khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 83
Rate this Novel
Episode 83
امان بھائی کیا اسکا حل صرف نکاح ہی ہے۔۔۔ کیا کوئی عورت نکاح کے بنا سروائیو نہیں کر سکتی۔۔۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ سنگل مدر ہونا گناہ ہے کیا۔۔۔
وہ بدک سسکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔ کمرے کے دروازے کی جانب جاتے امان کے قدم رکے۔۔۔ وہ پلٹا اور قدم قدم اسکے پاس آیا۔۔۔
اس نکاح کا مطلب یہ ہرگز مت سمجھنا صلہ کہ تم اس مسلے میں گھری ہو تو میں تمہارا نکاح کروا رہا ہوں۔۔۔ بلکہ درحقیقت میں تم سے غافل کبھی نہیں رہا ۔۔۔ میں بہت دیر سے تمہارے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن اتنی دیر سے خاموش اس لئے تھا کہ میں چاہتا تھا تم ماضی کے ٹراما سے نکل کر آگے بڑھ جاو۔۔۔
جلد یا بدیر میں اس بارے میں تم سے بات کرنے والا تھا۔۔۔
اور ایسا ہرگز نہیں ہے کے عورت نکاح کے بنا سروائیو نہیں کر سکتی۔۔۔ یا اسے اس بے رحم معاشرے میں جینے کے لئے نکاح کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ بلکہ ایک مرد بھی نکاح کے بنا ادھورا ہے۔۔۔
جب ایک مرد اور عورت کے درمیان ایک پاکیزہ رشتہ اللہ نے ہی بنا دیا ہے تو دونوں ہی اس رشتے میں بندھے بنا اپنے آپ میں ادھورے ہیں۔۔ وہ مکمل تب ہی ہوتے ہیں جب اللہ کے بنائے اس مقدس رشتے میں بندھتے ہیں۔۔۔ اس دنیا میں اللہ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے۔۔ حتی کہ حضرت آدم علیہ اسلام بھی اس دنیا میں اکیلے نہیں بھیجے گئے تھے۔۔۔ انکے ساتھ اماں حوا کو بھی بھیجا گیا۔۔۔
تو یہ بات دماغ سے نکال دو کہ ایک عورت نکاح کے بنا ادھوری ہے۔۔ کیونکہ ایک مرد بھی نکاح کے بنا ادھورا ہے۔۔۔ نکاح صرف عورت ہی نہیں بلکہ مرد کی بھی ضرورت ہے۔۔۔ یہ دونوں کے لئے ہی لازم و ملزم ہے۔۔۔
باقی اب سب سوچیں دماغ سے نکال دو۔۔۔ خدا پر یقین رکھو وہ بہت مہربان ہے۔۔۔ اور اسکے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔۔۔ وہ اسکے سامنے دوزانو بیٹھا اسے نرمی سے سمجھا رہا تھا۔۔۔
صلہ خاموشی سے نم آنکھوں سمیت اسے دیکھ رہی تھی جب وہ اٹھا۔۔۔
ابھی کچھ دیر تک مولوی صاحب آ رہے ہیں اسے کوئی بڑی چادر اوڑھا دو۔۔۔ وہ صلہ کا سر تھپتھپا کر پاس ہی بیٹھی عفرا سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ صلہ اس سے یہ تک نا پوچھ سکی کے اسکا نکاح ہو کس سے رہا ہے۔۔۔
******
پتہ نہیں اسنے کیسے سب کیا تھا۔۔۔ صلہ تو بس خاموش ساکت و جامد سی بیٹھی تھی۔۔۔ جب خالہ کے کہنے پر عفرا اسے لئے کمرے میں آگئ۔۔۔ انہیں کمرے سے باہر لاوئنج میں مردوں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ غالباً نکاح خواہ اور گواہاں آگئے تھے۔۔۔
عفرا نے الماری سے ایک بڑی چادر نکال کر صلہ کا گھونگھٹ نکال دیا۔۔۔ جب امان دروازہ کھٹکھٹا کر نکاح خواں اور گواہاں کی معیت میں اندر داخل ہوا۔۔۔
نکاح خواں اسکے بالکل سامنے بیٹھا نکاح کے مندرجات پڑھ رہا تھا جبکہ صلہ کو اپنا دل کانوں میں دھرکتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ پوری زندگی اسکے سامنے کسی فلم کی مانند چل رہی تھی۔۔۔
دفعتاً نکاح کے مندرجات سن کر اسکا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔ جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
اسکا نکاح نعمان سے ہو رہا تھا۔۔۔
نعمان سر سے۔۔۔ اسے اپنے سامنے زمین گھومتی محسوس ہوئی۔۔۔ اسے اپنے سر پر امان کا ہاتھ محسوس ہوا تو سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔۔
نکاح خواں اسکے اقرارکا منتظر بیٹھا تھا۔۔۔ اسنے لرزرتی آواز میں قبول ہے کہتے کپکپاتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کئے۔۔۔۔
نکاح خوان اور گواہاں کے کمرے سے جاتے ہی وہ گھونگھٹ ہٹاتی اسقدر پھوٹ پھوٹ کر روئی کے خالہ اورعفرا سے سمبھالنا مشکل ہو گیا۔۔۔
اسکا دل کپکپا رہا تھا۔۔۔
نعمان سے شادی۔۔۔ یہ زندگی اسے کس نہج پر لے آئی تھی۔۔
وہ تو پہلے ہی اپنے بیٹے کے بارے میں بہت پوزیسو تھا ۔۔۔ کیا وہ اسکی بیٹیوں کو قبول بھی کرتا۔۔۔۔
کئ وسوسے اسکے اندر سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔ کیا ابھی زندگی میں اور بھی آزمائشیں تھیں۔۔۔
وہ جتنا آنسو صاف کرتی اتنے ہی مزید بہہ نکلتے۔۔۔
******
کچھ دیر بعد امان واپس کمرے میں آیا۔۔۔ صلہ ندھال سی بیڈ کراون کیساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ آنکھوں کے پیوٹے سوجھ چکے تھے جبکہ چہرا بخار کی حدت سے ٹمٹمانے لگا تھا۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی عفرا نے اسے زبردستی کھانا کھلا کر دوائی کھلائی تھی۔۔۔۔
خالہ اور عفرا اسکے پاس ہی بیٹھیں تھیں۔۔۔
امان قدم قدم چلتا صلہ کے پاس آیا اور اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔
وہ ہنوز ویسے ہی بیٹھی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
امان کو اسکی نگاہوں میں کئ شکوے ہلکورے لیتے دکھائی دیئے۔۔۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
میں جانتا ہوں صلہ کے ابھی اس رشتے کو لے کر تم بہت سے تحفظات کا شکار ہو لیکن یقین مانو نعمان جسقدر سخت دکھائی دیتا ہے نا۔۔۔ اندر سے وہ اتنی ہی سافٹ نیچر کا ہے۔۔۔۔
مجھے تمہارے لئے ایسے ہی شخص کی تلاش تھی۔۔۔ جو تمہارا ماضی جانتا ہو۔۔۔ جو بالاج کی گھٹیا حرکتوں سے واقف ہو۔۔۔ وہ اسکے پاس ہی پڑے موبائل کی روشن سکرین دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا جو سائیلنٹ پر لگا تھا۔۔۔ لیکن اس پر بالاج کی مسلسل کالز آ رہی تھیں۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا اور فون سوئچ آف کر دیا۔۔۔
یہ شخص اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑے گا۔۔۔ اسکا بندوبست کرنا پڑے گا۔۔۔ لیکن اب تمہارے حوالے سے میں بے فکر ہوں کیونکہ نعمان ہر چیز سے باخبر ہے۔۔۔ جبکہ اتنا اطمینان میں کسی اور کے حوالے سے نہیں دکھا سکتا تھا۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی اسنے میری ایک بہن کو اسقدر خوش رکھا تھا کے میں خوشی خوشی اپنی دوسری بہن کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھمانے کے لئے تیار ہو گیا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔ جبکہ صلہ بھی اداسی سے مسکرا دی۔۔ بالاج سے تو اسے بھی کسی اچھے کی توقع نا تھی۔۔۔
ابھی کچھ دیر میں تمہاری رخصتی ہے۔۔۔ بچیاں ہمارے ساتھ چلی جائیں گئ۔۔۔ صبح ہم دونوں انہیں وہاں چھوڑ جائیں گے۔۔۔
ایک بم تھا جو امان نے اسکے سر پر پھوڑا تھا۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔ ابھی تو وہ نکاح کے جھٹکے سے سمبھلی نا تھی۔۔۔ کجا کے رخصتی۔۔۔۔
وہ صدمے سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
امان بھائی اتنی جلدی رخصتی۔۔۔ میں ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں ان سب چیزوں کے لئے۔۔۔ نکاح ہو گیا ہے نا۔۔۔ رخصتی تو بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔۔۔
بے بسی سے آںسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔آواز کپکپا گئ تھی۔۔۔۔ یہ ایک نئ ٹینشن سر پر آ کھڑی تھی۔۔۔
رخصتی تو ہونی ہی نا صلہ۔۔۔ آج نہیں تو کل ۔۔۔ پھر آج ہی کیوں نہیں۔۔۔۔ ویسے بھی میں ان حالات میں تمہیں یہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ کیونکہ بالاج سے مجھے کسی اچھائی کی امید نہیں۔۔۔ اور ہمارے گھر آنے سے بہتر ہے کے تم اپنے گھر ہی جاو۔۔۔ اس سے تم جلدی اس حقیقت کو قبول کر لو گئ۔۔۔ باقی کوئی بھی کسی قسم کی پریشانی ہو تو بلاجھجھک مجھے فون کر لینا۔۔۔ وہ مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
عفرا اسکی ضروری چیزوں کی پیکنگ کر دو۔۔۔ میں نعمان کو بلاتا ہوں۔۔۔ امان عفرا سے مخاطب ہوتا کمرے سے نکل گیا جبکہ صلہ کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔۔
******
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک دے کر امان سنجیدہ صورت لئے نعماں اور مغیث کے ساتھ اندر داخل ہوا۔۔۔۔ ایک غیر دانستہ نگاہ کے بعد صلہ نے اسکی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔۔۔۔
وہ صبح آفس والے پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا۔۔۔ البتہ چہرے پر سنجیدگی تھی۔۔۔
وہ جھک کر خالہ سے پیار لے رہا تھا۔۔۔ عفرا مغیث کو پاس بلائے اسے پیار کر رہی تھی۔۔۔ اسے عینا اور نینا کہیں دکھائی نا دیں۔۔۔ اسکی متلاشی نگاہ ہر جانب انہیں ہی تلاش کر رہی تھیں۔۔۔۔
وہ دونوں سو گئ ہیں صلہ۔۔۔ عفرا اسکی بے چینی نوٹ کرتی اسکے پاس آ کر گویا ہوئی ۔۔۔ وہ اس ماحول میں خود کو مس فٹ محسوس کر رہی تھی۔۔۔
کافی دیر تک وہ سب آپس میں باتیں کرتے رہے۔۔۔ جبکہ صلہ ان سب سے لاتعلق خاموش سی تھی۔۔۔۔
ایک نازک پھول تمہارے حوالے کر رہے ہیں نعمان ۔۔۔ میری بیٹی کو بہت خوش رکھنا۔۔۔۔
خالہ نے صلہ کا ہاتھ نعمان کے ہاتھ میں تھمایا تو وہ اندر تک کپکپا اٹھی۔۔۔
وہ تو اسقدر غائب دماغ تھی کے ماحول سے کٹ کر رہ گئ تھی۔۔۔۔ اس لئے پتہ ہی نا چلا کے بات کہاں تک جا پہنچی۔۔۔
رخصتی کی بات سنتے ہی اسکا دماغ بھک سے اڑا۔۔ وہ انکار کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اتنی جلدی رخصتی کے حق میں نا تھی۔۔۔۔ لیکن خالہ اسے اپنے حلقے میں لیے چلنے لگیں اور اپنے سر پر امان کا ہاتھ محسوس کر کے وہ کچھ بولنے کی چاہ میں بھی کچھ بول نا سکی۔۔۔
وہ ذہنی طور پر پے در پے لگنے والے دھچکوں سے اسقدر ڈسٹرب تھی کے کچھ سوجھ ہی نا رہا تھا۔۔۔
یہ سب اسکے اپنے تھے اسکا برا کیسے چاہ سکتے تھے بھلا۔۔۔
خالہ نے اسے گاڑی میں بیٹھانا چاہا تو وہ انکے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
صلہ نعمان کے ساتھ آگے بیٹھی تھی جبکہ مغیث پیچھے بیٹھا تھا۔۔۔
امان نے تو بہت کہا تھا کہ مغیث بھی عینا اور نینا کے ساتھ انکے ساتھ ہی رک جائے پر نعمان نا مانا تو مجبوراً اسے بھی ضد چھوڑنی پڑی۔۔۔
سارے راستے صلہ شیشے سے پار دیکھتی بے آواز آنسو بہاتی رہی تھی۔۔۔ جبکہ نعمان خاموشی سے بنا اسکی جانب دیکھے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔
گھر کے کار پورچ میں گاڑی آ کر رکی تو صلہ ناچاہتے ہوئے بھی گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔
نعمان کی کال آئی تھی وہ وہیں کھڑا ہوتا فون سننے لگا۔۔۔
جبکہ مغیث سرعت سے گاڑی سے نکلتا صلہ کے پاس آیا۔۔۔
آئیں میں آپکو اندر لے کر چلتا ہوں۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھامے اندر بڑھا۔۔۔ جبکہ اسے دیکھ کر صلہ کو شدت سے عینا اور نینا کی یاد آئی۔۔
ناجانے وہ کیا کر رہی ہونگی۔۔۔ سارا دن وہ جہاں بھی ہوتیں رات وہ اسی کے ساتھ سوتی تھیں۔۔۔ اسکا دل کرلا اٹھا۔۔۔
کیا نئ زندگی کی شروعات میں اتنی آزمائشیں تھیں۔۔۔
مغیث لاوئنج سے گزرتا اسے نعمان کے کمرے میں لے آیا۔۔۔
آپ میری نئ مما ہیں نا۔۔۔ تو کیا میں آپکو ماما بلا سکتا ہوں۔۔۔
صلہ کمرے میں آکر دھندلائی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھتی تھکی تھکی سی بیڈ پر بیٹھی جب مغیث اسکے پاس آ کر حسرت سے گویا ہوا۔۔۔۔
صلہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ اسے جی بھر کر اس پر ترس آیا۔۔۔۔
بنا ایک بھی لمحے کی دیر کئے اسنے مغیث کو شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔ اور اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے چٹاچٹ کئ بوسے اسکے لے ڈالے۔۔۔۔
وہ ممتا کا ترسا بچہ تھا۔۔ اتنے میں ہی نحال ہو گیا۔۔۔ آپ بہت اچھی ہو ماما۔۔۔ وہ صلہ کے گال پر اپنے لب رکھتا محبت سے مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
جبکہ کمرے میں داخل ہوتے نعمان نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔
پاپا۔۔۔ مجھے اتنی پیاری مما دلانے کے لئے تھنک یو۔۔۔ اب میں سونے جا رہا ہوں صبح مجھے جلدی اٹھنا ہے ورنہ سکول سے لیٹ ہو جاوں گا۔۔۔ وہ باپ کو فلائے کس دیتا چھپاک سے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
صلہ کمرے میں نعمان کی موجودگی محسوس کر کے اپنے آپ میں سمٹتی نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ تلاشنے لگی۔۔۔
دفعتا اسے نعمان اپنے پاس ہی بیٹھتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ مزید خود میں سمٹی۔۔۔ جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔
میں جانتا ہوں صلہ کہ یہ رشتہ تمہارے لئے بھی اتنا ہی غیر متوقع ہے جتنا کے میرے لئے۔۔۔ اور میری طرح تم بھی اس رشتے کو قبول کر پانے سے قاصر ہو۔۔۔۔
وہ اسکے پاس ہی کہنیوں کے بل نیم دراز ہوا۔۔۔
صلہ نے بھیگی پلکیں اٹھا کر نعمان کو دیکھا ۔۔۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ سرعت سے واپس نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
میں زیادہ رشتے بنانے کا قائل نہیں ہوں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
اسکی بات سن کر صلہ کا سانس حلق میں ہی اٹکنے لگا۔۔ لیکن اگر رشتے بناوں۔۔۔۔ وہ رکا اور سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔ تو اسے آخری سانس تک نبھانے کا قائل ہوں۔۔۔
صلہ نے حیرت سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
میں کوشیش کروں گا کہ تمہیں مجھ سے کوئی شکایت نا ہو۔۔۔۔ مجھے امید ہے کے آگے چل کر ہم ایک اچھی زندگی گزاریں گے۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
جب صلہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ وہ فوراً نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
اسکے بعد تو جیسے آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھری ہی لگ گئ تھی۔۔۔
یہ ہی آنسو میں نے صبح بھی تمہاری آنکھوں میں دیکھے تھے۔۔۔ مگر تب حق نہیں رکھتا تھا۔۔۔ اب رکھتا ہوں۔۔۔ تو کیا تم انکی وجہ مجھ سے شیئر کرنا چاہو گئ۔۔۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھتا سامنے دیکھ کر گویا ہوا۔۔۔۔
صلہ نے چہرا اسکی جانب موڑا تو وہ بھی اسے دیکھنے لگا۔۔۔
میری بیٹیاں۔۔۔۔ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر اسکے منہ سے ادا ہوئے تھے۔۔۔
لیکن نعمان اسکی اتنی سی بات سے پورا مطلب اخذ کر چکا تھا۔۔۔
تم آرام کرو۔۔۔ وہ ایک گہری سانس خارج کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
اسکے کمرے سے نکلنے پر صلہ پھر سے سسک اٹھی۔۔۔ یہ رات اس پر بھاری تھی۔۔ یہ پہلی رات تھی جو وہ بیٹیوں کے بنا گزار رہی تھی۔۔ اور وہ بیٹیوں کے لئے تڑپ رہی تھی۔۔۔
*****
افف بیٹا ابھی سو جاو نا صبح پکا میں تم دونوں کو ڈھیر سارے کھلونے لے کر دوں گی۔۔۔ دونوں بچیوں نے وہاں ادھم مچا رکھا تھا۔۔۔ سونے کے لئے انہیں ماں ہی چاہیے تھی۔۔۔
نہیں ہمیں ماما کے پاس ہی جانا ہے۔۔۔ نینا روتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔ جبکہ عفرا اب اس صورتحال سے پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے انہیں بہلاتی بہلاتی تھک گئ تھی مگر وہ بہل کر نا دے رہی تھیں۔۔۔
امان اپنی سٹڈی میں تھا۔۔۔ اب وہ تھک کر امان سے مدد طلب کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
امان اپنی سٹڈی میں تھا جب انٹرکام پر اسے نعمان کے آنے کی اطلاع ملی۔۔۔ وہ سرعت سے سٹڈی سے نکلا۔۔۔
کیا ہو گیا یار۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔ ابھی تو گئے تھے۔۔۔ امان لاوئنج میں آتا ہی اندر داخل ہوتے نعمان کو دیکھ کر پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
ریلیکس ہو جاو امان۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔ وہ اسکی پریشانی دیکھتا مسکرا دیا۔۔۔
دراصل ہماری بچیاں یہاں ہیں تو انہیں لینے آیا ہوں۔۔۔ نعمان کے کہنے پر امان ہلکا پھلکا ہوتا مسکرا کر سر نفی میں ہلا گیا۔۔۔
کوئی حال نہیں تمہارا۔۔۔ صبح بھی ہو ہی جانی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ بچیوں کو ہمارے ساتھ ہی جانے دو پر تم نہیں مانے۔۔ اب ہماری بچیاں دے دو ہم انہیں مس کر رہے ہیں۔۔۔۔ وہ بہت خوبصورتی سے اپنا مدعا سامنے رکھتا کچھ دیر پہلے کا حوالہ بھی دے گیا۔۔۔جب اسنے مغیث کے ساتھ ساتھ بچیوں کو بھی اپنے ساتھ ہی لیجانے کا بولا تھا۔۔۔لیکن تب امان نا مانا تھا۔۔۔۔
******”
