Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 12)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 12)
Robroye Yaar By Yumna Writes
آبان فریش ہوتا کھانے سے فارغ ہوکر کچھ دیر کے لیے آفیس گیا تھا واپسی پر اُسے کافی وقت ہو گيا اُس نے مزنہ کو کال کرکے تیار رہنے کو کہا ۔۔اُسکا ارادہ آج کہیں باہر گھومنے کا تھا ۔۔
وہ کچھ وقت مزنہ کہ ساتھ بتانا چاہتا تھا ۔۔۔مسلسل ذہنی دباؤ سے اُسے وحشت سی ہونے لگی تھی ۔۔۔
گھر کے قریب گاڑی روکتے اُس نے اپنی بلیک پراڈو کا ہارن بجایا ۔۔۔
مزنہ جو اُسي کا انتظار کر رہی تھی ہارن کی آواز سنتی باہر آتی فرنٹ ڈور کھول کر اُسکے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔
نیلے گہرے رنگ کا لونگ فروک زیب تن کیے ،، کندھوں پر بڑی سی شال اوڑھے ،،
ہمیشہ کی طرح اپنے سنہرے چمکتے بالوں کو پونی ٹیل میں قید کیے ،، سبز کانچ سی آنکھوں پر سایہ فگن گھنی پلکوں کو مسکارے سے سجائے ،، سرخ پنکھڑیوں کی مانند لبوں پر پنک گلوز لگائے اُسے سلام کرتی اپنی شال کو شانوں پر سہی کر رہی تھی
آبان کی اُس پر نظر پڑی تو پلٹنا بھول گئی ۔۔
وہ اُسے اس وقت حد سے زیادہ پیاری لگا رہی تھی
مزنہ نے اسکی نظروں کی تپش محسوس کرتے اُسکی جانب دیکھا جو اُسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے میں محو تھا ۔
اُسکی نظروں سے گھبراتی وہ بولی
ہم کہاں جا رہے ہیں آبان ؟؟…
وہ جو اُسے دیکھنے میں محو تھا اُسکی آواز سنتا قریب ہوتا اُسکے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکاے گھمبیر آواز میں اُسے تکتا بولا
آپ کے سنگ کہی بھی چلے جائیں گے اُسکی پیشآنی پر لب رکھتا وہ دور ہوا۔
ٹھیک ہے پھر پہلے ہم سب کے لیے شاپنگ کرنے جائیں گے وہ مسکراتی جلدی سے بولی
آبان سینے پے ہاتھ رکھتا سر جھکا گیا
آبان اُسے لیے مال میں گیا وہاں انہوں نے ڈھیر ساری بےبی کی شاپنگ کی ۔۔
مزنہ بچوں کے چھوٹے چھوٹے کپڑوں کو دیکھ کر بے تحاشا خوش ہو رہی تھی ڈھیر ساری شاپنگ کرکے وہ لوگ کافی تھک گئے تھے باقی سب کے لیے بھی اُسنے شاپنگ کی تھی ،،آبان اُسے ریسٹورنٹ سے کھانا کھلا کر سیدھا اپنے اپارٹمنٹ میں لے آیا تھا۔۔
مزنہ گاڑی اپارٹمنٹ کے راستے پر جاتے دیکھ گھبراتی جلدی سے بولی
آبان موم کو نہیں بتایا میں نے ۔۔۔
آج میں وہی رہ لیتی کل واپس آ جاونگی وہ پہلو بدلتی باہر کی جانب دیکھتی بولی
کال کر کے اُنھیں بتا دو ویسے بھی آنٹی کہہ رہی تھی انکل کی طبیعت اب ٹھیک ہے ۔۔۔ فلحال میں کچھ وقت اپنی وائف کی ساتھ تنہا گزارنا چاہتا ہوں ۔۔
تھک گیا ہوں یار سکون چاہتا ہوں دے سکتی ہیں وہ بوجھل لہجے میں کہتا اُسکی گود میں سر رکھتا لیٹ گیا ۔۔
اُسکی بات سن کر مزنہ کے چہرے پر بے چینی چھا گئی کچھ تو تھا جو وہ اُس سے چھپا رہا تھا”
اُسکے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے مزنہ نے اُسکے چہرے کی جانب دیکھا جو بیشک اُس سے اصل بات چھپا رہا تھا لیکن مزنہ جانتی تھی کچھ ایسا ہے جو اُسے پریشان کر رہا ہے۔۔۔
کیا بات ہے ،،آپ کیوں پریشان ہیں اُسکے چہرے پر جھکتے وہ نم لہجے سے اُسے دیکھ کر استفسار کرنے لگی ۔۔
آبان اُسکا بھیگا لہجہ محسوس کرتا اپنی سرخ پڑتی آنکھیں کھولتا فورا سیدھا ہوتا اُسکے چہرے کو ہاتھوں میں لیتا گویا ہوا۔۔
کچھ نہی ہوا میری جان ،، رونا نہیں بلکل بھی اُسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ اُسے ریلیکس کرنے لگا
۔میں بلکل ٹھیک ہوں بس تھک گیا ہوں تھوڑا سا ،،،آپ پاس ہیں نہ تو ٹھیک ہو جاؤنگا آپکو دیکھ کر تھکن ختم ہوتی ہے میری ۔۔اُسکی قریب سرگوشی کرتا وہ اپنی نم ہوتی آنکھوں کو بند کرتا ہوا بولا
اُسکا دل پھٹ رہا تھا سوچ سوچ کر،، ۔۔۔اُسکی محبت ،،اپنے لیے پریشان ہونا دیکھ کر سانس سینے میں اٹک رہا تھا
مزنہ اُسکے لہجے کی تھکن محسوس کرتی اُسکے قریب ہوتی اُسکی آنکھوں پر لب رکھ گئی
آبان نے اُسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتے اُسکی گردن میں چہرہ چھپایا
مزنہ کا چہرہ پل میں خون چھلکانے لگا
آبان اُسکی لرزتی اٹھتی گرتی پلکوں کی جھالر کو محبت سے دیکھ رہا تھا
وہ پلکیں اٹھاتی اُسکے حسین چہرے کی جانب دیکھتی خود میں ہمت جمع کرتے بولی
میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں،،،آپ اکیلے نہیں ہیں محبت اور عقیدت سے کہتی وہ اُسکے سینے پر اپنا سر رکھ گئی
بہت شکریہ میری زندگی” آبان اُسکے گرد حصار قائم کرتا اسکے سرخ پھولے گالوں پر لب رکھتا ہوا بولا۔۔
لیکن دل اور دماغ میں الگ ہی ایک جنگ چل رہی تھی
وہ یہ تو سمجھ گیا تھا کہ مزنہ اُسے کبھی اُسکی غلطی کی معافی نہیں دے گی ۔۔
لیکن دل کہہ رہا تھا وہ تم سے عشق کرتی ہے ۔۔وہ تو سراپا عشق ہے ،،
ناراض ہوگی ،،غصہ کرے گی لیکن مان جائے گی ۔۔
لیکن دماغ ماننے کو تیار نہ تھا ۔۔۔
اگر وہ اُسے چھوڑ گئی تو !!!!
اس سے آگے کی سوچ بہت دردناک تھی۔۔۔
وہ گھر والوں کی بات مان کر نور العین سے نکاح تو کے چکا تھا لیکن اب عجیب کشمکش میں تھا ۔۔
نہ وہ نور کو چھوڑ سکتا تھا اور مزنہ کو تو چھوڑنے کا خیال ہی اُسکی روح لرزہ دیتا تھا ۔۔
وہ اس وقت صرف سکون چاہتا تھا ۔۔وہ تمام سوچوں کو جھٹک کر مزنہ کے ساتھ سکون کے پل گزارنا چاہتا تھا ۔۔
اُسکے گرد حصار تنگ کرتے اُسنے آنکھیں مند لی
صبح آبان کی آنکھ کھلی تو نظر مزنہ پر پڑی جو اُسکی آغوش میں گہری نیند میں سو رہی تھی ۔۔
جھک کر اُسکے سرخ گالوں پر باری باری لب رکھے ۔۔اٹھ جائیں مزنہ بہت وقت ہو گیا ہے
انہہ “” مجھے ابھی سونا ہے کروٹ لیتی وہ پھر سے سو گئی۔
مزنہ یار دِن کے بارہ بجنے والے ہیں اٹھ جاؤ کچھ کھاؤ رات سے کھانا کھایا ہوا ہے۔
وہ اُس پر سایہ کرتا اسکی کمر کے گرد بازوں کا حصار بناتا اُسے اٹھا کر بیٹھاتا بولا۔
مزنہ اُسکے اچانک اٹھا کر بیٹھانے پر بوکھلاتی منھ بصورتِ بولی
کیا مصیبت ہے ۔۔کیوں اٹھا رہے ہیں کچھ دیر سونے دیں نا روہانسی ہوتی آنکھیں ملنے لگی
نہیں بہت وقت ہو گیا ہے بی جان نے کہا تھا نہ کے وقت پر کھانا پینا ہے تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو
اپنے ساتھ ساتھ میرے بےبی کو بھی بھوکا رکھا ہوا ہے آبان اُسے اٹھاتا مصنوئی غصے سے دیکھتا بولا۔۔
وہ اُسکی کسی بات کی پرواہ کیے بغیر منھ بگاڑتی واشروم میں چلی گئی
آبان تو اُسکے موڈ کو دیکھ کر خیران و پریشان ہوا ۔۔گردن نفی میں ہلاتا وہ باہر نکل گیا
کچھ ہر دیر میں وہ فریش سی اُسکے قریب آ کر کھڑی ہوئی
آبان جو بہت محبت سے آج خود اُسکے لیے ناشتا بنا رہا تھا اُسے قریب کھڑا دیکھ مسکراتا ناشتا ٹیبل پر رکھنے لگا
ان دو ہفتوں میں آبان نے اُسکا ہر طرح سے خیال رکھا۔ ۔اُسکی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھنا ،اُسکے موڈ سونگز ،،اُسکی فرمائشیں اُسکی ہے بات سر آنکھوں پر رکھی
حویلی میں ایک دو بار بس اُسنے فون پر تھوڑی سی بات کی ۔۔
لیکن اب مسلسل سب اُسے بولا رہے تھے ۔۔۔
حسین صاحب نے اُسے فون کر کے جلد حویلی لوٹنے کا کہا تو وہ خاموش ہو گیا ۔۔
اُسکا ابھی مزنہ کو چھوڑ کر جانے کا بلکل بھی دل نہیں تھا لیکن مجبوراً جانا پر رہا تھا ۔
میڈیسن ٹائم پر لینی ہے آپ نے ،،اپنا بہت خیال رکھنا ہے ،،طبیعت خراب ہوئی تو مجھے کال کرنی ہے ۔۔
باہر کہی بھی جانے سے پہلے مجھے بتا کر جانا ہے ۔۔
اگر گھر جانے کو دل کیا تو میڈ کو وہاں ہی لے جانا۔۔
جلد ہی واپس آؤنگا کہتے اُس نے مزنہ کے ماتھے پر لب رکھے۔۔ اُسے چھوڑ کر جاتے
دل تیز رفتاری سے دھڑک رہا تھا ۔۔
نا جانے اُسے کیوں مختلف خدشات لاحق ہو رہے تھے ۔۔ اُسے چھوڑ کر جانے پر دل راضی نہیں ہو رہا تھا ۔۔اُسکے لیے حویلی سے خاص ملازمہ کو اُسکے ساتھ رہنے اُسکا خیال رکھنے کی کئی بار ہدایت کر چکا تھا لیکن دل نہ جانے کیوں اتنا بے چین تھا۔
