khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 09
Rate this Novel
Episode 09
وہ واپس اپنے کمرے میں آیا تو اسکا موڈ خاصا آف تھا۔۔۔ ماں بہنوں کی باتوں نے خوشی کے سارے رنگ پھیکے کر دیئے تھے۔۔۔ لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی جھنجھلائی سی صلہ کو دیکھ کر اسکے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ کھل اٹھی۔۔۔ اوہ شکر اللہ کا تم آگے ورنہ مجھے لگا تھا پتہ نہیں تمہارا کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔ وہاج کو دیکھتے ہی وہ گہرا سانس خارج کرتی تشکرانہ گویا ہوئی۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اسکے پاس جا کر بیٹھا جسکے خوبصورت چہرے سے اسکی نگاہیں ہٹ ہی نہیں رہی تھیں مگر وہاں واضح تھکن کے آثار تھے۔۔۔۔ تھک گئ ہو۔۔ وہ اسکے پاس ہی نیم دراز ہوتا کہنی بیڈ پر ٹکا کر ہاتھ پر چہرا رکھتا گویا ہوا۔۔ ظاہر سی بات ہے دو من کی جیولری اور لباس پہن کر سٹیچو کی طرح اتنی دیر تک بیٹھے رہنے سے کون نہیں تھکتا۔۔۔ آنکھیں مٹکاتی وہ جھنجھلائی۔۔ اچھا کچھ چاہیے تمہیں۔۔۔ اسکا احساس کر کے وہ فوراً سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ اب کسی اور نے تو نہیں پوچھا تھا وہ خود تو پوچھ ہی سکتا تھا ویسے بھی اس لڑکی کی اسکے نام کے حوالے سے اس گھر میں پہلی رات تھی تو خیال رکھنا اسکا فرض بنتا تھا۔۔۔ ہاں نا۔۔ چائے پینی ہے اور ساتھ میں پین کلر بھی۔۔۔ سر بہت درد کر رہا ہے۔۔۔ وہ بیچارگی سے گویا ہوئی۔۔ اچھا دو منٹ انتظار کرو میں لاتا ہوں۔۔۔ وہ اسکے یوں کہنے پر مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ چائے تم بناو گئے۔۔۔ اسکے یوں اٹھنے ہر صلہ جھٹکے سے ٹیک چھوڑ کر سیدھی ہوئی۔۔۔ ظاہر سی بات ہے تمہارے لئے یہ خدمات میں ہی انجام دوں گا نا۔۔۔ وہ مبہم سا مسکرایا۔۔۔ میں بھی ساتھ چلوں۔۔۔ وہ اسکے اس وقت کچن میں جا کر کام کرنے کے احساس سے بولی۔۔۔ کیا بات کرتی ہو یار اب اتنے برے دن آگئے کیا میرے جو میں چند گھنٹوں کی دلہن سے کام کرواوں گا۔۔۔ ویسے بھی محترمہ میں اتنی بھی بری چائے نہیں بناتا۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اچھا چلو دیکھ لیتے ہیں لیکن خیر میری منہ دکھائی دیتے جانا یہ نا ہو کہ تم محض چائے پر ہی ٹرکھا دو۔۔۔ وہ ہونٹ کا کونا دابے شریر سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ اللہ۔۔۔اللہ۔۔۔۔ اتنی بے اعتباری۔۔۔ وہ قہقہ لگا کر محظوظ ہوتا وارڈروب کی جانب بڑھا۔۔۔ کچھ ہی پلوں بعد وہ واپس پلٹتا ہاتھ میں ایک ڈبی تھامے اسکے روبرو جا کر بیٹھا۔۔۔۔ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی کی خدمت میں ایک ادنی سا تحفہ۔۔۔ اسنے مسکرا کر کہتے ڈبی کھول کر اندر سے ایک نفیس سا وائٹ گولڈ کا بریسلیٹ نکال کر صلہ کی مرمریں بازو کی زینت بنایا۔۔۔ وہ کھلکھلا کر ہس دی
مائے گاڈ۔۔۔۔ کم از کم آج کے روز میں تمہاری اس گھر میں موجودگی کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ نعمان منیبہ کا فون سن کر کمرے سے باہر نکلا تو لاوئنج کے سیون سیٹر صوفہ پر امان کو لیٹا پا کر حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔ وہ صوفے پر جوتوں سمیت پاوں کی قینچی بنائے آنکھوں پر بازو رکھے چت لیٹا تھا۔۔۔ دیکھو امان۔۔۔ نعمان کچھ سوچتا ہوا اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔میں اس وقت کسی قسم کا کوئی لیکچر یا نصیحت سننے کے موڈ میں نہیں ہوں تو براہ کرم اپنی انرجی ضائع مت کرنا۔۔۔ وہ ہنوز بازو آنکھوں پر رکھے اکتاہت آمیز انداز میں گویا ہوا۔۔ اس سب میں اس بیچاری کا کیا قصور جو تمہارے نام پر تمہارے گھر بلکہ تمہارے کمرے میں اس وقت تمہاری منتظر ہے۔۔۔ نعمان ہونٹوں ہر زبان پھیرتا سامنے موجود سنگل صوفے پر بیٹھا۔۔۔ کیا چاہتے ہو تم کہ یہاں سے بھی دفعہ ہو جاوں۔۔۔ تو پھر سیدھا سیدھا بولو نا بات گھما پھرا کر کیوں کر رہے ہو۔۔۔ وہ لمحوں میں آگ بگولہ ہوتا اٹھ بیٹھا۔۔ یہ اسکی شخصیت کا خاصا نہیں تھا لیکن پتہ نہیں کیوں وہ اسقدر ہائپر ہو رہا تھا۔۔۔۔ جیسے اپنے رویے سے خود بھی نا خوش ہو۔۔۔ ریلیکس ۔۔۔ اتنا ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ لو ٹھنڈا پانی پیو۔۔۔ اور یہ بات تم بھی اچھے سے جانتے ہو کہ میری بات کا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ نعمان چند پل اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر فریج سے ٹھنڈا پانی لا کر اسکے سامنے میز پر رکھا۔۔۔ امان ایک گہرا سانس خارج کرتا سر ہاتھوں میں تھام گیا۔۔۔ مجھے کچھ وقت کے لئے تنہائی چاہیے پلیز۔۔۔ اسکے لہجے میں بے بسی پنہاں تھئ۔۔ ٹھیک ہے پھر تم اندر جا کر آرام کرو۔۔۔۔۔ نعمان کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ خاموشی سے اٹھ کر اندر چلا گیا جبکہ نعمان وہیں صوفے پر بیٹھ کر منیبہ کا نمبر ملانے لگا آخر انہیں بھی تو انفارم کرنا تھا جو امان کی غیر موجودگی کے باعث پریشانی سے گھل رہی تھیں۔۔۔ لاوئنج کی خاموش فضا میں محض نعمان کے نمبر ڈائل کرنے کی آواز گھونج رہی تھی۔۔۔
آج ان سب کے دلوں پر وار ہوئے تھے۔۔۔ آرمانوں کا قتل ہوا تھا۔۔۔ تو نیند کسے آنی تھی بھلا وہ تینوں ماں کے پاس ہی انہی کے کمرے میں موجود جلے دل کے پھپولے پھوڑنے کے ساتھ ساتھ مسلسل اس مسلے سے نبٹنے کے لئے لائحہ عمل بنا رہی تھیں۔۔۔۔ یہ تو طے تھا کہ وہ اس صلہ کو ہمیشہ کے لئے اپنے سر پر سوار نہیں رکھیں گئیں۔۔۔۔وہ کب کا اس صلہ نامی بلا سے پیچھا چھڑوا چکے ہوتے آگر انکا اپنا خون محترم بالاج صاحب انکے ہاتھ میں ہوتے۔۔۔ لیکن ابھی سب سے بڑی رکاوٹ بھی تو وہی تھا۔۔۔ نا بیٹے کو چھوڑ سکتے تھے نا اسکے ساتھ ساتھ صلہ نامی بلا کو اپنا سکتے تھے۔۔۔ صلہ انکے لئے ایک ایسی ہدی تھی جسے نا نگلا جا سکتا تھا نا اگلا جا سکتا تھا۔۔۔ وہ تینوں ماں کے پاس بیٹھیں ماں کو صلہ سے نبٹنے کا ایک سے بڑھ کر ایک مشورہ دیتیں پھر خود ہی ان میں سے ایک بالاج کی بدولت اسکے نقصانات گنواتے اسے رد کردیتیں۔۔۔ پچھلے کئ گھنٹوں سے وہاں یہ ہی کام جاری و ساری تھا۔۔۔ کہ دفعتاً پیاس کے احساس کے تحت تانیہ اٹھ کر کچن میں گئ۔۔۔ لیکن کچن میں قدم رکھتے ہی اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا جہاں چولہے کے پاس کھڑا بالاج کچھ گنگناتے ہوئے ٹرے میں موجود دو کپوں میں چائے چھان کر انڈیل رہا تھا۔۔۔ چچ چچ ۔۔۔ پہلے دن ہی بیوی کی غلامیاں۔۔۔ آگے آنے والی زندگی کے لئے تم پر ترس ہی کھایا جا سکتا ہے۔۔۔ تانیہ تاسف سے کہتی فریج سے پانی کی بوتل نکالنے لگی۔۔۔۔ بہنیں تم لوگوں جیسی ہوں تو یہ غلامیاں کرنی پڑتی ہیں۔۔۔۔ بالاج نے ٹھنڈے انداز میں کہتے ہوم ڈیلیوی پر منگوایا پزا اٹھا کر ٹرے میں رکھا۔۔۔ ہائے ایک سلائس دے دو اسکا۔۔۔ پزا دیکھتی تانیہ فریج بند کر کے اسکی طرف مڑی۔۔۔ چلو بھاگو ندیدی کہیں کی۔۔۔ کبھی زندگی میں جیسے پزا نہیں دیکھا بھوکی نے۔۔۔ بالاج اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ایک زور دار چیت رسید کرتا ٹرے اٹھائے کچن سے نکل گیا۔۔۔ وہ غصے سے کھولتی تن فن کرتی ماں کے کمرے میں پہنچی اور ڈھار سے دروازہ بند کیا۔۔۔ اے ہائے کیا مصیبت پڑ گئ تمہیں یوں اتنی زور سے دروازہ بند کرتے ہیں بھلا۔۔۔ ناہید بیگم دہل کر سینے پر ہاتھ رکھتیں اس پر چڑھ ڈوری۔۔۔ ثانیہ اور کرن نے بھی خونخوار نگاہوں سے اسکے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھا جو بری طرح انکی کسی بات میں مخل ہوئی تھی۔۔۔۔ماں میں کہے دے رہی ہوں اس جادوگرنی کی اولاد کا جلد کوئی بندوبست کر دیں ورنہ مر ور جائے گی میرے ہاتھوں سے۔۔۔۔ وہ پاوں پٹختی ماں کی جانب بڑھی۔۔۔ ہوا کیا ہے۔۔ کرن کو اسکے تیور خاصے بگڑے لگے۔۔۔ وہ رن مرید رات کے اس پہر بیوی کے لئے چائے بنا رہا تھا۔۔۔ پزا منگوایا ہےساتھ لارج سائز کا محترمہ کے لئے ۔۔۔ میں نے ایک پیس کیا مانگا مجھے سو باتیں سنا کر گیا ہے۔۔۔ وہ دھپ سے ماں کے پاس بیٹھتی آنسو بہانے لگی۔۔۔ ماں کھینچ کر رکھنا اس صلہ کو۔۔۔ ابھی سے یہ حالات ہیں تو کل کو تو یہ سر پر چڑھ کر ناچے گئ۔۔۔ ثانیہ بھی سیدھی ہو کر بیٹھتی گویا ہوئی۔۔۔ اور نہیں تو کیا۔۔۔ وہ آج ہی اس گھر کی مالکن بن رہی ہے کل کو تو اسے اس گھر میں ہمارا وجود بھی کھٹکنے لگے گا۔۔۔ بھائی تو پہلے ہی ہمارا نہیں رہا اب یہ مائیکے میں ہمارا آنا جانا بھی بند کر دے گی۔۔۔ تانیہ اب چہکو پہکو رونے لگی تھی۔۔۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہو گا۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔۔ خاموش ہو جاو تم ابھی تمہاری ماں زندہ ہے۔۔۔ اس جادوگرنی کی اولاد کو تگنی کا ناچ نا نچوایا نا تو کہنا تم۔۔۔ ناہید بیگم نے بیٹی کو کھینچ کر خود میں بھینچا۔۔۔ انکے لہجے میں مستقبل کے اندیشے بول رہے تھے۔۔۔ میرا ایک ہی تو بیٹا ہے ۔۔۔ ہمارے بڑھاپے کا سہارا ۔۔۔ وہ بھی اس لٹنی کو لے اڑنے دوں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ آپا بتا رہی تھی کسی نئے عالم کا۔۔۔ وقت نکال کر جاتی ہوں اسکے پاس۔۔۔ اسکا دماغ جو خراب ہوا پڑا ہے اس بے غیرت لڑکی پر ۔۔۔۔۔دماغ سے اسکا بھوت اترواتی ہوں۔۔۔ وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔ انکی بات سے ان تینوں کی کچھ ڈھارس بندھی۔۔۔ یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ماں۔۔ وہ تینوں ہی جوش سی سیدھی ہو بیٹھی ۔۔۔ کمرے کی فضا میں پر اسراریت سی سرائیت کرنے لگی تھی۔۔۔
اسکی آنکھ کھلی تو نظر سیدھی چھت سے ٹکرائی۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسکے حواس بحال ہونے میں۔۔۔ سر بھاری بھاری سا ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن سبھی حالات و واقعات یاد آتے ہی عفرا نے گھبرا کر کمرے میں ارد گرد دیکھا۔۔۔ کمرا ہنوز خالی تھا۔۔۔ مطلب کہ وہ شخص رات بھر کمرے میں نہیں آیا تھا۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ دو آنسو پلکوں کی سرحد عبور کر کے لیکر کی صورت بہتے کنپٹیوں میں جذب ہو گئے۔۔۔ دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی تھی ۔۔۔ اگر یہ تبدیلی قبول کرنا امان کے مشکل تھا تو اسکے لئے تو اس تبدیلی کو قبول کرنا امان سے بھی زیادہ مشکل تھا۔۔۔ ناجانے وہ کس دل سے ایک بھرم قائم کئے ہوئے تھی۔۔۔ کیا وہ یہ بھرم قائم نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔ اس دن کے ہر لڑکی کی طرح اسنے بھی بہت سے خواب سجائے تھے لیکن یہ دن اسکی زندگی میں اس انداز میں آئے گا اسنے سوچا بھی نا تھا۔۔۔ دل مسلسل کرلا رہا تھا آنکھ آنسو بہا رہی تھی مگر وہ اپنا دل کھول کر کسے دکھاتی وہ تماشا بننے سے ڈرتی تھی۔۔۔ وہ موضوع گفتگو بننے سے ڈرتی تھی۔۔۔ اسے اپنی عزت نفس عزیز تھی۔۔۔ وہ کسی کو خود پر ہنسنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اپنے گھر کی بات گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکلنے دینا چاہتی تھی۔۔۔ بہت زیادہ کانشیس اور حساس ہونا بھی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔۔ وہ بھی ایسی ہی تکلیف سے گزر رہی تھی۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی اپنے سبھی راز دل میں دفن کر لینے والی ۔۔ سب سے بڑھ کر وہ ماں پر اپنی ازواجی زندگی کی الجھنیں آشکار نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسکی وجہ سے اسکی ماں کو کوئی دکھ پہچتا ۔۔۔۔ یا ماں کی تکلیف کا باعث اسکی ذات بنتی اس سے پہلے وہ مرنا پسند کرتی۔۔۔ ایک ہی ماں کے بطن سے جنم لی دونوں بہنوں کی سوچ اور فطرت اسقدر متضاد تھی۔۔۔۔دل کا درد حد سے سوا ہونے لگا تو وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔ اٹھ کر دیوار پر موجود کلاک پر وقت دیکھا۔۔۔ فجر کا وقت تیزی سے گزر رہا تھا اسکے بدن میں جیسے بجلی سی بھر گئ۔۔ بعجلت پاوں میں جوتا اڑس کر واش روم کی جانب بڑھی محض کچھ ہی منٹوں میں وہ وضو کے پانی سے تر چہرا لئے باہر نکلی اور آنچل سر پر لپیٹ کر جائے نماز دھونڈنے لگی۔۔۔ یہ گھر اسکے مکین اور اس گھر کی ایک ایک چیز اسکے لئے نئ نہیں تھی۔۔۔ وہ بارہا اس گھر میں آ چکی تھی۔۔۔ کئ مرتبہ خالہ کی مدد کی غرض سے اس کمرے کی صفائی بھی کر چکی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ یہ ہی کمرا اسکی مستقل رہائش گاہ بننے والا ہے۔۔۔ جائے نماز بچھا کر اسنے نماز کی نیت باندھی اور نہایت خشوع و خضوع سے نماز ادا کرنے کے بعد وہ وہیں سر سجدے میں جھکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ دل زخمی زخمی ہوا پڑا تھا تو دل کا درد بیان کرنے کو تردد نہیں کرنا پر رہا تھا۔۔۔ آنسو آنکھوں میں اور الفاظ منہ سے خود بخود نکل رہے تھے۔۔۔ اے مشکل کشا میری مشکل حل کر دے۔۔۔ میرے مالک میرے لئے بہتریں راہیں استوار کر دے۔۔۔ بلاشبہ تیرے سوا یہ کرنے کی سکت اور طاقت کوئی نہیں رکھتا۔۔۔ میرے اللہ میرا پردہ رکھ لینا مجھے دنیا کے لئے تماشا مت بننے دینا۔۔۔ سسکتے ہوئے اسکی دعا محض انہی الفاظ کے گرد گھوم رہی تھی۔۔۔ سسک سسک کر اسکے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔ اپنے مسلے اس اللہ کی بارگاہ میں رکھ کر دل ہلکا ہونے لگا تھا بے چین و بے قرار دل کو سکون نصیب ہوا تو آنکھیں خودبخود بھاری ہو کر بند ہونے لگیں۔۔ دعا مانگتے مانگتے وہ وہیں سجدے میں سر جھکائے سکون کی گہری وادیوں میں سرائیت کرتی گئ۔۔۔ سکون اور نیند کا غلبہ اسقدر حملہ آور ہوا کہ وہ وہیں دعا مانگتے مانگتے سو گئ۔۔۔ کافی دیر بعد اسکی آنکھ کھلی تو زبان سے وہی الفاظ ادا ہو رہے تھے۔۔۔ اسنے سیدھے ہونا چاہا تو انکشاف ہوا کہ سارا بدن ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے سن ہونے لگا تھا۔۔۔ کچھ وقت لگا اسے آہستہ آہستہ اٹھنے میں۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ جائے نماز سلیقے سے تہہ کر کے فریش ہو کر باہر نکلی اور سر پر آنچل جماتی کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آئی۔۔۔ یہ گھر اسکے لئے نیا نہیں تھا بدلا تو محض رشتہ تھا۔۔۔ اور جس سے یہ نیا رشتہ بندھا تھا اسکا تو کچھ اتا پتہ ہی نہیں تھا تو پھر بھلا جھجھک کیسی۔۔۔ وہ بلاجھجھک باہر نکلی جہاں صبح کی سرگرمیاں شروع ہوگئ تھیں۔۔۔ خالہ اور منیبہ کی آوازیں کچن سے آ رہی تھیں وہ بھی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
