Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 18)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 18)
Robroye Yaar By Yumna Writes
نور العین فجر کے لیے فرایز بنا رہی تھی جب ملازمہ نے آ کر اُسے آبان کا حکم سنایا ۔۔
باجی چھوٹے سرکار کا پیغام آیا ہے کہ آپ اور فجر تیار رہیں وہ کچھ دیر میں آپ کو لینے آ رہے ہیں۔۔۔
مزنہ نے چونکتے اُسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔
وہ جی حافظ آیا تھا ڈیرے سے اُنکا پیغام دینے ۔۔
نور العین سر ہلاتی فرایز پلیٹ میں نکالنے لگی۔۔
اُسکا کوئی ارادہ نہیں تھا آبان کے ساتھ کہی جانے کا اس لیے اُسکی بات کو نظر انداز کرتی وہ فجر کو ساتھ لیتی لاؤنج میں بیٹھ گئی۔۔
آبان جب حویلی آیا تو اُسے لاؤنج میں اُنہی کپڑوں میں دیکھ کر شدید غصہ آیا ۔۔
مٹھیاں بينچتا وہ سخت نظروں سے اُسے دیکھتا کمرے میں آنے کہ حکم سناتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلے گیا۔۔
نور العین اُسکے سخت تاثرات دیکھ کر اندر تک کانپ گئی
اُسکی سخت نظروں سے اُسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔
لیکن جانا تو تھا اسلیے فجر کو لیتی کمرے کے باہر تز بز کا شکار ہوتی کھڑی تھی
جب اندر سے اُسکی سراراتی ہوئی آواز آئی۔۔
سارا دن وہی کھڑے رہنے کا اردہ ہے یاں اندر آوگی
اُسکی سخت آواز سنتی وہ اچھلتی دروازہ کھول کر جلدی سے اندر داخل ہوئی
آبان اُسے وہی کھڑے دیکھ بولا
اب کیا وہی جم گئی ہو ۔۔جلدی یہاں آو”
وہ فجر کا ہاتھ تھامے اُسکے قریب جا کر کھڑی ہو گئی
آبان نے ایک نظر اُسے دیکھ کر فجر کو گود میں لیا ۔
جب میں نے کہا تھا تیار رہنا توکیا وجہ ہے حکم عدولی کرنے کی
وہ۔۔وہ میں فجر کو کھانا کھلا رہی تھی اس نے دیر کروا دی اُس نے اپنے خشک پڑتے ہونٹوں اور زبان پھیرتے اُسنے بہانہ گھرا۔۔
ہمم” جلدی سے فجر کو بھی تیار کرو اور خود بھی ہو ۔۔
شاپنگ پر جا رہے ہیں ہم “.. وہ فجر کو لیتا بیڈ پر بیٹھتا اپنا حکم سناتا فون میں کچھ دیکھنے لگا ۔۔
وہ میں کہہ رہی تھی مجھے شاپنگ کی ضرورت نہیں ہے میرے پاس پہلے ہی بہت ڈریسز ہیں۔۔
اُنگلیاں مڑورتی وہ سر جھکا کر ہلکا سے منمنائی ۔۔
میں نے پوچھا نہیں ہے بس بتایا ہے فوراً تیار ہو کر باہر آؤ
پھر نور کے لاکھ منع کرنے کہ باوجود وہ اُسے مال لے کر گیا وہاں سے فجر اور باقی سب کے لیے شاپنگ کی ۔۔
نور کے تمام ڈریس اُس نے خود پسند کیے۔۔
فجر کو لے کر وہ لوگ پلے لینڈ گئے۔۔وہاں سے آتے وقت کافی رات ہو گئی۔۔
فجر کی شرارتوں میں وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
نور العین اور فجر کی شرارتوں میں اُس نے یہ ایک ہفتہ بہت خوبصورت گزارا تھا،،فجر کی شرارتوں میں یہ دن بہت حسین گزرے ۔۔
ان کی زندگیاں دوبارہ اپنے ڈگر پر آ رہی تھی ،،حویلی میں سب خوش رہنے لگے تھے ۔اس ایک ہفتے میں اُس نے حسن صاحب کے ساتھ زمینوں اور پنچایت کے بہت سے معاملات حل کیے تھے ،،۔اس سب میں وہ مزنہ سے بلکل لا پرواہ ہو چکا تھا۔۔۔
مزنہ سے اُسکی کال پر بات ہو جاتی تھی لیکن بس حال احوال پوچھ کر وہ فون بند کر دیتا ۔۔وہ بھی اُسکی مصروفیات کا خیال کرتی اُسے زیادہ ڈسٹرب نہ کرتی ۔۔
لیکن اب چونکہ اُسے ایک ہفتہ یہاں آئے ہو گیا تھا ۔۔کچھ اُسکی طبیعت بھی ٹھیک نہی تھی ۔۔وہ خود تو مزنہ سے کم ہی بات کرتا کیونکہ وہ بار بار اُس سے جھوٹ نہی بول سکتا تھا ۔۔
اسلیے ملازمہ سے فون پر رابطہ رکھا ہوا تھا جو اُسے ایک ایک پل کی خبر دیتی تھی ۔۔۔اُس سے ہی آبان کو اُسکی طبیعت خرابی کا علم ہوا تھا ۔۔۔
مزنہ نے اُسکی مصروفیات کا خیال کرتے اُسے کچھ نہ بتایا تھا ۔۔۔
دن میں آبان نے اُسے فون کرکے اُسکی خیریت دریافت کی تھی لیکن اُس نے سب ٹھیک ہے کہہ کر اُسے سبکا خیال رکھنے کا کہتے فون بند کر دیا ۔۔۔آبان اسکے جلدی سے فون رکھنے سے پریشان ہوا ۔۔۔
کچھ اُسکی آواز بھی کافی بھاری محسوس ہو رہی تھی لیکن اُسنے یہ کہہ کر فو ن بند کر دیا کہ اُسے نیند آ رہی ہے اس وجہ سے اُسکی آواز بھاری ہو رہی ہے۔
اسے مزنہ کا اتنی جلدی فون بند کرنا کچھ کھٹکا اسی لیے فوراً ملازمہ کو کال کی۔۔دوسری جانب سے فون اٹھایا گیا تو اُس نے مزنہ کی طبیعت کا پوچھا۔۔
ملازمہ سے اُسے جو خبر ملی وہ اُسے بے چین کر گئی
صاحب جی باجی کی طبیعت صبح سے بہت خراب ہے بار بار الٹیاں کر رہی ہیں میں نے کہا بھی تھا کہ آپکو فون کرکے بتاتی ہوں لیکن انہوں نے منع کر دیا ملازمہ اُسے ساری بات بتاتی خاموش ہو گئی جیسے سارا قصور اُسی کا ہو ۔۔
ڈ یم اٹ !! کہاں بھی تھا کہ اُسکی پل پل کی خبر مجھے دینا ،،اور تم مجھے اب بتا رہی ہو وہ غصے اور اشتعال سے اُس پر دھاڑا۔۔
وہ صاحب جی میں کیا کرتی میم صاحبہ نے منع کیا تھا۔ ۔وہ خوف سے بس اتنا ہی بول پائی”
جسٹ شٹ یور ماؤتھ” تم لوگو کو میں آ کر بتاتا ہوں مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے نہیں رکھا ہوا میں نے سب کو اشتعال انگیزی لہجے میں وہ غرایا”__ اور فون بند کے دیا
آبان کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی ۔۔کچھ پہلے ہی وہ اُس سے اتنی دور تھا اور اب اُسکی خراب طبیعت اُسے مزید انگاروں پر لوٹا گئی تھی اُس نے اپنی لہو ہوتی آنکھوں کے ساتھ اپنے اندر اٹھتی تکلیف کو نظر انداز کرتے کسی کو فون ملایا۔۔
وہ اپنی لا پرواہی پر شرمندہ ہوتا خود کو پرسکون کرتا دوبارہ ملازمہ کو کال ملاتا بولا
جب تک میں نہی آتا اُسکے قریب بیٹھی رہنا اور اُسکا خیال رکھنا
ملازمہ اُسکی آمد کا سوچتی خوف سے کانپتی مزنہ کے کمرے میں جانے لگی
وہ جلدی سے اپنی ضروری چیزیں لیتا باہر نکلنے لگا ۔۔اُسے یوں عجلت میں نکلتا دیکھ نور العین پریشان ہوتی اُس کے پیچھے آئی۔۔۔
آپ کہا جا رہے ہیں اس وقت؟…
وہ جو سیڑھیاں جلدی میں عبور کر رہا تھا اُسکی بات سنتا رکا۔۔
اسلام آباد جا رہا ہوں ،، مزنہ کی طبیعت بہت خراب ہے ملازمہ نے ابھی فون کرکے اطلاع دی ہے ۔۔وہ چہرے پر چٹانو جیسی سختی لیے کہتا جانے لگا
اس وقت کیسے جائے گے۔۔ نور العین وقت دیکھتی بولی
گھڑی اس وقت بارہ بجا رہی تھی
میرا مطلب ہے جاتے ہوئے بھی کافی وقت لگ جانا ہے نور خود بھی اُسکی طبیعت کا سن کر پریشان ہوتی بولی ۔۔
لیکن میرا جانا ضروری ہے سب تقریباً سو چکے ہیں تم صبح اُنھیں بتا دینا ،،اب مجھے جانا ہوگا ۔۔پتہ نہیں وہ کس خال میں ہوگی کہتا وہ عجلت میں نکل گیا
نور العین اُسے جاتا دیکھ رہی تھی
وہ اس وقت تمام باتوں کو پس پشت ڈالتے بس اُسکی فکر میں گھلا جا رہا تھا
اُسکے آنکھوں سے اوجھل ہونے تک نور کھڑی اُسے دیکھتی رہو
آنکھوں میں ہلکی نمی لیے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی ،،فجر بیڈ پر لیتی سو رہی تھی وہ قریب آتی اُسکے ماتھے پر لب رکھتی دور ہوئی ،، اُسے اب نیند کب آنی تھی ،،کچھ مزنہ کے لیے خود بھی وہ کافی حد تک پریشان تھی ۔
________________
وہ نڈھال سی بیسن کو تھامتے مشکل سے اپنی کانپتی ٹانگوں پر کھڑی تھی۔۔
مسلسل آتی قہہ نے اُسکی سرخ و سفید رنگت کو ایک دِن میں زرد کردیا تھا ۔۔
وہ صبح ڈاکٹر سے میڈیسین لے کر آئی تھی لیکن طبیعت میں خاص فرق محسوس نہ ہوا۔
آبان کو اُس نے طبیعت خرابی کا بتانے سے منع کیا تھا کہ وہ بیچارہ حویلی کے معاملات میں مصروف ہوگا ایسے میں اُسکی خراب طبیعت کا جان کر متفکر ہو جائے گا ۔۔
دو دن پہلے اُس نے اپنی دوستوں کے ساتھ گیٹ ٹو گیتھر رکھا ہوا تھا ۔۔
تقریباً دو سال بعد وہ اُن دونو سے ملی تھی ۔۔
اور دونو ہی بیزنس وومن تھی۔
اُن کے ساتھ باتوں کے دوران کافی وقت بیت گیا گھر آتے اُسے رات ہو گئی۔۔
رات میں دھند اور ٹھنڈ بہت شدید تھی ” اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ ٹھنڈ اتنی بڑھ جائے گی ۔۔
اُس نے کھلے سے لونگ فروک پر ویلویٹ کی شال اپنے گرد پھیلای ہوئی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی کچھ غلطی اُسکی اپنی تھی جو ٹھنڈ میں باہر نکل گئی۔۔
سنایا بیگم سے تو وہ خوب ڈانٹ سن چکی تھی اسلیے ملازمہ کو آبان کو بتانے سے منع کردیا۔
لیکن اب اُسکی خالت زیادہ خراب ہوتی ہے رہی تھی
سارے دن کی وہ بستر پر لیٹے رہی جو بھی تھوڑا بہت کھاتی نکل جاتا ۔۔
اب بھی ملازمہ نے زبردستی اُسے قہوہ پلایا تھا ” لیکن کچھ وقت بعد ہی وہ منھ پر ہاتھ رکھتی واش بیسن پر جھکی ہوئی تھی۔۔۔
مشکل سے اپنے کانپتے وجود کو گھسیٹتے وہ بیڈ تک پہنچی تھی کہ پاؤں مرنے سے منھ کے بل گرنے لگی،،
ملازمہ آبان کا فون بند ہوتے اُسکا حکم سنتی تیزی سے مزنہ کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔
مزنہ کو گرتے دیکھ اُسنے جلدی سے اُسے تھاما”..
مزنہ جو چیختی آنکھیں میچ گئی تھی خود کو کسی کے سہارے کھڑا پا کر آنکھیں کھولی”
میم صاحبہ آپ ٹھیک تو ہیں؟۔۔۔۔
وہ پریشانی سے اُسے دیکھتی استفسار کرنے لگی۔۔
مزنہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتی تز چلتی سانسو پر قابو پاتے اُسکے سہارے بیڈ پر بیٹھتی آنکھوں میں نمی لیے سر کو جھنمبش دیتی آنکھیں میچ گئی۔۔
اگر وہ گر جاتی تو !!! آگے کی سوچ بھی بھیانک تھی
ملازمہ نے اُسے ٹرانس کی کیفیت میں بیٹھے دیکھ اُسکے آگے پانی کا گلاس کیا ۔۔۔جسے وہ تھامتے ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔۔۔
اور وہی بیڈ پر تکیے کا سہارا لیتی لیٹ کر آنکھیں موند گئی۔۔
