Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 39)

Robroye Yaar By Yumna Writes

أَفَلا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔

” تو کیا وہ اللّٰہ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اللّٰہ سے بخشش نہیں مانگتے،اللّٰہ تعالی تو نہایت بخشنے والا اور بہت زیادہ مہربان ہے۔

سورةالمائدۃ،آیت۔74

وہ جب سے آئی تھی کمرے میں بند تھی ” مصطفیٰ باہر اپنی نانی کے پاس تھا ۔۔وہ جائے نماز بچھاے خدا سے گفتگو کر رہی تھی ،،پشیمان تھی اپنے ماضی پر ” اپنے رب کے سامنے جھولی پھیلائے معافی کی طلبگار تھی ۔

باہر بارش برس رہی تھی اور اندر اُسکی آنکھیں “

کافی وقت رونے کے بعد اُسے وقت کا احساس ہوا تو آنسو صاف کرتی اٹھی کب سے مصطفیٰ باہر تھا کہی وہ رو نہ رہا ہو خیال آتے ہی وہ دوبٹہ سہی کرتی باہر نکلی تھی

باہر آئی تو سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے اور مصطفیٰ زارون کی گود میں آوازیں نکال رہا تھا

وہ سست روی سے چلتی اُن کے قریب جا کر بیٹھ گئی

زارون نے ایک نظر اُسکے روئے روئے چہرے پر ڈالی اور خود بھی بے چین سا ہو گیا ۔۔

نظروں کی تپش سے اُس نے اپنی نم پلکیں اٹھائے اُس کی جانب دیکھا تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا

نظروں کا تصادم ہوا ایک لمحے کے لیے لیکن مزنہ نے گھبرا کر فوراً نظروں کا زاویہ بدل لیا جبکہ زارون کو اُسکی سرخ ڈورں والی نم آنکھوں میں اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔

اگر تم میری آنکھوں میں مجسم دیکھ لو خود کو”

مجھے پورا یقین ہے کہ تمہیں میری محبت سے

بلا ” کا عشق ہو جائے۔۔

پل میں اس نے نظروں کا زاویہ بدلا تھا و کسی اور کی تھی اور محبت کرتی تھی اُس سے یہ بات تکلیف ده تھی لیکن حقیقت تھی اور وہ ایک پریکٹکل سا بندہ تھا فضول میں خود کو کسی جھوٹی آس میں نہیں رکھنا چاہتا تھا پہلے بہت مشکل سے اُس نے خود کو مضبوط کیا تھا بار بار وہ نہیں ٹوٹ سکتا تھا ۔۔

خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا ٫،، ماہم شاہ مصطفیٰ کو پیار کرتے ہوئے گویا ہوئی

مزنہ بیٹا تمہارا بہت شکریہ!! تمہارے اور مصطفیٰ کے آنے سے ہمارے گھر میں رونق آ گئ ہے ” جو ہر وقت خاموشی چھائی رہتی تھی نہ اب وہ رونق میں تبدیل ہو گئی ہے

مصطفیٰ نے ہمارے گھر کی اُداسیاں ختم کر دی ہیں

مزنہ اُن کے قریب بیٹھتی محبت سے گویا ہوئی

ممانی جان آپ مجھے شرمندہ مت کریں مصطفیٰ تو بہت خوشنصیب ہے کہ اُسے آپ سب کا پیار مل رہا ہے اور دیکھیں ذرا اُسے ماں کی حبر ہے کیسے مزے سے سب سے لاڈ اٹھوا رہا ہے ۔۔

یونہی باتوں کا دور چلتا رہا اور وقت کا اندازہ نہ ہو سکا ۔۔۔

مصطفیٰ کے اچانک رونے پر وہ پریشان ہوتی جلدی سے آگے بڑھی جو اچانک رونا شروع ہو چکا تھا

زارون بھی اُسے روتا دیکھ بوکھلا گیا ۔۔

کیا ہوا ہے اسے طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اسکی ایسے کیوں رو رہا ہے زارون پریشان ہوتا اُس کے پیچھے آتا اُس سے سوال کرنے لگا اُسکی پریشان سی صورت سے

مزنہ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی

کچھ نہیں ہوا اسے ڈائپر خراب ہو گیا ہے اسکا اور ویسے بھی سارا دن کا کھیل رہا ہے نیند بھی پوری نہیں ہوئی

مسکراتے ہوے مزنہ نے ڈرا سے ایک ڈائپر نکالا اور اُسکا دوسرا سامان بھی ” ۔۔

اوہ اچھا مجھے لگا طبیعت خراب ہو گئی کیوں کہ ابھی تک تو کبھی رویا نہیں یہ اس لیے میں ذرا پریشان ہو گیا

وہ کان کھجاتا اُسکی جانب دیکھتا شرمندگی سے بولا

مزنہ مسکراہٹ دباتی سر ہلاتے مصطفیٰ کو چینج کروانے لگی ۔۔

میں اسکا فیڈر لے کر آتا ہوں ،،میرے شیر روتے نہیں مصطفیٰ کو رونے کے لیے ہونٹ بناتے دیکھ وہ تیزی سے کمرے سے نکلا تھا ۔۔

پیچھے مزنہ خیران پریشان سی اُسے جاتا دیکھ رہی تھی

کیا ہو گیا میرا بچہ ” زیادہ بوکھی لگ گئی اُسکا ڈریس چینج کرتے مزنہ اسکو روتا دیکھ باتوں میں بہلا رہی تھی لیکن معصوم جان کھیل کھیل کر تھک گیا تھا اس لیے منھ کھول کر اپنا باجا بجا رہا تھا

کچھ ہی دیر میں وہ اُس کے سر پر موجود تھا یہ لو میرا شیر ” ایسے نہیں روتے اُس کے منھ سے فیڈر لگاتے احتیاط سے اُسکا سر اپنی گود میں رکھا تھا

مزنہ باسکٹ میں اُسکے استعمال شدہ کپڑے پھینکتے واپس آئی تو مصطفیٰ بڑے مزے سے اُسکی گود میں سر رکھے فیڈر منھ کو لگائے آنکھیں پٹپٹاتا کبھی ماں کی جانب دیکھتا تو کبھی زارون کو “..

مزنہ نے ایک نظر زارون کو دیکھا جو آنکھوں میں محبت لیے پوری طرح سے مصطفٰی میں مصروف تھا اور پھر تھوڑا خود میں ہمت مجتمع کرتی گویا ہوئی۔۔۔

تھینک یو ” زاروں نے اُسکی جانب آئی برو اٹھا کے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔

مجھے پھر سے میرے رب کے قریب کرنے کے لئے ،، مجھے سمجھنے کے لیے ،، کھوئی ہوئی مزنہ کو واپس لانے کے لیے ” تھنک یو فور ایوری تھنگ “..اسپشلی گوینگ می ماے فرینڈ “…

آنکھوں میں نمی لیے بھرائے ہوئے لہجے میں آخر میں وہ کانپتے ہاتھوں کو مرورتی گویا ہوئی “

آئے ایم اونرڈ لیڈی!!…

لیکن ایک بات کہو اگر آپ برا نا منائیں تو”..زارون نے نرم لہجے میں اُسکی جانب دیکھے بغیر اجازت چاہی “

جی ضرور ” مزنہ اُسکی جانب مکمل طور پر متوجہ ہوئ

آپ ایک بار آبان کو تھوڑا سا مارجن دے کر دیکھیں ” اُسے بھی تو موقع ملنا چاہیے اپنے حق میں کچھ کہنے کا

تاکے حقیقت تو سامنے آئے کیوں کہ جتنا میں جانتا ہوں پھوپھو جان کہہ رہی تھی کہ آپ نے اُسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا

اور جب اب آپ حقیقت جان گئ ہیں کہ یہ سب انکی سازش تھی تو پھر کیوں آپ یہاں آ گئی اُسے ایک موقع دیے بغیر ” ۔۔

مزنہ جو خاموشی سے اسے سن رہی تھی اسے خاموش ہوتا دیکھ اُسکی جانب دیکھتی گویا ہوئی

آپ جانتے ہیں کہ میں نے کبھی میری چیز پر کسی کی نظر تک برداشت نہیں کی اور وہ شخص جس پر میں نے آنکھیں بند کرکے یقین کیا اُس نے کیا کیا ٫” میرے ساتھ

میں نے اُسکی خاطر سب چھوڑ دیا ” اُس کی محبت میں میں نے اُسکے گھر والوں کے ساتھ محبت کی لیکن ” وہ ایک لڑکی کے بہکانے میں آ گیا ۔۔کیا اتنا کمزور تھا وہ

کیا وہ جانتا نہیں تھا مجھے ” میں شراکت بلکل بھی برداشت نہیں کر سکتی لیکن پھر بھی مجھ سے چوڑو کی طرح سب کچھ چھپایا “..

ہاں آیا تھا وہ بہت بار لیکن کیا فائدہ اُس کے اب آنے کا میرا باپ تو اس صدمے کو برداشت نہ کر پایا اور ہمیں چھوڑ گیا ۔۔

میں کیوں معاف کروں اُس کو ہمیشہ عورت ہی کیوں سیکری فایز ” کرے ۔۔

محبت کرتا تھا نہ مجھ سے تو تھوڑا اعتبار بھی کر لیتا اگر اپنی مجبوری بتاتا تو میں کیوں نہ سنتی لیکن اُس نے کیا کیا الٹا مجھے بتانے کی بجائے اُس کی جانب راغب ہونے لگا۔۔

آپ نہیں جان سکتے کہ اس وقت مجھے کتنی تکلیف محسوس ہوئی تھی مجھے تو اپنی ڈیٹھ جان پر افسوس ہوتا ہے کہ جس شخص کہ بغیر میں نے زندگی کا تصور بھی نہیں کیا تھا آج اُس کے بغیر جی رہی ہوں ۔۔

میں مر کیوں نہ گئی ” اسکا بیگھا لہجہ اور سخت الفاظ سے زارون کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی دل درد سے پھٹنے والا ہو گیا ۔۔

وہ روتے ہوے ہچکیاں بھرتی بولی ” میں نے اُسے بے انتہا چاہا اور اب بھی محبت کرتی ہوں کیوں کہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی لیکن دوبارہ بھروسا نہیں کر سکتی” میرے دل میں ایک خوف سا بیٹھ گیا ہے ” میں جانتی ہوں وہ مجھ سے ہے حد محبت کرتا ہے اُسکی آنکھوں کی نمی اُسکی التجاء سب سچ تھا

لیکن اب میرا دل مردہ ہو گیا ہے میں اُسکی بے وفای کو تو معاف کر سکتی ہوں اور کر بھی دیتی کیوں کہ میں جانتی ہوں کے اُسکا اس سب میں اتنا قصور نہ تھا لیکن اپنے باپ کی آنکھوں میں جو بے بسی اور آنسو میں نے دیکھے وہ کبھی معاف نہیں کر سکتی”

مجھے عشق تھا اپنے باپ سے اور ہے ” کیوں کہ وہ اب بھی ہم سب کے ساتھ موجود ہیں ۔۔میرا مصطفیٰ “

اُنکی آنکھوں میں جو نمی تھی نا زارون” جو درد تھا اُسے دیکھ کر تو مجھے اُسی وقت اپنا آپ ختم ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔میں ہمت ہار چکی تھی ” یہ جو میں آپ کے سامنے بیٹھی ہوں نہ یہ اللہ پاک نے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے شاید میری موم کے لیے یاں پھر اس کے لیے ..

مصطفیٰ کی جانب دیکھتی وہ کانپتے ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کرتی بولی تھی

مجھے ہارون بھای نے بتایا تھا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے مہینہ ہو گیا اُسے واپس حویلی گئے ہوے لیکن میں کیا کرتی،، اب ان سب باتوں کا کیا فائدہ ۔۔

جب وہ نم آنکھوں میں اُمید لیے مجھے آخری بار دیکھ رہا تھا نہ تو یقین مانیں خود پر ضبط کے گہرے پہرے بیٹھاے میں نے اُس سے منھ پھیرا تھا ۔۔

اُس وقت مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئ تھی میرا دل كرچی کرچی ہوا تھا میں اُسے یوں روتا نہیں دیکھ سکتی تھی “

وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی”

مجھے اُس سے محبت تھی میں کبھی اُسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی اسی لیے یہاں آ گئی ورنہ میرا دم گھٹ جانا تھا وہاں “

زارون ترپ کر اُس کے قریب آتا گھٹنوں کے بل بوتے اس کے پاس بیٹھا ” آنکھیں ضبط کی شدت سے لال ہو رہی تھی ” آنکھوں کے کنارے نم آلود تھے ۔۔

آپ اس طرح ہمت نہیں ہار سکتی مزنہ یہاں میری جانب دیکھیں ” آپ تو بہت مضبوط ہیں ” اس طرح نہیں روتے

اسی لیے تو کہہ رہا ہوں اُسے ایک موقع دیں ” اُسے سن لیں وہ کیا کہتا ہے اور اُسکے گھر والوں کی حقیقت سے اُسے آگاہی دین۔۔

کس قدر دکھ ہوگا اُسے جن کے لیے اُسکا گھر برباد ہو گیا وہی اُسکی بربادی کا سامان اکٹھا کر رہے تھے۔۔

بے بس سا وہ اُسے کہنے لگا “

خود نہیں بتایا اُسے میں نے کچھ ” جانتی تھی کہ اُسے دکھ ہوگا ۔۔یہ دکھ کم ہے کہ اُسنے اپنے بچے کو ابھی تک نہیں دیکھا ” سچ بتا کر مزید تکلیف سے دو چار نہیں کرنا چاہتی اسے میں۔۔

گھٹی گھٹی آواز میں وہ کہتی سسکنے لگی

اُنکا حساب میں نے رب پر چھوڑ دیا” رب کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے” جو بویا ہے وہ کاٹیں گی بھی ایک دن ۔۔

انشا اللہ” لیکن میری بات پر غور کیجئے گا ایک بار ” اور اب اس طرح رونا نہیں ہے آپ نے بلکل بھی ۔۔

آگے بھرتے پانی کا گلاس لیتے اس کی جانب بڑھایا “

پانی کا گھونٹ لیتی وہ گلاس ایک جانب رکھتی اُس کے ہاتھ تھامے بولی !! آپ دعا کریں نا میرے لیے ” میرا دم گھٹتا ہے مجھے لگتا ہے میں سانس نہیں لے پاونگی وہ بے بسی سے کہتی زارون کی روح کو گھائل کر گی

اُس کے نرم و ملائم ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے اُس کی جانب درد بھری نظروں سے دیکھا “

اللہ پاک معاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے” جو شخص دین کا علم رکھتا ہو وہ کبھی پتھر دل نہی ہو سکتا

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کچھ نہیں برداشت کیا ” کس لیے اور کیوں !!..

ہمارے لیے ،،ہمیں سیکھانے کے لیے اور ہم سب کچھ بھلا کر کیا کہتے ہیں کہ نہیں ہم کیوں معاف کریں ” ہم پر ہی تو فرض نہی ہے نہ ،،انسان اُس وقت یہ کیوں نہیں سوچتا کہ ہر بندہ اپنی قبر میں جائے گا ،ہر شخص کا الگ حساب کتاب ہو گا تو پھر نیکی میں پہل ہم کیوں نہ کریں ۔۔

اللہ پاک بہت بہتر فیصلے کریں گے وہ رب اپنے بندے پر اُسکی برداشت سے زیادہ بوجھ نہی ڈالتا آپ زیادہ سوچیں مت آرام کریں ،،اور درگزر سے کام لیں ” آگے آپ کی مرضی ،،آپ جو بھی فیصلہ کریں گی اپنے دوست کو ہمیشہ ساتھ پائے گی ۔۔۔۔

میری ہر دعا میں آپ ہمیشہ رہی ہیں اور آگے بھی رہیں گی

سرخ چہرے پر بمشکل مسکراہٹ لاتے وہ کہتا چلا گیا

وہ سر ہلاتی اسے جاتا دیکھ رہی تھی اُسکی سماعت میں اُسکے کہے الفاظ گونج رہے تھے

اللہ پاک معاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے “

آبان واپس حویلی نہیں گیا تھا جس دن مزنہ دبئی گئ اُسی رات وہ اُسکے گھر گیا تھا

وہاں جا کر جو اسے اُس کےگھر سے جانے کی خبر ملی تو اُسے اپنا آپ ساکت ہوتا محسوس ہوا ” کتنی معافی مانگی تھی اُس نے لیکن اُس نے اُسے اس قابل ہی نہ سمجھا کہ اپنے بچے کو ایک نظر دیکھ سکے ۔۔

بہت کوشش کی معلوم کرنے کی لیکن کسی نے کچھ نہ بتایا “

وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا جہاں اُسکی یادیں آباد تھی ۔۔

اُس کے ساتھ گزارے حسین پل تھے جنھیں وہ یاد کرتا زمین پر بیٹھتا اپنے بال نوچتا رونے لگا

اتنی بڑی سزا مزنہ ” بس ایک بار معاف کردو یار لوٹ آو میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر اُسکی تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نم لہجے میں کہتا بے بسی سے اپنے کمرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔

اُسے حویلی واپس آتا نہ دیکھ کر سب بی پریشان ہو گئے مریم بیگم روتی ہوئی حسن چوھدری کو دیکھتی گویا ہوئی

آپ جائیں لے کر آئیں اُسے کیوں نہیں آ رہا وہ واپس کیوں سزا دے رہا ہے ہمیں ” ہم نے تو کوشش کی تھی اسے واپس لانے کی اب وہ نہیں آنا چاہتی تو کیا کریں ۔

فون کیا تھا میں نے کہہ رہا تھا آ جاونگا ” حسن چوھدری چائے کا کپ اٹھاتے گویا ہوے ۔۔

مریم بیگم مانو یاں نہ مانو غلطی ہم سب کی ہے اور اگر اب وہ نہیں بات کرنا چاہتا تو خاموشی کا مظاہرہ کرو یہ نہ ہو دوسرا بیٹا بھی کھو دو ۔۔

اُسکی بیوی بچہ غائب ہیں ” بغیر بتایۓ جانے وہ کہا چلے گئے وہ بہت پریشان ہے اس لیے مزید اُسے تنگ نا کرو وہ سخت نظروں سے اُنکی جانب دیکھتے گویا ہوے۔

اس دوران حمنہ بیگم اور نور العین بلکل خاموش رہی

آہ ” نور العین نیچے کو جھکتی اچانک چیخی ” سب اُسے گرتا دیکھ اُسکی جانب پریشانی سے لپکے ” کیا ہوا میری بیٹی ” نور حمنہ بیگم چیختی اُسکا گال تھپتھانے لگی

ہوا کیا ہے بچی کو ابھی تو بلکل ٹھیک تھی بی اماں پریشانی سے اُسکی بند آنکھیں دیکھ استفسار کرنے لگی

پتہ نہیں میری بچی کو کیا ہو گیا بابھی آپ ڈاکٹرنی کو فون کریں ” حمنہ بیگم روتی ہوئی کہتی نور العین کے چہرے پر پانی کے جھپکے مارنے لگی

حسن چوھدری بھی پریشان سے اُسے دیکھ رہے تھے “

نور العین مندی مندی آنکھیں کھولتی اپنے سر کو پکڑتی سیدھی ہوئ” کیا ہوا بیٹا ابھی تو بلکل ٹھیک تھی تم مریم بیگم اُس کے قریب بیٹھتی متفکر سی کہتی اُس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھنے لگی

چکر آ گیا تھا ایک دم سے ” وہ آنکھیں میچتی سر کو تھامے بولی

حمنہ اس کو کمرے میں لے جاو ڈاکٹرنی آتی ہے تو میں اُسے ساتھ لے کر آتی ہوں ” حمنہ بیگم سر ہلاتی نور العین کو آنکھ مارتی اٹھ گئ” دھیان سے نور بیٹا مریم بیگم اُسے لڑکھڑاتا دیکھ جلدی سے آگے بڑھی ۔۔

میں ٹھیک ہوں تای جان ” کہتی وہ اپنے کمرے کی جانب جانے لگی۔۔

کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر نے نور العین کا چیک اپ کیا ،،کچھ نہیں بس بیپی لو ہو گیا تھا اور اپنی خوراک کا خاص خیال رکھا کریں آپکی ہیلتھ بلکل بھی ٹھیک نہیں ” اس طرح بےبی کی بھی گروتھ نہیں ہوتی ۔۔

یہ کچھ ملٹی وٹامنز دے رہی ہوں انکا استعمال باقاعدگی سے کرنا ہے کہتی وہ باہر نکل گئی

مریم بیگم نور العین کی جانب متوجہ ہوئی ” نور بیٹا کتنی بری بات ہے اپنی خوراک کا تو دھیان رکھا کرو تم اب اکیلی تھوڑی نہ ہو ایک اور جان ہے تمہارے ساتھ ” نور العین جی کہتی سر جھکا گئ ۔۔

کیا کرے میری معصوم بچی ” شوہر کو گئے اتنا وقت بیت گیا اُس نے واپس پلٹ کر نہ دیکھا تو طبیعت تو خراب ہو گی نہ بابھی ” آپ ہی کچھ سمجھائیں آبان کو کہ نور العین بھی اُسکی بیوی ہے اُس کے بچے کی مان بننے والی ہے ذرا خیال کرے میری بچی اُسی کے غم میں گھلی جا رہی ہے حمنہ بیگم اصل مدے پر آتی بولی

ہمم میں بات کرتی ہوں آج حسن صاحب سے اُسے حویلی بلائیں اور نور العین کی طبیعت کا بھی بتائیں وہ کہتی اٹھ گئی

انہیں جاتا دیکھ دونو ماں بیٹی خوشی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگی ۔۔

ان کا مقصد پورا ہو گیا تھا وہ بس آبان کو کسی طور واپس حویلی بلانا چاہتی تھی ۔۔