Robroye Yaar By Yumna Writes Readelle 50366 Robroye Yaar (Epiosde 7)
No Download Link
Rate this Novel
Robroye Yaar (Epiosde 7)
Robroye Yaar By Yumna Writes
وقت گزرنے کے ساتھ اور میزنہ کی بے تحاشا توجہ کی وجہ سے نور العین کے رویے میں تھوڑی بہت تبدیلی آنے لگی تھی ،،،
فجر کو وہ اپنے ساتھ سلانے لگی تھی ،،اُسکے کام بھی اب خود ہی کرتی تھی ۔۔
دن میں جب کوئی مرد حویلی میں موجود نہ ہوتا تب وہ اپنی کمرے سی باہر نکلتی ،،
سب کے ساتھ تھوڑا وقت گزارتی ،اُس نے خود میں ہمت پیدا کر لی تھی ،، اُس نے خود کو وقت اور حالات کی نظر کر دیا تھا ۔۔
کب تک وہ یوں خاموش کمرے میں بند بیٹھی رہتی ۔۔اپنے لیے نہ سہی لیکن اپنی بچی کے لیے اپنے گھر والوں کے لیے اُسے خود میں ہمت جمع کرنی تھی ۔۔۔اُسے اس تمام صورتِ حال کو فیس کرنا تھا ۔۔
وہ کہاں کہاں سے اُسکی یادیں مٹاتی ۔۔وہ جہا سے گزرتی اُس جگہ کو دیکھ اُسکی یاد آتی۔۔آنکھیں خود با خود نم ہو جاتی ۔۔۔
وہ بچپن سے ایک ساتھ اس حویلی میں کھیلے تھے ۔۔اُنکا بچپن جوانی ایک ساتھ گزری تھی ۔۔ وہ سیڑھیوں میں کھڑی لاونج کو دیکھ رہی تھی جہاں وہ بچپن میں خوب کھیلا کرتے تھے ۔۔۔
حویلی کے کونے کونے میں اُسکی یادیں ،،اُسکی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔۔ اچانک اُسکا سانس لینا دھوبر ہو گیا دم گھٹتا محسوس ہونے لگا۔
دل کیا حویلی چھوڑ کر کہی دور بھاگ جائے جہاں یہ یادیں اُسکا پیچھا چھوڑ دیں
ورنہ وہ سب سچ سوچ کر پاگل ہو جائے گی ۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی واپس اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پر گرتی پھوٹ پھٹ کے رونے لگی۔۔۔۔
کیسے رہے گی وہ اُسکے بغیر کیسے “
اُس نے تو اُسکے بغیر جینا سیکھا ہی نہی بچپن سے وہ اُسکے ساتھ رہا تھا ۔۔اُس کی یادوں میں سوچوں میں بس اُسکا ہی چہرہ تھا ۔۔
ڈھیر سا رونے کے بعد وہ وضوء کرتی نماز پڑھنے لگی ۔دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی خدا سے اُسکی اور اپنے بابا کی مغفرت کی دعا ما نگنے لگی ۔۔۔اُسے یاد کرتی وہ اکثر روتی رہتی ۔۔۔یا اللہ مجھے ہمت دے۔ ۔مجھے صبر دے ۔
۔مجھے میری بچی کو پالنا ہے ۔۔مجھے اُسے سمبھالنا ہے ۔۔
فجر اُسکی سسکیاں سنتی اُسکے قریب آتے اپنے چھوٹے چوٹے ہاتھوں سے اُسکے آنسو صاف کرتی بولی ۔۔مما کیوں لو رہی …
وہ بھی ماں کو روتا دیکھ ہونٹ باہر کو نکال کر رونے والی صورت بناتی بولی
بابا کو تا ؤن گی۔۔۔ آپکو کچ نے مالا ؟؟..
ماتھے پر تیوری چڑھائے اپنی ماں کو خاموش کروانے کے لیے اپنے باپ کو یاد کرنے لگی
نور اُسے ساتھ لگاتی سرخ سوجی آنکھوں کو میچ گئی
آنکھیں سے آنسو جاری تھے
وہ بچی کیا جانے کے اب اُسکا باپ کبھی واپس نہی آئے گا ۔۔
مما چپ کل جاو ۔۔۔بڑے با نے تہا ہے بابا تام سے دے ہیں
واپس آ جائیں گے لونا نہی اب وہ اُس سے تھوڑا فاصلہ بناتی اُسکے آنسو پونچتے بولی ۔۔
وہ بے جان سی ہوتی اٹھتی بستر پر لیٹ گئی ۔۔۔اب تو اُس میں مزید رونے کی بھی سكت نہی رہی تھی ۔۔۔
ان گزرے دو ماہ میں اُس نے سارا وقت رو کر گزارا تھا ۔۔
بس فرق اتنا تھا کہ اب وہ سب کے سامنے نہ روتی ۔۔۔
وہ جانتی تھی مزنہ اپنی حالت کی فکر کیے بغیر کيسے اُنکی فکر میں گل رہی ہی ،،ہر وقت اُسکے ساتھ رہتی گزرے دو مہینوں میں اُس نے انکا بہت خیال رکھا ،،
اس لیے اپنے آنسو اُس سے چھپا کر ہی رکھتی ۔۔۔۔اُسکے سامنے زیادہ تر نارمل رہنے کی کوشش کرتی ۔۔
غم اتنا بڑا تھا کے کم ہونے کا نام ہی نہ لیتا ۔۔لیکن اب وہ سمبھل رہی تھی ۔۔۔۔
______________
نور مزنہ کے نہ نہ کرنے کے باوجود اُس کے لیے کچھ نہ کچھ بناتی رہتی ۔۔۔ مزنہ کی صحت کو دیکھ کر اُسے خود شرمنگی محسوس ہونے لگی ۔۔
کہ اللہ اتنی دیر بعد اُسے اولاد کی نعمت عطا کر رہا ہے اور وہ اس سارے وقت میں اُن سب کے پیچھے خوار ہو رہی تھی
اُسکے ساتھ بیٹھ کر کافی وقت باتیں کرتی ۔۔اُس بیچ آہل کو وہ یاد کرتی کتنی بار روتی اور مسکراتی ۔۔۔
فجر کی شرارتوں پر مسکراتی ۔۔۔بی جان ،، مريم بیگم اُسے مسکراتا دیکھ آنکھوں میں آنسو لیے مزنہ کی جانب تشکر بھری نظروں سے دیکھتی ۔۔
اُسکے بے تہاشہ توجہ کی وجہ سے اُن کی بیٹی دو مہینے بعد پھر سے تھوڑا مسکرانے لگی تھی ۔۔۔زندگی کی جانب لوٹ رہی تھی ۔ورنہ تو اُسکی اُداس آنکھیں ،، دن با دن گرتی صحت کو دیکھ تو سب پریشان ہو گئے تھے ۔۔
لیکن اس سب میں حمنہ بیگم بلکل خاموش تھی ۔۔وہ نہ مزنہ سے بات کرتی اور نہ اُسکی جانب دیکھتی
آہل کے جانے کے بعد میزنہ کی وجہ سے سب کہ دل بہل گیا تھا ۔۔۔
اُسکی چھوٹی چھوٹی الٹی بچگانہ حرکتوں کی وجہ سے سب کے چہروں پر پھر سے خوشی آنے لگی تھی ۔۔۔
فجر کے ساتھ مل کر وہ خوب کھیلتی ،، اکثر بے دھیانی میں وہ تیزی سی سیڑھیاں پھیلانگتی
اُس کی اس حرکت سے سب کا دل ڈر جاتا
اُسے بی جان نے بہت بار ٹوکا تھا لیکن وہ اُنکی بات کا اثر لیے بغیر فجر کی ساتھ لگی رہتی ،،اُسکی شرارتوں سے حویلی کی رونقیں واپس لوٹنے لگی تھی
آبان جو اُسکا اب حد سے زیادہ خیال رکھتا تھا ۔۔اُسکے کھانے پینے اور میڈیسن کا خاص خیال رکھتا
رات کے کھانے پر سب ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے ،، آبان نے خود اُسکی پلیٹ میں رایس ڈالے اور چمچ رکھتا پلیٹ اُسکے آگے کر گیا
وہ خاموش سی نظریں جھکائے تھوڑا تھوڑا کھانے لگی اور چور نظروں سے نور کو دیکھتی جو اُسکے بلکل ساتھ دوپٹہ آگے کو کیے بیٹھی تھی
مزنہ اُسے دیکھتی کچھ اشارے کرنے لگی
نور سوالیہ نظروں سے اُسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔
وہ تھوڑا سا اُسکی جانب جھکتی ہوئی بولی ،، یار بچا لے میری پیاری بہن میری پلیٹ سے کسی طرح یہ چاول نکال لے ۔۔
نور اُسکی بات سنتی لب دانتوں تلے دباتی ہوئی بولی ۔۔
میں کیا کروں بھای ساتھ بیٹھے ہیں ۔۔
آبان کا فون بجا ،، فون یس کرتا سب کے درمیان سے اٹھتا کال سننے باہر چلا گیا ،،
اُسکے جاتے ہی وہ اپنی پلیٹ سے نور کی پلیٹ میں آدھا کھانا انڈ ھیلتی جلدی سے پلیٹ اپنے سامنے واپس رکھ گئی
بی جان اُس کی حرکت دیکھتی اُسے گھوریوں سے نوازتے بولی ۔۔اچھے سے کھاؤ مزنہ ،میں آبان کو بتاتی ہوں تم کھانے کا بلکل بھی خیال نہیں رکھ رہی
مزنہ اُنکی بات سنتی بوکھلا گئی
بی جان مجھے یہ سب نہی کھانا ،،،مجھ سے نہی کھایا جاتا اتنا زیادہ_ وہ مسکین سی صورت بناتے ہوے بولی
اتنی دیر میں آبان واپس آتا اُنکے قریب بیٹھ گیا ۔۔
جلدی فینیش کریں ابھی آپ نے میڈسن بھی لینی ہی ،، مجھ سے نہی کھایا جا رہا ہے مزنہ سر جھکائے پلیٹ میں چمچ ہلاتی منھ میں بڑبرائی
تھوڑا سا کھانا بھی نہیں کھایا جا رہا آ پ سے مزنہ ،، ایسے آپ اپنی اور بےبی دونو کی جان مشکل میں ڈال رہی ہیں
ڈاکٹر نے سختی سے آپکی ڈایٹ پر توجہ دینے کے لیے کہا ہے
اور آپ سے کچھ کھایا ہی نہی جارہا_ ایسے رکھیں گی آپ اپنا خیال “
وہ سرد و اسپاٹ انداز سے لہجے میں سختی لیے اُسے دیکھتا بولا،،
مزنہ کی آنکھوں میں اُس کے سخت انداز سے آنسو جمع ہونے لگے ،، وہ نم نظروں سے اُسے دیکھتی اٹھتی تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔
آن ہنہہ “۔۔ کیا ضرورت تھی بچی کے ساتھ اتنی سختی سے بولنے کی ،،
اکثر ایسی خالت میں نہی دل کرتا کھانے کو ،،جاؤ اب جا کر اُسے راضی کرو ،،اُس سے پوچھو جو کہتی ہے اُسے منگوا کے دو ۔۔بی جان اُس پر برہم ہوتی گویا ہوئی ۔۔۔
فضول میں بچی کو ڈ انت دیا ابھی اتنی خوش تھی ،، اب جا اور راضی کر اُسے”
مریم بیگم نے بھی اُسکو جھرکا ۔۔
وہ اٹھتا کمرے میں گیا تو وہ لائٹ آف کیے سر تک کمفرٹر تانے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔
وہ دانتوں تلے لب دباتا بھاری قدم اٹھاتا اُسکے قریب بیٹھتا لہجے میں نرمی لیتا بولا
سوری مجھے سب کے سامنے ایسے نہیں تھا بولنا چاہیے تھا آپکو ۔۔۔۔
اُسے ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ وہ اُس پر سے كمفرٹر کھینچتا بولا ۔۔۔
یار سوری بول تو رہا ہو اور کیا کروں اب ۔۔۔پہلے کبھی میں نے آپکو کو کچھ کہا ہے ۔۔
مزنہ اُسکی بات سنتی منھ پھیرتی خاموش لیٹی رہی ۔۔۔
اُسکو یوں خاموش دیکھ آبان اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے بولا ۔۔۔
سوری میری زندگی ” یار معاف کر دیں ۔۔۔
آپ جانتی ہیں میں بس آپکی صحت کو لے کر کوئی کمپرومائز نہی کر سکتا ۔۔۔
وہ بغیر کسی تاثر کے خاموش لیٹی دوبارہ کمفرٹر چہرے پر کرنے لگی
آبان اُسکی کوشش ناکام کرتا اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے بیٹھاتا بولا
سوری _ ریلی سوری نیکسٹ کبھی ایسا نہیں کرونگا۔
پلیز مان جائیں یار
آپ نے مجھے سب کے سامنے اتنا ڈانٹا،،میری اتنی انسلٹ ہوئی سب کے سامنے وہ روتی اپنے آنسو صاف کرتی اُسکے ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی ۔۔۔
مزنہ رونا نہیں بلکل_ اُسے روتا دیکھ وہ پل میں بوکھلاتا اُسے اپنے ساتھ لگا گیا
وہ اُسکے سینے پر ہاتھ مارتی روتی اپنی سرخ ناک اور نم آنکھوں سے دور ہوتی بولی
مجھے میری مما پاس جانا ہے ۔۔۔مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ۔۔۔
یار مزنہ کیا ہو گیا ہے سوری کر تو رہا ہوں آپ سے۔۔ہسبنڈ تو اپنی وائف کو اتنا ڈ انت لیتے اور یہاں تو میں نے تھوڑی سی سختی سے بات کی ہے
اور آپ مجھ سے دور جانے کی بات کر رہی ہیں ۔۔
اچھا اب کبھی نہیں ڈانٹوں گا ۔۔۔پلیز رونا تو بند کریں
اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی وہ بولی _ تو ہوتے ہوں گے وہ خاوند لیکن یہان آپ کے مقابل مزنہ شاہ ہے۔۔
مجھے اپنی سیلف رسپکٹ بہت عزیز ہے آبان چوہدری اور یہ بات آپ اچھے سے جانتے ہیں
وہ محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھتا بولا
جی ہاں جانتا ہوں اس لیے تو آپکو پسند کیا اور
آگے کو جھکتا اُسکے ماتھے پر لب رکھ گیا
معاف کر دیں پلیز ” آپ جو کہیں گی وہ لاوں گا آپ کے لیے
اب وہ اُسکی منتوں پر آ گیا تھا وہ بھی جان بوجھ کر اُسے تنگ کرنے کے لیے اُسے حفگی دیکھا رہی تھی
میں ناراض ہوں”
وہ منھ پھلائے اُسے بہت پیآری لگی
آبان مسکراہٹ چھپاتا چہرے پر ماسکینیت طاری کرتا ہوا گویا ہوا
تو یار میں منا تو رہا ہوں نہ ۔۔
آپ نے جو کھانا ہے مجھے بتائیں میں کسی چیز سے منع نہیں کرونگا
مزنہ اُسکی بات سنتی جھٹکے سے سیدھی ہوئی ۔۔
سب کچھ لا کر دیں گے اُسے کن اکھیوں سے دیکھتی پوچھا کہی وہ اپنی بات سے پلٹ ہی نہ جائیں ۔۔
اچھا پھر مجھے نہ گول گپے کھانے ہیں اور ساتھ میں کوک پینی ہے جلدی سے جائیں اور لا کر دیں ۔۔ورنہ میں بلکل بات نہی کر رہی ۔۔وہ منھ بگاڑتی بولی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں کہتا ہوں ارحم کو وہ لے آتا ہے ،،سب باہر مجھے ڈانٹ رہے تھے کہ میں نے اتنی سختی سے بات کی آپ سے۔۔اور یہاں آپکی فرمائشیں دیکھو وہ جلتا اسکو گھورتا بولا
بہت اچھا ہوا ہے ،،آپکو تو اور ڈانٹ پڑنی چاہیے تھی وہ مسکراتی ہوے بولی۔۔
