khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 05
Rate this Novel
Episode 05
امی کے کمرے سے جانے کے بعد صلہ ناجانے کتنی ہی دیر تک وہیں زمین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیئے روتی رہی ۔۔۔ روتے روتے ناجانے رات کے کس پہر جا کر اسکی آنکھ لگی۔۔۔۔ صبح اسکی آنکھ تقریباً سات بجے کے قریب کھلی وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔ وہ رات میں وہیں زمین پر بیٹھے بیٹھے سو گئ تھی۔۔۔ جسم اکڑنے لگا تھا۔۔۔ سر بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی آنسو ایک مرتبہ پھر سے پلکوں کی بار پھیلانگتے بہہ نکلے تھے۔۔۔ وہ اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔ فریش ہو کر باہر نکلی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھنے لگی۔۔۔ آنکھوں کے پیوٹے سوج چکے تھے۔۔۔ اسکے سوا چہرا ویران لگ رہا تھا لیکن وہ کہیں سے بھی صدیوں کی بیمار نا لگ رہی تھی۔۔۔ اسنے ہاتھ سے ٹٹول کر اپنا بخار چیک کرنا چاہا لیکن سب نارمل تھا سوائے اندرونی توڑ پھوڑ کے بیرونی طور پر وہ ٹھیک تھی۔۔۔
اسے جی بھر کر خود پر غصہ آیا۔۔۔ ناجانے وہ کونسے لوگ ہیں جنہیں زرا سی ٹینشن لینے پر ہارٹ اٹیک آ جاتا ہے اور ایک میں ہوں جسے ہلکا سا بخار بھی نا چڑھا۔۔۔ کاش بخار ہی چڑھ جاتا تو امی کی تھوڑی سی ہمدردی ہی مل جاتی۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر کچھ سوچتے بالاج کا نمبر ملانے لگی۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی۔۔۔ بالاج جو اپنے کسی دوست کے گھر ابھی تک ہنوز سو رہا تھا موبائل کی چنگارتی آواز پر آنکھیں مسلتے اٹھ بیٹھا سکرین پر صلہ کا نام جگمگاتا دیکھ اسکی نیند بھک سے اڑی۔۔۔ صبح ہی صبح صلہ کا فون۔۔۔ اللہ خیر کرے۔۔۔ وہ دل ہی دل بڑبڑا کر رہ گیا۔۔۔
آج کل جو حالات چل رہے تھے اور جیسی صورتحال چل نکلی تھی ہر وقت دل کو ایک ڈھرکا سا ہی لگا رہتا تھا کہ کہیں کچھ غلط نا ہو جائے ۔۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی آہٹ پر بھی دل ڈر جاتا تھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ ہونٹوں پر زبان پھیرتے بالاج نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو بالاج۔۔۔۔ بالاج وہ۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی صلہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسے یوں روتا دیکھ بالاج کے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے تھے۔۔
صلہ۔۔۔صلہ یار ہوا کیا ہے۔۔۔ صلہ کچھ بتاو تو سہی ہوا کیا ہے ٹینشن سے میرا دل بند ہو جائے گا۔۔۔ صلہ کو کسی توڑ خاموش نا ہوتا دیکھ وہ جھنجھلاہٹ و بوکھلاہٹ میں بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
صلہ ہچکیوں کے درمیان سسکتی ہوئی اسے سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ رات امان کو فون کر کے انکار کرنے سے لے کر امی کے ردعمل تک ہر بات حرف با حرف بالاج کے گوش اتارتی چلی گی۔۔۔
اسکی ساری بات سن کر ایک پل کو تو بالاج بھی سناٹے میں رہ گیا۔۔۔
تم فکر مت کرو صلہ۔۔۔ میں گھر آ رہا ہوں اور آ کر خود چچی سے بات کرتا ہوں۔۔۔ لمحوں میں سارے سود و زیان کا حساب لگاتا وہ کسی نتیجے پر پہنچا تھا۔۔۔ اب اسے خود ہی یہ ناو کسی پار لگانی تھی۔۔
صلہ کو تو تسلی دے کر اسنے فون بند کر دیا لیکن اب بیڈ کراون سے ٹیک لگائے گھٹنوں پر کہنیاں رکھے دونوں ہاتھوں سے سر تھامے وہ خود شدید مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔۔۔سر میں یکدم ہی تکلیف بڑھنے لگی تھی۔۔۔ یہ سب اتنا آسان بھی نا تھا۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے یار۔۔ اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی اب کس گرداب میں پھنس چکا ہوں۔۔۔ نا صلہ کو چھوڑ سکتا ہوں اور نا یہ دنیا اسے اپنانے بھی دے رہی ہے۔۔۔ مصیبت جاوں تو جاوں کہا۔۔۔اسنے ایک زوردار مکا اپنے ماتھے پر مارا۔۔۔ خود سے بڑبڑاتا وہ بستر سے اترا کہ دفعتاً اسکا موبائل ایک مرتبہ پھر سے چنگار اٹھا ۔۔۔
اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا۔۔ فون گھر سے تھا۔۔۔ رات سے اسے یونہی گھر سے بار بار فون پہ فون آ رہے تھے بلخصوص ابا کا فون بارہا آ چکا تھا۔۔۔ لیکن جب تک امی اپنا راضی نامہ نا دے دیتی ابا بھی ایک ثانوی کردار تھے اسی لئے وہ مسلسل ان سب کی فون کالز نظرانداز کر رہا تھا۔۔۔ وہ لوگ اگر سیر تھے تو بالاج سوا سیر تھا۔۔۔ اپنے گھر والوں کو کسی طرح کی جذباتی بلیک میلنگ کر کے منانا تھا وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔۔ وہ اتنا تردد بھی کبھی نا کرتا اگر اسے یقین ہوتا کہ بنا اسکے گھر والوں کے رشتہ مانگے چچی اسے صلہ کا ہاتھ تھما دیتی۔۔۔اگر ایسا ہو جاتا تو نکاح کے بعد وہ ماں کو منا ہی لیتا لیکن سارا مسلہ ہی یہ تھا تبھی وہ جھنجھلایا سا موبائل سائلینٹ پر لگاتا فریش ہونے چلا گیا۔۔۔۔
****
آج کی صبح بہت سوگوار تھی۔۔۔ ساری رات ہی وقفے وقفے سے جھل تھل ہوتا رہا تھا جسکے باعث ابھی تک صحن گیلا گیلا سا تھا۔۔۔ایسے میں امان صبح ہی صبح نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد امی کے چھوٹے سے ہوم گارڈن میں آ کر بیٹھ گیا وہ اپنے کام پر جانے کو بالکل تیار تھا لیکن چہرے پر سنجیدگی طاری تھی اور آنکھوں کی جوٹ مانند پڑ چکی تھی۔۔۔
امان بیٹا ناشتہ کرلو۔۔۔ دفعتاً امی نے کچن سے ہی اسے آواز لگائی۔۔۔
امی ناشتہ یہیں لے آئے۔۔۔ وہ وہیں بیٹھا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ آواز میں جیسے برسوں کی تھکن اتر آئی تھی۔۔۔ ساری رات وہ بستر پر کروٹیں بدلتا رہا تھا۔۔۔ گویا بستر پر کانٹے اگ آئے ہوں۔۔۔ جب کہیں آنکھیں بند کرتا تو پھر سے صلہ کے تحقیرانہ حقارت سے پر الفاظ یاد آ جاتے۔۔۔ اب بھی وہی باتیں یاد کر کے اسکی آنکھیں جل اٹھی تھیں۔۔۔ اندر ایک آگ سی لگی تھی۔۔۔
یہ لو بیٹا ناشتہ کرو۔۔۔ دفعتاً امی نے اسکے سامنے موجود چھوٹی سی سفید گول میز پر کھانے کی ٹرے رکھی اور خود کین کی سفید کرسی کھینچ کر اسکے مقابل بیٹھ کر اسے ناشتہ دینے کے بعد خود بھی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
امان خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مشغول تھا۔۔۔ آج نا تو اسنے ماں سے کوئی بات کی تھی اور نا ہی ماں کی باتوں پر کوئی خاطر خواب ردعمل دے رہا تھا۔۔۔ وہ ناجانے امان سے کیا کیا باتیں کر رہی تھیں لیکن امان کا دماغ ان باتوں کو ڈی کود کرنے سے قاصر تھا۔۔۔ وہ ذہنی طور پر اتنا الجھ چکا تھا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی
۔۔۔۔۔
ارے بیٹا آج مجھے شاپنگ پر جانا ہے صلہ کے لئے نکاح کا جوڑا لینے۔۔ سوچ رہی تھی کہ جاتے ہوئے صلہ کو۔۔۔
کوئی نکاح نہیں ہو رہا ماں۔۔۔ نزہت بیگم ابھی بات کر ہی رہی تھیں جب امان کھانے سے ہاتھ روک کر سختی سے انکی بات کاٹتا ہموار لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہاری بات کا۔۔۔ نزہت بیگم الجھتے ہوئے گویا ہوئیں۔۔۔۔
مطلب یہ کہ مجھے صلہ سے نکاح نہیں کرنا۔۔۔ وہ ناشتہ وہیں چھوڑتا سرد سے لہجے میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو امان۔۔۔ پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔ نزہت بیگم بھی ابکی بات باقاعدہ جلال میں آ چکی تھیں ۔۔۔ انہوں نے اب امان کے سنجیدہ اور سرد رویے پر غور کیا تھا۔۔۔
شاید۔۔۔ یک لفظی جواب دیتا وہ آگے بڑھا۔۔۔
وجہ کیا ہے اس سب کی۔۔۔ وہ بھی بےیقینی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتی اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔۔ یہ آپ اپنی بھانجی سے پوچھیں تو بہتر ہے۔۔۔ وہ بنا پلٹے ٹھنڈے لہجے میں کہتا گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ پیچھے نزہت بیگم چکراتے سر کو تھامتی وہیں کرسی پر ڈھ گئیں۔۔۔
یہ یکدم ہی کونسی آندھی چلی تھی جسکے زیر اثر انکے گھرانے تباہ ہونے کے در پر تھے۔۔۔
دفعتاً موبائل کی گھنٹی بجنے کی آواز آئی تو نزہت بیگم خود کو گھسیٹتی اندر گئ۔۔۔
فون نصرت کا تھا۔۔۔ انہوں نے دھندلاتی بصارت سے موبائل کی سکرین پر جگمگاتے نمبر کو دیکھتے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔ دل بھرا رہا تھا۔۔۔
ہیلو آپا۔۔۔۔ آپا مجھے معاف کر دیں۔۔۔ خدارا مجھے معاف کردیں۔۔۔ میں آپکی مجرم ہوں۔۔۔ بہن کی سسکتی آواز سن کر نزہت بیگم تڑپ اٹھیں انہیں اپنی پریشانی بھول گئ۔۔۔۔ ارے نصرت ہوا کیا ہے۔۔ وہ گھبراتے ہوئے گویا ہوئیں۔۔۔
آپا میری اولاد نا فرمان نکل آئی۔۔۔ آپا میری بیٹی باغی ہو گئ۔۔۔ آپا میری بیٹی اپنے ہاتھوں سے میرے سر پر خاک ڈال رہی ہے۔۔۔ آپا ایک مجبور ماں آپ سے معافی مانگتی ہے۔۔۔ آپکے مجھ پر بہت احسان ہیں۔۔ خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں بہت بے بس ہوں آپا میری صلہ نے اچھا نہیں کیا اسنے مجھے کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا۔۔۔ نصرت بیگم بلک رہی تھیں تڑپ رہی تھیں۔۔۔ انکی بیٹی نے انہیں ماں سی بہن کے سامنے شرمندہ کر دیا تھا۔۔۔ وہ بیٹی انہیں خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔
بہن کی تڑپ دیکھ نزہت بیگم دل تھام کر رہ گئیں ۔۔۔ انکے اپنے بدن پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔کیا کیا ہے صلہ نے۔۔۔ انہیں اپنی آواز دور کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
نصرت بیگم روتے ہوئے انہیں بیٹی کا کارنامہ سناتی چلی گئیں۔۔۔ گو کہ یہ آسان کام نا تھا یہ سب بہن کو بتاتے وہ ہزار موت مر رہی تھیں۔۔۔ اور نزہت بیگم تو یہ سب سن کر ساکت رہ گئ تھیں جہاں کی تہاں۔۔۔ کہ جیسے کسی نے بولنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہو۔۔۔ یکدم ہی انکے دل میں درد کی ایک ٹھیس اٹھی تھی۔۔۔ ماں تھی وہ بھی۔۔۔ کیا کوئی اتنی سفاکیت سے انکے بیٹے کو حقیر کہہ سکتا تھا۔۔۔ انہیں اب امان کے رویے کی سمجھ آئی تھی۔۔۔ بے ساختہ انہیں اپنے بیٹے پر رشک آیا جو اتنی بڑی بات ہو جانے کے باوجود خود کو سمبھالتے ہوئے کام پر گیا تھا۔۔۔
یہ صلہ نے اچھا نہیں کیا نصرت۔۔۔ انکی سنجیدہ پاٹ دار آواز سپیکر سے ابھری تو فون نصرت بیگم کے کپکپاتے ہاتھ سے چھوٹ کر بستر پر گر گیا۔۔۔ وہ مزید دلگرفتی سے پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔۔۔
ماں کی حالت دیکھ عفرا نے بھاگ کر فون اٹھا اور باہر نکل گئ۔۔۔
خالہ میں مانتی ہوں کہ صلہ نے بہت غلط کیا۔۔۔ بہت بہت غلط کیا۔۔۔ لیکن خدارا آپ اس بات کو لے کر ماں سے ناراض مت ہوں۔۔۔ خالہ ماں خود اس وقت بہت بے بس ہیں۔۔۔ انہیں آپکے سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔ انکی طبیعت کل سے بہت خراب ہے۔۔۔ خالہ خدا کے لئے اس بات کو انا کا مسلہ نا بنائیں اور ہماری طرف آجائیں۔۔۔ پلیز پلیز خالہ۔۔۔ ماں کے لئے۔۔۔ شاید آپکے گلے لگ کے رو کر انکا دل کچھ ہلکا ہوجائے۔۔۔ خالہ میری ماں مر جائے گی پلیز اس موقع پر انہیں اکیلا مت چھوڑیں۔۔۔ نصرت بیگم کے بعد اب عفرا خالہ کے سامنے یوں ٹوٹ کر بکھری التجائیں اور فریادیں کر رہی تھی کہ نصرت بیگم کو لگا کہ انکا کلیجہ پھٹ جائے گا۔۔۔ بہن اور بھانجی کی حالت دیکھتیں وہ خود بھی رو دی۔۔۔
تم فکر مت کرو بچے۔۔۔ میں آتی ہوں۔۔۔ عفرا کو تسلی دے کر انہوں نے فون بند کر دیا۔۔۔
عفرا کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ وہ فون بند کر کے ماں کے پاس اندر گئ جو کہ بستر پر چت لیٹیں چھت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آنسو لیکروں کی مانند کنپٹیوں کی جانب بہہ رہے تھے۔۔ ماں کی یہ حالت دیکھ عفرا کو خود پر ضبط کرنا محال لگا۔۔۔ آنسو ضبط کرنے کی کوشیش میں لب کپکپا کر رہ گئے۔۔۔۔
مائیں تو بیٹیوں کے سو پردے رکھ لیتی ہیں ماں۔۔۔ آپ میرا ایک پردہ نا رکھ سکیں۔۔۔ کر دیا نشر مجھے پورے خاندان میں۔۔۔ عفرا ابھی ماں کی طرف بڑھی ہی تھی کے پیچھے سے ابھرتی آواز پر جھٹکے سے پیچھے پلٹی جہاں سرخ چہرے اور سوجے پیوٹوں کے ساتھ ندھال سی صلہ کھڑی ماں سے مستفسر تھی۔۔۔شکن آلود لباس ۔۔۔آنچل ایک کندھے پرجھول رہا تھا اور بال الجھے پڑے تھے
چلی جاو یہاں سے صلہ ماں کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے صلہ آگے بڑھتی عفرا بھاگ کر اسکے مدمقابل آئی۔۔۔ لیکن صلہ نے تو جیسے اسکی کوئی بات سنی ہی نہیں۔۔۔ اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹاتی خود ماں کی جانب بڑھی نگاہیں ہنوز ماں پر موجود تھیں۔۔۔
یہ کام میں نے نہیں تم نے بخوبی کیا ہے۔۔۔ پورے خاندان میں اپنا اشتہار لگا کر ہمیں بدنام کر دیا۔۔۔۔ انکار بھیجوانے کے اور بہت سے طریقے ہوتے ہیں لیکن یہ کونسا طریقہ ہے جو تم نے اپنایا۔۔۔ ماں غصہ نہیں کر رہی تھیں ۔۔۔ وہ نقاہت زدہ آواز میں بے بسی سے گویا ہوئیں۔۔۔ ان میں تو اب لڑنے یا غصہ کرنے کی بھی طاقت نا بچی تھی۔۔۔ انکی بیٹی نے انہیں بری طرح توڑ دیا تھا۔۔۔ وہ اولاد کے ہاتھوں ہار گئ تھیں۔۔۔
تو اور کیا کرتی میں ماں۔۔۔۔ آپ ہی بتا دیں کہ کیا کرتی ۔۔۔ کیا آپ نے میرے پاس کوئی اور راستہ چھوڑا تھا۔۔۔ اگر میں اسے انکار نا کرتی تو آپ نے میرا اس ٹٹ پونجیے سے نکاح کروا دینا تھا۔۔۔ وہ ماں کے پاس پائنتی کی جانب بیٹھتی سسک اٹھی۔۔۔میں نہیں رہ سکتی بالاج کے بنا۔۔۔
محبت ہی تو کی ہے نا۔۔۔ محبت پر بھلا کس کا اختیار ہے۔۔۔۔اسے میرے لئے جرم کیوں بنایا جا رہا ہے۔۔۔ میں کفر کیسے کروں دل میں کسی اور کو رکھ کر کسی دوسرے کی سیج کیسے سجاوں۔۔۔ اس سے کیوں نا شادی کروں جس سے میں نے محبت کی۔۔۔ وہ پشیمانی سے سر جھکائے سسک رہی تھی۔۔۔ ماں کی حالت اسکا بھی دل چیر رہی تھی لیکن وہ اپنی محبت سے بھی دستبرداری کا ضرف اپنے اندر نہیں پاتی تھی۔۔۔
شادی محبوب انسان سے نہیں ایک ذمہ دار انسان سے کی جاتی ہے جو زندگی کی آخری سانس تک آپکی ذمہ داری نبھا سکے۔۔۔
محبت چار دن کی چاندنی ہوتی ہے زرا سی حالات کی تپش پڑنے پر بھاپ بن کر اڑ جانے والی۔۔۔ نصرت بیگم کسی غیر مری نقطے کو دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔
سچی محبت ایسی نہیں ہوتی ماں۔۔۔ سچی محبت آخری سانس تک ساتھ نبھاتی ہے۔۔۔
آج کل کے دور میں سچی محبت ہوتی کہاں ہے۔۔۔ محبت صرف وہی سچی ہوتی ہے جو نکاح کے بعد اپنے محرم سے کی جائے۔۔۔ باقی سب دھوکہ ہوتی ہے۔۔۔ دنیا دکھلاوا۔۔۔ محض ایک کشیش جو صرف تب تک ہوتی ہے جب تک اس چیز تک رسائی نا ہو جائے۔۔۔ رسائی ملتے ہی وہ کشش مانند پڑنے لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کشیش وقت اور حالات کی گرد تلے کہیں دب کر رہ جاتی ہے پھر زندگی بھی بوجھ لگنے لگتی ہے۔۔۔
کیوں اتنے خوفناک نقشے کھینچ کر دکھا رہی ہیں مجھے آپ۔۔۔ یہ سب ارینج میرج میں ہوتا ہوگا۔۔۔۔لو میرج میں ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔ آپ کیوں مجھے۔۔۔ وہ دہل کر ماں کی بات کاٹتی گویا ہوئی جب ایک مرتبہ پھر سے انکی شکست خوردہ آواز گھونجی۔۔۔
میں تمہیں گڑھے میں گرنے سے بچانا چاہتی تھی صلہ اور تم نے مجھے ہی پشیمانی کے گڑھے میں پھینک دیا۔۔۔۔
مت کہیں ایسا ماں۔۔۔ خدارا نا کہیں۔۔۔ میر دل پھٹ جائے گا ماں۔۔۔۔ میں بالاج کے بنا مر جاوں گی۔۔۔مجھ سے میری محبت مت چھینے۔۔۔ خدارا ماں ایسا مت کریں۔۔۔ وہ روتے ہوئے ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ گئ۔۔۔ نصرت بیگم نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر صلہ کو دیکھا۔۔۔
بیل بجنے کی آواز پر عفرا ان دونوں کو وہیں چھوڑ باہر نکلی۔۔ کچھ ہی منٹوں بعد وہ انہی قدموں پر واپس کمرے میں آئی۔۔۔
امی۔۔۔ وہ باہر بالاج بھائی آئے ہیں۔۔۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ عفرا ماں کو متوجہ کرتی گویا ہوئی جبکہ ماں خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ صلہ کا دل دھک دھک کرنے لگا ناجانے ماں اب کیا کرتیں۔۔۔بالاج سے ملتی بھی یا اسے دھتکار کر گھر سے نکال دیتی۔۔۔
