Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 5)

Robroye Yaar By Yumna Writes

یوں ہی باتوں کا سلسلہ طویل ہوتا گیا ۔۔۔

آبان میزنہ کے اُترے ہوے چہرے کو دیکھ کر اُسے مخاطب کرتا گویا ہوا

مزنہ جائیں جا کر کیچن میں سلمہ کو دیکھیں ،،کیا بنا رہی ہے ،،لنچ کا ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔

مزنہ اپنی جان خلاصی ہوتے دیکھ خدا کا شکر ادا کرتی اٹھنے لگی کہ بی اماں نے ٹوک دیا ۔۔

کوئی ضرورت نہیں تمہیں جانے کی نور جا کر دیکھ لیتی ہے ،،

نور میرا پُتر جا ” جا کر کیچن میں دیکھ کیا کر رہی ہے ملازمہ؟

اور آبان کی جانب دیکھتی

وہ دو ٹوک لہجہ میں گویا ہوئی ۔۔۔میاں اس طرح نہی چلے گا ،،

اب اسکو بار بار مت اٹھایا کرو ،،،نوکر کس لیے ہیں اور اگر کہتے ہو تو ہم حویلی سے دو ملازمہ بھیج دیتے ہیں ۔۔۔

مزنہ آبان کو دیکھتی فوراً نفی میں سر ہلا لگی ۔۔

آبان اپنا قہقہ ضبط کرتا سرخ چہرے سے اُسکی مسکین صورت دیکھتا گویا ہوا

نہیں اسکی کوئی ضرورت نہی بی جان ،، یھاں ملازم ہیں اور ویسے بھی مزنہ کی والدہ بھی آ جایا کریں گی ۔۔آپ پریشان نہ ہوں ۔۔

مزنہ کو مزید تنگ کرنے کہا ارادہ ترک کرتے وہ سہولت سے اُنھیں انکار کر گیا۔

ہمم تم کہتے ہو تو مان لیتے ہیں “وہ پر سوچ انداز میں گویا ہوئی ۔۔

___________________

سب خوش گپیوں میں مشغول تھے ،،نور سب کو ڈائننگ پر آنے کا کہتی ملازمہ کے ساتھ ٹیبل پر کھانا لگانے لگی ۔۔

یونہی سب باتوں کے دوران مختلف لوازمات سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب حسن صاحب کا فون بجا ۔۔

اُنہوں نے کال یس کرتے فون کان سے لگایا ۔۔لیکن دوسری جانب سے اُنھیں جو خبر ملی تھی اُس نے اُنکے پیروں تلے زمین کھینچ دی۔۔۔۔فون ہاتھ سے چھوٹ کے زمین پر گرا تھا ۔۔۔

سب اُنکی حالت دیکھ فوراً اُن کی جانب بھرے

بابا سائیں کیا ہوا ہے؟؟…بابا سائیں ” آبان اُن کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا متفکر ہوتا استفسار کرنے لگا

حسین اور آہل پر کسی نے قاتلانہ حملا کیا ہے ۔۔۔۔

ہائے میرا بچہ۔۔۔مریم بیگم دل پر ہاتھ رکھتی اونچی آواز سے رونے لگی ،،دوسری جانب بی جان بیٹے اور پوتے پر قاتلانہ حملے کا سنتی سر تھام گئی ۔

حمنہ بیگم کی بھی حالت ان سے کم نہ تھی وہ بھی حسن صاحب پر حملے کا سنتی بیہوش ہو گئی

آبان سب کو روتا دیکھ رہا تھا وہ خود بھی سکتے میں تھا

سب اس اچانک پڑنے والی افتاد پر بونچا کر رہ گئے ۔۔۔یہ خبر سب پر ہی بجلی بن کر گری تھی ۔۔

نور تو یہ خبر سنتے ہی رونے لگی بی اما اور باقی سب کی بھی حالات غیر ہو گئی ،،

مزنہ سب کی خالت دیکھی آبان کو شانوں سے تھامتے جھنجھوڑتے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی بولی ۔۔

آبان آپ نے ہمت کرنی ہے ۔۔انشاء اللہ وہ لوگ ٹھیک ہوں گے ۔۔چلیں جلدی حویلی چلتے ہیں

آبان کی آنکھ سے ضبط کے باوجود ایک آنسو ٹوٹ کر گرا جیسے مزنہ نے کسی انمول موتی کی طرح اپنی ہتھیلی پر رکھ لیا ۔۔

آبان چوہدری یہ وقت کمزور پڑنے کا نہیں اپنوں کو سنبھالنے کا ہے ۔۔سب کو آپ کی ضرورت ہے اٹھیں جلدی اُسکا ہاتھ تھامتے وہ گویا ہوئی

آبان اُسکی جانب دیکھتا خود پر ضبط کرتا سب کو لیتا

جلدی سے باہر نکلا

گاڑیاں تیزی سے نکلتی واپسی کے لیے روانہ ہوئی

مزنہ کو اس نے بہت روکا لیکن وہ ضد کرکے سب کے ہمراہ ان کے ساتھ آئی ،،اس وقت سب کو اُسکی ضرورت تھی وہ کیسے سب کو اکیلا چھوڑتی ۔۔۔

سارے راستے وہ نور کو خاموش کرواتی رہی تھی ،،تو کبھی مریم بیگم کو اور چاچی جان کو خوصلہ دیتی ۔۔

نور کا دل صبح سے ہی بہت پریشان تھا لیکن کون جانتا تھا کہ اُسے آج اتنی بڑی قیامت ٹوٹنی تھی اُن پر

حویلی میں عجیب سناٹا چھایا ہوا تھا جو دل کو کسی طوفاں کی آمد کی خبر دے رہا تھا ۔۔

گاڑیاں چررّر،، کی آواز سے حویلی کے سامنے رکی تھی ،،

آبان بھاگتا ہوا حویلی کے لان سے گزرتا بڑے سے لاؤنج میں داخل ہوا

طویل لاونج کے وسط میں سٹریچر پر دونو کی ڈیڈ باڈیز رکھی ہوئی تھی ،،، سفید خون آلود کپڑے سے اُنکے چہرے ڈ ھکے ہوے تھے ۔۔

آہل غم و دکھ سے نڈھال ہوتا ،،لڑکھڑاتے ہوئے قدم آگے بڑھاتا اُنکے مردہ وجود کے قریب گیا ۔۔

پیچھے سے سب دوڑتے روتے ہوئے چیختے چلاتے اُنکے مردہ وجود کے قریب آئے

مریم بیگم نے کانپتے ہاتھوں سے دونو کے چہرے سے چادر ہٹای،، اپنے بیٹے کی بند آنکھیں زخمی خون آلود چہرے کو دیکھتی وہ چیختی لڑکھڑاتی ہوئی نیچے بیٹھتی دھاریں مار کر رونے لگی ۔۔

حسن صاحب کے قریب حمنہ بیگم ( نور کی والدہ ) بیٹھ کر چیخیں مار کر رونے لگی ۔۔اُنھیں جھنجھوڑنے لگی ۔۔

بی جان اپنے جوان پوتے اور بیٹے کے مردہ وجود کو دیکھتی وہی ڈھ گئی ۔۔۔

حسن چوھدری خود اپنے بھائی اور بیٹے کی موت سے صدمے میں تھے ۔۔

بلکل خاموش ساکت اُنھیں دیکھے جا رہے تھے

آنکھوں سے سیل رواں تھا

جبکہ نور العین میزنہ کے ہمراہ اُن کے قریب آتی خاموشی سے اُنھیں روتا دیکھ رہی تھی ۔۔

اپنے باپ اور شوہر کو خون میں لت پت دیکھ وہ چیختی ،،سسکتی ،،پھوٹ پھوٹ کر روتی اُنہیں جھنجھوڑنے لگی ۔۔۔

اور وہی اپنے حواس کھو بیٹھی۔۔

سب پر قیامت ٹوٹی تھی ۔۔دو دو رشتوں کو ایک ساتھ کھویا تھا سب نے۔

اس وقت کسی کو دوسرے کی ہوش نہیں تھی سب مسلسل تو رہے تھے چیخ رہے تھے

اُن کا خوبصورت سا آشیانہ بکھر گیا تھا ۔۔۔۔۔ٹوٹ گیا تھا ،چکناچور ہو گیا تھا ۔۔

ایک ماں نے اپنا بیٹا کھویا تھا__بیوی نے اپنا محبت لٹاتا شوہر __ ایک بھائی نے اپنی جان کا ٹکڑا اپنا چھوٹا بھائی کھویا ۔۔۔باپ نے اپنا بیٹا کھویا تھا

دکھ سب کے برابر کے تھے۔۔

جنہیں معلوم نہیں کیسے کم ہونا تھا

حویلی میں صفے ماتم بچھا دیکھ ملازم اور تمام گاؤں والے اشکبار تھے ہر آنکھ نم تھی۔

آبان اپنے چھوٹے بھائی کو آنکھیں موندے دیکھ سرخ لہو آنکھوں سے خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے سب کو سمبھال رہا تھا ۔۔

وہ سب کے قریب سے اٹھتا باہر کی جانب گیا ۔۔

سب کا زخم بہت گہرا تھا ،،لیکن نور ۔۔۔اُسکا دکھ تکلیف اُن سب سی بھر کر تھی ،،جس نے باپ اور شوہر دونو کو کھو دیا ۔۔

__________

کچھ وقت بعد اُنھیں غسل دے کر لے جانے مرد حضرت قریب آئے

نور سب کو قریب آتا دیکھ چیخنے لگی ۔۔۔نہی میرے بابا کہی نہی جائیں گے ،،بابا ،،بابا اٹھئیں میرے پیارے بابا ۔۔۔

آہل اٹھو نہ ،،دیکھو مجھے یوں تنگ نہ کرو ۔۔تم نے کہا تھا نہ تم مجھے روتا نہی دیکھ سکتے ،،دیکھو میں رو رہی ہوں ،،پلیز اٹھ جاؤ ۔۔فجر ۔۔۔۔فجر بولا رہی ہے آہل

فجر کو ابھی اپنے بابا کی ضرورت ہے آہل اٹھ جاؤ ۔۔وہ اُسکی چار پائی سے لگی اسکے سفید کفن میں لپٹے وجود کو جھنجھوڑتے اُسے پُکار رہی تھی ۔۔۔

تو کبھی باپ کے چہرے پر ہاتھ پھرتی ۔۔بابا جانی اٹھ جائیں نا۔۔۔دیکھیں سب رو رہے ہیں ۔

حمنہ بیگم بھی حسین صاحب کے قریب بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔۔

مریم بیگم بلکل خاموش بس بیٹے کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی

آبان اُن کے قریب آتا بولا ماں جانے کا وقت ہو گیا ہے۔۔سب جنازہ اٹھانے کے لیے انتظار کے رہے ہیں ۔۔

وہ نم آنکھوں سے آبان کو دیکھتی گویا ہوئی_

ابھی تو جی بھی نہیں بھرا میرا اور تو میرے بچے کو دور لے کر جانے کی بات کر رہا ہے ۔۔

آبان سرخ نم آنکھوں سے مریم بیگم کو ساتھ لگا گیا

اور بس پھر یہی تک دونو ماں بیٹے کا صبر تھا ۔۔

دونو ایک دوسرے سے لپٹے سسکنے لگے۔۔

آبان میرا بچہ_ میرا آہل __ اللہ مجھے موت کیوں نہ آ گئی

میرے مولا میرا پُتر۔۔۔

حسن چوھدری نے آ کر دونو کو جدا کیا اور آبان کو جنازہ اٹھانے کا اشارہ کیا۔

جنازہ اٹھایا گیا تو حویلی مین ایک نہ ختم ہونے والا قہرام مچ گیا ۔۔۔سب کی آہیں ،، چیخیں ،،سسکیاں دل چیر رہی تھی ۔۔

نور اُسکے پیچھے بھاگتی چیخ چیخ کر اُسکا نام پکارنے لگی ۔۔۔

آہل ،،آہل واپس آ جاو آہل مت جاؤ ۔۔۔

وہ دوڑتے ہوئے قریب آتی آبان کا بازو تھام گئی ۔۔۔

بھائی نہ لے کر جائیں ناں میرے آہل کو ۔۔اُجری سی حالت سوجی آنکھیں ۔۔بکھرے بال ،، کندھے پر جھولتا دوپٹہ وہ شدت ضبط سے آنکھیں مچتا بولا ۔۔

جنازه کا وقت نکل جائے گا نور ہمیں جانے دو ۔۔مزنہ جلدی سے اُسکے قریب آتی آبان کے بازوں سے اُسکے ہاتھ ہٹائے اُسے ساتھ لگا گئی ۔۔۔

نور العین وہی بیٹھتی چیخ چیخ کر رونے لگی ۔۔حویلی کا درو دیوار اُسکی سسکیوں آہوں سے گونج اٹھا ۔۔

مزنہ روتی اپنی خالت کی پرواه کیے بغیر سب کو سمبھال رہی تھی ۔۔

____________

بی جان اور مریم بیگم کو زبردستی تھوڑا سا کھانا کھلا کر دوا دیتی وہ اُنہیں آرام کرنے کا کہتی باہر آئی تھی ۔

۔سب اپنے اپنے کمروں میں بند تھے ۔۔۔رات کے بارہ بج رہے تھے لیکن نیند سب کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی

حمنہ بیگم اور نور العین تو کسی طور خاموش نہی ہو رہی تھی۔ ۔۔۔رو رو کر آنسو خشک ہو چکے تھے لیکن غم ابھی بھی کم نہی ہوا تھا ۔۔۔

نور تو بلکل خاموش بت بنی بیٹھی تھی حمنہ بیگم کا بھی وہی حال تھا ۔۔

کتنی دیر وہ اُنکے قریب بیٹھی اُنہیں خاموش کرواتی رہی ۔۔۔رات کے تین بج چکے تھے

جب وہ لوگ نڈھال ہوتی آنکھیں موند گئی تو وہ بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔نایٹ بلب کی روشنی میں سامنے کا منظر واضح دکھ رہا تھا ۔۔۔

فجر آبان کے سینے کے ساتھ لگی سوئی ہوئی تھی،،معصوم بچی نہیں جانتی تھی اُس نے آج کیا کھویا ہے ۔۔۔وہ دھیمے قدم اٹھاتے اُنکے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔

آبآن جو آنکھوں پر بازوں رکھے لیٹا تھا اُسے قریب محسوس کرکے ہاتھ ہٹایا

مزنہ کی نظر اُس کی سرخ لال انگارا آنکھوں پر پری وہ اُسکے اُوپر جھکتی اُسکی آنکھوں پر باری باری لب رکھ گئی ۔۔۔

آبان کچھ نہ بولتا آنکھیں موند گیا

یہ کیا ہو گیا یار ہمارے ساتھ ،، سب کتنے خوش تھے آخر کس کی نظر لگ گئی ہمارے ہستے بستے گھر کو ۔۔

وہ آنکھیں موندے اُسکی گود میں سر رکھتا نم لہجے میں بولا ۔۔۔

جانتی ہو مجھے لگ رہا تھا کہ آج میرا دل پھٹ جائے گا ۔۔اپنے باپ جیسے چچا کو قبر میں اتارتے میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔۔۔

میرا چھوٹا ،،میرا آہل ۔۔۔میرے ہاتھ کانپ رہے تھے جب میں اُس پر مٹی ڈال رہا تھا ۔۔۔

میرا وہ بھای جو کبھی بڑی سے بڑی پریشانی پر بھی خاموش نہ ہوا تھا وہ کیسے آج آنکھیں موندے ہم سب کے بیچ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے گیا ۔۔۔

وہ اپنے ضبط کیے ہوے آنسو بہاتا ،، اتنے قد کاٹھ کا سخت جان مرد بھی اپنوں کی جدائی میں اُسکی گود میں منھ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔ کس کو پکاریں ۔۔کس کو آواز دوں ۔۔۔

مزنہ نے اُسے رونے دیا ۔۔۔ وہ جانتی تھی اُسکا غم بہت بڑا ہے وہ چاہ کر بھی اُسکی تکلیف کم نہی کر سکتی تھی ،، اپنوں کی جدائی اور تکلیف انسان کی جان لے لیتی ہے ،،انسان زندہ تو رہتا ہے لیکن روح کہی کھو سی جاتی ہے۔۔وہ روتا روتا ہی اُسکی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند گیا

اور وہ اُسکے کے سرخ چہرے کو دیکھ کر یہ سوچ رہی تھی

کیا مرد کو حق نہی کے وہ اپنا دکھ بیان کر سکے

کیا مرد کو دکھ نہی ہوتا ،،تکلیف نہی ہوتی ۔۔۔

ہمارے لوگو کہ یہی المیہ ہے کی مرد روتا ہوا اچھا نہی لگتا ۔۔مرد تو مضبوط ہوتا ہے ۔۔۔

کیوں کیا اُس کے سینے میں دل نہی ہوتا ،،کیا وہ پلاسٹک کا کھلونا ہے جسے تکلیف نہی ہوتی ۔۔

ہماری مائیں بچوں کو شروع دن سے ہی یہی سمجھآتی ہیں ۔۔ مرد سخت جان ہوتا ہے

جب بھی بچہ روتا تو کہتی بیٹا تم تو مرد ہو رو نہی ۔۔مرد مضبوط ہی اچھا لگتا ہے ۔۔۔

وہ یہ کیوں نہی سمجھتی کے وہ بھی تو ہماری طرح کا دل رکھنے والا ایک عام انسان ہے ۔۔۔اُنھیں بھی درد ہوتا ہے ۔۔۔اُنھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے ۔۔انہیں بھی رونا آتا ہے ۔۔۔کاش کوئی سمجھ جائے تو کوئی مرد کو سخت جان نہ کہے۔۔

کیوں کے اُنہیں سخت جان بنانے والے بھی ہم ہی ہیں ۔۔جب وہ سخت بن کر دیکھاتے ہیں تو یہی مرد ظالم اور سفاک ہوتے ہیں