Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Robroye Yaar (Epiosde 11)

Robroye Yaar By Yumna Writes

اُسکی آنکھ اپنے چہرے پر نرم و ملائم لمس محسوس کرنے سے کھلی تھی ،، آنکھیں کھول کر دیکھا تو فجر اُس پر چڑھی اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اُسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ،،وہ اٹھتا اسکو گود میں لیتا اُسکے گول مٹول سے ہاتھوں پر لب رکھ گیا ۔۔۔

میری جان اٹھ گئی ہے ،،بے ساختہ اُسنے کمرے میں نگاہ دورای وہ کہیں موجود نہیں تھی ،،کھڑکیوں سے پردے نہی تھے ہٹائے گئے شاید اُسکی نیند کا خیال کرتے وہ پردے ہٹا کر نہی گئی تھی ،،ہلکی سورج کی روشنی کمرے میں موجود ہر شہہ کو واضح کر رہی تھی ۔۔

اُسکا خیال آتے ہی رات کی کہی گئی باتیں اُسے یاد آئی ،،اُسے یقین تھا کہ اس میں زیادہ نہ سہی لیکن تھوڑی بہت تبدیلی تو ضرور آئے گی اور اُسکی کمرے میں غیر موجودگی اس بات کی گواہی تھی ،،

وہ جانتا تھا وہ سمجھ جائے گی ،،وہ اُسے سمجھا لے گا آہستہ آہستہ ۔۔۔اُسے آج اسلام باد بھی جانا تھا۔ کل سے اُسنے مزنہ سے بات نہیں کی تھی اور شاید وہ بھی پریشانی میں اُسے کال کرنا بھول گئی تھی ورنہ کبھی ایسا نہی ہوتا تھا کہ وہ اُسے کال کرکے اُسکی خیریت نہ معلوم کرے ۔۔

آپ یہاں بیٹھو میرا بچہ میں ابھی فریش ہو کر آتا ہوں ،،فجر کو پیار کرتا وہ واشروم چلے گیا۔

شاور لیتا وہ فریش سا لباس تبدیل کرکے باہر آیا تو نور العین بیڈ پر بیٹھی فجر کو تیار کر رہی تھی ۔۔

اسلام علیکم !! سلام کرتی وہ نظریں جھکاے فجر کو اٹھاتی بولی ،،نیچے سب آپکا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں

وہ سر اثبات میں ہلاتا ڈرائنگ کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے لگا ۔۔

نور فجر کو لیتی باہر نکل گئی ۔۔۔

وہ سب کے درمیان سلام کرتا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ،،سفید شلوار قمیض پر شانوں پر شال لیے وہ اپنی تمام تر وجاہت سمیت خاموش بیٹھا تھا ۔۔

بی جان اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتی اُسکو ڈھیروں دعائیں دینے لگی ،،مریم بیگم نے بھی اپنے بیٹے کی نظر اُتاری ،،

نور بیٹا شوہر کو ناشتا دو ،،نور العین جو پاس بیٹھی فجر کو ناشتا کروا رہی تھی بی جان کی بات سنتی جھجکتے خاموشی سے سر اثبات میں ہلاتی آبان کے لیے پلیٹ تیار کرنے لگی۔۔

سب بیٹھے خاموشی سے پچھلے دونوں کو نسبت قدرے بہتر اور خوشگوار ماحول میں ناشتا کر رہے تھے

خاموشی سے وہ ناشتا کرتا حسین صاحب کو مخاطب کرتا بولا ۔۔۔

بابا سائیں میں ابھی کچھ دیر میں اسلام آباد کے لیے نکلنے لگا ہوں۔۔

خیریت ہے پُتر ابھی کل تو تم آئے ہو حسین صاحب اُسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے استفسار کرنے لگے ۔۔

جی خیریت ہے ،،بس آفیس میں کچھ کام ہے اور مزنہ کے والدین کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ان سے بھی ملنا ہے ،،کچھ دن میں وہاں ہی رہونگا۔۔۔

جیسے ہی اُنکی طبیعت کچھ بہتر ہوں گی میں واپس چکر لگاونگا۔۔

ویسے بھی میں چاہ رہا ہوں حویلی سے ایک ملازمہ کو مزنہ کا خیال رکھنے کے لیے لے جاوں،،اب اس حالت میں اسے یہاں تو لا نہی سکتا

وہ متفکر سا کسی سوچ میں ڈوبا بولا ۔۔ دل و دماغ میں عجیب جنگ چل رہی تھی

ٹھیک ہے پُتر جیسا تجھے بہتر لگے ،،لیکن خیال رکھی اب حویلی میں بھی تیری ضرورت ہے اور یہاں بی تیری بیوي موجود ہے حسین صاحب اُسے دیکھتے نرم لہجے سی گویا ھوے۔

وہ سر ہلاتا ایک نظر اپنے فون پر ڈالتا سب سے ملتا حویلی سے نکلتا اسلامباد کے لیے نکل گیا ۔۔

پہلی فلایٹ سے وہ وہاں پہنچا تھا ،،اُسکے گھر کے باہر کھڑے ہوتے دل انجانے خوف میں مبتلا تھا ۔۔

نکلتے وقت وہ اُسے تمام سچائی بتانے کا فیصلہ کرکے آیا تھا لیکن یہاں آتے ہی دل ڈر رہا تھا ۔۔اُسکے ردے عمل کا سوچ کر اُسے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہی رہا تھا ۔۔

وہ گھر میں داخل ہوا ملازمہ اُس کو دیکھ کر سلام کرتی سر جھکا گئ۔۔

قدم بڑھاتا وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو اُسکی جھنجھلآتی ہوئی آواز کانوں میں پری ۔۔

اُسکی آواز سنتے ہی آبان چوہدری کو اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا ۔۔۔مزنہ لاؤنج میں بیٹھی کوکو کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی ،،جو اُسے اپنے چھوٹے پنجے مار کر دور کر رہی تھی ۔۔

سلام کرت وہ قدم بڑھاتا اُسکے قریب آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔

مزنہ ششدر سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔آپ کب آئے ،،

وہ دھپ سے اُسکے قریب صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔

ابھی آیا ہوں آپ کے سامنے ہی تو یار ۔۔وہ چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاتا ہوا بولا ۔۔۔

نہیں میرا مطلب اسلام آباد کب آئے۔۔۔

اچھا سب خیریت ہے نہ،،حویلی میں سب ٹھیک ہے ؟؟

وہ اُسکے چہرے کی جانب دیکھتی ہے بولی ۔۔

ہاں الحمدللہ سب بہتر ہے ،،

سوری یار کچھ مصروفیت کے باعث آپکو کال نہی کر سکا ۔۔

اُسکا ہاتھ محبت سے تھامے وہ اُسکے چہرے سے نظریں چراتا ہوا بولا ۔۔

کوئی بات نہی میں جانتی ہوں آپ بزی تھے اسلیے میں نے بھی کال نہی کی ۔۔۔

آبان کیا ہوا ہے ،،کیا بات پریشان کر رہی ہے مجھے صاف صاف بتائیں ۔۔

وُہ اُسکے تھکن زدہ سے چہرے پر ہاتھ رکھتی آنکھوں میں محبت سموئے اُس سے استفسار کرنے لگی۔۔۔

اُسکے کہے بغیر ہمیشہ وہ اُسے سمجھ جاتی تھی ،،کیسے بنا کہے وہ اُسکی ہر بات جان لیتی تھی ۔۔اُسے اپنے کیے گئے عمل پر شرمندگی ہونے لگی

اُس نے سب کے بے حد اسرا پر نور العین کو محفوظ کرنے کے لیے ایک قدم تو اٹھا لیا تھا لیکن اب اُس پر قائم رہنا بہت مشکل امر لگ رہا تھا ۔۔

آبان کا دل کیا اُسے سب بتا دے اور اُسکی گود میں سر رکھ کر اپنی تمام بھراس نکال دے ۔۔

انجانے میں وہ بہت غلط فیصلہ لے بیٹھا تھا

کچھ نہیں یار بس تھک گیا ہوں ،،پہلے تو حویلی کے سب کام آہل دیکھتا تھا ۔۔اب ساری زمیداری مجھ پر آ گئی ہے ۔۔۔اسلیے تھوڑی مشکل ہو رہی ہے ۔۔۔اور کچھ یہاں کا بزنس بھی ہے۔۔

مینیجر کال پر کال کیے جا رہا تھا ابھی آفس بھی چکر لگانا ہے وہاں کے حالات پتہ نہیں کیسے ہوں ۔۔۔وہ اپنے تاثرات چھپاتا خود کو نارمل کرتا بات بناتا ہوا بولا ۔۔

اچھا تو اگر زیادہ کام ہو گیا ہے تو ایسا کرتی ہوں میں آفیس چکر لگا آیا کرونگی ۔۔۔آپ حویلی کے کام دیکھ لیں ۔۔

اس سے پہلے بھی تو میں بابا جان کا آفیس سنبھالتی تھی ۔۔اب بھی مینج کرلونگی وہ اُسکی مشکل کا حل نکا لتی ہوئی بولی ۔۔

نہیں بلکل نہی کوئی ضرورت نہیں گھر سی باہر نکلنے کی ،،اس کنڈیشن میں کیسے آپ آفیس جاؤ گی ،،میں دیکھتا ہوں کیا کرنا ہی۔۔۔اور ویسے بھی میرا اب واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں

وہاں کے کام کافی حد تک ہو رہے ہیں اور اب حویلی کا حال بھی قدرے بہتر ہے ۔۔۔میں جلدی واپس چکر لگا لیا کروں گا اور باقی کی ساری معلومات مجھے حافظ ( جو زمینوں کے تمام کام سر انجام دیتا تھا ) وہ بتا دیا کرے گا ۔۔۔

کیا مطلب اب ہم واپس نہیں جائیں گے کیا ۔۔

وہ گہرا سانس لیتا نفی میں سر ہلا گیا

لیکن کیوں وہاں سب کو ابھی ہماری ضرورت ہے آبان ۔۔ہم کیسے اُنھیں اس وقت میں اکیلا کر سکتے ہیں۔۔

اسکو ساتھ لگاتا وہ خود میں سکون اترتا محسوس کرتا ہوا بولا ۔۔۔

اب بہتر ہیں ۔۔سب نے ہی کہا ہے کہ آپ کا زیادہ خیال رکھا جائے اور ابھی واپس جانے کی ضرورت نہیں۔۔

اس کنڈیشن میں کسی بھی وقت آپکو ڈاکٹر کی ضرورت پر سکتی

حویلی میں ہم لوگ کہاں بھاگے گے اور ویسے بھی انکل کی طبیعت بھی بہتر نہی ۔۔۔

اور آنٹی کی بھی طبیعت کا بتایا تھا آپ نے ۔۔۔

اب کیسی طبیعت ہے اُنکی ؟….

وہ اُسے ہنوز اپنے سینے میں بینچے انکی طبیعت کے بارے میں استفسار کرنے لگا ۔۔۔

بیٹا اب میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔مزنہ کی والدہ لاؤنج میں کوکو کو پکڑے داخل ہوتی بولی

وہ اٹھ کر اسلام کرتا اُن سے پیار لیتا اُسکے قریب بیٹھ گیا ۔۔۔

یہ لو پکڑو اپنی کوکو کو سارے گھر میں دور لگوائی ہے مجھے”

بیٹا آپ بیٹھو میں ملازمہ کے ہاتھ کچھ ریفریشمنٹ بیجھتی ہوں وہ کہتی جانے لگی ۔۔

موم یہ کوک میرے پاس کیوں نہی ٹھر رہی ہے

کیا ہوا ہے اسے ایسی تو نہی تھی پہلے وہ پریشانی سے اپنی گود میں کوکو کو دیکھتی بولی اور اُسکے نرم سفید بالوں میں ہاتھ چلانے لگی۔

بیٹا مجھے لگتا ہے اسکا دل تم سے زیادہ زینی سے لگ گیا ہے اسی لیے تمہارے پاس نہی رک رہی

وہ اُسے جواب دیتی ساتھ میں ملازمہ کو کچھ ہلکا پھلکا لینے کا کہتی اُسکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔

کیا مطلب موم ؟؟ وہ اُسے گود سے نکالتے بڑی اُنکی جانب دیکھنے لگی ۔۔

زینی یہاں کیا کرنے آئی تھی اور کوکو کا اُس سے کیسے دل لگا ۔۔۔

بیٹا تمہارے پیچھے سے تمہارے بابا اور میری طبیعت تھیک نہی تھی ،،تمہاری پریشانی کا سوچ کر تمہارے بابا بابا نے تمہیں بتانے سے منع کیا تھا اسی لیے زینی باقاعدگی سے گھر آتی رہی اور کوکو کو بھی اٹھاتی اور پیار کرتی تھی ۔۔

اسلیے یہ اس سے زیادہ مانوس ہو گئی ہے ۔۔

مجھے خود بھی کافی دنوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اُسے یاد کر رہی تھی لیکن اب یقین ہو گیا وہ کہتی اُسکے قریب بیٹھ گی ۔۔۔

موم آپ نے میری کوکو کو کیسے اسے پیار کرنے دیا ،،کیا آپ جانتی نہیں مجھے اپنی چیزوں کو کسی کے ساتھ بھی شیر کرنا پسند نہیں ۔۔

بیٹا یہ چیز تو نہی ایک جیتا جاگتا جانور ہے جسے جہاں سے پیار ملے اُسکی طرف مائل ہو جاتا ہے سنایا بیگم اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔

ٹھیک ہے پھر آپ اسے ابھی اسی وقت اُسکے گھر بھجوا دیں

اور میری نظروں سے دور کریں اسے

سنایا بیگم جانتی تھی کہ اُسے اپنی چیز کا کسی کو چھونا تک پسند نہی لیکن اسکا شدید ردعمل دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی ۔۔

کیا ہو گیا ہے بیٹا جانور ہے اُس سے مانوس ہو گیا ہے بس ۔۔اب تم آ گئی ہو نہ تمہارے ساتھ بھی پہلے جیسی ہو جائے گی اُنہوں نے اُسے پیار سے سمجھآنا چاہا

موم اسے اسی وقت ڈرائیور کو کہیں زینی کے گھر چھوڑ کر آئے وہ انہیں دیکھتی غصے سے پھٹ پری ۔۔۔

آبان جو آج خود میں اُسے سچ بتانے کی ہمت جمع کر رہا تھا ۔۔اُسکے شدید ردعمل کو دیکھ کر دھنگ رہ گیا ۔۔۔جو لڑکی جانور کو کسی کے قریب برداشت نہی کر سکتی وہ اُس کی دوسری شادی کا جان کر کیا کرے گی ۔

۔اُسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔اُسکی باتیں اسکا سارا حوصلہ ہمت ختم کر چکی تھی وہ جانتا تھا اسکی غلطی بہت بڑی تھی وہ اُسے کبھی معاف نہیں کرے گی

مزنہء یہ کیا طریقہ ہے میری جان ،،سنایا بیگم محبت سے بولتی اُسکے قریب بیٹھی ۔۔۔

موم آپ جانتی ہیں میں اپنی عزیز چیز یاں انسان کو کسی کے ساتھ شیئر نہی کر سکتی ۔۔

جو میرا ہے بس میرا ہے باقی کسی کا نہیں وہ سختی سے اُنھیں دیکھتی بولی ۔۔۔

اور آبان اُسکے لہجے کی سختی محسوس کرتا آنکھیں میچ گیا۔۔۔اُسے اُسکی شدت پسندی بہت کچھ باور کروا گئی تھی ۔۔

اچھا چھوڑو یہ سب آبان تھکا ہوا آیا ہے ،،تم اُسکے ساتھ بیٹھو ۔۔میں سکینہ کو بیجھتی ہوں ۔۔۔

بیٹا آپ جاؤ جا کر فریش ہو جاؤ پھر کچھ کھا کر آرام کر لینا وہ محبت سے کہتی ہلکی سے مسکان چہرے پر سجائے چلی گئیں۔۔۔

اوہ سوری مجھے بلکل بھی خیال نہی رہا ۔۔۔آپ جائیں میرے روم میں فریش ہو جائیں مزنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو شرمندہ ہوتی حمزہ کی جانب دیکھتی محبت سے بولی ۔۔

سنایا بیگم اُسے گھورتی ہوئی کیچن کی جانب چلی گئی

نہیں کوئی بات نہیں میری تھکن تو آپ کو دیکھ کر ہی اتر گئی ہے اور جو باقی کی ہے وہ آپکے ساتھ رہنے سے ختم ہو جائے گی آبان اُسکا ہاتھ تھامتے خمار آلود لہجے سے اُسے دیکھتے ہوئے ہولا اور اُسکی نرم و ملائم پھولے گالوں کو ہاتھ کی پشت سے سہلایا ۔۔

مزنہ تو اُسکے بے باک انداز سے پل میں سرخ ہوئی تھی ۔۔

اُسے پیچھے کرتی وہ اُسکی معنی خیز نظروں سے گھبراتی ہوئی بولی ۔۔۔

شرم کر لیں ہم روم میں نہیں ہیں ۔۔۔

تو چلو پھر روم میں چلتے ہیں مزنہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتی اُسکے ارادے بھانپتے کانپ سی گئی ۔۔

جاری ہے۔۔۔۔اسلام علیکم کیسے ہیں سب ؟؟ ماشا اللہ سب کا رمضان بہت اچھا گزر رہا ہوگا ۔۔مجھے بھی دعاوں میں یاد رکھئے گا ۔۔۔۔❤️

اور آخری بات رمضان میں اتنی مصروفیات کے باوجود میں وقت نکال کر آپکے لیے لکھتی ہوں تو برائے مہربانی اپنے ہاتھ کو تھوڑی سی تکلیف دے کر لائک اور کمینٹ کر دیا کریں ۔۔نیکسٹ ایپی آپکے بہتر رسپانس پر آئے گی شکریہ۔۔