khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
جیسے تیسے کر کے امان گھر پہنچا تھا۔۔۔ بائیک سے اترتے ہی وہ بنا کسی سے بات کئے سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ پیچھے عفرا مسکرا کر خالہ کو کچھ بتا رہی تھی۔۔۔ شاید آج کی خوش خبری انہیں بتا رہی تھی۔۔ کمرے کے اندر جاتے ہی دروازہ بند ہوا تو باہر سے آنے والی آوازوں کا سلسلہ بھی رک گیا۔۔۔ وہ بامشکل آنکھیں جھپکتا دیوار گیر الماری تک آیا۔۔۔ بعجلت الماری کا پٹ وا کر کے اسنے ہاتھ سے ٹٹولتے اپنی دوائی نکالی۔۔۔ دو گولیاں نکال کر سٹڈی ٹیبل پر موجود پانی کے تک آیا۔۔۔ گلاس سے دھکن ہٹا کر ایک ہی سانس میں پانی پیتا دونوں گولیاں نگل گیا اور بستر پر جا کر چت لیٹتا آنکھیں موند گیا۔۔۔
آنکھوں پر بازو رکھے اسنے گویا آنکھوں تک آنے والی ہر روشنی کا راستہ بند کیا اور کچھ دیر تک دماغ سے ہر سوچ کو جھٹکتا دماغ کو پرسکون کرنے لگا۔۔۔۔جیسے جیسے وقت سرکتا جا رہا تھا دوائی اپنا اثر دکھا رہی تھی۔۔۔ رفتہ رفتہ سر کا درد دور ہونے لگا اور کندھے اور کمر میں اٹھنے والا کھنچاو بھی دور ہونے لگا تھا۔۔۔ اسے سکون سا ملنے لگا تھا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ سب وقتی علاج ہے لیکن فلحال وہ ایک بھر پور نیند کا خواہشمند تھا۔۔۔ کچھ شاید دوائی میں بھی کچھ اثر تھا جو اس پر گنودگی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔۔
دفعتاً کمرے کا دروازہ کھول کر عفرا اندر داخل ہوئی۔۔۔ امان طبیعت ٹھیک ہے کیا آپکی۔۔۔ وہ قدم قدم چلتی اسکے پاس ہی بستر پر آ کر بیٹھی۔۔۔ امان نے دھیرے سے آنکھوں سے بازو ہٹائی اور بامشکل مسکرا کر اسے دیکھا جو اسکے پاس ہی ہاتھ میں ٹرے تھامے بیٹھی تھی جس میں دو کپ چائے کیساتھ مٹھائی کی پلیٹ بھی تھی ۔۔۔
امان کی مسکراہٹ کچھ مزید گہری ہوئی۔۔۔
ہممم۔۔۔ بس سر میں کچھ درد ہے۔۔۔
میں دبا دیتی ہوں۔۔۔ وہ ٹرے وہیں سائیڈ ٹیبل پر رکھتی اپنے نازک ہاتھ سے اسکا سر دبانے لگی۔۔۔ اسے خاصا سکون میسر آیا تھا۔۔۔ تبھی آنکھی مونڈے اس نرم لمس کو محسوس کرنے لگا۔۔۔
بس کرو۔۔۔ چائے پیتے ہیں ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔۔۔ امان نے اسکا ہاتھ تھام کر سر سے ہٹایا اور بیڈ کڑاوں سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔۔۔
امان اب ایک بات پوچھوں آپ سے سچ سچ بتائیں گے۔۔۔ عفرا نے چائے والی ٹرے اٹھا کر اپنے اور امان کے درمیان میں رکھی۔۔۔
پہلے کبھی جھوٹ بولا ہے کیا۔۔۔ امان چائے کا کپ اٹھاتے ٹھٹکتا۔۔۔
جھوٹ نہیں بولتے لیکن باتیں چھپا بھی جاتے ہیں۔۔ اسی لئے حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے ہی پوچھ لیا۔۔۔ خیر آپکو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ عفرا نے مسکرا کر کہتے مٹھائی اٹھا کر امان کے منہ میں ڈالنی چاہی جیسے دیکھ اسنے مسکراتے ہوئے منہ کھولا۔۔۔
ایسی کونسی بات ہے۔۔۔ اب تو مجھے بھی تجسس ہونے لگا ہے۔۔۔ مان نے ادھ کھائی وہی مٹھائی اسکے ہاتھ سے تھام کر عفرا کے منہ میں ڈالی۔۔۔
آپ ٹھیک نہیں ہیں امان۔۔۔ آپ پریشان ہیں۔۔۔ چاہیے بزنس کو لے کر ہی ہوں۔۔ لیکن ان دنوں آپ کچھ تھکے تھکے اور ضرورت سے زیادہ ہی پریشان لگے ہیں مجھے۔۔۔ اور میری دلی خواہش ہے امان کہ آپ اپنی پریشانی مجھ سے شیئر کریں۔۔۔ ٹھیک ہے ہو سکتا ہے کہ میرے پاس اپکے مسلے کا حل نا ہو لیکن بعض دفعہ دل کی بات کہہ لینے سے اپنی پریشانی شیئر کر لینے سے دل کا بوکھ کچھ ہلکا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
اب پلیز یہ مت کہیے گا کہ اپنے دکھوں کا اشتہار نہیں لگاتے۔۔ اپنے مسلے اپنی حد تک محدود رکھتے ہیں۔۔۔ وہ امان کو منہ کھولتا دیکھ بعجلت گویا ہوئی۔۔۔ آپ سیلف میڈ لوگوں کا یہ بھی ایک بہت بڑا مسلہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ اپنی جان پر ہی سہتے سہتے ختم ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو ہوا بھی نہیں لگنے دیتے۔۔۔ امان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ نڑوٹھے پن سے مزید کہنے لگی۔۔۔ امان اسے دیکھتا پورے دل سے مسکرا دیا۔۔۔
لیکن پتہ یے کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا تو آپ مجھ سے سب شیئر کر سکتے ہیں یہ اصول و قوائد مجھ پر لاگو نہیں ہوتے۔۔۔ وہ ہنوز دوسری طرف دیکھتی نڑوتھے پن سے گویا ہوئی جیسے پریقین ہو کے وہ اس سے کچھ بھی شیئر نہیں کرے گا۔۔۔
ارے ہماری عفی پرنسس کب اتنی بڑی ہوگئ کے اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگی۔۔۔ وہ اسکی باتوں سے محظوظ ہوتا اسکی ناک دباتا شرارت سے گویا ہوا۔۔۔ لیکن عفرا کو وہ اسے صاف اپنا مزاق اڑاتا محسوس ہوا۔۔۔
مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ آپ مجھ سے کچھ شیئر نہیں کریں گے۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ اب میں بھی آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گی۔۔۔ مجھے امی کے گھر چھوڑ کر آئیں وہ میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔ وہ غصے سے امان کو دیکھتی ٹرے اٹھا کر اٹھنے لگی جب امان نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے واپس بستر پر بیٹھایا۔۔۔
ایک تو چھوٹی سی ناک ہے جس پر بھی ہمہ وقت غصہ دھرا رہتا ہے۔۔
امان کی اس گوہر افشانی پر عفرا نے حیرت و صدمے سے گنگ ہوتے امان کو دیکھا۔۔۔۔
ایسے نا دیکھو نا یار۔۔۔ امان نے ٹرے اٹھا کر واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور خود وہیں پھر سے نیم دراز ہو گیا۔۔۔
بولا تو تھا عفی کہ بزنس کو ایک سٹیپ مزید آگے بڑھانے والا ہوں اس لئے تھوڑی پریشانی ہے۔۔۔ اسنے نیم دراز ہوتے واپس عفرا کا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھا۔۔۔
اشارہ واضح تھا جسے سمجھتے وہ نرمی سے اسکا سر دبانے لگی۔۔۔
امان ایک بات بولوں پاکستان میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگ ہیں جو چائے کا کام کرتے ہیں۔۔۔ کچھ ٹھیلے لگاتے ہیں جبکہ کچھ کی باقاعدہ دکانیں ہیں۔۔۔ تو آپکو اس کام میں کہاں سے اتنا سکوپ نظر آ گیا جو آپ نے اپنا سب کچھ اس بزنس پر لگا دیا۔۔۔
عفرا الجھا الجھا سا گویا ہوئی تو وہ مسکرا دیا۔۔۔
یار بات صرف اس کام کو شروع کرنے کے لئے آپکے اندر موجود جزبے کی ہوتی ہے۔۔۔ مجھے اس کام میں سکوپ نظر آیا کیونکہ ابھی تک کسی چائے والے نے اس طریقے سے چائے کا کام نہیں کیا تھا جیسا میرا دماغ مجھے سمجھا رہا تھا۔۔۔
جس روز میں نے پہلی دفعہ چائے کا ٹھیلہ لگایا اس روز کوئی ایک بھی کسٹمر میرے پاس چائے پینے کے لئے نہیں آیا۔۔۔ میں شام تک کھڑا انتظار کرتا رہا۔۔۔ لیکن میرے کام میں ایسا کچھ خاص نا تھا کہ کوئی میرے پاس آتا پھر میں نے سوچا کہ اگر کسٹمرز میرے پاس نہیں آتے تو مجھے خود ان تک جانا چاہیے۔۔۔
شام کے وقت روڈ کنارے جب سگنل بند ہوا اور گاڑیاں
رکنی شروع ہوئیں تو میں نے ایک ٹرے میں دو کپ چائے کے رکھے ساتھ میں ایک کارڈ اور دو ٹشو اپنی پریزنٹیشن سے مطمیئن ہو کر میں ان گاڑیوں کے پاس گیا ایک ایک کا شیشہ کھٹکھٹایا اور کہا۔۔۔
A_0_A. This is Aman and I have started a new tea business.
Would you like to have tea with me?
تم امیجن نہیں کر سکتی عفرا کہ ہر انسان ایک چائے والے کے منہ سے شستہ انگلش سن کر کس قدر حیران تھا۔۔۔ سب کے دماغوں میں جو روڈ کنارے کھڑے چائے والوں کو لے کر ایک سکیچ بن چکا تھا اس میں ڈراریں پڑنے لگیں تھیں۔۔۔ لوگ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہاں چائے پینے آتے تھے اور اگلے روز اپنے دوستوں کو بھی وہاں اس عجیب و غریب چائے والے کو دکھانے ساتھ لاتےتھے۔۔۔
پہلے دن شام کے وقت اس مختصر سے وقت میں میں نے آٹھ سو روپے کمائے۔۔۔ وہ میری پہلی کمائی تھی اور میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ اس وقت میرے احساسات کیا تھے۔۔۔
امان کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا نم آنکھوں اور مسکراتے چہدے کیساتھ بول رہا تھا۔۔۔
اور آج عفرا کی سب سے بڑی الجھن بھی دور ہو گئ تھی۔۔۔ وہ جو ہمیشہ سے یہ ہی سوچتی تھی کہ شہر میں سینکڑوں چائے والے ہیں لیکن امان کیسے اتنی جلدی ایک ٹھیلے سے دکان تک کا سفر طے کر گیا تھا۔۔۔ اور اب پھر ایک سٹیپ آگے لینے کا سوچ رہا تھا تو اب اسے سمجھ آ رہا تھا وہ واقعی اپنے دماغ اور اپنی محنت کے بل پر آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔
پھر اب کیا مسلہ درپیش ہے امان۔۔۔
اب دراصل مجھے تھوڑا اور آگے بڑھنا ہے۔۔۔ اپنے شہر میں سی اے چائے والا اپنا ایک مقام بنا چکا ہے اب مجھے کچھ مزید آگے بڑھنا ہے اب میرا ٹارگٹ اپنا شہر نہیں بلکہ پنجاب ہے۔۔۔ اب مجھے پورے پنجاب میں اپنی پہچان بنانی ہے اور اسکے لئے اپنی سٹریٹیجی پر کام کرنے کے لئے میں ایک مخصوص دن کا انتظار کر رہا ہوں جب میں سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کرتا کچھ مزید گرو کروں گا۔۔۔
لیکن اب اصل بات سرمائے کی ہے کیونکہ اپنے اس ہلان پر عملدرآمد ہونے کے لئے مجھے کچھ رقم درکار ہے۔۔۔ اور کسی بھی بینک سے اتنے شارٹ نوٹس پر لان منظور نہیں ہو رہا ۔۔۔ لیکن تم فکر مت کرو میں مینج کر لوں گا۔۔۔ امان نے بات کرتے اپنے ماتھا مسلہ جیسے واقع وہ اس بات کو لے کر خاصا الجھا ہوا ہو۔۔۔
امان آپ ایک کام کیوں نہیں کرتے میری جیولری سیل کر دیں۔۔ مجھے امید ہے کے آپ جلد ہی مجھے اس سے بھی بہتر جیولری۔۔۔
ہرگز نہیں عفرا۔۔۔ میں مینج کر لوں گا۔۔۔ عفرا کی بات پر اسکے ماتھے پر بل پڑے اور وہ غصے سے اسکی بات کاٹتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
کیوں نہیں۔۔ آپ کیوں نہیں بیچیں گیے جیولری۔۔۔ وہ بھی کہاں دبی تھی اسکے غصے کے آگے بلکہ خود بھی ماتھے پر بل ڈالتی اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔
جیولری کسی کی ہے۔۔ میری۔۔۔ اسنے امان کی آنکھوں میں دیکھتے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔۔
اور میں کس کی ہوں۔۔۔ اور اب کی بار آنکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ ایک چیلنج بھی تھا۔۔۔ یا پھر آپ مجھے اپنا مانتے ہی نہیں۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ عفرا۔۔۔ کہاں سے سیکھ رہی ہو یہ اندازو اطوار۔۔۔ وہ اتنی پریشانی میں بھی اسکے ایسے اندازو اطوار دیکھتا قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
بات مت بدلیں امان۔۔۔ میں بیوی ہوں آپکی اور آپکی مدد کر سکتی ہوں اب آپ اس بارے میں مجھ سے کوئی بحث نہیں کریں گے۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن خالہ کی طرف والی جیولری نہیں۔۔ وہ زیوارت جو امی نے تمہیں شادی پر دیئے ہیں وہ مجھے دے دینا کوشیش کروں گا کہ انہیں بیچنے کی بجائے گروی رکھوا سکوں اور جلد از جلد انہیں واپس حاصل کر سکوں۔۔۔ لیکن وہ بھی ابھی نہیں جب چاہیے ہونگے تب تم سے لے لوں گا۔۔۔ اور اس درمیان کوشیش کروں گا کہ کوئی اور سبیل نکل آئے۔۔۔
اب وہ واقعی کچھ سوچتا ہوا گویا ہوا۔۔۔ عفرا نے واقعی اسے ایک راستہ دکھاتے اسکا مسلہ کافی حد تک حل کر دیا تھا۔۔۔ وہ پڑیکٹیکل انسان تھا اور جذباتیت سے نکل کر لمحوں میں جمع تفریق کر چکا تھا۔۔۔ اگر اسکی سٹریٹیجی کامیاب نکلتی تو وہ جلد ہی وہ زیوارت واپس حاصل کر لیتا۔۔۔۔ٹھیک ہے اب اگر آپ کچھ بہتر محسوس کر رہے ہیں تو مجھے امی کی طرف چھوڑ دیں۔۔۔ یا پھر میں شام کو۔۔۔
عفرا اسے دیکھتے کہہ رہی تھی جب وہ بستر سے اترتا اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
نہیں خالہ تمہارا انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔ میں پہلے تمہیں چھوڑ آتا ہوں لیکن پلیز مجھے وہاں روکنا مت میں شام میں یا کل وہاں چکر لگا لوں گا۔۔ کیونکہ اب میں واپس آ کر کچھ دیر آرام کروں گا کیونکہ تمہیں پتہ ہے کہ رات بھی میں سو نہیں پایا تھا۔۔۔
وہ بائیک کی چابی اٹھا کر کمرے سے باہر نکلا۔۔
اگر طبیعت ٹھیک نہیں تو ہم شام میں۔۔۔
نہیں یار تم امی سے مل کر اپنا بیگ اٹھا کر باہر آ جاو میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی مان اسکی بات کاٹ کر باہر نکل گیا۔۔۔
*****
صلہ ایک بھرپور نیند لے کر اٹھی تھی۔۔۔ اب وہ خود کو کافی فریش محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اٹھ کی شاور لینے کے بعد وہ بال بنا کر ہلکا پھلکا سا تیار ہوتی مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
ماں ٹیبل پر برتن سیٹ کر رہی تھیں۔۔۔۔ ارے اٹھ گئ صلہ۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔۔۔ ماں اسکے کھلے کھلے سے چہرے کو دیکھیتیں مستفسر ہوئیں۔۔۔
بہت بہتر ہے اب ماں۔۔۔ لائیں یہ مجھے دیں میں سیٹ کرتی ہوں ۔۔۔ وہ ماں کے ہاتھ سے برتن تھامنے کو انکی جانب بڑھی ۔۔۔
ارے نہیں یہ تو میں کر ہی رہی ہوں۔۔۔ تم کچن سے برتن لا کر یہاں رکھو۔۔۔
عفرا کا بھی فون آیا ہے وہ بھی بس پہنچنے والی ہی ہے۔۔۔ ماں کے کہنے پر وہ کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
اسنے برتن لا کر ابھی میز پر رکھے ہی تھے کے باہر سے بیل بجنے کی آواز آئی۔۔۔
لگتا ہے عفرا آ گئ۔۔۔ ماں مسکرا کر گویا ہوئیں۔۔
میں دیکھتی ہوں ماں۔۔۔ وہ مسکرا کر دروازے کی جانب بھاگی۔۔۔
ارے بیٹا سمبھل کر۔۔ ماں نے اسکی جلد بازیاں ملاخظہ کرتے اسے ٹوکا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ دروازہ وا کرتے ہی عفرا چہکتی ہوئی بہن کے گلے لگی۔۔۔ پیچھے ہی امان بھی کھڑا تھا۔۔۔ جسے دیکھتے ہی صلہ جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔۔۔ نظریں آپنے آپ ہی جھک گئ۔۔۔ امان نے بنا ایک بھی نگاہ غلط اس پر ڈالے عفرا کا بیگ اور مٹھائی کا ڈبہ اسے تھمایا۔۔۔۔
عفرا اپنا سامان تھام کر چہکتے ہوئے اندر ماں کی جانب بڑھی جبکہ امان اسے مسکرا کر دیکھتا ایک نظر سر جھکائے کھڑی صلہ پر ڈال کر واپس پلٹا جبکہ صلہ کے ہونٹوں پر ایک اداس مسکراہٹ ابھری۔۔۔ یہ منظر دور سے آتے بالاج نے غور سے دیکھا تھا۔۔۔ امان بائیک سٹارٹ کر کے جا چکا تھا جبکہ صلہ ہنوز بھرائی نگاہوں سے اسی طرف دیکھ رہی تھی یہ شاید اندر کا پچھتاوا تھا جو امان کو یوں سامنے دیکھ کر اسے کچوکے لگا رہا تھا کہ صلہ نے اپنی حماقت کے ہاتھوں اس شخص کو بہت ڈی گریڈ کیا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ دروازہ بند کرتی بالاج وہیں بائیک روک کر اندر کی جانب بڑھآ۔۔۔ ایک جھٹکے سے گیٹ پر ہاتھ مارتے پورا گیٹ وا کیا۔۔۔
صلہ اچھل کر پیچھے ہٹتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
بالاج یہ کیا۔۔۔
کیا کر رہا تھا یہ شخص یہاں۔۔۔ بنا صلہ کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیے وہ اسے اسکی بازو سے دبوچتا ایک طرف لے کر آیا۔۔۔ صلہ نے اسکی آنکھوں سے واضح شعلوں کی لپک آتی دیکھی۔۔۔
اسکی جنونیت دیکھتی وہ لمحوں میں بوکھلا گئ۔۔۔ کیا ہو گیا ہے بالاج۔۔ وہ شخص۔۔۔
وہ شخص تمہارا سابقہ۔۔۔ اس سے پہلے کے صلہ کچھ بولتی وہ غصے سے غرا اٹھا جب صلہ اسکی بات کا مفہوم سمجھتی تڑپ کر چیخ اٹھی۔۔
وہ شخص میری بہن کا شوہر ہے بالاج۔۔۔ شدت ضبط سے صلہ کا چہرا ٹمٹما اٹھا تھا۔۔۔ آخر وہ سوچ کیا رہا تھا اسکے بارے میں۔۔۔
صلہ یو۔۔ بالاج نے پھنکارتے ہوئے اسکی جانب انگلی اٹھائی ۔۔۔ صلہ کو اسکی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت سے جی بھر کر خوف محسوس ہوا۔۔۔
*****
