Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

ہسپتال کی راہداری میں ماں خالہ عفرا اور بالاج سبھی بے صبری سے ڈاکٹر کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ اندر صلہ کا آپریشن چل رہا تھا اور باہر ان سب کے لبوں پر صلہ اور بچے کی صحت و تندرستی کے لئے دعائیں تھی۔۔۔

اللہ اللہ کر کے ڈاکٹر آپریشن ٹھیٹھر کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو سب بے چینی سے اسکی جانب بڑھے۔۔۔

مبارک ہو مسٹر بالاج اللہ نے آپکو جڑواں بیٹیوں سے نوازا ہے۔۔۔ ڈاکٹر کی بات سن کر ایک بوجھ سا سب کے سروں سے کھسکا تھا۔۔۔

اور میری بیٹی ڈاکٹر ۔۔۔۔ وہ کیسی ہے۔۔ ماں تڑپ کر آگے بڑھتیں نم آنکھوں سمیت ڈاکٹر سے گویا ہوئیں۔۔۔

آپ کی دعائیں رنگ لے آئیں ہیں ماں جی۔۔۔ معجزانہ طور پر پیشینٹ بھی ٹھیک ہے لیکن۔۔۔

ڈاکٹر کی بات سن کر جہاں ماں کے چہرے پر زرا طمانیت پھیلی تھی وہیں اسکے لیکن کہنے پر وہ پھر سے ڈھرکتے دل سمیت انکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔۔

لیکن۔۔۔

لیکن یہ کہ وہ اب دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔۔ ڈاکٹر پیشہ وارانہ انداز میں کہہ کر انکا کندھا تھپتھپاتی آگے بڑھ گئ لیکن جہاں باقی سب اس خبر کو سن کر خاموش رہ گئے تھے وہیں ماں کو ایک اطمیئنان تھا کہ انکی بیٹی اور اسکی اولاد دونوں ہی محفوظ تھیں۔۔ انکی دعائیں رنگ لے آئیں تھیں۔۔۔

کچھ ہی دیر میں نرس دونوں بچیوں کو اٹھائے باہر لائیں تو عفرا مچل کر انکی جانب لپکی۔۔۔۔روئی کے گالوں کی مانند وہ چھوٹی چھوٹی سی ننھی پریاں تھیں۔۔

عفرا نے اختیاط سے ایک بچی کو گود میں اٹھایا اور مسکراتی ہوئی اس ننھی پری کو لئے بالاج کے پاس آئی۔۔۔

بھائی آپکی پرنسیس۔۔۔ عفرا کے کہنے پر بالاج نے مسکراتے ہوئے بچی تھامی تو وہ دوسری بچی کو اٹھائے ماں کے پاس آئی۔۔۔

صلہ کو کمرے میں شفٹ کیا جا رہا تھا ۔۔ وہ ہنوز دوائیوں کے زیر اثر عنودگی میں تھی۔۔۔

ڈاکٹر نے سختی سے ان سب سے صلہ کو یہ خبر بتانے سے منع کیا تھا کہ وہ اب کبھی دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔۔۔

بقول ڈاکٹر کے ابھی اسکی حالت بہت سیریس تھی۔۔۔ اس حالت میں اسکا بہت خیال رکھنے کی ضرورت تھی۔۔ اب اس مقام پر اگر وہ زرا سی بھی ٹینشن لیتی تو کوئی مستقل معذوری اسکی زندگی کا حصہ بن سکتی تھی۔۔۔

بہت مشکلوں سے وہ اسکا بی پی کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو پائے تھے اور اب اگر اسکا بی پی دوبارہ شوٹ کر جاتا تو اسے جسمانی یا ذہنی طور ہر بہت بڑا نقصان اٹھانا پر سکتا تھا۔۔۔

اب ماں بھی سنجیدگی سے صلہ کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔۔۔ اب انہیں ہی بذات خود بیٹی کی دیکھ بھال کرنی تھی کہ چاہے کچھ بھی ہوتا وہ انکی بیٹی تھی ور انہیں اس سے بڑھ کر کوئی عزیز نا تھا۔۔۔

****

پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔ آپ اس سے مل سکتی ہیں۔۔۔

صلہ کو کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔ وہ سب ابھی باہر ہی تھے جب نرس کے کہنے پر ماں ہاں میں سر ہلاتیں صلہ کے پاس اندر جانے کو اٹھنے لگیں۔۔۔ ایک بچی خالہ کی گود میں تھی جبکہ دوسری ماں کی گود میں۔۔۔

ماں نے مسکرا کر بچی کا ماتھا چومتے بچی عفرا کو تھمائی کہ دفعتاً ناہید بیگم ثانیہ اور تانیہ ہسپتال میں داخل ہوئیں۔۔ انہیں دیکھ کر ماں بروقت اٹھ کر اندر جانے کا ارادہ فلحال ملتوی کرتیں ان سے ملنے کے لئے اٹھنے لگیں کہ کچھ بھی تھا وہ انکی بیٹی کے سسرالی رشتے تھے جو انکے لئے ہر حال میں قابل عزت تھے۔۔۔۔

اس سے پہلے کے ماں ناہید بیگم سے ملتی جیسے ہی انہیں جڑواں بیٹیوں اور صلہ کے دوبارہ ماں نا بن سکنے کی خبر ملی انہوں نے وہیں پر سینہ کوبی شروع کر دی تھی۔۔۔

ماں اور خالہ حیرت و تعجب سے نہیں دیکھنے لگیں۔۔۔

ارے نحوس ماری جس دن سے ہمارے گھر میں آئی ہے گھر میں نحوست ہی پھیلا کر رکھی ہے۔۔۔ بدبخت نحوس ماری میرے بیٹے کو ایک وارث نا دے سکی۔۔۔ ارے میرا اکلوتا بیٹا۔۔۔ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ۔۔۔ اسکا کوئی وارث نہیں۔۔۔ اسکا کوئی نام لیوا نہیں۔۔۔ اللہ میں مر کیوں نا گئ یہ دن دیکھنے سے پہلے۔۔۔

ہائے میرا معصوم بچہ۔۔۔ اس منحوس کی منحوسیت کے سائے پڑ گئے میرے بچے پر۔۔۔ وہ وہیں راہدری میں نصب بینچ پر بیٹھتیں سینہ کوبی کرتی بین کرنے لگی تھیں۔۔۔ ماں عفرا اور خالہ کیساتھ ساتھ ہسپتال کا عملہ اور آتے جاتے لوگ بھی حیرت و تاسف سے اس عورت کو سینہ کوبی کرتے دیکھ رہے تھے۔۔ بالاج ماں کی باتیں سنتا خاموشی سے مٹھیاں بھینچے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔

کیسی بات کر رہی ہیں آپ بھابھی۔۔۔ بیٹی ہو یا بیٹا یہ تو اللہ کی دین ہے نا اور پھر آپکی بھی تو تین بیٹیاں ہیں۔۔۔ آپکو تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ نے بے اولادی سے بچایا۔۔۔ اندر میری بیٹی زندگی اور موت کی کش مکش میں جھول رہی ہے اور آپ۔۔۔۔

ناہید بیگم کی فضول گوئی اور بیٹی پر لگائے جانے والے غلط الزامات سن کر ماں کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔ مطلب وہ جیسی برسوں پہلے تھیں آج بھی ویسی ہی تھیں۔۔۔ ان میں رتی برابر فرق نا آیا تھا۔۔۔

ارے تم تو منہ بند ہی رکھو بی بی۔۔۔ میری بیٹیوں کی بات کرتی ہو تو میرا بیٹا بھی ہے جو بد قسمتی سے تمہارا داماد بن گیا اور وہی بدقسمتی میرے بیٹے کی خوشیوں کھا گئ۔۔۔

اور شکر کی کیا بات کرتی ہو۔۔۔ ایسا کونسا عظیم کام کر دیا تمہاری مہان بیٹی نے جو میں شکر ادا کروں۔۔۔ ایک ہی بار میں بیٹیوں کا جال بچھآ دیا میرے بیٹے کے گرد۔۔۔

ناہید بیگم کے سخت الفاظ سن کر عفرا نے تاسف سے منہ پر ہاتھ رکھا اور بہتی آنکھوں سمیٹ گود میں پڑی معصوم پری کو دیکھ اسے شدت سے خود میں بھینچا۔۔ کوئ اتنا ظالم کیسا ہوسکتا تھا بھلا۔۔۔۔

تم تو اب بکواس کرو گی نا۔۔۔ عیب دار بیٹی کے عیبوں پر پردہ جو ڈالنا ہے تم نے۔۔۔ نا پوری زندگی تم خود ایک بیٹا جن سکی اور بیٹی بھی تمہاری طرح ادھوری عیب داد۔۔۔

انکی زبان کے آگے خندق تھی جو ایک ہی بار میں ماں کے منہ سے سبھی الفاظ کھینچ چکی تھیں گویا ماں کی تو زبان ہی گنگ ہو گئ ہو۔۔۔وہ وہاں وار کرنا جانتی تھیں جہاں انسان بلبلا کر رہ جاتا

خاموش آنسو ماں کی آنکھوں سے آپو آپ بہنے لگے تھے۔۔۔۔

آپ میری ماں کے ساتھ اس لہجے میں بات نہیں کر سکتیں۔۔۔ ماں کی یہ حالت دیکھ عفرا بپھر کر میدان میں کودی۔۔۔

ارے بس بس۔۔۔ آئی بڑی ماں کی سائیڈ لینے۔۔۔ سچ ہمیشہ کڑوا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اور اولاد ماں پر ہی جاتی ہے۔۔۔ توبہ توبہ بیٹیوں کے عیب چھپانے کو کتنی کتنی ڈھکوسلے بازیاں کرتیں ہیں یہ عورتیں۔۔۔ اب پتہ جو ہے بیٹی میں کمی ہے۔۔۔ اور تم بی بی۔۔۔ ابھی تو پتہ نہیں تم نے کیا کیا گل کھلانے ہے۔۔۔ تمہیں تو اللہ نے خوشی دکھاتے ہی تم سے وہ خوشی چھین لی۔۔۔ ابھی تک دوبارہ تمہیں اس خوشی کا منہ تک نہیں دکھایا۔۔۔ اور تم باتیں سناتی ہو مجھے۔۔۔ ارے یہ تم لوگوں کی ہی کرتوتوں کا عذاب ہے جو اس دنیا میں ہی نازل ہو رہا ہے تم لوگوں پر۔۔۔

تمہیں تو اللہ نے اس قابل بھی نا سمجھا کہ تمہیں اس خوشی سے ہی نوازا جا سکتا۔۔۔

پس ثابت ہوا کہ وہ تائی تِھیں جنکی زبان کا مقابلہ کرنا ان میں سے کسی کے بس کا کام نا تھا۔۔۔ وہ لوگوں کی کمیوں پر انکی دکھتی رگوں پر زوردارانہ انداز میں ہاتھ رکھ کر انکی جان نکالنا جانتی تھیں۔۔۔

ایک ہی وار میں وہ عفرا کی روح تک کو گھائل کر گئ تھیں۔۔۔

اسکا دل ڈوب کر ابھرا جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ بمشکل بچی پر اپنی گرفت مضبوط کرتی آ کر بینچ پر ڈھ گئ۔۔۔

بالاج بیٹا یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ۔۔۔ اپنی ماں اور بہنوں کو ہسپتال سے گھر بھیج دو۔۔ یہ وقت اور ماحول نہیں ایسی باتیں کرنے کا۔۔۔

ناہید بیگم کو کسی صورت ٹلتے نا دیکھ پتھر بنی خالہ اٹھ کر بالاج کے پاس گئ اور حقیقتاً اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے عاجزانہ انداز میں گویا ہوئیں جسکے نتیجے میں وہ افسوس سے سر ہاں میں ہلاتا ماں کی جانب بڑھا۔۔۔ اور انہوں نے بیٹے کو بھی کب بخشا تھا بھلا۔۔۔

تجھے بے غیرت اور بے حس بنا دیا ان لوگوں نے۔۔۔ دو دو بیٹیوں کا باپ بنا ہے۔۔۔ بیوی تیری تمہیں وارث نہیں دے سکتی اور تم ابھی تک یہیں کھڑے ہو بالاج۔۔۔ تم میں مردوں والی کوئی بات نا رہی۔۔۔ مرد بن مرد۔۔۔ وہ مسلسل بول رہی تھیں جبکہ بالاج لب بھینچے انہیں ساتھ لیے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔

پیچھے عفرا نے نم آنکھوں سے ان ننھی شہزادیوں کو دیکھا جنہوں نے ابھی اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔۔۔ ناجانے انکی قسمت میں کیا لکھا تھا۔۔۔

****

کافی دیر بعد ماں زرا سمبھلتی جیٹھانی کی کہی باتوں کا اثر زئل کرنے کو سر جھٹکتی اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ جو بھی تھا ابھی ان کے لئے سب سے زیادہ ضروری انکی بیٹی تھی۔۔۔

اندر داخل ہوتے ہی وہ کمرے کی دہلیز پر ہی ٹھٹھک کر رکیں۔۔۔ آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اور دل گویا کسی نے مٹھی میں بے دردی سے جھکڑ کر مسلا ہو۔۔۔ ماں تڑپ کر سامنے بستر پر دراز اپنے آنگن کے پھول کی جانب لپکیں جو دونوں ہاتھوں سے اپنے اوپر اوڑھے لحاف کو مٹھیوں میں جھکڑے گھٹ گھٹ کر رو رہی تھی۔۔ مطلب وہ باہر ہوا سارا ہنگامہ سن چکی تھی۔۔۔

ماں نے اسے اپنی آغوش میں بھرا تو وہ ماں کے سینے سے لگی تڑپ تڑپ کر رو دی۔۔۔

ماں میں ہار گئ۔۔۔ میں بری طرح ہار گئ۔۔۔ آپکی صلہ ٹوٹ گئ ماں ٹوٹ گی۔۔۔

ماں خود بھی اسے خود میں بھینچے شدت سے رو دیں۔۔۔ اللہ بیٹیوں کا دکھ تو کسی دشمن کو بھی نا دکھانا۔۔۔ وہ صدق دل سے اپنے رب کے حضور دعا گو ہوئیں۔

جلد ہی ماں ٹھٹھک کر ہوش میں آتیں اسے خاموش کروانے لگیں ۔۔۔ یہ وہ کیا کر رہی تھیں بھلا۔۔۔ انہیں تو بیٹی کو حوصلہ دینا تھا کجا کہ اپنا ضبط بھی کھو بیٹھتیں۔۔۔

صلہ ۔۔۔ بس خاموش ہو جاو بچے۔۔ اس حالت میں یوں رونا تمہارے لئے بہتر نہیں۔۔۔ ماں نے اسے خود سے الگ کرتے اسکے آنسو پونچھنے چاہیے۔۔۔ مگر دل پر وار ہی اتنے کاری تھے کہ کوئی حوصلہ کوئی بات صلہ کے دل کو سکون نہیں پہنچا رہی تھی۔۔۔ ابھی تو ثانیہ کے دیئے زخم تازے تھے کجا تائی کا رویہ۔۔۔

صلہ۔۔۔ ہوش کرو۔۔ ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔ اسے کسی صورت قابو میں نا آتے دیکھ ماں نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔۔

آہ ماں میرا سر۔۔۔ میرا سر ماں۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چکراتا سر تھامتی کراہ اٹھی۔۔۔

مم۔۔۔ماں آپ کہاں ہو۔۔۔ کہاں ہو آپ ماں۔۔۔ مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔ ماں کمرے میں اتنا اندھیرا کیوں ہے۔۔۔ لائٹ جلائیں ماں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔

صلہ متوحش اور خوفزدہ سی ادھر ادھر دیکھتی تڑپ کر ماں سے مخاطب ہوئی۔۔۔

اور ماں انکا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔ سٹل۔۔۔ ساکت ۔۔ جامد۔۔۔ وہ پتھرائی آنکھوں سے بیٹی کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔ انہوں نے متوحش نگاہوں سے کمرے کو دیکھا جہاں ایک نہیں کئ ایک لائٹیں روشن تھیں اور پھر بیٹی کے نافہم رویے کو۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا یا شاید پھڑپھڑایا تھا۔۔۔

قدرت انہیں جو سچائی دکھا رہی تھی وہ بھیانک تھی بہت بھیانک۔۔۔ انہیں اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ جیسے کوئی انہیں کانٹوں پر پھینک کر گھسیٹ رہا ہو۔۔

وہ اپنی پوری قوت صرف کرتیں چیخیں تھیں۔۔۔

ڈاکٹرررررر۔۔۔ ڈاکٹررر۔۔۔

انکی ٹانگیں انکا بوجھ سہارنے سے انکاری ہوگئ تھیں۔۔ وہ وہیں بے جان ہوتیں ٹانگوں سمیٹ بیٹھتی چلی گئیں۔۔۔

انکی آوازیں سن کر باہر سے عفرا اور خالہ گرتیں پڑتیں اندر داخل ہوئیں تھیں۔۔۔

فوری طور پر ڈاکٹر اور نرسیں انکی آوازیں سن کر کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ ان سب کو کمرے سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔

اور یہاں پر اس مقام پر آ کر ماں ٹوٹ گئ تھی۔۔۔

وہ وہیں ہسپتال کی راہداری میں سجدے میں گرتیں اپنے رب کے حضور گڑ گڑا کر رو دیں۔۔۔۔

اب انکی ہمت جواب دے گئ تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر کمرے سے باہر نکلیں تو ماں پرامید نگاہوں سے انہیں دیکھتی انکی جانب بڑھیں۔۔

آئی ایم سوری ماں جی۔۔۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس حالت میں مزید سٹریس کسی مستقل معذوری کو انکی زندگی کا حصہ بنا دے گا۔۔۔ اور میں اب بھی یہ ہی کہوں گی کہ اگر وہ مزید سٹریس لیتی ہیں تو انکی زندگی کو بھی خطرہ ہے۔۔

ماں نے ڈاکٹر کی بات سنتے بے طرح لڑکھڑاتے دیوار کا سہارا لیا۔۔۔ جبکہ صلہ نے ڈاکٹر کی بات سنتے غیر یقینی سے صدمے کے تحت منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ یہ بات سن کر اسکی آنکھیں پھٹ پڑیں تھیں۔۔۔۔۔۔ آنسو اسکی آنکھوں سے بھی بھل بھل بہنے لگے تھے۔۔۔

****