Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 29)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 29)
Robroye Yaar By Yumna Writes
ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے ،،پیون جو اُسے کافی دینے آیا تھا مودب سا سر ہلاتا باہر نکل گیا ۔۔۔
کافی وقت بعد وہ بزنیس کو دیکھنے لگی تھی اور دو میٹنگز بھی اٹینڈ کو تھی
ان معملات کو دیکھتے وہ تھوڑے ہی وقت میں بری طرح سے تھک گئی تھی۔۔
کچھ مصطفیٰ کو وہ اتنی دیر اکیلا نہی چھوڑ سکتی تھی اسی لیے کافی کا سپ لیتے اُس نے انٹرکام پر رسیپشنسٹ کو اپنے پی اے کو اُسکے افیس میں بیجھنے کا کہا۔۔
جو فوراً ہی اجازت لیتا آفیس میں داخل ہوا ۔۔
مسٹر صائم ” مجھے امید ہے کہ تابش اور آپ نے آج کے اہم پوائنٹس ڈسکس کر لیے ہوں گے۔۔
جو میں میٹنگ میں نوٹ کروا کر آئی تھی
اُسکی جانب دیکھتی وہ ٹھوس لہجے میں کہتی فائل ہاتھ میں اٹھائے اٹھ کھڑی ہوئی
یس میم اٹس آل کلیئر ” ۔۔۔وہ اطمینان سے بولا
گڈ ” ۔۔۔۔ میں یہ فائل ساتھ لے کر جا رہی ہوں اسکی ڈیٹیلز میں آپکو میل کر دونگی ۔۔
اور ہاں مجھے تمام اکاونٹ ڈیٹیلز کی فائل کل اپنے ٹیبل پر چاہیے۔۔ اور کل کی میٹنگ کا اسکیجوال مجھے سینڈ کر دینا
شور میم”..
اُس نے آنکھوں پر گلاسز لگائے اور سر ہلاتی وہ باہر کی جانب بھر گئ۔۔
گاڑی میں بیٹھتے وہ ونڈ سکرین سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اچانک اُسکی آنکھیں نم ہوئی تھی ۔۔۔
دل میں درد اٹھا تھا ۔کیا کچھ نہ نظروں کے سامنے سے گزرا تھا “…اُس شخص کی محبت میں وہ ہر حد پار کر گئی تھی ۔۔
سب کو چھوڑ دیا صرف اُس کہ لیے ،،، وہ جو کبھی کسی کو اپنے آگے ٹکنے نہ دیتی تھی آج میٹنگ میں جانے سے پہلے خود گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی
اُسے اپنا آپ اُس وقت جاھل سا لگ رہا تھا جسے کسی چیز کسی بات کی کوئی سمجھ نہیں
ساری رات اُس نے لگا دی تھی فائلز کھنگالنے میں ،،سمجھنے میں ۔۔
اُسکا دماغ مفلوج ہو گیا ہو جیسے ” کچھ پے ڈر پے لگنے والے صدمے اُس کے ذہن پر بہت گہرا اثر چھوڑ کر گئے تھے۔۔
جس کے لیے سب کو چھوڑا اُس نے اسی کو چھوڑ دیا
محبت میں نہ کامی صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس درد سے گزرے ہوں
باقی سب کو تو بس باتیں بنانی آتی ہیں
اُسے نفرت ہو رہی تھی اُس سے ،،،خود سے ،،اپنے دل سے
جو آج بھی اُس کے لیے دھڑک رہا تھا ۔۔
اُسکے لیے ہمک رہا تھا ۔
میں تمہیں کبھی معاف نہی کروگی آبان چوہدری “
خود کے لیے تو میں سب بھلا دیتی لیکن تمہاری وجہ سے میرا باپ چلے گیا
تم بہت برے ہو ۔۔
وہ دل میں سوچتی بے آواز رو رہی تھی
لیکن اب جب اُس سے دور تھی تب بھی دل اُس کمبخت محبت میں مبتلا تھا ۔۔ہزار بار فراموش کیا اُسے کہ اس مرض سے سوائے ازیت کے کچھ خاصل نہیں۔۔
وہ شخص ایک بار نہ پلٹا تھا ،،
محبت کے معاملے میں انسان بے بس ہے جس نے درد دیا پھر بھی اسی کو چاہتا ہے ۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہی دور بھاگ جائے جہاں یہ غم نہ ہو ،،جہاں اُسکے بابا موجود ہوں ۔۔۔
جہاں کوئی آبان چوہدری نہ ہو ،،جہاں صرف وہ اور اُسکا بیٹا ہو۔
ہائے محبت دے اجڑے کدی نہیں وسدے
محبت دے روندے کدی نہی وسدے
محبت دے بدلن کدی نہ زمانے
اے جس تن نو لگدی یہ او ت ہی جانے ![]()
![]()
![]()
آبان کا دل ایک الگ لہہ پر دھڑک رہا تھا ” ایک جانب جس وقت کا اتنا انتظار کیا وہ قریب تھا ۔۔۔اُسکی اولاد ” اُسکا بیٹا ۔۔۔
اُسکا وارث “…. اور دوسری جانب مصطفیٰ کمال کی خبر سن کر وہ کافی غمزدہ ہو گیا ۔۔
ڈرائیور کو سیدھا مزنہ کے گھر جانے کا حکم دیتا وہ آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا ۔۔
وہ جانتا تھا اُسکا رییکشن کیسا ہوگا اُسے دیکھ کر اور وہ اپنی غلطی بھی تسلیم کر رہا تھا لیکن اب جان کر وہ انجان نہیں بن سکتا تھا ۔۔
اسے اپنے بچے کو دیکھنا تھا اُسکا لمس محسوس کرنا تھا
حمنہ بیگم خاموش بیٹھی نور العین کو دیکھ رہی تھی جو آجکل کسی سے بات نہیں کر رہی تھی ،،،زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی گزارتی ۔۔۔
کتنے دنوں سے وہ اُس کا سرد رویہ دیکھ رہی تھی لیکن خاموش تھی ۔۔۔آج اُنہوں نے اُس سے بات کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔۔
نور ” کیا بات ہے میری بچی اتنی خاموش کیوں ہو”…
میں کافی دنوں سے تمہارا سرد انداز دیکھ رہی ہوں
کوئی بات ہے تو اپنی مان کو بتاؤ ۔۔
نور العین ایک نظر ماں کے چہرے کی جانب دیکھتی گویا ہوئی ۔۔
کیا بتاؤ میں آپکو “؟؟؟؟
کیا آپ کو خود نظر نہیں آ رہا ۔۔۔
مہینہ ہونے کو آیا ہے میرا خاوند واپس نہیں آیا “
اور یہاں کسی کو فکر ہی نہیں۔۔
مجھے تو یہ غم ستائے جا رہا ہے کہی محبت زیادہ جاگ گئ تو مجھے ہی نہ آ کر طلاق دے دے ۔۔
لہجے میں ایک خوف لیے وہ کہتی ماں کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔۔
تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں” میرا پلان کبھی ناکام نہیں ہوا “
میں بس یہی چاہتی تھی کہ ایک بار تم اس حویلی کو وارث دے دو پھر سب کچھ ہمارا ہوگا ۔۔۔
اور اب وہ وقت آ گیا ہے آبان کبھی بھی اپنی اولاد کو نہیں چھوڑے گا ۔۔
اور مزنہ _ اُسے تو وہی حقیقت لگے گی جو میں نے اُسے بتایا ۔۔
بیچاری اس بات سے انجان ہے کہ یہ سب میرا پلان تھا
اور وہ خود آبان کو چھوڑ دے گی۔۔
وہ مکارانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنی چال بتا رہی تھی معاون بہت اچھا کام کیا ہو جیسے ۔۔
امی آپکی لالچ کے پیچھے آپ نے مجھے بھی نہیں چھوڑا
ٹھیک ہے آپ کے ساتھ سب نے اچھا نہیں کیا تھا لیکن میری آبان سے شادی کروانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔
ایک بٹا ہوا شخص آپ نے میری جھولی میں ڈال دیا ۔۔
میری مزنہ آپی سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ میں چاہتی تھی کہ آبان سے میرا نکاح ہو ۔۔
آپ کو جائیداد ویسے بھی مل جانی تھی فضول میں اتنا بڑا دھوکا دینے کی کیا ضرورت تھی۔
آبان تو ویسے بھی فجر کو پیار کرتے تھے اور ہمیں یہاں کب کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی ہے جو آپ نے نکاح میں اتنی جلدی کردی۔۔
اب کبھی وہ یہاں پایا جاتا ہے تو کبھی وہاں “
مجنوں بنا پھر رہا ہے”… نہ میری خیر خبر لی اور نہ اپنے والدین کی ۔۔۔
بیوی بچے کا عشق سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ہمارا خیال ہی نہیں ۔۔
بیس دن ہو گئے حویلی نہیں لوٹے وہ ابھی تک “..
جانے کس خال میں ہونگے۔۔
امی آپ کی قسم نے مجھے بھی گنہگار بنا دیا ۔۔دو لوگو کی زندگی صرف میری وجہ سے برباد ہو رہی ہے ۔۔
وہ ماں کو دیکھتی غصے سے کہتی لال ہو گئی ۔۔
تو تمہارے ہی بھلے کے لیے کیا ہے میں نے سب کچھ۔۔کل کو میں نہ رہی تو ان لوگو نے تمہیں پوچھنا تک نہ تھا تمہارے باپ کو میں کہتی رہ گئی تھیں کہ کچھ اپنے نام لگوا لو_ لیکن اُسے تو کچھ نظر ہی نہ آتا تھا سوائے بھای کی محبت کہ ۔۔
پہلے مجھے نہ پسند انسان مل گیا ” اور پھر وہ بھی نا کام ۔۔۔جسے گھر والوں کی محبت کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا
پھر میں نے چاہا کہ تمہاری شادی آبان سے کروا دونگی تب بھی میری مرضی نہ چلی ایک نا سنی کسی نے میری اور تمہارا نکاح اُس نکمے آہل سے کروا دیا
جو باپ کے ساتھ زمینیں سنبھالنے کے سوا کچھ نہ کرتا
اور یہاں وہ مزنہ آبان کو لے اوڑھی”
بھاری آسامی پھر سے ہاتھ سے نکل گئی اور اب کی بار میں ایسا ہونے نہ دونگی
چاہے اس کے لیے مجھے اس لڑکی کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے میں گریز نہیں کرونگی ۔۔
یہ ہمارا حق ہے کوئی ڈھاکہ نہیں ڈالا تم نے یاں میں نے ویسے بھی اگر اُس نے دوسری شادی کر بھی لی تو کیا ہوا لیکن یہ بیبی تو حوا ہی بنا بیٹھی ہے
چلو ہمیں کیا لیتی رہے طلاق یاں رہے اکیلی ۔۔
تمہارے راستے کا کانٹا تو صاف کر دیا میں نے _ اب آگے وہ دونوں جانیں ” تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس حالت میں ۔۔
ویسے بھی بہت بھولا سا ہے آبان ” سمجھ ہی نہیں پایا کہ ہو کیا رہا ہے اُس کے ساتھ
اور پاگل پن تو یہ ہے کہ اُسے یہ تک معلوم نہ ہو سکا کہ اُسے نشه دیا ہے میں نے اور تمہیں زبردستی اُس کہ قریب بیجھا تاکہ وہ نشہے میں تمہیں مزنہ سمجھ سکے اور ہوا بھی سب پلان کے تحت ۔۔
اب بس یہ مزنہ کی بچی کہی آر یاں پار ہو جائے پھر زندگی میں سکون ہوگا وہ تنفر سے کہتی بیٹھ گئی
بس بیٹا نہ پیدا کر دے وہ خبیث ورنہ تمہاری بی اماں نے گوم جانا ہے پھر سے اُسکی جانب
اور آبان کو بھی وارث مل جائے گا
میرا دل ہے بیجھو کسی کو حویلی سے پتہ لگانے ۔۔
یہ نہ ہو ہم جیسے کمزور سمجھیں سانپ بن کر ہمارے سینے پر ڈسنے اس جائے
