Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اسکے سر پر جمے آنچل کو اڑا کر پیچھے دھکیل رہے تھے جسے وہ ایک ہاتھ سے سختی سے پکڑے بیٹھی تھی۔۔۔ بائیک روڈ پر فراٹے بھر رہی تھی جبکہ امان کے پیچھے بیٹھی عفرا کا بس نا چل رہا تھا کے اسے کچا ہی چبا جائے۔۔۔

کیا ہوا عفی پرنسیس اتنی خاموش کیوں ہوں۔۔۔ بائیک چلاتے امان نے جان بوجھ کر شریر اندز میں اسے پچکارا۔۔۔ وہ خاصا میچور شخص تھا لیکن رشتہ بدلتے ہی ناجانے وہ کیوں عفرا کو اتنا تنگ کرنے لگا تھا۔۔۔ شاید کہیں نا کہیں اپنے ان رویوں کا اثر زائل کرنا چاہتا تھا جو انجانے میں ہی صحیح پر اسنے روا رکھے تھے۔۔۔

مجھ سے بات کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔ جھوٹے مکار ہیں آپ۔۔۔ جھوٹے جھوٹے جھوٹے۔۔۔۔ امی سے اتنے جھوٹ بولے آپ نے۔۔۔

وہ تو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی ناجانے کس ضبط سے ابھی تک خاموش تھی لیکن امان کی چھیر خانی پر ہاتھ میں تھاما کلچ پے در پے امان کے کندھے پر برساتی پھٹ پڑی۔۔۔

ارے ارے تم تو باگر بلی سے جنگلی بلی بن گئ ہو۔۔۔ اب کیا ایکسیڈینٹ کرواو گئ۔۔۔

وہ اپنے بچاو میں زرا سا جھکا تو بائیک زرا سی لہرائی۔۔۔

بائیک لہرانے پر عفرا اسکے کندھے پر اپنے گرفت مضبوط کرتی سیدھی ہوئی۔۔۔

میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا اس روز بھی تم نے خود چائے گرا کر میرا نام لگا دیا تھا امی کے سامنے۔۔ وہ عفرا کے پیج و تاب کھانے پر محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔

وہ غلط فہمی تھی امان جسے بعد میں میں نے کلیئر کر دیا تھا۔۔۔۔ کچھ لمجے منہ کھولے شاک میں رہنے کے بعد وہ دانت پیس کر گویا ہوئی۔۔۔

تو آج بھی محض غلط فہمی ہی ہوئی تھی جسے میں نے بھی بعد میں دور کر دیا۔۔ وہ کندھے اچکاتا اسے چڑاتے ہوئے حقیقی بات بتا گیا تھا۔۔۔ جسکا یقین نا کرتے وہ امان کی بینڈ بجانے کا پورا اراداہ بناتی خاموشی سے بیٹھی رہی۔۔۔

بائیک گھر کے دروازے کے سامنے آ کر رکی تو وہ بنا امان کی جانب دیکھے غصے سے بائیک سے اتر کر اندر کی جانب بڑھی۔۔۔

ارے گیٹ تو کھول دو وہ اسے بنا گیٹ کھولے اندر بڑھتا دیکھ گویا ہوا۔۔۔

خود کھولیں۔۔۔ وہ ایک پل کے لئے رک اسکی جانب مڑی اور چبا چبا کر کہتی اسے حیران چھوڑ کر چھپاک سے اندر داخل ہو گئ۔۔۔

*****

اگلے دن صلہ بالاج کے آفس جانے سے ایک گھنٹہ پہلے کا الارم لگا کر سوئی اور وقت پر اسے ناشتہ تیار کر کے دیا۔۔۔ وہ الگ بات کے اسکا اور اپنا ناشتہ بنانے کے سوا اسنے کسی کو جھوٹے منہ پوچھا تک نہیں ۔۔۔ بالاج کے ناشتہ کر کے جانے کے بعد وہ پھر سے سو گئ۔۔۔ لیکن یہ حقیقت تھی کہ وہ سارا دن کمرے میں اکیلی بیٹھ کر بھی نہیں گزار سکتی تھی۔۔۔ اسنے فرصت سے بیٹھ کر اس چیز پر بہت سوچا اور بلآخر اسی فیصلے پر پہنچی جب اب یہ گھر اسی کا ہے اور رہنا بھئ یہیں پر ہے تو مکمل نہیں تو تھوڑی بہت دلچسپی اسے بھی گھر کے کاموں میں لینی ہی چاہیے۔۔۔ گھر والوں سے تھوڑے مراسم بہتر کر لینے چاہیے کہ یہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ پوری زندگی کا سوال تھا۔۔۔ اسی غرض سے وہ کمرے سے باہر نکلنے لگی ۔۔ تائی جان سبزی کاٹ رہی ہوتی تو وہ ہانڈی بنا لیتی۔۔۔ وہ ہانڈی بنا رہی ہوتی تو وہ خاموشی سے روٹیاں بنانے لگتی۔۔۔ گھر میں بکھیرا ہوتا تو خاموشی سے وہ سمیٹ دیتی۔۔۔ کچن میں برتن دھونے والے دکھتے تو کھڑے کھڑے انہیں دھو دیتی۔۔۔ باقی وہ سوتی جاگتی اب بھی اپنے وقت پر ہی تھی اور گھر والوں سے بات چیت بھی برائے نام ہی ہوتی البتہ کرن آتی جاتی کوئی نا کوئی طنز کے تیر اچھال دیتی جسے کبھی تو وہ ضبط سے نظر انداز کر دیتی اور کبھی اس سے لڑ پڑتی لیکن یہاں اسنے یہ ایک بات سیکھی تھی کے وہ لڑنے میں یا ذبان دراضی میں کبھی ان سے جیت نہیں سکتی تھی کیونکہ اس مقابلے میں وہ خاصی اناڑی تھی۔۔۔ وہ زبان دراضی میں انکے لیول تک جا ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔لڑائی میں وہ کہاں کی بات کو کہاں پر جوڑتیں کے اسکے وہم و گمان میں بھی نا ہوتا اور وہ چکرا کر رہ جاتی۔۔۔ اسے لگتا کہ اب تک کی زندگی میں اسنے تو کچھ سیکھا ہی نہیں۔۔۔ لوگوں کی چالاکیاں اور اور خود غلط ہو کر بھی دوسروں کو پھنسا دینا یہ کونسی دنیا تھی جس سے وہ اب جا کر آشنا ہوئی تھی۔۔۔ کبھی وہ حالات سے دلبرداشتہ ہو کر کمرے میں چھپ کر رو پڑتی اور کبھی بالاج کی محبت سبھی دکھ دردوں کا مداوا کر دیتی۔۔۔۔

زندگی شاید اسی کا نام تھا اور اسکی زندگی کی گاڑی بھی چل کم گھسیٹی زیادہ جا رہی تھی اور وہ حالات کی الٹی چلتی تند و تیز ہواوں میں ابھی سے تھکنے لگی تھی۔۔

****

خالہ۔۔۔ خالہ۔۔۔ عفرا خالہ کو آوازیں دیتی روتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور خالہ جو ابھی ابھی کچن سے چائے بنا کر نکلی تھیں اسے یوں روتا ہوا اپنی جانب بڑھتا دیکھ دہل کر کپ وہیں رکھتیں اسکی جانب بڑھیں۔۔۔

عفرا بچے کیا ہوا۔۔۔

امان جو خود گیٹ کھول کر بائیک کھڑی کر کے اندر آ رہا تھا اندر اسکی کارستانیاں دیکھ کر آنکھیں زور سے میچتا ہاتھ بالوں میں پھیر کر رہ گیا۔۔۔

جب اسنے خالہ کے سامنے لحاظ نہیں رکھا تھا تو پھر عفرا سے کیسے توقع رکھ سکتا تھا۔۔۔

خالہ امان نے امی کے سامنے میری اتنی جھوٹی شکایتں لگائیں ۔۔۔ وہ کہتے ہیں میں آپکو ہر وقت انکی جھوٹی شکایتیں لگا کر ان کے خلاف بھرکاتی ہوں۔۔ خالہ انہوں نے مجھے امی سے اتنی ڈانت پڑوائی ۔۔۔ اوپر سے اتنا احسان کر کے مجھے لینے گئے کہ میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔ اب پاکستان کے پرائم منسٹر یہ ہی تو ہیں جو انکے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔ وہ خالہ کے گلے لگے سوں سوں کرتی آنسو بہاتی انہیں امان کی شکایتیں لگا رہی تھی۔۔۔

تو کیا غلط کہہ دیا میں نے کر تو تم اب بھی وہی رہی ہو۔۔۔ امان نے برآمدے میں لگے کی سٹینڈ پر چابیاں لٹکائیں اور آگے بڑھا ہی تھا جب بلبلا کر رکا۔۔۔

آہ ماں میرا کان۔۔۔ نزہت بیگم کی گرفت میں اپنا کان دیکھتے وہ کان چھڑوانے کو دہرا ہوا۔۔۔

کب باز آو گئے اپنی حرکتوں سے ہاں۔۔۔ ایسے تھے تو نہیں۔۔۔ پھر یہ سب کیوں کر رہے ہو۔۔۔

وہ خاصی سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔۔۔

ماں آپکی بھانجی کی صحبت کا اثر ہے اب بچی کے ساتھ بچہ تو بننا ہی پڑے گا نا۔۔۔۔اس وقت بھی وہ شرارت کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔ امان کی بے تکی بات پر خالہ نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی جبکہ عفرا غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئ۔۔۔ خالہ یہ خود جو بوڑھے ہو گئے ہیں اس لئے میں انہیں بچی دکھائی دے رہی ہوں۔۔۔ امان کو دیکھتی وہ دانت پیس کر کہتی خالہ سے مخاطب ہوئی۔۔۔ اسکی بات پر امان نے اپنا قہقہ ضبط نہیں کیا تھا جو اسے مزید آگ لگا گیا جبکہ خالہ بھی ان دونوں کو بچہ بنا دیکھ مسکرا دیں۔۔۔

ویسے بھی میں مذاق کر رہا تھا ماں۔۔۔ اسنے ماں کی گرفت سے کان چھڑواتے اپنا کان سہلایا۔۔۔۔

میں تمہیں آخری بار سمجھا رہی ہوں امان اب دوبارہ اگر تم نے بچی کو تنگ کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں۔۔۔

خالہ کے تنبیہی انداز میں وہ سعادت مندی سے سر ہاں میں ہلاتا اندر چلا گیا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد عفرا گم صم سی اندر داخل ہوئی تو وہ اپنی سٹڈی ٹیبل پر براجمان سامنے ٹرائی پوڈ سٹینڈ سیٹ کئے ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔۔۔ اسے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ اسنے اشارے سے اسے خاموش رہنے کا بولا اور ہنوز اپنے کام میں مشغول رہا وہ کاوئچ پر بیٹھ کر اسے ہی دیکھنے لگی جو بنا اسکا نوٹس لئے ہنوز اپنے کام میں مشغول تھا۔۔۔

وہ باتیں بہت اچھی کرتا تھا اور اپنے اسی ٹیلنٹ کو بروئے کار لاتے وہ موٹیویشنل سپیکنگ پر ویڈیوز بناتا تھا۔۔۔ یہ یوٹیوب چینل اسنے ایک سال پہلے شروع کیا تھا جس پر ابھی اسکے محض دس ہزار سبسکرائبرز تھے۔۔۔ اب بھی وہ سٹودینٹس کے امتحانات کے دوران ٹائم ٹیبل کو سیٹ کرنے اور بہتریں اوقات میں اہم اسباق کے مطالعے کے حوالے سے ویڈیو بنا رہا تھا۔۔۔ وہ انہی ٹاپکس کو منتخب کرتا جس میں اسکا اپنا تجربہ ہوتا۔۔۔

وہ اسکی باتوں میں اتنا کھوئی کہ اندازہ ہی نا ہوا کہ کب اسنے ویڈیو مکمل کی اور ساتھ ہی ٹرائی پوڈ سٹینڈ فولڈ کر کے اسے سٹڈی ٹیبل کے نچلے دراز میں رکھا۔۔۔

اب تو اپنا بدلہ لے چکی ہو عفرا پھر اب کیوں منہ پھلائے بیٹھی ہو۔۔۔ وہ سنجیدہ سا موبائل تھامے اب ہلکی آواز مین اپنی ویڈیو سنتا اسے ایڈیٹ کرنے لگا تھا مگر اسکے باوجود وہ اسکی اداسی بھانپ چکا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے والے شریر سے امان کا کہیں کوئی شائبہ تک نا تھا۔۔۔۔

عفرا نے زخمی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

امی مجھ سے ناراض ہیں امان صرف آپکی وجہ سے۔۔۔ اور میں انکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ ایک آنسو لڑھک کر اسکی گال پر گڑا۔۔۔

امان نے زرا کی زرا نگاہیں سکرین سے اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

وہ تم سے ناراض نہیں ہیں عفرا۔۔۔ وہ سب ایک مذاق تھا اور آنے سے پہلے میں ان سے ساری بات کلیئر کرکے آیا تھا۔۔ یقین نہیں تو تم انہیں فون کر کے پوچھ لو۔۔۔

اماں کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ وہ آنسو صاف کرتی ٹھٹھکی۔۔۔۔۔

آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔ بے یقینی سے پوچھا۔۔۔

میں جھوٹ نہیں بولتا عفرا اور یہ بات تم جانتی ہو۔۔۔ ہنوز مصروف سا انداز تھا۔۔۔ عفرا کو اسکی بات پر اعتبار کرنا پڑا لیکن دل میں گویا ایک گھونسا پڑا۔۔۔

وہ کچھ دیر پہلے اسے چڑاتا ہی اچھا لگ رہا تھا اب اسکا یہ سنجیدہ انداز اسے ایک آنکھ نا بھایا۔۔۔

آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا۔۔۔ دل کی کش مکش وہ جھجھکتے ہوئے زبان پر لے ہی آئی۔۔۔

اسکی بات پر امان نے موبائل کی سکرین سے نظریں اٹھاتے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔

میں تم سے ناراض کیوں ہو گا عفی۔۔۔ بس ابھی زرا کام میں مصروف ہوں۔۔۔

افف اسکا عفی کہنا دل کو کتنا بھلا لگتا تھا۔۔۔

مجھے ابھی کچھ کام ہے عفرا لیکن تم سو جاو۔۔۔ اگر تمہیں روشنی میں نیند نہیں آتی تو میں باہر چلا جاتا ہوں وہ ابھی تک اسے ہنوز کاوئچ پر بیٹھے دیکھ اسکے آرام کے احساس کے تحت گویا ہوا کیونکہ گھڑی رات کے گیارہ کا ہندسہ عبور کر گئ تھی۔۔۔

نہیں مجھے کوئی مسلہ نہیں میں ایسے ہی سو جاوں گی آپ اپنا کام کریں۔۔۔ ویسے آپ کب تک سوئیں گے۔۔ اور اتنی لیٹ سو کر آپ اتنی جلدی کیسے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔ آپ تو بہت ہیلتھ کانشیس ہیں۔۔۔ اس طرح کے الٹے سلیپ سائیکل سے آپکی صحت متاثر نہیں ہوتی۔۔۔ وہ بیڈ پر جاکر تکیہ سیدھا کرتی حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔۔

میں کچھ دیر تک سو جاوں گا۔۔۔ ابھی ویڈیو ایڈیٹ کرنی ہے تاکہ صبح کام پر جانے سے پہلے اپلوڈ کرسکون اور اگلی ویڈیو کے کانٹینٹ کے مین پوائنٹس بھی لکھنے ہیں۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے اب عادت ہو چکی ہے۔۔۔ کہتے ہیں جو اپنی جوانی کے شروعاتی دنوں میں انتھک محنت کر لیتے ہیں نا وہ پھر پوری زندگی سکون سے گزارتے ہیں اس کے برعکس جو اپنی جوانی کے ابتدائی سال فضول چیزوں جیسے سوشل میڈیا مویز دیکھنے میوزک سننے اور باقی انٹرٹینینگ کاموں میں گزار دیتے ہیں نا پھر وہ باقی کی پوری زندگی کولہو کے بیل کی طرح انتھک محنت کرتے ہیں۔۔۔ اور دن رات میں سات گھنٹوں کی نیند لینا آپکی صحت کے لیے بہت بہت ضروری ہے ورنہ اس سے سب سے زیادہ آپکی فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے کیونکہ ذہن فریش نہیں ہوتا تو آپکے بہت سے کام متاثر ہونے لگتے ہیں اس لئے پانچ گھنٹے کی نیند رات میں لینے کے بعد میں کوشیش کرتا ہوں کہ ایک سے ڈیرھ گھنٹے کا نیپ دن میں لے لوں۔۔۔ وہ ہنوز مصروف سا گویا ہوا۔۔۔ نظریں ابھی بھی موبائل کی سکرین پر ہی ٹکی تھیں۔۔۔۔

اسی کی باتوں کو سوچتی وہ تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئ جبکہ وہ ہنوز اپنے کام میں مصروف تھا۔۔۔ اسکے خواب بڑے تھے تو انکی تکمیل کے لئے محنت بھی ضروری تھی۔۔۔ وہ اسے بتا نا پایا کہ جب اسکا کوئی کام اٹک جاتا تھا تو وہ اتنی شدت سے اسے فکس کرنے میں لگ جاتا کہ جب تک وہ فکس نا ہو جاتا وہ نیند تو کیا بھوک پیاس تک کو نظر انداز کر جاتا۔۔۔ اور اسی چکر میں وہ بعض اوقات چار گھنٹے کی نیند بھی نا لے پاتا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اب اسکا جسم محنت کا عادی ہوتا جا رہا تھا اسکی ول پاور بڑھنے کے ساتھ ایک ہیلڈی لائف سٹائل پر عملدرامد رہ رہ کر اسکا ایمیون سسٹم بھی کافی مضبوط ہو گیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ کسی بھی صورت ورک آوٹ اور مارنینگ واک کی روٹین میں گیپ لانے کا متمنی نا تھا نیز وہ کوشیش کرتا کہ زیادہ سے زیادہ ہیلڈی خوراک ہی کھائے۔۔۔ یہ سب چیزیں مل کر اسکے انیس بیس کے فرق کو مینج کر جاتیں۔۔۔۔

*****

پچھلے کچھ دنوں سے زندگی جیسے ٹریک پر آ رہی تھی۔۔۔ صلہ اس گھر میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ سب کچھ کافی حد تک بہتر ہو رہا تھا لیکن برا ہو جو اس روز ثانیہ اپنے بچوں سمیٹ سسرال والوں سے لڑ کر وہاں آ دھمکی۔۔۔ اس کے بعد گویا گھر گھر نا رہا چڑیا گھر بن گیا۔۔۔

ہر وقت بچوں کی لڑائیاں ۔۔۔ ثانیہ کا ان پر چیخنا چلانا کبھی تھپڑ لگانا پھر انکا نا بند ہونے والا ریڈیو چل نکلنا۔۔۔ کبھی انکی آپس میں چھینا چھپٹی۔۔۔ ہر وقت گویا گھر میں بونچال آیا رہنا۔۔۔ کسی چیز کا اسکے مقام سے نا ملنا۔۔۔

اور سب سے بڑھ کر گھر ایک پل کے لیے بھی صاف نا رہنا۔۔۔ بچے جہاں بیٹھے کھانے کے برتن اور پانی کے گلاس وہیں چھوڑ دیتے اور دوسرا آ کر وہیں پانی گرا دیتا۔۔ چیزوں کے ریپر ہر جگہ بکھرے رہتے۔۔ حتی کے تکیے اور چادریں تک اپنی جگہ سے نا ملتی۔۔۔ کچن صفائی کے باوجود ہر وقت پھیلا رہتا۔۔۔ بچے خود ہی میٹھا پانی بنا کر پیتے وہیں چینی اور وہیں بچا پانی گرا دیتے۔۔۔ ہر وقت مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔۔۔ انکا شور لڑائی جھگڑے چیخنا چلانا ۔۔۔ صلہ کو اپنا سر پھٹتا محسوس ہوتا۔۔۔ دل چاہتا اس ماحول سے کہیں دور بھاگ جائے۔۔۔ کچھ اسکی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں تھئ وہ اس چڑیا گھر جیسے ماحول سے مکمل اکتانے لگی تھی۔۔۔ اب تو بس دعائیں کر رہی تھی کے ثانیہ جلد از جلد اپنی یہ پلٹوں لے کر یہاں سے چلی جائے جس کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تِھے۔۔۔۔

******