Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 14)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 14)
Robroye Yaar By Yumna Writes
آگلی صبح وہ بغیر ناشتا کیے کام سے نکل گیا ۔۔
ناشتے کے لیے سب بیٹھے اُسکا انتظار کر رہے تھے ،،
آبان ابھی تک کیوں نہیں آیا مریم بیگم نے نور کی جانب دیکھتے استفسار کیا”
نور جو فجر کے لیے ناشتا پلیٹ میں نکال رہی تھی مریم بیگم کی بات سنتی اُنکی جانب دیکھتی دھیمے لہجے میں گویا ہوئی
میں نہیں جانتی تای جان میں تو اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی۔۔
نور کی بات سنتے حمنہ بیگم کو جیسے پتنگے لگ گئے”
کیا مطلب تم اپنے کمرے میں تھی ؟؟…
امی وہ کافی دیر سے آئے تھے تو میں فجر کو لے کر سو گئی تھی وہ ہولے سے منمینائی”
تمہارا اب وہی کمرہ ہے جس میں تمہارا شوہر رہتا ہے ۔۔
تمہیں ذرا خیال نہیں شوہر کا ،،
اب سے نہ میں دیکھو تمہیں الگ سوتے ہوئے۔۔اب تمہارا شوہر ہے وہ تمہیں اُسکے آرام کا اُسکی چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے اور تمہیں ہوش ہی نہیں خاوند کا۔۔اپنی نیندیں پوری کرنے کی پڑی ہے
حمنہ بیگم آگ بگولا ہوتی نور پر برس پڑی ” نور العین ان کا سرخ چہرہ دیکھتی لب دانتوں میں دبا کر خاموشی سے اُنکی ڈانٹ سن رہی تھی
جاؤ اب جا کر بلا کر لاو آبان کو جلدی سے ،،ناشتا ٹھنڈا ہو جائے گا ۔۔
نور سر ہلاتی اٹھ کر اُسے بھلانے چلی گئی۔
دو منٹ بعد وہ واپس آ کر بیٹھی تو حمنہ بیگم نے اُسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔
وہ نہیں ہیں روم میں”
پینو بتا رہی ہے وہ جلدی نکل گئے تھے کسی کام کے سلسلے میں صبح کہتی وہ فجر کو ناشتا کروانے لگی
حمنہ بیگم سخت نظروں سے اُسے دیکھتی ناشتہ کرنے لگی۔۔
مریم بیگم حسن چوھدری کی جانب دیکھتی چہرے پر پتھریلے تاثرات لیے گویا ہوئی
دیکھا آپ نے اپنے بیٹے کو کتنی فکر ہے اُس کل کی آئی لڑکی کی۔۔کہ ماں سے ناراض ہو گیا اُس کے لیے
آپ بتائیں میں نے غلط کیا بولا تھا اُسے”
لیکن خدا جانے کیا پٹی پڑهای ہے اُس نے کہ اسی کے گن گاتے رہتا ہے۔۔
حمنہ بیگم اُنکی جانب دیکھتی جلتی پر تیل چھرکنے کا کام کرتی سرد لہجہ میں گویا ہوئی ”
بھابھی آپ نہیں جانتی ان شہری لڑکیوں کو ،،انکا تو کام ہی یہی ہوتا ہے نخرے دیکھا کر لڑکوں کو پیچھے لگانا
اور یہ تو پھر اُسکی بیوی کے عہدے پر فائز ہے۔۔
اب تو خیر سے اولاد بھی ہونے والی ہے اب تو بلکل ہی اسے ہماری فکر نہیں رہے گی ۔۔
ایک بار اُسکی اولاد ہو گئی تو اُس لڑکی کے قدم اور بھی مضبوط ہو جانے ہیں۔۔
آبان تو پہلے ہی اُس کے پیچھے باؤلا ہوا پھرتا ہے ۔۔جانے بعد میں کیا خال ہوگا ،،
اسی لیے تو اس جھلی کو کہہ رہی ہوں اُسکا خیال رکھا کر ،،
ورنہ یہ نہ ہو وہ بلکل ہی ہمیں بھول جائے ۔۔لیکن میری بیٹی صدا کی معصوم نہیں جانتی آجکل کی لڑکیوں کی طرح خیر پھیر۔۔
حمنہ بیگم مریم بیگم کو جان بوجھ کر مزنہ کے خلاف کرتی زہر ہند لہجے میں کہہ رہی تھی تاکہ وہ آبان سے اس بارے میں خود بات کریں۔
ورنہ اُن کی بیٹی تو اُنکا پلان خراب کرنے میں ہی لگی ہوئی تھی اور وہ کبھی بھی ایسا ہونے نہ دیتی۔
نور جو خاموشی سے سر جھکائے ناشتا کر رہی تھی مزنہ کے خلاف ان دونوں کی باتیں سنتی اپنی ماں کی جانب دیکھتی گویا ہوئی
امی آپ ایسے نہ کہیں آپی کو” وہ بلکل بھی ایسی نہیں ہیں جیسی آپ دونو سمجھ رہی ہیں۔۔۔
وہ بے حد پیار کرنے والی اور خیال رکھنے والی ہیں کہ ہے کسی کو ان سے محبت ہو جائے ۔۔
آبان تو پھر اُن کے شوہر ہیں_ اور مجھے کسی کو اپنے آگے پیچھے نہیں لگانا ۔۔
پہلے ہی آپ لوگو نے زبردستی ہمارا نکاح کروا دیا ۔۔
اور اب آپ آبان کو ان سے دور کرنا چاہتی ہیں۔۔
مریم بیگم حمنہ بیگم کو دیکھنے لگی تو حمنہ بیگم دانت پیس کر اُسے دیکھتی غیذو غضب سے گویا ہوئی
منھ بند رکھو اپنا تم ” تم نہیں جانتی اُسے ۔۔
اور نہ ہی تمہیں اپنے اچھے برے کا علم ہے ،، بڑے بہتر جانتے ہیں کہ بچوں کے لیے کیا بہتر ہے۔
دیکھا بھابھی کیسے اُس لڑکی نے سب کو اپنے ہاتھوں پر ڈالا ہوا ہے۔۔۔۔ وہ نور کو سخت نظروں سے گھورتی ہوئی بولی۔
نور العین اُن کے سخت تاثرات دیکھتی خاموش ہو گئی
__________________________
آبان جو ضبط کرنے کے باوجود ماں کی باتوں کو بھلا نہ پا رہا تھا صبح جلدی اٹھتا ڈیرے پر چلا گیا ۔۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے۔۔
حسن صاحب کی بات تو وہ سمجھ چکا تھا لیکن ابھی ایسا وہ کچھ نہیں تھا چاہتا
اُس نے تو یہ نکاح صرف گھر والوں کی خوشی کے لیے کیا تھا ۔۔
وہ مزنہ کو نکاح کا بتانے سے ڈر رہا تھا ۔۔۔تو وہ کیسے نور کے ساتھ اپنا رشتے آگے بڑھا سکتا تھا۔
اور کل رات اُسکی ماں کی باتوں سے اُسے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ لوگ کب سے صرف اُس کے لیے خاموش بیٹھے تھے ۔۔
اُسکے گھر والوں نے دل سے اس کے نکاح کو قبول نہیں تھا کیا ۔۔
مزنہ نے گزرے تین سالوں میں اُن کا بہت خیال رکھا اُنھیں عزت دی۔۔لیکن شاید پھر بھی وہ اُسے دل سے قبول نہیں کر پائے
اُسے اسی فرسودہ روایات کے باعث حویلی میں رہنا اور یہاں کا ماحول اپنانا پسند نہیں تھا
اُس نے اسی وجہ سے تو خاندان میں شادی نہیں کی تھی کہ اگر وہ یہان نکاح کرتا تو اُسے ساری زندگی حویلی کا ہو کر ہی رہنا پڑتا ۔۔
وہ جانتا تھا وہ جتنی چاہے کوشش کر لے لیکن اُسکے ماں باپ کبھی ان روایات کو تورنے کی اجازت نہیں دیں گے
مزنہ سے جب اُسکی ملاقات ہوئی تو اُسے کوئی دھوا دھار پہلی نظر کی محبت نہیں ہوئی تھی
دونو کو فیلڈ بیسنز کی تھی تو پارٹیز میں ملنا ہوتا رہتا
اور یونہی ملاقاتیں مزید بھرنے لگی ۔۔
جب آبان کو لگا کے مزنہ اُسکے لیے بہترین ساتھی ہے تو اُس نے اُسے پرپوز کر دیا
مزنہ تو پہلے ہی آبان چوہدری کی سحر انگیز پرسنلٹی کی وجہ سے اُسکی گرویدہ تھی ،،اُسکے ساتھ جب ملاقاتیں بھری تو اُسے وہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک اچھے دل کا انسان لگا ۔۔
اُسکی سب سے اچھی بات اُسے یہ لگتی کہ اُس نے کبھی بلاوجہ کیسی سے بات نہیں کی تھی ۔۔
اپنی مرضی سے اور اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص تھا وہ
اور یونہی دونو ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے ۔۔
آبان کو مزنہ کا سوچتے بہت برا لگا ۔۔
اُس نے اپنی پوری کوشش کی اُنکا دل جیتنے کی لیکن یہ لوگ وہی پرانی سوچ کے مالک تھے
اُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ
وہ کیوں اس نام نہاد رشتے کو آگے بڑھاے ۔اُس نے آج حویلی جا کر سب سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔
اور پھر اُسکے بعد و تمام حقیقت مزنہ کو بتانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
____________________
وہ رات میں حویلی دیر سے لوٹا ۔۔صبح ناشتہ نہ کرکے جانے اور کسی سے بات نہ کرنے کا اُسکا یہی مقصد تھا کہ وہ سب کو باور کروانا چاہتا تھا کہ وہ ناراض ہے
اگر کیسی نے اُسکی بیوی کے خلاف کچھ بولا یاں اُسے چھوڑنے کی بات کی تو وہ ان سب سے پیچھے ہٹ جائے گا لیکن
اپنی بیوی کو نہیں چھوڑے گا ۔
وہ سیدھا بی اماں کے کمرے میں گیا ۔۔
سلام کرتا وہ تزبز کا شکار ہوتا انکے قریب خاموشی سے بیٹھ گیا ۔
فیصلہ تو کرکے آیا تھا لیکن جب سب کو بی امان کے کمرے میں بیٹھے دیکھا تھا تو خاموش ہو گیا
سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے بات شروع کرے ۔۔اور اُن سب کا اُسکی بات سن کر کیا ردے عمل ہوگا .
لیکن فیصلہ تو وہ لے چکا تھا جس پر وہ اب بّھی قائم تھا ۔
اسی لیے چہرے پر سرد تاثرات لائے سب کو نظر انداز کرتا وہ بی اماں کو دیکھتا سرد لہجے میں گویا ہوا
بی اماں میں نور کے ساتھ اپنا رشتہ آگے نہیں بڑھانا چاہتا ۔۔میں نے آپ لوگو کے کہنے پر نکاح کر لیا تھا لیکن میں اس رشتے کو آگے ساتھ لے کر نہیں چل سکتا
جس کی وجہ سے میری بیوی میرا بچہ مجھے سے دور ہو میں اُس چیز کو جڑ سے ختم کر دونگا
اس لیے میں نور کو اس رشتے سے آزاد کر دینا چاہتا ہوں ۔
بغیر کسی کی جانب دیکھے اُس نے اپنی بات مکمل کی ۔۔
اُسکی بات سنتے تو سب پر جیسے سکتا طاری ہو گیا تھا ۔۔
یہ” یہ کیا کہہ رہا ہے بھائی صاحب !!!!
