Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 1)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 1)
Robroye Yaar By Yumna Writes
وہ دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی،،،سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا پڑا تھا،،ٹیرس سے ہلکی چاند کی روشنی اندر کے منظر کو واضح کرنے میں ناکام تھی،
اُسکی نظر بیڈ کے قریب کرسی پر بیٹھے آنکھیں موندے سر کو کرسی کی پشت سے لگائے ہوئے شخص پر پڑی
جو خود سے بلکل بے نیاز سا بیٹھا تھا
پورے کمرے میں سگریٹ کا دھوا چھایا ہوا تھا،،وہ ناک پر ہاتھ رکھتی اپنے بھاری بھرکم وجود کو سمبھالتی چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے اُسکے قریب آئی
قریب آتے ہی نظر اُس یونانی دیوتا پر پڑی ،،بڑھی ہوئی دھاڑی ،،بکھرے بال ،،آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُسکے رت جگو کی گواہی تھے،،،گلابی ہونٹ جو کثرت سے سگریٹ نوشی سے سیاہ پر گئے تھے۔۔
سچ کہا تھا کسی نے محبت پھر بھی بھلائی جا سکتی ہے لیکن عادت ،،،عادت کبھی ختم نہیں کی جا سکتی ۔۔۔
اور وہ صرف اُسکی محبت نہیں ،،،اُسکی عادت ” اُسکا عشق تھی،،بلا انسان اپنی عادتوں کو بھی کبھی بھولتا ہے ۔
اُسے بھی اُسکی عادت تھی ،،جس کے بغیر دِن با دن وہ ٹوٹ رہا تھا ،،ختم ہو رہا تھا”مر رہا تھا
کس قدر خوبصورت تھا وہ شخص ” ایک دنیا اُس پر فدا تھی لیکن اسکو جسکی چاہ تھی وہ اُس سے کوسوں دور تھی ۔۔۔وہ سوچتی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتی اُسکے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔
آبان ” کب تک خود کو اس طرح تکلیف میں رکھیں گے ،،جاتے کیوں نہیں ہیں اُس کے پاس ؟؟
کیوں خود کو اور مجھے اذیت دے رہے ہیں” نہیں دیکھ سکتی آپکو اس طرح،
جب نہیں رہ سکتے اُس کے بغیر تو راضی کر لیں نہ اُسے ،،یوں اس طرح خود کو اذیت میں تو مت رکھیں ،،میرا دل پھٹتا ہے آپکو تکلیف میں دیکھ کر وہ بولتی سسک پری،،
وہ جو آنکھیں موندے بیٹھا تھا اُسکے رونے پر ایک پل میں سیدھا ہوا،،
کیوں رو رہی ہیں آپ ؟؟ وہ اضطرابی کیفیت میں گھرا اُسے روتا دیکھتا بولا،،
کیا چاہتی ہیں آپ کہ جو کچھ پل سکون کے مجھے میسر ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں ،،اُسے شکوہ کناہ نظروں سے دیکھتا وہ انگلیوں کی پوروں سے اُسکے آنسو صاف کرنے لگا
اُسکے رونے کی شدت میں اور اضافہ ہوتے دیکھ وہ اُسے ساتھ لگا گیا
کیوں رو رہی ہیں یار۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں”
آپ کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی ،،،آپ اس طرح ٹینشن مت لیا کریں ،،بس کچھ پل اکیلے بیٹھنا چاہتا تھا اسلیے یہاں آ گیا”
آپ ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ اُس کے بغیر نہیں رہ سکتے ” آپ کیوں نہیں جاتے اُس کے پاس؟؟
جائیں اُسے منائیں “وہ مان جائے گی ۔۔۔وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے ،،وہ روتے ہوے ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی،، آپ ایک بار جائیں تو سہی،،
آبان اُسکی کیفیت سمجھتا سختی سے لب بینچتا اُسکی پشت سہلاتا ہوا گویا ہوا
آپ کو کیا لگتا ہے میں نہیں گیا اُن کے پاس” یاں میں نے نہیں منایا انہیں۔ ،،
میں نے اُسے راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ،،وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ،،
اور آپ جانتی ہیں،،
وہ اس خویلی اور اسکے مکینوں سے شدید نفرت کرتی ہے،،اُسکا جتنا نقصان یہاں ہو چکا ہے وہ اُسے کبھی نہیں بھلا پائے گی ،،
اور میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں ،،وہ جتنی شدت سے محبت کرتی ہے ،،اُس سے کہی زیادہ شدت سے نفرت بھی نبھاتی ہے۔۔۔
آنکھوں میں آئی نمی کو وہ چھپاتا وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا “
اور اُسکا کہنا ہے کہ اسے نفرت ہے مجھ سے” نفرت کرتی ہے وہ،، یہاں رہنے والے ہر ایک فرد سے ،،وہ اپنے ہوے نقصان کا زمیدار ہم سب کو سمجھتی ہے ۔۔۔
اسی لیے تو چھ ماہ سے اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا ،،
میں جانتا ہوں اسکو وہ کبھی واپس نہیں پلٹے گی ،،
کیوں کہ اُسکے بقول
محبت خدا کا تخفہ ہے ،،جس طرح خدا کی ذات میں شرک سب سے بڑا گناہ ہے ،،جسکی کوئی معافی نہیں، اُسی طرح عشق میں شرک کی کوئی معافی نہیں۔۔۔
اور میں نے عشق میں شرک کیا ہے،،اور شرک کی سزا ہے معافی نہی”
اس نے میرے لیے یہی سزا تجویز کی ہے” جدائی ” کی سزا،
اب تو شاید عمر بھر اس سزا کو کاٹنا ہے،،کیوں کہ وہ ہمیشہ کہتی تھی محبت میں جب تک دو رہیں تب تک محبت ہوتی ہے ،،جب کوئی تیسرا آ جائے تو ایک کو تفریق ہونا پڑتا ہے،،
اور اُس نے خود کو تفریق کر لیا۔۔
وہ گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتا اپنے اندر بھرتی گٹن کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے کاش ایسا نہ ہوتا،،کاش آپ مجھ سے نکاح نہ کرتے تو آج وہ آپ کے ساتھ ہوتی۔
میں ہوں ہی منہوس ” پہلے میری وجہ سے آہل چلے گئے اور اب آپ”
آپ کو بھی میری وجہ سے اتنی تکلیف سہنی پر رہی ہے،،
وہ اُسکی شرٹ مٹھیوں میں بینچتی بے بس سی بولتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔
یہ کیا بول رہی ہیں آپ” وہ سختی سے اُسے دیکھتا گویا ہوا
آپ نے کچھ نہیں کیا ،،نہ اس میں آپکا کوئی قصور ہے،،اُس وقت خالات ہی اس طرح کے پیدا ہو چکے تھے کہ ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔۔
اور میں اپنے عمل سے بلکل بھی شرمندہ نہیں ہُوں،،
اسلیے آپ خود کو اس سب کا زمیداری ٹھہرانا بند کریں وہ اُسکے آنسو پونچھتے قدرے سخت لہجے میں بولا”
اُس کے لہجے کی سختی کو محسوس کرتی نور العین کے آنسو تھمے۔۔
آپ کیوں مجھے مزید تکلیف دے رہی ہیں رو کر،،آپ جانتی ہیں ڈاکٹر نے کتنی اختیاط برتنے کی ہدایت کی ہے لیکن آپ پھر بھی بغیر کسی ملازمہ کو ساتھ لیے اکیلی اوپر آ گئی ہیں ،،،
اُسے خاموش ہوتا دیکھ وہ بولا سس ‘ سوری،،، آپ کہی دکھے نہی تو بس ہم آپکو دیکھنے کے لیے آ گئے” وہ ہچکچاتی ہونٹ دانتوں میں دباتی بولی
آبان کہ چہرے پر ایک ہلکی زخمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ،،
چلیں اب اٹھئیں دونوں اکٹھے چلتے ہیں نیچے ،،ورنہ اب آپکو ڈھونڈھتے میری پری نے آ جانا ،،وہ کھڑا ہوتا اُسے سہا را دیتا بولا۔۔
اور وہ اُسکے چہرے کو دیکھتی اُسکی دلکش مسکراہٹ میں کھو سی گئی،،جانے کتنے وقت بعد اُسے وہ مسکراتا دیکھ رہی تھی ،،ورنہ جب سے وہ گئی تھی اُسکا سکون ،،چین،نیند ،،خوشی سب ساتھ لے گئی تھی ،،
اب جو شخص اُسکے پاس تھا وہ تو صرف ایک مٹی کا بت تھا ،،جسے کسی چیز سے کوئی غرض نہیں تھی،
جس کی خوشیاں اُسکے ساتھ ہی چلی گئی تھی “
وہ اُسکا ہاتھ تھامتے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوۓ اُسکا چہرہ دیکھتی دھیمے لہجے میں بولی “
اگر میں ایک دفعہ بات کروں اُن سے تو ؟؟ ۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں ” ایک بار میں دیکھ چکا ہوں آپ کے بات کرنے کا نتیجہ ” اور نقصان بھی اٹھا چکا ہوں،،
اب مجھ میں مزید کوئی خسارہ اٹھانے کی ہمت نہیں،،
اور آج کے بعد دوبارہ آپ کبھی اس ٹاپک پر بات نہیں کریں گی،، وہ سنجیدگی سے بولتا اُسکا ہاتھ تھامے نیچے جانے لگا۔۔
اور وہ خاموش ہوتی گزرے وقت کو سوچتی نم آنکھوں سے اُسکے ہمراہ قدم بڑھانے لگی۔۔
منڈی بہاولدین میں قدیم زمانے کی بنی یہ خویلي اپنی تمام تر شان و شوکت سمیت لوگو کے دلوں پر آج بھی راج کر رہی تھی ،،حویلی کافی پرانی تھی لیکن اسکی خوبصورتی آج بھی ویسے ہی برقرار تھی جیسے آج کے دور میں اسے بنایا گیا ہو ۔۔۔۔
خوبصورت رنگ برنگے پتھروں سے تراشے گئے اُسکے بلکل وسط میں ” چوھدری محمد علی ” کا نام درج تھا۔
باہر سے دیکھنے میں حویلی قدیم زمانے کی لگتی تھی لیکن اندر سے کسی محل کی مانند معلوم ہوتی تھی ،،
اور ہر چیز کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ،،،آخر کو اس میں رہنے والے مقین عام تو نہ تھے ۔
یہ چوہدری محمد علی کا گھرانہ تھا جہاں وہ اور اُنکے دو بیٹے حسن چوہدری،،حسین چودھری تھے
چوہدری محمد علی نیک اور نرم طبیعت کے مالک تھے،،اور گاؤں کے سردار بھی تھے ۔۔۔
گاؤں کے لوگ اپنے تمام فیصلوں کے لیے اُنھیں کہ پاس آتے ۔۔۔
بڑے بیٹے حسن کی ایک بیٹی نور العین جو کافی منتو مرادوں کے بعد پیدا ہوئی آہل کی ہم عمر تھی جبکہ چھوٹے بیٹے حسین کے دو بیٹے آبان اور آہل تھے ۔۔
چوہدری محمد علی کے جانے کے بعد اُنکی ساری زمیداری اُن کے دونوں بیٹوں نے سمبھال لی تھی ۔۔
آہل تو اپنے بابا سائیں کے ساتھ خويلی اور زمینوں کے انتظامات کا خیال رکھتا جبکہ آبان کو اس سب میں کوئی انٹرسٹ نہ تھا ،،،اُس نے اپنا ایم بی اے بھی باہر کے ملک جا کر وہاں سے مکمل کیا اور اب اسلام آباد میں اپنا بزنس کر رہا تھا ۔۔۔
نور العین اور آہل کی بچپن میں ہی بات پکی کر دی گئی تھی ۔۔لیکن بی جان کا کہنا تھا کہ بچے اپنی مرضی سے شادی کریں ۔۔۔ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے۔
نور العین اپنا ماسٹرز مکمل کر چکی تھی اُسکا نکاح آہل سے ہو چکا تھا ،،آہل نے بی جان کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور انہوں نے بغیر کسی اعتراض کے بخوشی دونو کا نکاح کروا دیا ۔۔رخصتی آبان کی شادی کے ساتھ ہونی تھی
آہل نے جیسے ہی پرھآئی مکمل کی تو حویلی اور زمین کے سارے کاموں کی زمیداری اپنے سر لے لی ۔۔
ابھی وہ تھکا ہارا سفر کرکے اسلام باد سے واپس حویلی میں داخل ہوتے آ کر لاؤنج میں بیٹھا ہی تھا کہ نور العین بھاگتی اُسکے قریب آئی اور سلام کرتی نظریں جھکائے بولی آبان بھائی آپکو بی جان اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں ۔۔
وہ سر ہلاتا اٹھتا بی جان کے کمرے میں اجازت لیتا داخل ہوا ۔۔
سلام کرتا وہ اُن کے آگے سر جھکا گیا ۔۔
میرا پُتر،،میرا شیر ” کہا گم ہے آجکل وہ اُسکے ماتھے پر بوسہ دیتی ہوئی محبت سے چور لہجے میں گویا ہوئی
بی جان کچھ نہیں بس آجکل کام کی کچھ زیادہ مصروفیت تھی اسلیے اس دفعہ دیر ہو گئی آنے میں ،،وہ اُنکی گود میں سر رکھتا بری عقیدت سے اُنکا ہاتھ چومتا بولا
یہی تو میں بھی پوچھ رہی ہوں میرا پُتر ” یہ کون سی مصروفیات ہیں جن کی وجہ سے آپ گھر کا راستہ ہی بھول بیٹھے ہیں ،،
ابھی بی جان کچھ اور کہتی کہ اچانک دھڑام سے دروازہ کھولتا آہل اندر کمرے میں داخل ہوا اور اُسکے پیچھے نور بھی ،،
ہم آپ کو بتاتے ہیں کون سی مصروفیات ہیں بھائی جان کی ” ،،دونو معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھتے فون آگے کو کر گئے ،،جس پر لائف لائن کالنگ لکھا آ رہا تھا ۔۔
آبان جو اپنا فون غلطی سے باہر ٹیبل پر ہی بھول آیا تھا فوراً آہل سے اپنا فون جھپٹتے اشتعال انگیز لہجے میں بولا ۔۔۔
تو رک سہی بیٹا آج تو نہی بچتا ۔۔۔آہہہ،،ہّھ ،،بی جان اس ظالم انسان سے مجھے بچائیں وہ بھاگتا بی جان کے پیچھے چھپ گیا ۔۔
اچھا رک جاؤں آبان کیوں بچے کے پیچھے پڑے ہو ۔۔اور مجھے جلدی سے بتائو ماجرا کیا ہے ،،
بی جان سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
بی جان میں بتاتا ہوں آپکو ساری بات !!۔۔۔
آہل آگے کو ہوتا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر شرارتی نگاہوں سے آبان کو دیکھتا بولا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا
ہمارے بھائی جان کسی لڑکی کے عشق میں دیوانے ہوے پھر رہے ہیں،، اسی لیتے تو گھر آنے کا نام ہی نہیں لیتے۔
کب سے چپ بیٹھی نور بھی شرارت سے بولی ،،
آبان دانت پیستے ہوے بولا ،،،تو بچ بیٹا میرے سے ،،
لو بی جان دیکھیں ذرا بھلائی کا تو زمانہ ہی نہی ایک تو ہم نے ان کی مشکل آسان کی ہے اُلٹا مجھے ہی ڈ انت رہے ہیں ،،
وہ مصنوئی سا ڈرتا بی جان کے شانے پر سر رکھتا اپنے رونے رونے لگا۔۔۔
مجھ غریب پر بھی ترس کھائیں کب تک آپ کے لیے میں بھی کنوارا بیٹھا رہونگا ،،تین سال ہو گئے ہیں میری نکاح کو لیکن آپ ہیں کے شادی کی طرف آتے ہی نہیں ،،وہ مسکین سے صورت بنتا اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔
آبان اُسے دیکھتا بس دانت پیس کر رہ گیا ،،اب کیا کہتا اُسے بی جان کی سامنے “
لیکن بعد میں اُسکی سخت کلاس لینے کا ارادہ رکھتا تھا جس نے سب کے سامنے اُسکا یوں باندھا پھورا تھا۔
ہاں تو میاں کب سے چل رہا ہے یہ” لکا چھپی” کا کھیل ؟؟
ہمیں بھی تو بتاؤ ،،ہمیں کونسا اعتراض ہے کسی بات پر،، ہم تو کب سے تمہارے لیے لڑکیاں دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہیں،،تمہاری ماں تو روز کسی نئی وچولن کو حویلی بلاتی ہے۔۔اب تو ہم خود تھک چُکی ہیں لڑکیاں دیکھ دیکھ کر
ہم تو خود آپکی شادی کے منتظر ہیں “لیکن آپ تو ہم سے چھپاے بیٹھے ہیں سب “
بی جان شکوہ کنا نگاہوں سے اُسے دیکھتے گویا ہوئی
نہیں بی جان ایسی بات نہیں،،
بس میں بتانے ہی والا تھا ،،کچھ دن سے مصروفیات زیادہ تھی کام کی تو ذہن سے نکل گیا آپ سے بات کرنا ۔۔
اور کچھ میں پہلے اُن کی جانب سے تمام معاملات سلجھانا چاہتا تھا اسلئے خاموش تھا ۔۔
وہ اُن کو ناراض ہوتا دیکھ جھکتا محبت سے اُنکی پیشانی پر لب رکھتا گویا ہوا۔۔
