے آنسو تھمے۔۔

آپ کیوں مجھے مزید تکلیف دے رہی ہیں رو کر،،آپ جانتی ہیں ڈاکٹر نے کتنی اختیاط برتنے کی ہدایت کی ہے لیکن آپ پھر بھی بغیر کسی ملازمہ کو ساتھ لیے اکیلی اوپر آ گئی ہیں ،،،

اُسے خاموش ہوتا دیکھ وہ بولا سس ‘ سوری،،، آپ کہی دکھے نہی تو بس ہم آپکو دیکھنے کے لیے آ گئے” وہ ہچکچاتی ہونٹ دانتوں میں دباتی بولی

آبان کہ چہرے پر ایک ہلکی زخمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ،،

چلیں اب اٹھئیں دونوں اکٹھے چلتے ہیں نیچے ،،ورنہ اب آپکو ڈھونڈھتے میری پری نے آ جانا ،،وہ کھڑا ہوتا اُسے سہا را دیتا بولا۔۔

اور وہ اُسکے چہرے کو دیکھتی اُسکی دلکش مسکراہٹ میں کھو سی گئی،،جانے کتنے وقت بعد اُسے وہ مسکراتا دیکھ رہی تھی ،،ورنہ جب سے وہ گئی تھی اُسکا سکون ،،چین،نیند ،،خوشی سب ساتھ لے گئی تھی ،،

اب جو شخص اُسکے پاس تھا وہ تو صرف ایک مٹی کا بت تھا ،،جسے کسی چیز سے کوئی غرض نہیں تھی،

جس کی خوشیاں اُسکے ساتھ ہی چلی گئی تھی “

وہ اُسکا ہاتھ تھامتے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوۓ اُسکا چہرہ دیکھتی دھیمے لہجے میں بولی “

اگر میں ایک دفعہ بات کروں اُن سے تو ؟؟ ۔۔۔۔

بلکل بھی نہیں ” ایک بار میں دیکھ چکا ہوں آپ کے بات کرنے کا نتیجہ ” اور نقصان بھی اٹھا چکا ہوں،،

اب مجھ میں مزید کوئی خسارہ اٹھانے کی ہمت نہیں،،

اور آج کے بعد دوبارہ آپ کبھی اس ٹاپک پر بات نہیں کریں گی،، وہ سنجیدگی سے بولتا اُسکا ہاتھ تھامے نیچے جانے لگا۔۔

اور وہ خاموش ہوتی گزرے وقت کو سوچتی نم آنکھوں سے اُسکے ہمراہ قدم بڑھانے لگی….

اپنی کار گزری پر مسکراتی وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں نیچے کھڑی حمنہ بیگم کو اشارہ کر گئ ۔۔۔

وہ پرسکون ہوتی فجر کو گود میں لیتی بیٹھ گئ انکی پریشانی جو ختم ہو چکی تھی ۔۔