Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 2)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 2)
Robroye Yaar By Yumna Writes
ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ کے علم میں لاے بغیر میں کوئی فیصلہ کروں نگاہوں میں احترام لیے وہ اُنکے آگے جھکتا لہجے میں محبت سموئے گویا ہوا۔
بی جان اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی اُسکی باتیں سنتی خوشی سے نہال ہوتی گویا ہوئی !!!
مجھے اپنے بچے پر پورا یقین ہے،،میرا بچہ کبھی کوئی غلط قدم نہی اٹھا سکتا ،،میرا سمجھدار پُتر”
اُنکے ہاتھ تھامتے وہ گویا ہوا
پہلے میں کچھ معاملات اُن کی جانب سے سلجھانا چاہتا تھا اسلئے خاموش تھا ۔۔
بس اسلیے خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا،،اور مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا
تو پھر سلجھ گئے سارے معاملات؟؟
کب لے کر چل رہے ہو ہمیں اُن سے ملوانے؟؟
سب یک زبان اُسے دیکھتے بولے “
وہ آہل اور نور جو اُسکے بولنے کے منتظر تھے اُنھیں گھورتا بی جان کی جانب دیکھ کر بولا ،
جی باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن وہ شہر کی رہنے والی ہے کچھ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی صاحبزادی ہیں ۔
جسکی وجہ سے اُنہوں نے شرط رکھی ہے کہ میں اُسے شہر میں اپنے ساتھ اپارٹمنٹ میں رکھوں۔۔
مجھے تو اس بات سے کوئی اعتراض نہیں لیکن ابھی اماں سائیں سے اجازت لینی ہے اور بابا سرکار سے بات کرنی ہے ،، آپ جانتی تو ہیں حویلی کا بڑا بیٹا ہونے کی بدولت وہ یہی چاہے گی کہ میں اُسے حویلی میں ہی رکھوں۔۔۔اتنی مشکل سے تو بابا سائیں نے مجھے شہر جانے کی اجازت دی تھی
وہ پریشانی سے پیشانی مسلتا ہوا بولا
بس اتنی سی بات ” اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ،،آہل آگے ہوتا بولا “
اماں سائیں مان جائیں گی وہ تو کب سے آپکی” ہاں کی منتظر ہیں ۔۔۔
اور آپ کے ساتھ ساتھ مجھے بھی لٹکایا ہوا ہے ،،
آپ آج ہی بات کریں اُن سے اور بی جان آپ بابھی سرکار سے ملنے جائیں “
یہ نہ ہو بھائی کے لیے بیٹھا بیٹھا میں بوڑھا ہو جاؤں ۔۔۔
اب تو میرے بچے بھی خواب میں آ کر کہتے ہیں بابا رخصتی کروا لو کہتا وہ مسکراتا نور کا لال ہوتا چہرہ دیکھ ایک آنکھ دبا گیا ،،
اور نور العین شرم سے سرخ ہوتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ،،
اسکو یوں جاتا دیکھ آبان نے اُسکے کان کھینچے ،،
شرم کر لے کچھ ہم دونوں کے سامنے ہی ،،،میرے سامنے نہ سهی بی جان کے سامنے ہی اپنی چلتی زبان کو روک لیا کر بے شرم انسان ،
آبان ضبط کرتا سرخ چہرے سے اسے دیکھتا بولا
کیوں بھئی شرم کس چیز کی ؟؟.
بی جان تو جانتی ہیں میرا حال دل ،،،
ہیں نا بی جان “… وہ مسکراتا ہوا اُنھیں شرارت سے دیکھتا بولا ،،
اور ویسے بھی آپ نے سنا نہی جس نے کی شرم اُسکے پھوٹے کرم “
وہ دانتوں کی نمائش کرتا ہوا مسکراتی آنکھوں سے بولا “
افف ،،،کب عقل آ ے گی تم میں آہل ؟؟…
آبان اُسکی باتوں سے زيچ ہوتا بولا
بھائی ابھی تو میں چھوٹا ہوں ،،،آپ میری شادی کروا دیں میری بیوی آئے گی میں اُس سے عقل لے لونگا وہ قہقہ لگاتا اُسکی گود میں سر رکھ گیا ۔۔۔
آبان بھی اُسکی بات سنتا سر نفی میں ہلاتا مسکرا اٹھا ،،
بی جان دونو کو خوش دیکھتی اُنکی نظر اتارتی شفقت سے اُن کے سر پر ہاتھ پھرتی مسکرانے لگی ۔۔۔
وہ ایسا ہی تو تھا سب کو ہنسانے والا ،،نرم مزاج ،،اور سب سے پیار کرنے والا ۔۔۔خوش مزاج طبیعت کا مالک ،،جبکہ آبان اُسکے بلکل برعکس تھا”سنجیدہ ،،سخت اور کم گو ۔۔
لیکن دونوں میں فرق کرنا مشکل تھا ،،کیوں کہ دونوں ہی ایک دوسرے سے بہت مشابہت رکھتے تھے
سفید رنگت ،،چوڑے شانے ” کسرتی بدن،، خوبصورت بھورے بال ،، شہد رنگ آنکھیں ،، اُنھیں دیکھ کر وہ اکثر لوگو کو ٹونز لگتے لیکن آہل اُس سے دو سال چھوٹا تھا اور اس کی آنکھیں گرے تھی ،،،
دونو میں جو چیز اُنہیں ایک دوسرے سے منفرد کرتی تھی وہ سرخ و سپید چہرے پر اُنکی آنکھیں تھی ۔۔
دو سال چھوٹا ہونے کے باوجود آہل بلکل آبان جیسا دکھتا تھا اُسکی جسامت ،،قد کاٹھ ہوبہو آبان جیسا تھا
آبان کی طبیعت میں سنجیدگی اور رعب و جلالا تھا جو اُسکی پرسنالٹی کو سحر انگیز بناتا تھا ۔۔۔۔
کسی بھی محفل میں لوگ اُسے دیکھ کر اُسکی شاندار پرسنیلٹی سے متاثر ہوتے خود اُسکے قریب آتے تھے ۔۔۔
وہ زیادہ کسی کو محاطب کرنا پسند نہ کرتا “
اور جب بات کرتا تو اُسکے گال پر پڑتا قاتل گھرا ہر ایک کی توجہ اُسکی جانب مبذول کرواتا تھا۔
وہ فریش ہو کر رات کو سب کے ساتھ ڈائننگ روم میں موجود ڈنر کر رہا تھا ،،کھانا اچھے ماحول میں کھایا گیا ،،کھانے سے فارغ ہوتے وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا مریم بیگم کو دیکھ کر گویا ہوا
مجھے آپ سب سے بہت ضروری بات کرنی ہے !!
بولو برخودار کیا بات کرنی ہے حسن صاحب اُسے دیکھتے گویا ہوئے
بابا سائیں دراصل بات یہ ہے کہ مجھے ایک لڑکی پسند ہے شہر میں ،،،اور میں چاہتا ہوں کے آپ لوگ اس کے گھر جائیں ،،میرے لیے بات کرنے،
مریم بیگم ( آبان کی والدہ ) اُسکی بات سن کر مانو سکتے میں چلی گئی ،،
اماں سائیں ” آبان نےاُنکی جانب دیکھتے اُنھیں پُکارا جو اُسکی بات سنتی بلکل خاموش ہو گئی تھی۔۔
وہ جو اُسکی بات کو اپنا وہم سمجھ رہی تھی یقین ہوتے ہی بولی
جی میرا بچہ،،ماں صدقے وہ آگے کو جھکتی اُس کے ماتھے پر لب رکھتی اُس سے استفسار کرنے لگی
کیا سچ میں،،تم تمہیں لڑکی پسند آ گئی
شکر خدا کا کے میرے بیٹے کو بھی کوئی پسند آئی
وہ خوشی سے نہال ہوتی بولی اب جلدی سے بتاؤ کیسی ہے لڑکی؟؟ کون ہے ؟؟ ۔۔۔۔
کہاں رہتی ہے ؟؟… وہ سنتی خوشی اور اشتیاق کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے ایک ہی سانس میں کئی سوال کرنے لگی
سب اُنکی جلد بازی دیکھ مسکرا دیے ۔۔
اماں سائیں رک تو جائیں ،، بتاتا ہوں سب ” آبان اُنھیں یوں خوش اور پر جوش ہوتا دیکھ بولا ۔۔
ہاں بھئی ہمیں بھی تو بتاؤ کیسی ہے لڑکی ،،کب جانا ہے اُسکی طرف ؟؟….
حسین چوہدری بھی شریر سے لہجے میں گویا ہوئے۔۔۔۔
چچا آپ بھی “وہ سب کی نظروں سے محفوظ ہوتا سرخ پڑتے چہرے سے سبکی جانب دیکھ کر بولا ۔۔۔
دوسری جانب ایک وجود ایسا بھی تھا جو اُسکی بات سنتا خود کو انگارو پر لوٹتا محسوس کر رہا تھا ۔
حمنہ بیگم سب کو باتوں میں مشغول دیکھ کر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
وہ ہمیشہ سے یہ چاہتی تھی کہ آبان سے نور کا نکاح ہو تاکے اُنکی بیٹی اس حویلی پر اور سب پر راج کر سکے
جس طرح وہ ہمیشہ حویلی کے معاملات میں پیچھے رہی ہیں اُس طرح اُنکی بیٹی نہ رہے بلکہ مریم بیگم کی طرح اُس سے تمام معاملات کی خبر ہو اور اسی کی بات کو ترجیح دی جائے۔۔۔
لیکن یہ صرف اُنکی سوچ تھی مریم بیگم نے اُنہیں کبھی پیچھے نہ کیا لیکن وہ ہمیشہ بری سہولت سے انکار کر دیتی ۔۔
کچھ مریم بیگم کے پاس اُنکے بیٹے اُنکے وارث موجود تھے جو کل کو حویلی کو سنبھالتے لیکن اُنکی ایک ہی بیٹی تھی اور یہ بات اُنھیں جلن اور حسد میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔۔
اُنکے لاکھ منع کرنے کہ باوجود سب نے آبان کی بجائے آہل کے ساتھ نور العین کے نکاح کو ترجیح دی اور اُنکی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر نور العین کا نکاح کروا دیا
حسین چوہدری کی وجہ سے وہ یہاں بھی خاموش رہی
لیکن اب یوں آبان کی من پسند شادی اور شہری لڑکی کا سن کر اُنھیں اپنے تن بدن میں آگ لگتی محسوس ہوئی
اُنکی سوچ تھی کہ شہری لڑکی کے اُنکے خاندان میں آنے سے اُنکی بیٹی کی قدر کم ہو جائے گی ۔۔۔
دوسری جانب سب اُنکی حالت سے انجان اپنی خوش گپیوں میں مشغول تھے۔۔
اسلام آباد میں رہتی ہیں وہ ۔۔۔بزنس کے سلسلے میں ایک پارٹی میں میری اُس سے ملاقات ہوئی تھی ۔۔
اُس کے والد نے بھی اُس پارٹی میں شمولیت کی تھی پھر ایسے ہی ایک دو اور پارٹیز میں ملاقات ہوئی اور میں نے سیدھا صاف الفاظ میں اُس کے والد سے بات کی ۔۔
کہ میں آپکی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر اعتراض نہ ہو تو میرے گھر والے بات کرنے آئیں گے
اُنھیں کوئی اعتراض نہیں ” لیکن ،،اُنکی ایک شرط ہے کہ وہ وہاں اسلامباد میں میرے ساتھ رہے گی ۔۔۔وہ نہی چاہتے کے اُنکی اکلوتی اولاد اُن سے اتنی دور جائے ۔۔
وہ سب کو دیکھتا اپنی گھمبیر آواز میں بولتا ساری بات بتا گیا اور اب سب کے بولنے کا منتضر تھا
اُسکی نظر مریم بیگم کے چہرے پر ٹکی تھی ۔۔۔وہ آنکھوں میں اُمید لیے اُنھیں دیکھ رہا تھا
تو اس میں کیا برائی ہے ،،ویسے بھی وہ یہاں رہ کر کیا کرے گی ۔۔۔تم تو سارا وقت شہر میں ہوتے ہو ۔۔۔ہفتے بعد یہاں کا چکر لگاتے ہو ،،
ایسے میں وہ بیچاری یہاں رہ کر بور ہی ہو گی کیوں حسن صاحب سہی کہا نا میں نے ؟؟۔۔۔مریم بیگم اُنہیں دیکھتی بولی ۔۔۔
جی بلکل ٹھیک بچی اکیلی رہ کر کیا کرے گی ۔۔۔
اور اُنکی بات سنتا آبان خوشی سے جھوم اٹھا ۔۔۔۔
ہم جلد ہی اُنکے گھر جائے گے رشتہ لینے ۔۔
اماں سائیں شادی کی تاریخ بھی ساتھ ہی لے لیجئے گا یہ نہ ہو بھائی کا ارادہ بدل جائے۔۔
وہ آبان کو آنکھ مارتا ہوا بولا،،
ہاں کیوں نہیں،،میں شادی کی تاریخ لے کر واپس آونگی ،،پہلے ہی بہت دیر کردی ہے اسکی شادی میں ،، خاندان میں اسکی عمر کے سارے لڑکے ماشا اللہ سے صاحب اولاد ہیں ۔۔بس اسکی شادی نہ کرنے کی ضد کے پیچھے اتنا وقت گزر گیا” تیس کا تو ہو گیا ہے ۔۔
اور ان کی وجہ سے میں بیچارہ بھی کنوارا پھر رہا ہوں آہل مریم بیگم کی بات سنتا سینے پر ہاتھ رکھتا ایک آه بھر کر دہائی دیتا بولا،،
تو سب اُسکی بات سنتے مسکرا اٹھے جبکہ آبان اُسکی اور ایکٹنگ پر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔
