Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 3)

Robroye Yaar By Yumna Writes

وہ بلیک پراڈو سے نکلتا انگلیوں پر گاڑی کی چابیاں گھماتا فلیٹ میں داخل ہوا تو پر اسرار سی خاموشی نے اُسکا استقبال کیا ۔۔۔

وہ بھاری قدم اٹھاتا کمرے کے قریب گیا ۔۔ناب گھوما کر دروازہ کھولا تو کمرے کی سجاوٹ کو دیکھ وہ وہی ساکت ہو گیا خیران ہوتا کمرے کی سجاوٹ کو دیکھنے لگا ” جو مکمل طور پر پھولوں سے سجا خوشبو بکھیر رہا تھا

کمرے کو بہت خوبصورتی سے گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔بیڈ کے قریب ٹیبل کے درمیان میں کیک رکھا ہوا تھا اور ارد گرد کینڈل سجائی گئی تھی ۔۔۔

روم میں صرف پھولوں کی خوشبو اور کینڈل کی مدھم روشنی تھی ۔۔

وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں آگے بڑھتا ٹیبل کے قریب گیا ،،جب بلکل اپنے عقب سے اُسکی خوبصورت آواز کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوئی ۔۔۔

ہیپی تھرڈ اینیورسری مائے ہینڈسم ہسبنڈ”

وہ بولتی اُسکے سامنے آئی ۔۔۔

ریڈ فروک پہنے ،کانوں میں جھمکے ڈالے ،،ہلکا میک اپ کیے ،،

اپنے گولڈن خوبصورت بالوں کو کھولے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ،،،

وہ تو ویسے ہی اُسکا اسیر تھا ۔۔۔اور اب جب وہ اُسکے سامنے اپنے تمام تر حسن سمیت موجود تھی وہ پلک جھپکائے بغیر ساکت سا اُسے دیکھے جا رہا تھا

آبان نے اسکو تمام ہتھیاروں سے لدے دیکھ اُسکے قریب ہوتے اُسکی کمر کے گرد گیھرا ڈالا

کیسا لگا سرپرایز؟؟…

مزنہ اُسکے ماتھے پے گرے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے اسکو یوں خود کو دیکھتا پا کر تھوڑا سا ججھکتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔

بہت خوبصورت “

حسین وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتا حمار آلود لہجے میں بولتا جھکتا اُسکے گلابی گال پر لب رکھ گیا ۔۔

کاجل آنکھیں،ہونٹ گلابی،زلف اسیری

گال پر تل!!! دل نہ دیتے،

جان سے جاتے،سامنے تھے ہتھیار بہت

مزنہ گھبراتی اپنی تیز تر ہوتی دھڑکن پر قابو پاتی تھوڑا سا دور ہوتی بولی ۔۔۔چلیں کیک کٹ کرتے ہیں۔۔۔۔

دونو نے ایک ساتھ کیک کاٹا اور ایک دوسرے کو کھلایا ۔۔۔

میرا گفٹ ؟؟۔۔۔

آبان اُسے اپنے قریب کرتا گھمبیر لہجے میں بولا ۔۔۔

میزنہ نے ٹیبل کے قریب پرا کارڈ جس پر اُس نے پھول بکھیرے ہوے تھے تاکہ نظر نہ آ سکے اٹھاتے اُس سے فاصلہ بناتے اُسے پکڑایا ۔۔۔

آبان نا سمجھئ سے چہرے پر کشمکش لیے اُس سے کارڈ پکڑتا کھولنے لگا ۔۔۔

کارڈ کھولتے ہی اُس میں ایک بےبی کی فوٹو تھی اور بڑے الفاظ میں لکھا تھا ” کنگریٹولیشن فادر ٹو بی “

وہ اُن الفاظ پر ہاتھ پھیرتا ان کی خوبصورتی میں جیسے کھو گیا ۔۔۔اور پھر سمجھ آتے ہی وہ بے انتہا خوش ہوتا اُسے دیکھنے لگا ۔۔۔

اور پھر اچانک آگے کو ہوتا اُسے سینے میں بینچ گیا ۔۔

میں ،،مطلب ۔۔۔مم ” مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کہوں۔۔

میں آج سچ میں بہت خوش ہوں ۔۔۔اتنی بڑی خوشی یار ،،

ہماری اولاد “۔ ۔۔۔آج میں بہت خوش ہوں ۔۔

تھینک یو فور گیونگ می دا ورلڈ بیسٹ گفٹ “…

وہ لہجے میں گلی نمی کو چُھپاتا اُسے ساتھ لگاتا بولا ۔۔

مزنہ جانتی تھی کہ وہ زبان سے کبھی نہی بولا لیکن فجر کو دیکھ کر اُسکا بھی دل کرتا تھا کہ اُسکی بھی اولاد ہو ۔۔لیکن وہ خاموش رہتا تھا کبھی گزرے سالوں میں اُس نے ایک بار بھی مزنہ کو اس حوالہ سے کچھ نہی کہا

یہی بات اُسکی اُسے اس شخص کا اسیر کرتی تھی ،،جتنی محبت آبان مزنہ سے کرتا تھا اُس سے زیادہ محبت شدت سے وہ اس سے کرتی تھی ۔۔۔

اُس کے قریب کسی دوسری لڑکی کا سایہ تک اُسے برداشت نہ تھا ۔۔

اُسے عشق تھا آبان سے اور یہ بات آبان بخوبی جانتا تھا ۔۔گزرے سال ایک دوسرے کی سنگت میں دونو کے بہت حسین گزرے ،،،دونو ایک دوسرے کے لیے بہت حساس تھے ۔۔

مجھے نہیں معلوم وہ پہلی بار کب اچھا لگا!!!!!

مگر اس کے بعد ” کبھی برا نہیں لگا۔

وہ آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتی بولی

چلیں اب میرا گفٹ بھی تو دیں وہ آنکھیں گھوماتی ہاتھ آگے کو کرتی ہوئے معصومیت سے بولی

آبان نے اپنی پاکٹ سے ایک بہت ہی خوبصورت نفیس سا بریسلٹ اُسکی کلای میں پہنایا ۔۔۔

بہت خوبصورت ہے مزنہ اُسے دیکھتی ہوئی بولی ۔۔۔لیکن جو آپ نے مجھے دیا ہے اُس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی بھی ۔۔

بہت شکریہ اس دن کو اور حسین بنانے کے لیے ۔۔

سب کو بتاتے ہیں میں آپ کو سب سے پہلے سرپرایز دینا چاہتی تھی ۔۔

بتا دیں گے یار اتنی بھی کیا جلدی ہے پہلے مجھے خود کو جی بھر کے دیکھنے تو دو ۔۔۔ابھی تو میں نے آپکی خوبصورتی کو سراہا بھی نہی کہ آپ دوری پہلے قائم کر رہی ہیں۔

اُس کو قریب کرتا اُسکے ماتھے پر اپنے تشنہ لب رکھتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا ۔۔

آپکی پیاسی آنکھیں تو گزرے تین سالوں سے نہی بھری اب کہا چین آنا ہیں انہیں وہ اُسے پیچھے کو دھکیلتی بولی

لوگو کو پتہ چل جائے کہ آبان چوہدری کا گھر میں یہ مقام ہے تو غش کھا کر گر جائے

وہ جلے کٹے لہجے میں اُسے فون کرتا دیکھ بولا

بیوی کے سامنے کبھی کسی کی نہی چلتی چاہے وہ جتنا برا بزنس مین ہی کیوں نہ ہو اسلیے زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں وہ کھلکھلاتی ہوئی بولتی حویلی کال کرنے لگی

پھر انہو نے سب کو یہ خبر سنائی ۔۔۔

سب اتنی بڑی خبر سنتے بے انتہا خوش تھے ۔۔۔ہی جان نے گھنٹہ بات کرتے اسکو ڈھیر ساری نصیحتیں کی ۔۔۔اماں سائیں کا بھی خال ویسا ہی تھا ۔۔۔

اُنہوں نے آبان کو اُسکا خاص حیال رکھنے اور کھانے پینے پر دھیان دینے کا کہا اور کچھ دِن میں وہ خود سب گھر کی دیسی چیزیں بنا کر لآئیں گی کیوں کہ وہ نہی چاہتی کہ اُنکی بہو بازار کی ملاوٹ زدہ خوراک استعمال کرے۔

نور العین مزنہ کے لیے بے انتہا خوش ہوتی اُسے کچھ ضروری اختیاط بتانے لگی ۔۔۔

تین گھنٹے سب سی بات کرکے جب وہ فری ہوئی تو تھک کر بیڈ پر لیٹ گئی ۔۔

آبان ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیے کمرے میں داخل ہوا تو وہ آنکھیں موندے اُلٹا لیٹی تھی۔۔

مزنہ اٹھیں دودھ پی لیں پھر سو جانا وہ اُسکے قریب جھکتا ہوا بولا ۔۔۔

مزنہ نے اپنی نیند سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھول کے اُسے دیکھا ۔۔

اور منھ بناتی بولی مجھے نہی پینا آبان مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔مجھے بس سونا ہے

کہتی وہ دوسری طرف کروٹ بدلتی دوبارہ سو گئی ۔۔۔

مزنہ بس تھوڑا سا پی لیں بی جان نے سختی سے ہدایت کی تھی اور کہا تھا دودھ ضرور پینا ہے

پھر وہ اُسے زبردستی اٹھاتا گلاس اُس کے منھ کے ساتھ لگا گیا ۔۔۔

تھوڑا سا پی کر اس نے ہاتھ سے گلاس کو دور کر دیا ۔۔۔بس اور نہی ،،دل خراب ہونے لگ جانا میرا کہتی وہ بمشکل اٹھ کر چینج کرتی واپس جلدی سے بستر میں گھس گئی ۔۔۔

آبان اُسے سو تے دیکھ لایٹ آف کرتا اُس کے قریب بیٹھ گیا

یہ تو چیٹنگ ہے بیگم سب سے بات کرکے میری باری میں نیند آ گئی وہ شکوہ کنا نگاہوں سے اُسے دیکھتا بولا

مزنہ اُسکی خفگی بھری آواز سنتی اُسکا ہاتھ تھامتے بولی ۔۔۔

ابھی سو جاتے ہیں کل آپ سے بھی ڈھیر سی باتیں کرونگی

آبان اُسکی بات سنتا مسکراتا اُسکے قریب لیٹتا اُسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں موند گیا ۔۔

بہت گہرے حیالوں میں

محبت کے حوالوں میں

تمہارا نام آ جانا

مجھے اچھا سا لگتا ہے ۔