Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 6)

Robroye Yaar By Yumna Writes

آج ان دونوں کو گئے ایک مہینہ ہو گیا تھا لیکن حویلی میں ایک عجیب سی وحشت پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔

ہر سو سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔

سب ملازم بھی خاموشی سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ۔۔۔

سب کو بی آہل کے جانے کا بہت دکھ تھا ۔۔۔وہی تو تھا جو حویلی میں رونق لگائی رکھتا ۔۔۔ملازمین سے نرمی سے بات کرتا ۔۔۔

اب جب وہ نہی تھا تو خاموشی کاٹ کھانے کو دور رہی تھی ۔۔

آبان پچھلے ایک مہینہ سے سب کچھ بھلائے یہی تھا ۔۔۔۔

بزنس اُسکا جگری دوست دیکھ رہا تھا اور اُسکے تمام کام سمبھال رہا تھا

اُسے کسی چیز کی ہوش نہ تھی سب سے لاپرواہ بنا وہ بس اس وقت معاملے کی تحقیقات کر رہا تھا

اُس نے اگلی صبح سب کو اکٹھا کرکے ساری بات کا پتہ لگایا ۔۔

جو سچائی سامنے آئی تو خود کو ایک بار پھر سے ٹوٹتا ہوا محسوس کیا۔۔

اُس نے تو سوچا تھا اپنے بھائی اور چچا کے قاتل کو دردناک سزا دے گا ۔۔۔اپنی اماں کے سامنے لائے گا لیکن یہاں_

جس دن سب لوگ حویلی سے شہر کے لیے نکلے تھے اسی وقت آہل اور حسین صاحب بھی پنچایت کا معاملہ

رفع دفع کرنے کے لیے نکلے

بات یہ تھی کہ جب اُن لوگو نے پنچایت کا فیصلہ کیا تو دوسری برادری کے آدمی نے پنچایت کے فیصلے سے انکار کر دیا

وہ گاؤں کے معمولی کسان کی زمین پر اپنا قبضہ کیے ہوئے تھا

آہل نے پنچایت میں یہ بات رکھی اور اُسے زمین پر سے اپنا قبضہ ختم کرنے کا کہاں ۔۔۔

اور اگر وہ بات سے انکار کرتا ہے تو اُسے سزا کے طور پر زمین کے ساتھ ساتھ کچھ رقم بھی ان لوگو کو دینی پڑے گی۔۔

یہ سنتے ہی دوسری جانب کے افراد غصے میں آ گئے اور

اُن اکے ادمیوں کے ساتھ مار دھار شروع کر دیا ان کا سربراہ جس کا زمین پر قبضہ تھا اُسنے سب کو لڑتے دیکھ حسین صاحب پر اپنی پستول تانی اور گولی سیدھا حسین صاحب کے سینے پر چلا دی ۔۔۔

آہل غصے سے آگ بگولا ہوتا اُن پر ٹوٹ پرا اُسی وقت دونو جانب سے فائرنگ شروع ہوئی اور ایک گولی آہل کا سینا چیرتی ہوئی نکل گئی ۔۔۔

اُس سے پہلے کے آہل کوئی جوابی کارروائی کرتا مقابل نے دوسری گولی بھی چلائی

اسکو گھنٹوں کے بل گرتا دیکھ اُسکے گارڈ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگتے ہوے اُسکے قریب آئے

اور بنا دیکھے دوسری جانب فائرنگ شروع کردی

آہل کے گارڈ غصے سے بپھرے ان پر حملہ آور ہوے اور ان کی فائرنگ سے دوسری برادری کے تمام افراد ڈھ گئے ۔۔۔

جس شخص نے آہل پر گولی چلائی تھی اُسکے سینے میں چھ کی چھ گولیاں اُتار دی گئی

اور فوراً آہل اور حسین صاحب کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن ہاسپٹل پہنچنے تک وہ دم توڑ چکے تھے

آبان ساری بات سنتا بلکل خاموش ہو گیا ۔۔۔غم و غصے سے لال انگارا آنکھیں لیے وہ مٹھیاں بینچ گیا

اُس نے تو سوچا تھا اپنے بھای کے قاتل کو سخت سے سخت سزا دے گا

لیکن شاید خدا کو بھی اُس پر ترس آ گیا ورنہ آبان اُسے ترپا ترپا کر مارنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔

آہستہ آہستہ سب کی زندگیاں واپس اپنی ڈگر پر چلنے لگی سوائے نور کے جو بلکل خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔ ہر وقت سب اُس کے قریب رہتے ۔۔اُسکی دلجوئی کرتے رہتے لکین وہ بلکل خاموش ساکت بیٹھی رہتی ۔۔۔

وہ دیکھنے میں بیمار زدہ سی لگتی ۔۔ آنکھوں کے گرد ہلکے اُس کے راتوں کو رونے کی چغلی دیتے تھے ۔۔اُس کو یوں خاموش دیکھ کر سب کا دل کٹنے لگتا

وہ اور آبان ہی تو پوری حویلی میں ہر وقت رونق لگائے رکھتے ۔۔۔حویلی کی جان کہلاتے تھے

ایک ویسے منو مٹی تلے جا سویا تھا تو دوسری کے پاس ہوتے بھی وجود میں کوئی حرکت نہ تھی ۔۔

اُسے نہ اپنی بچی کا خیال تھا اور نہ اپنا ۔۔ہر وقت کمرے میں بند بلکل خاموش بیٹھی رہتی۔ ۔

مزنہ زیادہ تر اپنا وقت اُسکے ساتھ گزارتی ،،اُس کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ۔۔۔

آبان واپس نہیں گیا تھا ۔۔۔حسین صاحب تو بھائی اور بیٹے کے جانے کے بعد بلکل خاموش ہو چکے تھے ۔۔۔

ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا تھا ۔۔۔

نہ وہ اپنے کمرے سے نکلتے اور نہ ہی زمینوں اور پنچایت کے سلسلے میں باہر جاتے ۔۔۔

سب کچھ آہل اکیلے ہی سمبھال رہا تھا۔۔۔۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ،،، حویلی میں پھیلی خاموشی سے گھبراتی میزنہ باہر لان میں آ گئی ۔۔

آسمان کی جانب دیکھتی وہ افق پر پھیلے بادلوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جب پیچھے سے کسی نے اُسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکراتی اُسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ گئی

آ گئے آپ ؟؟… اُسکی جانب پلٹتی وہ بولی ۔۔

یھاں کیا کر رہی ہیں آپ اس وقت ؟؟…

کہتے اُسنے مزنہ کے گرد اپنی اجرک کی چادر اوڑھی

اور سرد اسپاٹ تاثرات میں اُس سے استفسار کرنے لگا۔

وہ مجھے اندر عجیب گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی ،، یہ خاموشی مجھے عجیب قسم کے خوف اور وحشت میں مبتلا کر رہی ہے ۔۔۔

یہ سب کب ٹھیک ہوگا آبان ؟؟…وہ اُسکے سینے سے سر ٹکاتی نم لہجے سے اُسے پوچھنے لگی ۔۔۔

آبان اُسکی روندھی ہوئی آواز سنتا آنکھوں میں نمی دیکھ پریشان ہوتا اُسکے ماتھے پر لب رکھتا بولا .. سب ٹھیک ہو جائے گا انشا اللہ ،،،

اتنا بڑا صدمہ ہے ،،اتنی جلدی سب کیسے بھول سکتے ہیں ۔۔۔

وہ بہت روتی ہے آبان بہت زیادہ یاد کرتی ہے بھائی کو ،، میں جب جب اُسے روتا دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے میری سانسیں تھم جائے گی ۔۔مجھ سے اُس کو یوں روتا دیکھا نہیں جاتا ۔۔۔۔۔ اُس کے کمرے سے آتی آہیں سسکیاں ،،میرا دل کچلتی ہیں

میرا دل پھٹ جائے گا ۔۔آپ سب کچھ ٹھیک کر دیں ناں’

وہ روتی بے انتہا معصومیت سے اُسے دیکھ کر بولی ،،

سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے ۔۔ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ اُ سے بھی ہلکان کر رہی تھی ۔۔

آبان تکلیف ،،اور کرب سے اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے اُسکے بالوں پر لب رکھتا بولا

مزنہ میری جان ایسے کیوں بول رہی ہیں آپ ۔۔یار ایسے تو آپ اپنی طبیعت خراب کر لیں گی ۔۔۔اچھا میری بات سنیں اگر آپکو یہاں اچھا نہی لگ رہا تو میں کل آپکو واپس لے جاتا ہوں اسلام آباد۔

اس سب میں میں آپکی جانب سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔۔۔میری پہلی ترجیح آپ ہیں

اُسے ایک یہی حل سوجا اسی لیے اُسنے واپسی کا کہا

کیوں کہ وہ خود بھی کافی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا کہ مزنہہ بہت خاموش رہنے لگی ہے ۔۔۔

وہ گھر اور باہر کے جھمیلوں کی وجہ سے اُس پر بلکل بھی توجہ نہ دے سکا تھا اور اُسے اب اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا ۔۔۔

اس سب کے بیچ وہ اُسے تو بلکل ہی نظر انداز کر گیا تھا ۔۔۔۔

وہ بھی تو اپنے ساتھ ایک اور جان کو لیے اُن سب کے لیے سارا دن ہلکان ہوتی رہتی۔۔۔۔کبھی بی جان کو زبردستی کھانا کھلاتی ،،تو کبھی فجر کو نور العین سے بات کرنے کا کہتی ،، ایک مہینہ سے وہ اپنی صحت پر بلکل بھی دھیان نہی دے رہی تھی ۔۔

وہ مسلسل سب کے ساتھ سارا دن بیٹھی رہتی کسی نہ کسی طرح اُن کو باتوں میں لگای رکھتی ۔۔ جب سے آہل گیا تھا فجر کی ساری زمیداری اُس پر آ گئی تھی ۔۔۔

نور العین تو بس خاموش دیواروں کو دیکھتی رہتی یاں پھر آہل کی تصویر گود میں لیے بیٹھی رہتی ۔۔

آپ کیا کہہ رہے ہیں آبان میں اس طرح ان خالات میں سب کو یوں اکیلا تنہا چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں

سب کو اس وقت آپکی اور میری ضرورت ہے ۔۔اس وقت میں ہمیں ہی سب کا سہارا بننا ہے ۔۔اُنکا ساتھ دینا ہے اور آپ واپس جانے کی بات کے رہے ہیں ۔۔۔

تو اور کیا کروں ۔۔

چہرہ دیکھا ہے آپ نے اپنا کیسا پیلا پر رہا ہے سب کی فکر ہے آپکو لیکن اپنی نہی ۔۔اپنا بھی تو خیال رکھیں یوں سب کے لیے پریشان ہوتی رہیں گی تو خود بیمار پر جائیں گی ،،اتنی ٹھنڈ ہو رہی ہے اور آپ یہاں بغیر کسی گرم چادر کے کھڑی ہیں

وہ متفکر ہوتا اُس کے گرد چادر سہی کرتا اُسے سنجیدگی سے دیکھتا بولا ۔۔

تو میں اور کیا کرو سب کو یوں خاموش روتا دیکھ میرا دل پریشان ہوتا ہے ۔۔۔حلق سے کھانا نہی نیچے جاتا ۔۔دل گھبرا جاتا ہے تو میں باہر آ گئی وہ منھ بصورتی اپنی کانچ سی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیے اُسے دیکھتی حفگی سے بولی

تو میں کب لے جانا چاہتا ہوں آپکو یار ۔۔ میں بھی تو بس یہی کہہ رہا ہوں اگر خود بیمار ہو جائے گی تو باقی سب کا خیال کیسے رکھیں گئی ۔۔۔ اُسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ وہ نرم پڑتا بولا

خود کا بھی خیال رکھا کریں ۔۔میں آگے ہی بہت بڑا نقصان اٹھا چکا ہو اپنے جان سے پیارے بھای اور چاچا کو کھو کر ۔۔

اب مزید مجھ میں کچھ بھی برداشت کرنے کی ہمت نہی وہ رنجیدہ ہوتا اُسے ساتھ لگائے بولا ۔۔۔

مزنہ اُسکے چہرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔بڑھی ہوئی دھاڑی ،، بکھرے بال،، کل کے پہنے ہوئے شکن زدہ سے کپڑے ۔۔۔سچ میں اپنوں کی جدائی نے اُسے تور کر رکھ دیا تھا ۔۔

وہ اُسکے قریب جھکتی اُسکی سینے پر لب رکھتی اُسکا چہرے کو ہاتھوں میں لیتی آنکھوں میں محبت سموتے ہوئے بولی ۔۔۔

میں ہر پل آپ کے ساتھ ہوں ،،ہر لمحہ ،،آپ پریشان نہ ہو ،،یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا ۔۔۔ہم دونوں مل کر سب پہلے جیسا کر دیں گے۔۔ بیشک ہم اپنوں کی کمی کو مکمل نہی کر سکتے لیکن ان کے دکھ ،،درد میں اُنکا سہارا تو بن سکتے ہیں ،،اُنھیں اپنا ساتھ تو دے سکتے ہیں نہ ،،

آپ ہمت رکھیں اور اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھیں انشا اللہ وہ یہ وقت بھی گزار دے گا ۔۔

آبان اُسکی باتیں اور ہونٹوں کے لمس کو اپنے سینے پر محسوس کرتا آنکھیں موند گیا ۔۔ ترپتے دل پر مسیحائی کا لمس محسوس ہوتا دیکھ اُسنے اُسے اپنے حصار میں بھر لیا ۔۔،، دل کو اُس کے نرم و نازک لمس سے قرار آیا ۔۔۔

اُسکی محبت بھری آواز سے چہرے پر ایک دم نرمی چھائی ۔۔ اثبات میں سر ہلاتا اپنی متاع جان کو لیے اندر کو چلا گیا ۔