Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 36)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 36)
Robroye Yaar By Yumna Writes
حمنہ بیگم نے حویلی آتے ہی خوب رونا دھونا مچایا اور مزنہ کی تمام باتیں سب کے گوش گزار کی ۔۔
سب اُسکی حرکت سے افسردہ ہوتے خاموش ہو گئے
حسن صاحب کو اُسکے ہاتھ اٹھانے والی حرکت نے تاؤ دلایا ” جو کچھ بھی تھا اُسے اس طرح ہاتھ نہی اٹھانا چاہیے تھا وہ بھاری آواز میں گویا ہوے ۔۔
بی جان جانتی تھی کہ حمنہ بیگم نے بھی کوئی حرکت کی ہوگی جو مزنہ نے اس طرح ان پر ہاتھ اٹھایا اسلیے حسن صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے گویا ہوئی
ضرور ان لوگو نے بھی کچھ کیا ہوگا ورنہ وہ بچی ایسی نہیں ہے ۔۔ اتنا وقت ہمارے ساتھ رہی ہے ۔۔
ہم نے کیا کرنا ہے بی اماں ” میں تو بس آبان کے بیٹے کو ملنے کا کہا اُس نے روکا تو میں نے بھی کہا کہ یہ ہمارا وارث ہے ” تم ہمیں ملنے سے نہی روک سکتی !! تو اُس نے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا
اور تو اور اُسکی ماں نے نور العین کو بھی نہ چھوڑا ۔۔میری معصوم بچی تو مجھے بچانے کہ لیے آگے آئی تھی آنکھوں میں آنسو لیے وہ مسکین صورت لیے بولی ان کی ایکٹنگ کی تو داد دینی بنتی تھی مبادا کہ مزنہ بھی سامنے ہوتی تو وہ بھی اُنکی شاندار ایکٹنگ دیکھ کر تسلیم کر لیتی کہ وہ سچ کہہ رہی ہیں
جبکہ حمنہ بیگم نے کمرے میں آتے ہی کسی کو فون کیا
دوسری جانب سے فون اٹھایا گیا ۔۔
تمہیں تصویر بیجھ رہی ہوں کل تک اس لڑکی کا کام تمام ہو جانا چاہیے ” تصویر کے ساتھ ساری معلومات بھی ہیں اور ہاں کام ہوتے ہی وہاں سے غائب ہو جانا ۔۔
یاد رہے کسی کو کانو کان خبر نہ ہو ورنہ تم جانتے تو ہو مجھے ٫ پیسے تمہیں مل جائیں گے لیکن کام ہونے کے
بعد “…
فون کان سے ہٹاتے وہ آبرو اُچکاتی تندہی سے بولی اب دیکھتی ہوں میں کہ کیسے بچتی ہو تم ” مجھ پر حمنہ بیگم پر ہاتھ اٹھانے کی سزا تو تمہیں ملنی ہے ۔۔
ورنہ میری جان کو سکون نہیں آئے گا یہ تھپڑ سود سمیت واپس دونگی تمہیں کہا تھا نہ ،،اب وقت آ گیا ہے
تیار رہو مرنے کے لیے وہ من ہی من میں اسے سو صلواتے سناتی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی
حمنہ بیگم کو غصے میں جاتا دیکھ نور العین اُن کے پیچھے لپکی “
لیکن انکو فون پر کسی سے محو گفتگو دیکھ وہ متفکر ہوتی فوراً کمرے میں داخل ہوئی ۔
امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ” ۔۔۔جانتی بھی ہیں اگر مزنہ کو کچھ ہو گیا تو سیدھا شک ہم دونوں پر آئے گا” اوڑھی ہوئی رنگت سے وہ انکی باتیں سنتی بولی۔۔
کچھ نہیں ہوگا تم بے فکر رہو ۔۔ہم یہاں حویلی میں ہیں ۔ہم پر کوئی شک نہیں کر سکتا ۔۔
اور اگر جس کو اپ نے مارنے کا حکم دیا ہے وہ کچھ پھوٹ پڑا پھر دونو ماں بیٹی جھیل میں چکی پیس رہی ہونگی ۔۔
نور العین اُنکا ریلیکس سا انداز دیکھ کر لال پیلی ہوتی پھٹ پڑی۔۔
حمنہ بیگم کے چہرے پر بھی ایک سایہ سا لہرایا اُنہوں نے تو یہ سوچا ہی نہیں۔۔
وہ لاؤنج میں مصطفیٰ کو گود میں لیے بیٹھی تھی جب ملازمہ نے آ کر ہارون کے آنے کی اطلاع دی۔۔
بیبی جی ہارون صاحب آئیں ہیں ۔۔کیا اُنھیں سیٹنگ روم میں بیٹھا دوں؟…
اکیلے ہیں یاں ساتھ کوئی اور بھی ہے ملازمہ کی جانب دیکھتے اُس نے استفسار کیا ۔۔
نہیں جی اکیلے ہیں ۔۔
ہمم یہی لے آؤ کہتی وہ مصطفیٰ کو دیکھنے لگی جس کی قلقاریاں لاؤنج میں گونج رہی تھی
ہارون نے لاؤنج میں داخل ہوتے سلام کیا اور مزنہ کی گود میں موجود بچے کو خیرت زدہ سا دیکھنے لگا جس کی مشابہت آبان سے ہو رہی تھی ۔۔۔
سرخ و سفید رنگت کا چھوٹا سا گڈا بری طرح اُس کی نگاہ اپنی جانب مبذول کر رہا تھا ۔۔۔اپنی نظروں کو کنٹرول میں رکھتا وہ فلهال خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔
مزنہ بلکل خاموش رہی اُس نے کوئی سوال نہ پوچھا اس لیے ہارون نے خود ہی بات کا آغاز کیا
کیسی ہیں بابھی آپ ؟؟
ٹھیک ہوں مزنہ نے مختصر سا جواب دیا ۔۔
کچھ کام تھا کیا مزنہ نے اُس کی جانب دیکھتے پوچھا ؟..
نہیں ۔۔۔کیا میں اب اپنی بہن سے ملنے بھی نہیں آ سکتا ہارون نے نرم مگر پر شکوہ لہجے میں کہا ۔۔
میں نے ایسا کب کہا ” مزنہ نے الجھن بھری نظروں سے اُسے دیکھا ۔۔
میں جانتا ہوں میری بہن ناراض ہے مجھ سے ” اور ہونا بھی چاہیے ۔۔آپکا حق بنتا ہے ۔۔
میں ایک بھای ہونے کا فرض نہ نبھا سکا لیکن یقین مانیں میرا ” جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو وقت بیت چکا تھا ۔۔۔سمجھنے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا
میں نے بہت کوشش کی کہ آبان آپکو حقیقت بتا دے لیکن اُسے خوف تھا کہ کہی آپ اُسے چھوڑ نہ دیں اور مجھے بھی سچای بتانے سے منع کیا تھا
جنہیں خوف ہو نہ وہ یوں چھپتے چھپاتے نکاح نہیں کرتے ۔۔سب چال بازی ہے آپ کے دوست کی مزنہ زہر ہند لہجے میں بولی
غلط کہتے ہیں جو کہتے ہیں
کہ تیسرا شخص جب آتا ہے بتا کر نہیں آتا
حقیقت تو یہ ہے تیسرا شخص آتا ہی کسی ایک کی مرضی سے ہے جب تک کسی کی مرضی شامل نہ ہو
کوئی کسی کی زندگی میں دخل اندازی کر ہی نہیں سکتا مگر جب وہ مکمل طور پر شامل ہو جاتا ہے
تو پہلے والے کا ذہنی سکون برباد کر دیتا ہے
یہاں بھی آپکے دوست نے اپنی مرضی سے اُسے زندگی میں شامل کیا اور اب اپنے بچے کے لیے ڈرامے بازی کر رہا ہے
بابھی میں جانتا ہوں کہ آبان غلطی پر ہے لیکن دیکھا جائے تو زیادہ قصور اُسکا بھی نہیں ” اُس کو نکاح کے لیے پریشرايز کیا گیا تھا ۔۔وہ آیا تھا میرے پاس بہت پریشان تھا ۔۔۔
ہمم اچھا تو کیا وہ اتنا چھوٹا بچہ ہے جو پریشر میں آ گیا ۔۔جانے دیں بھای یہ سب جھوٹے بہانے ہیں مزنہ تلخ لہجے میں اُسکی جانب دیکھتی گویا ہوئی
اور اگر آپ یہاں اپنے دوست کی وکالت کرنے آئے ہیں تو آپ جا سکتے ہیں میں تھک چکی ہوں ایک ہی بات سن سن کر ۔۔
نہیں میں یہاں اپنے دوست کا نہیں بلکہ ایک بہن کا بھائی بن کر آیا ہوں ۔۔
جو اس وقت بہت شرمندہ ہے ہارون آنکھیں جھکائے پشیمانی سے گویا ہوا ۔۔
مجھے باقی سب باتوں کا آپکے ڈرائیور سے علم ہوا ٫ میں کینڈا میں تھا گل کی طبیعت کے باعث ” جب آیا تو انکل کا پتہ چلا اور پھر آپکی طبیعت خرابی کا ۔۔
میں بہت شرمندہ ہوں کہ میں وقت رہتے آپکے کام نہ آ سکا ۔۔
مجھے علم ہوتا میں کبھی نہ جاتا مجھے خالات کی سنگینی کا اندازہ نہ تھا
مزنہ اُسے شرمندہ ہوتے دیکھ نرم لہجے میں گویا ہوئی
اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں ” میری قسمت میں ایسا ہونا لکھا تھا تو ہو گیا ۔۔
ہارون کو مصطفیٰ کو دیکھتا پا کر وہ بولی مصطفیٰ ” نام ہے میرے بیٹے کا ۔۔
ماشا اللہ بہت پیارا ہے ۔۔۔اللہ پاک نظرے بد سے بچاے” ہارون نے گول مٹول سے مصطفیٰ کو دیکھتے دل سے دعا دی ۔۔۔ جب اس سے نا ہی رہا گیا تو بول پڑا
اگر آپ برا نا منائیں تو کیا میں اسے تھوڑی دیر پکڑ سکتا ہوں ہارون نے ہچکچاہٹ سے لہجے میں محبت سموئے کہا کہا کہی انکار ہی نہ کر دے۔۔
کیوں نہیں مزنہ نے آگے بھرتے مصطفیٰ کو اُسکی گود میں دیا ۔۔
یہ بہت پیارا ہے ” ہارون متبسم سا اُس کے ہاتھ چومتا بولا
اُسے خوش ہوتا دیکھ مزنہ بھی مسکرا اٹھی
یہ بلکل آپکی کاپی ہے بابھی ” مزنہ اُسکی بات سے محفوظ ہوتی ملازمہ کو ریفریشمنٹ لانے کا کہا ۔۔۔
کافی وقت ہارون مصطفیٰ کے ساتھ کھیلتا رہا اور پھر ایک بار معافی مانگتا چلا گیا
سنایا بیگم جو ضروری سامان لینے مال گئی تھی لاؤنج میں داخل ہوتے مزنہ کی جانب دیکھتی گویا ہوئی ۔۔
اٹھ جاؤ بچے تابش اور زینب بھی آ رہے ہیں ہمیں سی آف کرنے میں نے بہت منع کیا لیکن وہ ضد کر رہے تھے ۔۔
مزنہ سر ہلاتی مصطفیٰ کو ریڈی کرنے کے لئے اپنے روم میں چلی گئی
وہ لوگ اس وقت ایئرپورٹ پر کھڑے تھے،،تابش اور زینب اُنکے ساتھ تھے ۔۔دونو ہی اُن کے جانے سے بہت اُداس تھے
زینب تو مصطفیٰ کو گود میں لیتی رو پری” آپی میں مصطفیٰ کو بہت مس کرونگی ۔۔
سنایا بیگم کی بھی آنکھیں نم تھی اپنے گھر کو چھوڑ کر جانا کوئی آسان کام نہیں “۔۔
ہم کون سا بہت دور ہیں جب دل کیا آ جانا ،، اور ویڈیو کال پر میں تمہاری مصطفیٰ سے بات کروا دیا کرونگی ۔۔
اس طرح رو کر دیکھو تم نے مصطفیٰ کو بھی پریشان کر دیا ۔۔
ہاں دیکھو بیچارہ بچہ تمہارا میک اپ کے بغیر والا خوفناک چہرہ دیکھ کر ڈر نہ جائے تابش اُسے چراتا بولا
اهّھ ۔۔آپی دیکھیں یہ کیا کہہ رہا ہے زینبِ چیختی اُس پر جھپٹتی مزنہ کو شكایت کرنے لگی کیوں کہ تابش اُسکی چیخ سے بدک کے مزنہ کے پیچھے ہوا تھا ۔۔
انائسمنٹ ہوئی تو وہ لوگ دونو سے ملتی اپنا سامان لیتی آگے بھری۔۔
مزنہ نے آنکھو میں چھای افسردگی کو چھپانے کے لیے گلاسز لگای۔۔
دل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا…
اُسے دکھ ہی نہیں جدائی کا “
بس یہی دکھ کھا گیا مجھ کو۔۔![]()
![]()
دھندلی آنکھوں سے ایک بار باہر کی جانب دیکھا اور مصطفیٰ کو لیتی اندر چلی گئی ۔۔۔۔
دوسری جانب مقابل کو اُس کے آنے کی خبر ملی تو وہ دل تھام کے اس وقت کا انتظار کرنے لگا جب اُس نازک ،،خوبصوت لڑکی کا دیدار نصیب ہوگا ۔۔
دل ایک نئے انداز سے دھڑکنے لگا ” ماہم شاہ اُسکی آنکھوں میں چمک دیکھتی متبسم سی ہوتی گویا ہوئی
میں ڈرائیور کو کہہ دونگی اُنہیں لینے ایئر پورٹ چلا جائے تم تو بہت مصروف ہو آفیس میں ۔۔
نہیں مطلب ایسی بات نہیں موم میں خود چلا جاؤنگا آپ بتا دیں کب اُنکا ٹیک آف ہوگا ۔۔میں خود جاؤنگا پھوپھو جان کو ریسیو کرنے ۔۔
بوکھلاتا ماں کی نظروں سے خائف ہوتا وہ اٹھ گیا جبکہ ماہم شاہ نے اُسے دیکھ کر افسوس سے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
کتنی زور زبردستی کی تھی اُنہوں نے اُس پر نکاح کے لیے لیکن وہ نا مانا ” وہ جانتی تھی کہ وہ مزنہ سے محبت کرتا ہے لیکن جب تک اُنہوں نے جانا مزنہ کا رشتہ تہہ ہو چکا تھا ۔۔
ماہم شاہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم اپنے ہیں اگر مصطفیٰ کمال سے بات کریں گے تو وہ مان جائے گے لیکن زارون نے منع کر دیا ۔۔
وہ جانتی تھی اُنکا بیٹا بہت نرم دل کا مالک ہے وہ پیار محبت میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہے اس لیے اُس نے خاموشی سے اپنا راستہ بدل لیا ۔۔
خود ہجر کی شب برداشت کرتا رہا لیکن اُسے تکلیف نا پہنچنے دی ۔۔
انہیں لگا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اُسے بھول جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا ۔۔اس نے شادی سے صاف انکار کر دیا۔
جب اُنہوں نے اس سے استفسار کیا کہ اُس نے کیوں روکا اُنھیں بات کرنے سے تو اُس نے بہت خوبصورت بات کہی۔
موم محبت یہ نہیں کہ پا لیا تو خوش ہو جاؤ “
محبت تو یہ ہے کہ ہم اپنے محبوب کی خوشی میں خوش ہو جائیں ،،اور مزنہ نہیں جانتی کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں ۔۔
اسلیے آج کے بعد آپ اس بات کا ذکر نہیں کریں گی ۔۔
ماہم شاہ اپنے ہوبرو بیٹے کی جانب محبت لٹاتے نظروں سے دیکھ رہی تھی جو خود کی جان ہلکان کر رہا تھا لیکن اُس پیاری نرم دل رکھنے والی لڑکی کو دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔
اور دوسری جانب مزنہ ایک نئے سفر کی جانب رواں ہوئ تھی یہ جانے بغیر کے خدا اگر بہتر لیتا ہے نہ تو بہترین عطا کرتا ہے وہ تو قادر ہے ہر چیز پر۔۔
اپنے بندے کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔
