Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

آج کی رات اسکے لئے اس کمرے میں اپنی پہلی رات سے بھی زیادہ اداس تھی۔۔۔ پہلی رات اپنا گھر چھوڑ آنے کا غم ماں سے دور ہونے کا دکھ ۔۔ اچانک جڑ جانے والے رشتے کو ناقبول کر پانے کا بوجھ اور طبیعتِ خرابی بہت سارے عناصر ایسے تھے جو کے اکھٹے مل کر اس پر حملہ آور ہوئے تھے نیجتاً دماغ یہ سب کچھ قبول نا کرپاتے اسکی ساری سکت نچوڑ لے گیا تھا ۔۔ دماغ سوچنے سمجھنے کی سکت سے محروم ہو گیا تھا اور وہ منیبہ کے دوائی کھلانے کے بعد بہت جلد اپنے سبھی غموں سے نکلتی نیند کی وادیوں میں کھو گئ تھی۔۔۔

لیکن آج ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔ خالہ کے ساتھ اپنے گھر آ جانے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر سے اسی کمرے میں موجود تھی جسکے ساتھ اسکی زندگی کی بہت سی خوشگوار یادیں جڑیں تھیں۔۔۔ بری یادیں تو اب جڑ رہی تھیں۔۔۔ آج بھی وہ کمرے میں اکیلی تھی۔۔۔ بقول خالہ کے امان آج رات بھی گھر نہیں آنے والا تھا۔۔۔وہ بیڈ کڑاوں سے ٹیک لگائے بالوں کی ڈھیلی پونی بنائے آنچل سے بے نیاز کسی غیر مری مقطے کو دیکھتی مسلسل اپنی زندگی کا ہی احاطہ کرتی کچھ سوچ رہی تھی۔۔ گھر آتے ہی وہ لباس پہلے ہی تبدیل کر چکی تھی۔۔۔

اس کمرے کے ایک ایک کونے سے اسکی یادیں وابسطہ تھی۔۔۔ وہ نم آنکھوں سمیت بیڈ سے اتری اور ننگے پاوں ہی چلتی کمرے کی ایک ایک چیزیں دیکھنے لگی۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ بیڈ کی پائنتی کی جانب موجود اسٹدی ٹیبل تک آئی۔۔۔ جہاں ہر چیز سلیقے سے سیٹ تھی۔۔۔ ٹیبل لیمپ۔۔ چند چھوٹے بڑے کاغذات۔۔۔ پن اور بالپوائنٹ ۔۔ ہر چیز الگ الگ ارگنائزر میں موجود اس جگہ کو تازگی بخش رہی تھی۔۔۔ سارا کمرا ہی نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔ کہیں کوئی بے ترتیبی نا تھی۔۔۔ وہ بہت آرگنائز بندہ تھا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے گویا وہاں دھواں بننے لگا جسکے مرغولوں کے چھٹتے ہی وہاں ایک اور منظر ابھرنے لگا۔۔۔ امان ہاف سلیو ٹی شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس سٹڈی ٹیبل کے سامنے موجود چیئر پر بیٹھا ٹیبل پر جھک کر کاغذ پر کچھ بنا رہا تھا۔۔۔

اسکے پاس ہی زمین پر فلور کشن رکھے ایک لڑکی بیٹھی تھی۔۔۔ سر پر نفاست سے آنچل جما تھا اور گود میں ایک کتاب اور جرنل کھلا پڑا جس پر جھکے وہ کچھ لکھ رہی تھی۔۔ دفعتا اس لڑکی نے سر اٹھایا اب اسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔۔

دیکھے امان بھائی اب تو ٹھیک حل ہو گیا نا سوال۔۔۔ عفرا نے جرنل اسکی طرف بڑھاتے استفسار کیا۔۔۔ وہ تھرڈ ایئر کی سٹودینٹ تھی میٹھ اسکا فیورٹ سبجیکٹ تھا اس لئے وہ اکثرو بیشتر امان سے اسکے سوال سمجھنے آتی ہی رہتی تھی۔۔ ۔

ہاں اب ٹھیک ہے۔۔۔ امان نے اسکے ہاتھ سے جرنل پکڑتے اسے ایک نظر دیکھ کر جرنل واپس اسے پکڑایا تو وہ اگلا سوال لکھتی اسے حل کرنے لگی۔۔۔۔۔

ویسے ایک بات پوچھوں آپ سے امان بھائی۔۔ سوال حل کرتے کرتے وہ بالپوانٹ ہونٹوں میں دابے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ہمم پوچھوں وہ ہنوز سٹڈی ٹیبل پر جھکا اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔آپ سی اے نہیں کر پائے لیکن پھر بھی اتنے تعلیم یافتہ تو ہیں نا کہ کہیں بھی کسی جگہ پر آپکو اچھی جاب مل جاتی۔۔۔ کسی کالج میں ٹیچنگ کی یا کسی کوچنگ میں نہیں تو کسی بھی اچھی کمپنی میں ۔۔۔ لیکن آپ نے یہ ساری چوائسز چھوڑ کر چائے کا ٹھیلہ ہی کیوں لگایا۔۔۔ مطلب اس سے بہتر آپشنز تھے نا آپکے پاس۔۔۔ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب خاندان والے آپکے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ یا آپکی ڈگری اور متضاد کام کو لے کر تضحیک آمیز باتیں کرتے ہیں۔۔۔ وہ سر جھکائے کاغذ پر آری ترچھی لکیریں کھینچتی بلآخر اپنے دل میں پنپتا سوال پوچھ ہی بیٹھی جو اسے تب سے پریشان کر رہا تھا جب سے اسنے چائے کا ٹھیلہ لگایا تھا۔۔۔ تب سے ہی لوگ امان کے بارے میں الٹا سیدھا بول رہے تھے کہ اتنا پڑھ لکھ کر یہ ہی سب کرنا تھا تو پڑھائی کا فائدہ۔۔۔ اور کچھ خاندانی نالائق سٹودینٹس تو باقاعدہ اسکی مثالیں دے رہے تھے کہ جب اتنا پڑھ لکھ کر لگانا چائے کا ٹھیلہ ہی ہے تو وہ کیوں پڑھیں۔۔۔ اس ملک میں پڑھائی کا کوئی سکوپ نہیں ہے ۔۔۔ یہاں تھا پڑھا لکھا اور ان پڑھ برابر ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

امان نے چونک کر اسے دیکھا جو الجھی الجھی سی خاصی مضطرب دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔ ایک دلکش مسکراہٹ امان کے چہرے کو چھو گئ۔۔ وہ کمر کرسی کی پشت سے ٹکاتا دونوں کہنیاں کرسی کی ہتیوں پر رکھتا انگلیاں باہم ملائے مسکرا کر اسے دیکھنے لگا جو اسکی طرف دیکھنے کی بجائے نیچے جرنل پر لکیریں کھینچنے میں مصروف تھی۔۔۔

پھر گہری سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔

میرے خواب بہت اونچے ہیں عفرا جن کے لئے محنت بھی بہت درکار ہے۔۔۔ نو سے پانچ کی جاب میرے خوابوں کو پورا نہیں کر سکتی اسکے لئے مجھے اپنا سٹارٹ آپ شروع کرنا تھا۔۔۔ سٹارٹ آپ ہمیشہ وہی کامیاب ہوتے ہیں جو صفر سے شروع کئے جائیں۔۔ کیونکہ ان میں گرنے کا ڈر نہیں ہوتا۔۔۔ کیونکہ صفر سے نیچے کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔۔ یہ میرا مستقل پیشہ نہیں ہے عفرا یہ میری شروعات ہے۔۔۔ یہ میری جڑ ہے۔۔۔ یہ میری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔ اور جب بھی آپ پہلا قدم اٹھاتے ہو پہلی سیڑھی چڑھتے ہو یا کچھ الگ کرنے کی کوشیش کرتے ہو تو لوگوں سے ہضم نہیں ہوتا۔۔۔ اور کیوں ہضم نہیں ہوتا اسے زرا گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اسی سے نوے فیصد لوگ ہمارے ارد گرد ایسے ہیں جو ایک ہی سوچ پر کاربند ہے۔۔ جنکے نظریات میں لچک کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔

جو ان نظریات کو سب سے اہم جانتے ہیں جو باپ دادا سے چلتے آ رہے ہیں۔۔۔ وہ اسی سوچ پر کار بند ہے جو بچپن میں انکے کچے ذہنوں میں ڈالی گئ۔۔۔ ایسے لوگوں کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی نا وہ سیلف امرومنٹ کا سفر شروع کر کے خود میں بدلاو لاتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کی سب سے خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں انہیں سب پتہ ہے اگر کوئی انہیں سمجھانے کی کوشیش بھی کرے تو وہ کہیں گے پتہ پتہ میں سب جانتا ہوں مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ حالانکہ ایک اچھا انسان وہی ہوتا ہے جس میں زندگی کے ہر مقام پر سیکھنے کی سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو۔۔۔ جو اپنی ایک رائے پر ڈٹ نا جائے بلکہ اسے جہاں سے جو ملے اسے جذب کرنے کی کوشیش کرے۔۔۔۔

جیسے لوگوں کی ایک سب سے پختہ سوچ کہ جسکے پاس سرکاری نوکری ہے وہ کامیاب ہے۔۔۔ جسکے پاس سرکاری نوکری نہیں اسکا مستقبل سیکیور نہیں۔۔۔ ایسے میں اگر کوئی پڑھا لکھا شخص انکے نظریات کے الٹ چلے یعنی کے جیسے میں نے چھوٹے لیول سے اپنا سٹارٹ آپ شروع کرنے کی کوشیش کی تو ایسے لوگوں کا ذہن اسی چیز کے گرد اس قدر پختہ ہوچکا ہوتا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بڑا بے وقوف بندہ ہی کوئی نہیں۔۔۔ اسے یہ نہیں یہ کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کی باتوں پر ہرٹ نہیں ہوتے نا ہی انہیں سر پر سوار کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کو سمجھانا ہمارا کام نہیں ہے۔۔۔ محض اپنے کام پر فوکس کرنا ہمارا کام ہے۔۔۔ ایسی صورتحال میں ہم محض ایک کام کر سکتے ہیں کہ اپنے کان بند کر لیں۔۔۔ ایسی کڑوی باتوں اور زہریلے لفظوں کو جذب کرنے سے انکار کر دیں جو جو کہتا ہے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیں۔۔ ورنہ ایسے الفاظوں کی کڑواہٹ انسان کی تخلیقی صلاحیت تباہ کر دیتی ہے اور اس چیز کا سب سے بہترین حل ہے کنارہ کشی۔۔ کہ ایسے ٹاکسک لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔۔۔ کیونکہ ہم ان سے لڑ نہیں سکتے انہیں سمجھا نہیں سکتے اپنی ذات میں امپرومنٹ کا سفر ہر انسان کو خود طے کرنا پڑتا ہے۔۔۔ اچھا ایک اور بات۔۔۔ وہ کچھ یاد آنے پر محظوظ ہوتا زرا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔ عفرا بھی پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

ایسے لوگ ایسا صرف تب تک کرتے ہیں جب تک آپ کامیاب ہو نہیں جاتے۔۔۔ لیکن جیسے ہی آپ کامیاب ہوتے ہو ایسے لوگ فورا سے اپنی بات سے پھر جاتے ہیں۔۔ پھر وہ سب کو آپکی مثالیں دیتے ہیں اور بالخصوص اپنے بچوں کو کہ جب وہ کر سکتا ہے تو تم کیوں نہیں۔۔۔ اسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

حالانکہ کامیابی ایک دن میں نہیں ملتی اسکے لئے جان مارنی پڑتی ہے۔۔۔ اور تم دیکھو گئ عفرا انہیں لوگوں کو جو آج مجھ پر فقرے کس رہے ہیں وہی کل میری مثالیں دیں گے۔۔۔ ابھی تو یہ میرے کیریئر کی شروعات ہے پر یہ دیکھو انشااللہ اگر اللہ نے چاہا تو ایک دن سی اے چائے والا کے ٹھیلے کو اس خوبصورت سے ٹی پوائنٹ میں بدلوں گا۔۔۔ اسنے عفرا کی جانب ایک کاعذ بڑھایا جس پر ایک بہت ہی خوبصورت عمارت کا نقشہ تھا۔۔۔ اور یہ میرا اینڈ آف دا گول نہیں ہے کیونکہ میرا خواب محض یہاں تک نہیں ہے اسکے بعد انشااللہ پاکستان کے ہر شہر میں سی اے چائے والا کی ایک برانچ ہوگئ۔۔۔ میں اس چیز کو اپنی برینڈ بناوں گا اور میں یہ کر کے دکھاوں گا۔۔۔۔ کیونکہ میں محنت سے نہیں گھبراتا۔۔۔ میں اپنے اس سٹارٹ آپ کو کامیاب بنانے میں دن رات ایک کر دوں گا۔۔۔ کیونکہ سٹارٹ آپ قائم کرنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے لیکن اگر ایک دفعہ قائم ہو جائیں تو نسلیں بیٹھ کر راج کرتی ہیں۔۔۔ کچھ ہوتے ہیں جنہیں سب کچھ وراثت میں ملتا ہے جو انشااللہ میری آنے والی نسل کو ملے گا لیکن کچھ ہوتے ہیں جو مجھ جیسے ہوتے ہیں سیلف میڈ جو حالات پر سمجھوتا نہیں کرتے۔۔۔ اور حالات پر سمجھوتا کسی کو بھی نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ اللہ نے ہمیں حالات سے سمجھوتا کرنے کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا ۔۔۔ اللہ نے ہمیں دنیا میں بھیجا ہے یہاں چھپے رازوں کو افشاں کرنے کے لئے ۔۔۔۔ جسکا حکم قرآن میں بھی آیا ہے۔۔۔ دماغ اللہ نے ہمیں کیوں دیا ہے کہ ہم نیٹ فلکس دیکھیں سوشل میڈیا سکرول کر کے لوگوں کی مضنوعی زندگیاں دیکھ کر اپنی محرومیوں پر آنسو بہایں۔۔۔ اپنا وقت ضائع کریں۔۔۔ نہیں اس نے ہمیں اس دنیا میں عقل دے کر بڑے بڑے کام کرنے کو بھیجا ہے ۔۔۔ کہتے ہیں محنت میں عظمت ہے اور محنتی لوگ اللہ کو پسند ہے۔۔۔ خود کو ایک بہترین شکل دینے کے لئے خود کو تراشنا پڑتا ہے۔۔۔ اور تراشنے کے لئے رگڑیں کھانی پڑتی ہیں۔۔۔ میری خواہش ہے کے پاکستان کے ہر گھر سے ایک سٹارٹ آپ نکلے۔۔۔ ہر شخص میں ٹیلنٹ ہے کسی نا کسی چیز کا۔۔بس اس چیز کو اس ٹیلنٹ کو سوشل میڈیا کی طاقت سے جوڑ دو۔۔۔ اس چیز کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرو بس۔۔ جیسے کوئی کوکنگ میں ماہر ہے تو کوئی سلائی میں کسی کو گھر داری میں دلچسپی ہے تو کسی کو بزنس میں۔۔۔ کوئی لوگوں کو ڈیل اچھے سے کر لیتا ہے۔۔ کسی کی کمیونیکیشن سکل بہت اچھی ہے بس اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔۔۔ خود کو زنگ نہیں لگانا چاہیے۔۔۔ ہر دن ایک نئ کوشیش کرنی چاہی۔۔۔ لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ کر۔۔۔ کیونکہ رسول اکرم کا فرمان ہے کہ تباہ ہے وہ شخص جسکی زندگی کا اگلا دن اسکی زندگی کے گزشتہ دن جیسا ہو۔۔۔ یعنی ہر روز کچھ نیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ جیسے اگر بھاگ نہیں سکتے تو چلنے لگو چل نہیں سکتے تو گھٹنوں کے بل چلو گھٹنوں کے بل نہیں چل سکتے تو ریگنے لگو لیکن ایک جگہ بیٹھے مت رہو۔۔۔ کچھ نا کچھ ضرور کرو۔۔۔ میں محنت کر رہا ہوں اور یہ ثابت کرنے کی کوشیش کر رہا ہوں کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔۔۔ میں نے اپنے کان بند کر لئے ہیں اس لئے لوگوں کی منفی باتوں کا مجھ پر اثر نہیں ہوتا اس لئے میرا مشورہ تمہیں بھی یہ ہی ہے کہ تم بھی ایسی باتوں پر کان بند کر دو۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔ عفرا سانس روکے اسے بس سن رہی تھی ۔۔۔ اسکا زندگی کو لے کر مشاہدہ کتنا گہرا تھا وہ قائل ہونے لگی تھی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے منظر بدلہ اور وہ وہیں اس کمرے میں تنہا کھڑی تھی۔۔۔ پتہ نہیں انکا یہ پیارا سا رشتہ وقت اور حالات کی گرد میں کہاں دب گیا تھا۔۔۔ یہ چھ مہینے پہلے کی بات تھی جب اسنے ابھی چائے کا ٹھیلہ لگانا شروع کیا تھا اور چھ ماہ کے اندر اندر اسنے اپنے اس ٹھیلے کو ایک اچھی دکان میں بدل لیا تھا اور وہ پرامید تھی کہ وہ شخص قول کا پکا ہے اور اسکا مستقبل بہت تابناک ہے۔۔۔اس سشخص کو یاد کر کے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ وہ شخص ہمیشہ سے ہی اسکے دل کے قریب تھا اسکا رول ماڈل تھا اب تو اس سے ایک بڑا پیارا سا رشتہ جڑ گیا تھا وہ اسی کے بارے میں سوچتی واپس بستر پر گئ اور آنکھوں پر بازو رکھ کر سونے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔۔۔

*****

ماں بس شادی ہوگئ ہے اب اس صلہ کو زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ مانا کے شادی کے وقت ہماری ایک نہیں چلی لیکن ہم یوں ہاتھ ہر ہاتھ دھڑ کر نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔ ابھی سے اسے کھینچ کر رکھیں گی تو سیٹ رہے گی ورنہ سر چڑھ کر ناچنے لگے گی۔۔۔۔ اب آپ یہ ہی دیکھ لیں۔۔۔ دن کے دس بج رہے ہیں غضب خدا کا مگر وہ ابھی تک اٹھی نہیں۔۔۔ یہ سارے کام یہاں نہیں چلیں گے۔۔۔ وہ تینوں بہنیں لاوئنج میں ماں کے پاس ہی بیٹھیں اپنی اپنی رائے دے رہیں تھیں۔۔ تانیہ اور ثانیہ صوفے پر ماں کے دائیں بائیں براجمان تھیں جبکہ کرن انکے پاس ہی نیچے بیٹھی ثانیہ کی دو سالہ بیٹی کیساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔

بالاج صبح ہی بنا صلہ کو جگائے تیار ہو کر آفس کے لئے نکل گیا تھا مگر وہ مہارانی ابھی تک نہیں اٹھی تھی تبھی وہ تینوں ماں کے ساتھ سر جوڑے اسکی شان میں قصیدے پڑھ رہی تھیں۔۔۔ وہاں سے دائیں جانب جا کر زرا اندر جھانکو تو وہاں صلہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے نم بال سلجھا رہی تھی۔۔۔ وہ ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی۔۔۔۔ اٹھتے ہی اسنے بالاج کی غیر موجودگی محسوس کر کے اسے میسج کیا ۔۔۔ جسکے جواب میں وہ اسے بتا چکا تھا کہ آج کسی اہم کام کی وجہ سے اسے آفس جانا پڑا تھا لحاظہ وہ اسکا انتظار نا کرے اور ناشتہ کر لے۔۔۔ لیکن اب اسکے بغیر اسے کمرے میں رہنا یا کمرے سے باہر نکلنا نہایت عجیب لگ رہا تھا سسرال والوں کے ساتھ اسکی کوئی خاص سلام دعا نا تھی۔۔۔ عجیب اجنبیت سی تھی دونوں طرف سے جسے نا دوسری طرف سے پاٹا گیا اور نا اسکی طرف سے ہی کوشیش کی گئ۔۔۔۔ یا یہ کہا جائے کے بالاج کی موجودگی میں صلہ کو اسکی ضرورت ہی محسوس نا ہوئی تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔ لیکن اب اسے بہت عجیب محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ایک گہرا سانس خارج کر کے آنچل کندھے پر ڈال کر اسنے اپنا آئینے میں ایک طائرانہ جائزہ لیا۔۔ نیلے اور سیاہ لان کے پرنٹڈ سٹائلش سوٹ میں ملبوس لائٹ سا میک آپ کئے بالوں کو ہاف کیچر میں مقید کئے آنچل شانوں پر پھیلائے وہ اپنی تیاری سے مطمیئں ہو کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

اسے کمرے سے باہر آتا دیکھ تانیہ نے کرن کو آنکھ سے کوئی اشارہ کیا جسے سمجھتی ہی وہ جھٹ سے اٹھ کر باہر نکل گئ۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔ اسنے لاوئنج میں آتے مسکرا کر سب کو باآواز بلند سلام کیا۔۔۔

جسکے جواب میں تائی جان نے اسے سخت نگاہوں سے دیکھا اور نگاہیں واپس سامنے چلتی سکریں پر مرکوز کر دیں۔۔۔ جبکے ثانیہ اور تانیہ نے تو اسکی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت محسوس نا کی۔۔۔

صلہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑنے لگی ان لوگوں کے رویے نے اسے خاصا دلبرداشتہ کر دیا تھا اسے وہاں کھڑا ہونا نہایت غیر اہم لگا۔۔۔ وہ مایوس ہوتی خاموشی سے وہاں سے نکل آئئ۔۔۔

ایک پہلے ہی دیر سے اٹھی تھی اوپر سے ان لوگوں کا ایسا خشک رویہ۔۔۔ وہ کڑھتی ہوئی کچن میں آئی ۔۔۔ بھوک سے پیٹ میں بل پڑنے لگے تھے۔۔۔۔ اسنے غصے سے ماتھے پر بل سجائے فریج کھولی۔۔۔ وہ لوگ ایک لمحے میں اسکا موڈ خراب کر چکیں تھیں۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ فریج خالی پڑی تھی۔۔۔ نا اندر سالن تھا نا گندھا ہوا آٹا اور نا ہی دودھ کہ ایک کپ چائے ہی بنا لیتی۔۔۔۔

وہ پیچ و تاب کھاتی وہیں کھڑی تھی۔۔۔ واپس ان لوگوں کے پاس جانا نہیں چاہتی تھی اور بھوک سے بھی برا حال تھا۔۔۔ بلاخر جھنجھلاتے ہوئے وہ واپس لاوئنج میں آئی۔۔۔

وہ تائی جان میں ناشتہ کیا کروں۔۔۔ ہاتھ مسلتے انگلیاں چٹخاتے وہ خاصی دقت سے گویا ہوئی۔۔۔ کتنا مشکل لگ رہا تھا یہ کام۔۔۔

کچن میں جا کر کچھ بھی بنا کر کھا لو بی بی۔۔۔ اب کیا میں تمہیں نوالے توڑ توڑ کر کھلاوں۔۔۔ لٹھ مار انداز میں جواب موصول ہوا البتہ انکی نگاہیں ہنوز ٹی وی سکرین پر مرکوز تھیں۔۔۔

اس عزت افزائی پر بے ساختہ صلہ نے تھوک نگلا۔۔۔۔ وہ تائی جان وہ کچن میں سالن نہیں ہے۔۔۔ ہونٹ چباتے اسنے پھر سے ہمت کی۔۔۔

ہاں سالن ختم ہو گیا تھا تم ایک کام کرو پڑاتھا بنا کر چائے کیساتھ یا اچار کیساتھ کھا لو۔۔۔

ابکی بار کہنے والی ثانیہ تھی جبکہ تانیہ اور کرن ہنوز اسے نظر انداز کئے ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔۔۔

صلہ کی اب ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔۔ ایسی صورتحال اسے زندگی میں پہلی مرتبہ پیش آئی تھی ۔۔۔ وہ کچن میں آٹا بھی نہیں ہے۔۔۔

تو گوندھ لو نا وہیں نیچے کنستر میں پڑا ہے۔۔۔ تانیہ نے اسے چمکتی نگاہوں سے دیکھتے کہا۔۔۔

صلہ نم آنکھوں سمیت کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔۔۔

اس میں ہمت نا بچی تھی یہ کہنے کی کہ وہاں تو دودھ بھی نہیں۔۔۔ وہ سب اسے بھرپور نظر انداز کئے ٹی وی دیکھتیں ہستے ہوئے کسی بات پر تبصرہ کرنے لگی تھیں۔۔۔ وہ کچھ دیر وہاں کھڑی آنسو ضبط کرتی رہی پھر ایک جھٹکے سے پلٹتی بے ساختہ بہہ جانے والے آنسو صاف کرتی دھپ دھپ کرتی سیڑھیاں اتر کر نیچے چلے گئ۔۔۔

پیچھے سب نے اسے دیکھتے سر جھٹکا ۔۔۔ تانیہ اور کرن ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتیں مسکرا دیں جیسے اپنی کارستانی پر بہت خوش ہوں۔۔۔

****

عفرا کی آنکھ فجر کی پہلی اذان کیساتھ ہی کھل گئ تھی۔۔ اٹھتے ہی اسنے وضو کیا اور نماز ادا کر نے کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی۔۔۔ وہ ہنوز کمرے میں تنہا تھی مطلب امان ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔۔۔ قرآن پاک کی تلاوت کر کے وہ گھر کے اس کچے صحن میں آگئ جہاں خالہ نے اپنا ہوم گارڈن بنایا تھا۔۔۔ کتنی ہی دیر وہ وہاں مختلف آیات کا ورد کرتی چہل قدمی کرتی رہی۔۔۔ چار سو روشنی پھیلنے لگی تو وہ بھی اندر آگی جہاں کچن سے اسے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ ارے خالہ آپ باہر آئیں ناشتہ میں بناتی ہوں ۔۔۔ اسنے کچن میں آتے ہی کاونٹر ٹاپ کے پاس کھڑی خالہ کو کندھوں سے تھامتے کچن سے باہر نکالنا چاہا۔۔۔

ارے بیٹا میں۔۔۔ کوئی ارے ورے نہیں خالہ۔۔۔ میرے ہوتے ہوئے آپ ناشتہ بنائیں گی تو فائدہ میرے یہاں ہونے کا۔۔ ۔ آپ نے سوچا بھی کیسے کہ جب میں اپنی موجودگی میں امی کو کچن میں نہیں جانے دیتی تو آپکو جانے دوں گی۔۔۔ اسنے خالہ کی ایک نا سنتے انہیں کچن سے باہر بھیج کر ہی دم لیا وہ اسے ہزاروں دعائیں دیتں کچن سے چلی گئیں۔۔۔۔

اسلام علیکم امی۔۔۔ انہماک سے پڑاتھا بناتے اسکے کانوں میں آواز پڑی تو اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ تو مطلب وہ گھر آ گیا تھا۔۔۔

اسنے ترچھی نگاہوں سے کچن سے باہر دیکھا جہاں وہ جھک کر ماں سے مل رہا تھا۔۔۔ خالہ اس سے کچھ پوچھ رہی تھیں۔۔۔ امی میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ تھکن اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی غالباً دو دن وہ خاصا بے آرام رہا تھا۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد وہ ناشتے کی ٹرے تھآمے باہر آئی اور ناشتے کی ٹرے ان کے سامنے میز پر رکھی۔۔۔۔۔

جاو بیٹا امان کو بھی ناشتے کے لئے بلا لاو۔۔۔ خالہ نے ٹرے سے ناشتہ نکال کر میز پر چنتے مصروف سے انداز میں اسے کہا جبکہ وہ خالہ کی بات سن کر گومگو کی کیفیت میں وہیں کھڑی سوچتی رہی کے اسے کمرے میں جانا چاہیے یا نہیں۔۔۔

جاو بیٹا۔۔۔ خالہ نے ناشتہ میز پر رکھ کر اسکی جانب دیکھتے پھر سے کہا تو وہ مرتے کیا نا کرتے کے مصداق چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کمرے کی طرف بڑھتے اسکے قدم من من بھاری ہونے لگے تھے۔۔۔

*******