Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 15)

Robroye Yaar By Yumna Writes

ي”یہ ،، کیا کہہ رہا ہے بھائی صاحب” حمنہ بیگم کا رنگ ایک دم پھیکا پڑا

حسن صاحب اُسکی بات سنتے غصے سے دھاڑے””

یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم آبان “

ہوش ہے تمہیں کہ کیا بول رہے ہو تم

حسن صاحب اُس سے سخت انداز میں استفسار کرنہ لگے

چہرہ غصے کی زیادتی سے لال ببھوکا ہو گیا ۔۔

حسن تم خاموش رہو آرام سے بات کرنے دو بچے کو “

بی جان حسن چوھدری کو غصے سے کھڑا ہوتا دیکھ ٹوک گئی۔۔

حسن چوھدری اشتعال انگیز حالت میں اٹھتے کمرے سے نکل گئے۔۔

مریم بیگم جو خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی تھی اُسکی باتوں سے ہوش میں آئی غصہ آخری حدوں کو پہنچا ،،

تندہی سے ماتھے پر بل ڈالے اُسکی جانب دیکھتی نحوُت سے گویا ہوئی

آبان یہ کیا فضول حرکت ہے ۔۔تم پاگل ہو گئے ہو کیا ۔۔

شادی کوئی گڈے گڑیوں کا کھیل نہیں جب دل چاہا کر لیا جب دل کیا توڑ دیا

وہ سختی سے بولتی اُسکی جانب دیکھنے لگی

میں جانتا ہوں اما لیکن یہ نکاح میں نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ آپ لوگو کی زبردستی کی وجہ سے کیا تھا

لیکن اب اس نکاح کی وجہ سے میرے لیے مشکل پیدا ہو رہی ہے

میری بیوی مجھ سے دور ہو جائے گی اور یہ میں کبھی برداشت نہی کر سکتا

وہ ختمی فیصلہ سناتا اُنکی جانب سے نظر پھیر گیا

بی اماں جو سب سن رہی تھی اُسکی سرخ آنکھیں اور لہجے کا سرد پن محسوس کرکے خاموش ہو گئی

کیا یہ تمہارا ختمی فیصلہ ہے” آبان کی جانب دیکھتی وہ اُس سے استفسار کرنے لگی ۔۔

اُس کے الفاظ اُنکی سماعتوں میں ہتھوڑے کو مانند بج رہے تھے

آبان اُن کی آنکھوں میں چھپی التجاء دیکھ کر اُن سے نظریں چراتا ہوا گویا ہوا

جی بی جان میں اس رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا ۔۔

میں نے آپ سب کی خوشی کے لیے یہ نکاح کیا تھا

لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ میں نے بہت جلدی کر دی

میں اس رشتے کو آگے نہیں بڑھا سکتا “.۔۔

میری بیوی اس سب سے انجان ہے ۔۔اگر اُسے ذرا سی بھلک بھی لگ گئی اس بات کی تو آپ نہیں جانتی کیا قیامت کھڑی ہو جائے گی

پہلے ہی میں جذبات میں بہہ کر بہت بڑی غلطی کر چکا ہوں۔۔

میری بے وقوفی تھی یہ اور اب مزید غلطیاں نہیں کر سکتا

نظریں جھکائے اُس نے ساری بات اُنکے سامنے بیان کر دی

اُس میں اُنکی نظروں کی التجا کّی تاب لانے کی ہمت نہ تھی

وہ اپنے رشتوں سے بہت محبت کرتا تھا

پہلے بھی وہ سب کی محبت میں خاموش ہو گیا تھا ۔۔سب کی ضد کے آگے ہار گیا تھا ۔۔۔اُنکی التجاوں کے آگے خاموش ہو گیا تھا ۔۔اپنے رشتوں کے معاملے میں وہ بہت حساس تھا

پہلے بھی بی جان کی محبت میں وہ ہار گیا تھا ۔۔۔لیکن مریم بیگم کی باتوں نے اُس کے دل پر گہرا وار کیا تھا

اسی لیے وہ اب ان سب چیزوں سے اپنا دامن بچانا چاہتا تھا

لیکن اب وہ ختمِ فیصلہ کرنا چاہتا تھا وہ مزید یہ ذہنی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا تھا جو اُسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا

بس یہی مسئلہ ہے یاں اور کوئی بات بھی ہے

بی جان کی آواز سنتا وہ بے ساختہ زمین سے نظریں اٹھاتا اُنکی جانب دیکھنے لگا

اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا۔۔۔حمنہ بیگم ترپ کر اُنکی جانب آئیں

اُنہوں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہی تھا ۔۔

اُنہیں تو اب سارا کھیل مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لگ رہا تھا

لیکن اچانک یوں پانسا پلٹنے پر وہ بھونچا کہ رہ گئی تھیں

بی جان یہ کیا پوچھ رہی ہیں آپ “

کیا آپکو میری بچی پر رحم نہیں آ رہا ۔۔۔

میری بچی پہلے ہی بھری جوانی میں بیوہ ہو گئی ہے اور اب آپ لوگ اس پر طلاق یافتہ کا دھبہ بھی لگوانا چاہ رہے ہیں

لوگ کیا کہیں گے ابھی وقت کتنا بیتا ہے شادی کو جو طلاق ہو گئی ۔۔۔

میری بچی تو جیتے جی مر جائے گی ۔۔۔حمنہ بیگم کی دہائیاں عروج پر تھی ۔۔

وہ روتی آبان کے آگے ہاتھ جوڑ گئی۔۔۔

یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ ” تمہیں اللہ کا واسطہ میری بیٹی کہ ساتھ یہ ظلم نا کرو

وہ روتی التجا کرنے لگی ۔

آبان اُنکے جڑے ہاتھ دیکھتا چونکتا شرمندہ ہوتا تھام گیا

اُن کے جڑے ہاتھ دیکھ کر وہ خواس باختہ ہو گیا

چاچی یہ کیا کر رہی ہیں آپ _ پلیز مجھے شرمندہ نہ کریں ۔۔۔

اُنکے ہاتھ تھامتا وہ اُنکے آنسو سے تر چہرے کو دیکھتا ہونٹ سختی سے بینچتا خود کو دوہری اذیت میں مبتلا محسوس کر رہا تھا ۔۔

میری بچی بہت معصوم ہے آبان اُس کے ساتھ یہ ظلم مت کرو۔۔۔ایک دکھ تو وہ برداشت کر رہی ہے مزید اُسے تکلیف نہ دو “

وہ مر جائے گی ” یہ دُنیا اُسے طعنے دے دے کر جینے نہیں دے گی

میں بہت مجبور ہوں چاچی جان” میں مزید اذیت برداشت نہیں کر سکتا۔۔

اپنی بیوی کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔۔کب تک چھپاؤں گا اُس سے حقیقت؟؟..

کبھی نہ کبھی تو اُسے علم ہوگا اور پھر وہ مجھے دھوکے باز سمجھے گی۔

آپ فکر نہ کریں میں بہت اچھا لڑکا ڈھونڈھو گا نور کے لیے ۔۔

وہ خوش رھے گی ہمیشہ “” اُنھیں تھامتے وہ تسلی دیتا گویا ہوا

بیٹا میری بیٹی پر داغ تو لگ جائے گا نہ ،،لوگ کیا کہیں گے ۔۔

کہ کیوں نکاح کے دو ہفتے بعد ہی لڑکی کو طلاق ہو گئی

پہلے بیوہ تو ہو چکی ہے اور اب طلاق یافتہ کا دھبہ بھی لگ جائے گا میری بچی ” پر

لوگ کچھ نہ بھی کہیں تو میری بچی پر کیا بیتے گی ۔۔پہلے ہی اتنی مشکل سے وہ اس صدمے سے باہر نکلی ہے اور اب ۔۔

یہ ظلم نا کرو میرا بیٹا ۔۔

فجر کا سوچو!! وہ تو تمہیں اپنا باپ مانتی ہے ۔۔

وہ کیسے رہے گی کسی دوسرے شخص کے ساتھ ۔

میں خود بات کروں گی مزنہ سے وہ مان جائے گی ۔۔

وہ روہانسی ہوتی نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی گویا ہوئی

ایک ماں کی التجاء ہے یہ ۔۔

تم اپنے چاچا سائیں سے بہت محبت کرتے تھے نا،،،اُنکے لیے یہ قدم نہ اٹھاو وہ لڑکھڑاتے لہجے میں کہتی اُسکے پاؤں میں جھکنے لگی

میں میں تمہارے پاؤں۔۔۔ آبان نے اُنھیں فوراً تھام لیا ۔۔

چاچی خدارا مجھے گنہگار نہ کریں۔۔

وہ اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی روتی ہوئی التجاء کرتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

وہ خود پر کرے پہرے بیٹھاتا ضبط کرتا اُنھیں سینے سے لگاتا خاموش کروآنے لگا

وہ خود پر جتنا بھی سرد مہری کا ہول چڑھاتا لیکن وہ اپنو سے کبھی بے اعتنائی نہیں برت سکتا تھا

آبان تو ایسا تو نہ تھا ۔۔۔

کیا ایک ماں کے آنسو بھی تجھے نہیں پگلا رہے ۔۔

مریم بیگم آنکھوں میں نمی لیے بیٹے کے قریب آتی نرم لہجے میں گویا ہوئی تو وہ لاکھ ناراضگی ظاہر کرنے کے باوجود اُن کو ساتھ لگا گیا ۔۔

تھیں تو وہ اُسکی ماں جس نے اُن دونو کو اتنی محبت سے پالا پوسا۔۔۔

وہ تو ہمیشہ سے اپنے ماں باپ کے سامنے خاموش رہتا تھا لیکن اب جب بات اُسکی بیوی پر آئی تو وہ خاموش نہ رہ سکا

وہ دونوں کو ساتھ لگائے حمنہ بیگم کی پشت سہلاتا ماں کی بات سنتا لب سختی سے بینچتا دونو کے گرد بازو حمایل کر گیا

آبان کو آج سہی معنوں میں اپنا آپ ہارتا محسوس ہوا

وہ بہت نرم دل تھا ،،کسی کے بھی آنسو برداشت نہیں کر پاتا تھا ۔۔۔جتنی مرضی وہ سب سے بے اعتنائی برتتا لیکن سب کے آنسو کے سامنے وہ ہار گیا تھا

اور وہ بہت اچھے سے جانتا تھا کہ وہ بہت جلد نقصان اٹھانے والا ہے ۔۔۔۔

لیکن مزید گھر والوں کو بھی تکلیف نہی دے سکتا تھا

دونو ماؤ کو ساتھ لگاتا دیکھ بی جان خوشگواری کے سنگ گویا ہوئی

اب مجھے بھی مل لے کے ماؤ کو ہی ساتھ چپکاے رکھے گا

وہ گہری سوچ سے نکلتا بی جان کے قریب بیٹھ گیا

میرا پُتر کیوں پریشان ہو رہا ہے ۔۔انشا اللہ وہ مان جائے گی تو ایک بار بات تو کر اُس سے ۔۔

بی جان اُسے محبت سے سمجھا رہی تھی وہ اُسکی کیفیت بخوبی سمجھ رہی تھی وہ اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے گیا ہوئی

اور آبان تو جانے کن وسوسوں میں گھیرا خود کو محسوس کر رہا تھا ۔۔

خاموشی سے سر ہلاتا وہ اٹھتا کمرے سے نکل گیا ۔۔

پیچھے حمنہ بیگم اپنی ایکٹنگ کو سراہتے خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔

آج اُنھیں سب کچھ اپنے ہاتھوں سے جاتا ہوا دکھ رہا تھا ۔۔۔نور کو تو انہوں نے باپ کی قسم دے کر نکاح کہ لیے راضی کر لیا ۔۔

اور جب اُس نے خود آبان سے بات کرنے کی کوشش کی تو خود کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔۔

نور ڈر کر بلکل خاموش ہو گئی۔۔

وہ جان گئی تھی خ اُسکی ماں لالچ میں یہ سب کر رہی ہے لیکن اب اُسکے پاس رشتہ ہی کونسا بچا تھا اسلیے سب کچھ حالات پر چھوڑ دیا۔

اور دوسری جانب حمنہ بیگم جانتی تھی اُنکی بیٹی بہت ڈرپوک اور معصوم ہے اُسے راضی کرنا مشکل نہ تھا۔۔

اصلی کام تو آبان کو زیر کرنے کا تھا جو آج وہ اچھے سے کر گئی تھی