khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
دوپہر کے بعد سے صلہ کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔ نا وہ کمرے سے باہر نکلی اور نا کسی اور نے اسکے کمرے میں آنے کی کوشیش کی۔۔۔ وہ کمرے میں ہی جلے پیر کی بلی کی مامند ادھر سے ادھر چکراتی بالاج کی واپسی کی منتظر تھی۔۔۔ وہ ہر کچھ دیر بعد اسے میسج کر کے اسکی واپسی کے بارے میں پوچھتی۔۔۔
پلیز بالاج جلدی گھر آجاو اور آتے ہوئے کچھ اچھا سا کھانے کو لیتے آنا اب میرا بھوک سے برا حال ہو رہا ہے۔۔۔ آخری میسج بالاج کو سینڈ کر کے وہ کچھ دیر کے لئے بستر پر لیٹ گئ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد بالاج کی گھر واپسی ہوئی۔۔ اسکا موڈ نہایت خراب تھا۔۔۔ صلہ کی زبانی وہ آج صبح کا سارا معاملہ جان چکا تھا۔۔۔
اسنے ہاتھ میں تھاما کھانے کا شاپر کچن میں رکھا اور خود لاوئنج میں آگیا۔۔۔ وہ تینوں بہنیں وہیں ماں کے پاس بیٹھیں تھی۔۔۔
ارے آگے تم بالاج ۔۔۔ اچھی بات ہے شاید اب ہی تمہاری بیوی زرا باہر نکل آئے ورنہ وہ تو ہم میں بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔۔۔ موبائل پر سکرولنگ کرتی ثانیہ اسکی جانب دیکھتی طنزیہ گویا ہوئی۔۔۔
تم میرا منہ نا ہی کھلواو تو بہتر ہے۔۔۔ ایسا کیا کال پڑ گیا یے گھر میں جو گھر میں ناشتے کو کچھ باقی ہی نا بچا۔۔۔ وہ تو پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا ثانیہ کے بات چھیرتے ہی پھٹ پڑا۔۔۔
اوہ اچھا تو بیوی نے تمہارے گھر آنے سے پہلے ہی کان بھر ڈالے۔۔۔ ناہید بیگم اسکے اندازو اطوار دیکھتیں ماتھے پر بل سجھائے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
باہر سے سنائی دیتا شور سن کر صلہ گھبرا کر بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اسے باقیوں کے ساتھ بالاج کے بھی اونچا اونچا بولنے کی آوازیں سنائی دیں تو وہ آنچل کندھے پر ڈالتی بنا جوتا پہنے ڈھرکتے دل کے ساتھ ننگے پاوں ہی باہر کو لپکی۔۔۔
غلط بات مت کریں ماں۔۔۔ کیا یہ بات درست ہے کہ ابھی جسکے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری اسے یہ مہارانیاں کام کرنے کو بولیں۔۔۔ اسے یہاں ناشتہ بھی نصیب نہیں اور ان مہارانیوں کے کھائے برتن وہ دھوئے۔۔۔۔ وہ غصے سے آگ بگولہ ہو رہا تھا۔۔۔ اسے رہ رہ کر اپنی دونوں بہنوں پر غصہ آ رہا تھا جو اپنے گھر جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔۔۔۔
صحیح بات ہے بیٹا۔۔۔ خون سفید ہو گیا ہے۔۔۔ اس کل کی آئی لڑکی نے آتے ہی گھر میں پھوٹ دلوانہ شروع کر دی۔۔۔ اسی لئے تو میں اس رشتے کے خلاف تھی۔۔۔۔جیسی ماں ویسی بیٹی۔۔۔ وہ دروازے کے سہارے فق ہوتی رنگت کیساتھ یہ سارا تماشا دیکھتی صلہ کی جانب دیکھتی گویا ہوئیں۔۔ ماں کی خصلت نا بدلی تو بیٹی۔۔۔
بس تائی جان آپ یوں بلاوجہ میری ماں کو اپنے جھگڑے میں نہیں گھسیٹ سکتیں۔۔۔ وہ کپکپاتے لہجے میں چیخ کر گویا ہوئی۔۔۔ ماں کے خلاف مزید کچھ سننا اسکے بس سے باہر تھا۔۔۔ دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا ٹانگیں کپکپانے لگی تھی۔۔۔۔
اسکی باپ کے موت کے باوجود ماں نے انہیں بہت پرسکون ماحول فراہم کیا تھا۔۔۔ لڑائی جھگڑے طعنے تشنے اور منہ زوری سے پڑے ایک پرسکون ماحول۔۔۔ اب یہ سب اسکے لئے نیا تھا تبھی وہ اس سب کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔ بکواس بند کرو تم اپنی۔۔۔ آتے ہی گھر میں فساد ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔ بیٹے کو ماں کے خلاف کرتی ماں کے مدمقابل لے آئی اور تم میں اتنی جرات کے اب بھی مجھ سے منہ زوری کرو۔۔۔ تم تو ہو ہی منحوس۔۔۔۔ تائی کی باتوں اور لہجے نے تو اسکے الفاظ ہی صلب کر لئے تھے۔۔۔ بولنے کی صلاحیت ہی مفلوج ہوگئ تھی۔۔۔ وہ بس زرد پڑتی نگاہوں سے شاک کی کیفیت میں انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ خاموش آنسو پلکوں کی بار پھیلانگتے بہنے لگے تھے۔۔۔۔
اور رہی بات گھر کے کاموں کی تو اگر اس گھر میں رہنا ہے تو کام تو کرنے ہی پڑیں گئے۔۔۔ اب تمہاری ماں۔۔۔
بسسسسس۔۔۔ بالاج نے لاوئنج کے کونے میں پڑا چاک کا بڑا سا گلدان اٹھا کر پوری قوت سے لاوئنج کے وسط میں دے مارا۔۔۔۔ ایک زوردار آواز سے وہ گلدان ٹکروں میں بٹ گیا۔۔۔ یکدم ہی لاوئنج میں سناٹا چھا گیا۔۔۔ جبکہ پہلے سے شاکڈ صلہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
ایک اور لفظ نہیں ماں۔۔۔ میں اسے آپ لوگوں کے ہاتھوں بے عزت ہونے کے لئے خود سے منسوب کروا کر اس گھر میں نہیں لے کر آیا۔۔۔ اور رہی بات اس گھر میں رہنے کی تو بہت جلد میں آپکی یہ خواہش بھی پوری کردوں گا۔۔۔ اگر آپ یہ ہی چاہتی ہیں تو میں صلہ کو لے کر چلا جاوں گا اس گھر سے۔۔۔ رہیے گا آپ خوش ہو کر اس گھر میں اپنی بیٹیوں کو لے کر جنکے سسرال والے انہیں منہ تک نہیں لگاتے اور یہ ہماری جانوں کو جونک کی طرح چمٹیں ہوئی ہیں۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر تیز لہجے میں کہتا سامنے پڑے میز کو ایک زوردار ٹانگ رسید کرتا آگے بڑھ کر پتھرائی نگاہوں سے یہ سب دیکھتی صلہ کو بازو سے تھام کر کھینچتا ہوا اپنے کمرے میں لے گیا وہ کسی بے جان چیز کی مانند اسکے ساتھ گھسیٹتی جا رہی تھی۔۔۔
ناہید بیگم کی زبان تو بالاج کی دھمکی کیساتھ ہی تالو سے چپک چکی تھی ۔۔۔ اکلوتا بیٹا انکے بڑھاپے کا واحد سہارا اگر انہیں چھوڑ کر چلا جاتا تو وہ بھلا کیا کرتی۔۔۔
جبکہ تانیہ اور ثانیہ بالاج کی باتوں پر صلہ کی ذات کو رگیڈتی ایک طوفان اٹھائے ہوئے تھیں۔۔۔۔
****
پچھلے پندرہ منٹوں سے صلہ بیڈ ہر سہمی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی جبکہ بالاج غصے سے کھولتا کمرے میں یہاں سے وہاں پیدل مارچ کر رہا تھ۔۔۔ صلہ کے خاموش آنسو جب سسکیوں میں بدلنے لگے تو وہ پریشانی سے اسے دیکھتا اسے سامنے بیٹھا اسکے دونوں ہاتھ تھام گیا۔۔۔
صلہ کے ہاتھوں میں ہنوز لغزش تھی جسے وہ شدت سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔
صلہ ان سب کی جانب سے میں تم سے معافی مانگتا ہوں تم پلیز۔۔۔ وہ پشیمانی سے بول رہا تھا جب وہ اسکے کندھے سے سر ٹکاتی پھوٹ پِھوٹ کر رو دی۔۔۔ یقیناً وہ آج کے واقعہ سے بہت ڈر گئ تھی۔۔۔ اسے جو لگتا تھا کہ وہ بہت مضبوط ہے بہت بہادر ہے برے سے برے حالات میں بھی عقل سمجھ سے انکا مقابلہ کر سکتی ہے۔۔آج اسکے سبھی دعوے ڈھرے کے ڈھرے رہ گئے تھے۔۔۔ آج اس پر انکشاف ہوا تھا کہ وہ بہت کمزور دل کی مالکن ہے بہت کم ہمت بندی شاید عفرا سے بھی کم ہمت۔۔۔ کیونکہ ایسی صورتحال کا سامنا ہی اسے زندگی میں پہلی مرتبہ کرنا پڑا تھا اور یہ صورتحال ایک ہی دن میں اس پر اسکی سبھی کمیاں واضح کر گئ تھی۔۔۔
اسکی ٹانگیں ابھی تک کپکپا رہی تھی جیسے اسکا بوجھ سہارنے سے انکاری ہوں۔۔۔
بس صلہ چپ کر جاو اور بھول جاو سب۔۔۔ موڈ فریش کرو اور اپنی پیکنگ شروع کرو کیونکہ کل صبح صبح ہی ہمین ہنی مون کے لئے نکلنا ہے۔۔۔ وہ نرمی سے اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامتا اسکے آنسو صاف کر رہا تھا۔۔۔
صلہ نے بھرائی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
نا کرو یار ایسے مت دیکھو نا۔۔۔۔ وہ بے چارگی سے گویا ہوا۔۔۔ اور تائی امی۔۔۔
اسکی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی۔۔۔ انہیں چھوڑ دو تم یہ تمہارا مسلہ نہیں۔۔ انہیں ہنڈل کرنا میرا کام ہے تم سب کی پرواہ چھوڑ کر صرف اپنی پرواہ کرو۔۔۔ اور جاو منہ دھو کر کچن سے کھانا ڈال کر لاو میں تمہاری پسند کا کھانا لایا ہوں۔۔۔ اسنے ایک مرتبہ پھر سے ماحول کی کثافت دور کرنی چاہی۔۔۔
میں منہ دھونے جا رہی ہوں کھانا تم ڈال کر لاو کیونکہ اب مجھ میں باہر جانے کی اور تائی جان کا سامنا کرنے کی ہمت بالکل نہیں ہے ۔۔۔ وہ بیڈ سے اتر کر جوتا پہنتی واش روم کی جانب بڑھی جبکہ بالاج ایک گہری سانس خارج کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ وہ سمجھ سکتا تھا کہ آج کے واقعہ کا صلہ نے بہت گہرا اثر لیا ہے کیونکہ وہ ایسے ماحول کی عادی نہیں جبکہ انکے گھر میں یہ ڈرامے تقریباً صبح و شام لگتے تھے۔۔۔اور ان دنوں ان واقعات کی تعداد مزید بڑھ جاتی جب ثانیہ اور تانیہ یہاں آئی ہوتیں۔۔۔ کمرے سے باہر نکل کر وہ سب کو نظر انداز کرتا سیدھا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
*****
گھر سے نکل کر بھی سارا دن امان کا بے چینی میں گزرا۔۔۔ تیار تو وہ پہلے ہی تھا کام پر آنے کے لئے کیونکہ پہلے شادی اور پھر اسکے دوست کے ایکسیڈینٹ کے باعث وہ خاصا الجھا رہا تھا اور ان دنوں وہ اپنے کام کا خاصا نقصان کر چکا تھا اس لئے آج باوجود تھکاوٹ کے وہ ہر چیز نظر انداز کئے اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ لیکن بعد میں جو ہوا وہ یقیناً نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ یقیناً نہیں حقیقتاً عفرا کے ساتھ آج زیادتی کر گیا تھا۔۔۔ بات اتنی بڑی نہیں تھی جتنی وہ غصے کے باعث بڑھا گیا تھا۔۔۔۔ کہیں نا کہیں وہ سچی تھی وہ شاید واقع صلہ کے پیراہن میں عفرا کو تول رہا تھا جو یقیناً اچھی بات نہیں تھی۔۔۔
وہ لڑکی اسے بہت عزیز تھی۔۔۔ بہت بہت عزیز۔۔۔ بس فرق اتنا تھا کہ اب حوالہ بدل چکا تھا پھر وہ کیسے اسے اتنی سخت باتیں سنا گیا لیکن خیر شاگرد تو وہ بھی اسی کی تھی کم تو اسنے بھی نا جانا تھا۔۔۔ سارا حساب تو وہ صبح ہی بے باک کر چکی تھی اب وہ بس واپس جا کر اس سے تحمل سے بات کر کے اپنے بگڑے معاملات سلجھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ ۔
*****
منیبہ آج ماں کی طرف آئی تھی دو دن بعد ہی اسکی لندن کے لئے فلائٹ تھی اور اسی غرض سے وہ اپنی ضروری شاپنگ کر کے نعمان کیساتھ ہی وہاں آئی تھی۔۔۔ دونوں کچھ دیر بیٹھے رہے اور پھر وہ نعمان کیستھ ہی واپس چلی گئ۔۔۔ انکی روانگی کے دن قریب تھے تو کام بھی بہت زیادہ تھا اس لئے عفرا یا خالہ نے سے رکنے پر زور بھی نا دیا۔۔۔
عفرا کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر وہیں خالہ کے پاس بیٹھی باتیں کرتی رہی پھر شام کی چائے بنانے کے لئے کچن میں چلی آئی۔۔۔
امان عفرا سے بات کرنے کی غرض سے سرشام ہی واپس آ گیا تھا۔۔۔ وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا جب اسے عفرا کچن میں کام کرتی دکھائی دی تو وہ کچھ سوچتا ہوا وہیں آگیا۔۔
آہمممم۔۔۔
صلہ اپنے دھیان کپوں میں چائے انڈیل رہی تھی جب اسے اپنے بالکل پیچھے سے گلہ کنگارنے کی آواز آئی وہ ایک دم ڈر کر اچھلی۔۔۔ اسکے ہاتھ کا توازن بگڑا اور گرم گرم چائے چھلک کر اسکے پاوں پر جاگری۔۔۔ کپ سے کپ ٹکرائے اور زمین بوس ہو گئے۔۔۔ ایک دلخراش چیخ اسکے لبوں سے آزاد ہوئی۔۔۔
پاگل لڑکی یہ کیا کیا تم نے۔۔۔ انسان ہوں بھوت نہیں جو یوں ڈر گئ۔۔۔ وہ فکر مندی سے کہتا اسکا ہاتھ تھام گیا جس پر چائے کے چند ایک چھینٹے پڑے تھے۔۔۔
کیا ہوا عفرا بچے یہ آواز کیسی۔۔۔ اماننننن۔۔۔ تم نے پھر سے بچی سے کچھ کہا ہے۔۔۔۔
خالہ آواز سن کر بعجلت کمرے سے آئیں جبکہ سامنے امان کو اسکے قریب اسکا ہاتھ تھامے دیکھ اور عفرا کو آنسو بہاتے دیکھ وہ صدمے سے گویا ہوئیں۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کہا ماں بلکہ۔۔۔۔ وہ ماں کی غیر یقینی پر اسکا ہاتھ چھوڑتا دو قدم پیچھے ہٹتا وضاحت دینے لگا جب نزہت بیگم ترشی سے اسکی بات کاٹ گئیں۔۔۔
تم باز نہیں آو گئے نا امان۔۔۔ ابھی کیا صبح جو تم نے ڈرامہ لگایا وہ کم تھا جو آتے ہی پھر شروع ہوگئے مسلہ کیا ہے تمہارا۔
وہ تو ہونق بنا منہ کھولے ماں کے الزامات سن رہا تھا۔۔۔
میں نے اسے کچھ نہیں کہا ماں ۔۔۔ تم بتاتی کیوں نہیں۔۔ بتاو ماں کو۔۔۔ ماں کو وضاحت دیتا وہ ایک دم اسکے پاس آتا اسکی بازو تھام کر گویا ہوا جو خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
خالہ انہوں نے کچھ۔۔۔
چھوڑو بچی کی بازو ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ منمناتی خالہ نے جھٹکے سے اسکی گرفت سے عفرا کی بازو چھڑوائی۔۔
میں تمہیں بتا رہی ہوں امان باز آجاو اپنی حرکتوں سے۔۔۔ یہ کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہے مجھے تم سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔ اور کوئی ضرورت نہیں مجھے اسے تمہارے سر تھوپنے کی بوجھ نہیں ہے میری بیٹی مجھ پر۔۔۔ عفرا بچے اپنا سامان میرے کمرے میں شفٹ کرو ۔۔۔ جب تک اسکا دماغ سیٹ نہیں ہو جاتا کوئی ضرورت نہیں اس کمرے میں جانے کی۔۔۔ خالہ اسے بازو سے تھامے اپنے ساتھ لئے کچن سے باہر نکلی جبکہ عفرا خالہ کی غلط فہمی دور کرنے کو بارہا منہ کھولتی ہی رہ گئ مگر شاید خالہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔۔
یہ قابل ہی نہیں ہے میری معصوم سی بیٹی کے۔۔۔
معصوم سی نہیں ماں ڈرامے باز کہیں اسے ڈرامے باز۔۔۔ ڈرامے لگا کر مجھے آپ سے ڈانٹ پڑوانا چاہتی ہے یہ بس اسنے صبح کی بات کا بدلا لینا تھا حالانکہ صبح کم اس نے بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ ماں کو اسے کچن سے لیجاتا اور اپنی شان میں اسقدر قصیدے پڑھتا دیکھ ٹھنڈے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ آواز میں صبح والا غصہ نا تھا البتہ ایک ٹھنڈا سا تاثر ضرور تھا۔۔۔۔
عفرا نے جاتے جاتے پلٹ کر اسے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ خالہ نے اسے وہیں سے لتاڑا۔۔۔
یہ ہی چاہتی ہے یہ ماں کہ میں گھر داخل ہوں ہی نا۔۔۔ ابھی آیا ہوں اور ایسے ہی گھر سے نکل جاوں پھر ۔۔۔
ماں اسے سنا ان سنا کرتی عفرا کو لئے اپنے کمرے میں چلے گئ جبکہ وہ واپس کچن میں آ گیا۔۔۔
****
خالہ انکی غلطی نہیں تھی ۔۔ چائے خود میرے ہاتھ سے چھلک گئ تھی وہ تو بس میرا ہاتھ دیکھ رہے تھے۔۔۔ میں نے آپکو بتانے کی اتنی کوشیش کی مگر آپ سن ہی نہیں رہی تھی اور وہ پھر سے ناراض ہو گئے۔۔۔ عفرا کمرے میں آ کر اپنے ہاتھ اور پاوں کا معائنہ کرتی رو دی۔۔۔
دفعتاً امان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ ماں پتہ نہیں آپکو اتنی چلاک بہو کہاں سے مل گئ پکا یہ کسی دن اپنی حرکتوں کے باعث مجھے آپکے ہاتھوں پٹوا دے گئ۔۔۔ وہ کرسی کھینچ کر بالکل عفرا کے سامنے بیٹھا اور عفرا کا ہاتھ تھام کر اس پر اپنے ہاتھ میں تھامی آئنٹمنٹ لگانے لگا۔۔۔۔
عفرا ہونٹ کچلتی سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔ اسکے لہجے سے یہ پتہ لگانا مشکل تھا کہ وہ مزاق کر رہا ہے یا سنجیدہ ہے۔۔۔
جبکہ ماں اسے یوں عفرا کی پرواہ کرتا دیکھ مسکرا دی۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں ماں بہت ڈرامے باز بہو ہے آپکی۔۔۔ بچ کر رہنا پڑے گا اس سے۔۔۔ کچھ نا کرنے پر یہ اچھے خاصے بندے کی درگت بنوا دیتی ہے سوچ رہا ہوں اگر کبھی اسے میں نے سچ میں کچھ کہا دیا تو اس پھاپھے کٹن نے تو مجھے گھر سے ہی بے دخل کروا دینا ہے۔۔۔
اسکے ہاتھ پر آئنٹمنٹ لگانے کے بعد اسنے عفرا کا پاوں اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھا اور اس پر آئنٹمنٹ لگانے لگا۔۔۔ عفرا نے جھجھک کر پاوں پیچھے ہٹانا چاہا جب اسنے پاوں پر گرفت مضبوط کرتے اسے گھورا تو اسکی مزاحمت دم ٹور گئ۔۔۔
میں نے خالہ کو بتا دیا ہے کہ آپ نے کچھ نہیں کہا تھا مجھے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔
وہ پشیمانی سے منمنائی۔۔۔
زرہ نوازش ہے آپکی پھر تو۔۔۔ اسکے پاوں پر آئنٹمنٹ لگا کر اسنے آہستگی سے اسکا پاوں نیچے رکھا اور خود اٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا۔۔۔۔
عفرا تکلیف سے آنکھیں موندتی پیچھے ہو کر بیڈ کراوں سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد امان کی کمرے میں پھر سے واپسی ہوئی ۔۔
یہ لیں ماں پوری دنیا کو تو چائے پلا دی آج آپ بھی میرے ہاتھ کی چائے پی کر دیکھ لیں۔۔۔ امان نے چائے کی ٹرے لا کر بیڈ کے وسط میں رکھی جس میں تین کپ کڑک چائے کے تھے۔۔۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے بیٹا۔۔۔ ماں نے دل سے دعا دیتے ٹرے سے چائے کا کپ اٹھا لیا۔۔۔ شکر ہے ماں آپ پر سے بھی بری طاقتوں کا اثر ختم ہوا۔۔۔ ورنہ میں تو اپنی ماں کا نرم لہجہ سنے کو ترس گیا تھا۔۔۔
وہ شوخ سے انداز میں کہتا ٹرے سے اپنا کپ اٹھا کر کمرے سے نکل گیا جبکہ عفرا اس میں پرانے امان کی جھلک دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔ اسنے سیدھے ہو کر چائے کا کپ اٹھایا۔۔۔ اور پہلی ہی چسکی پر وہ امان کے ہاتھ کی بنی چائے کی قائل ہوگئ۔۔ وہ واقعی بہترین چائے بناتا تھا۔۔ وہ مسکراتے ہوئے چائے پینے لگی۔۔۔ امان کی آج کے فکر مندی بھرے انداز نے اسکے اندر امید کے نئے دیئے جلا دیئے تھے۔۔۔۔
*****
